امریکا میں بھارت کی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایم ایل آئی کی جانب سے شائع ہونے والے ای میلز میں کیا مشورہ لیا تھا؟
انہوں نے جیفری ایپسٹین سے کیا مشورہ لیا تھا، اور ان کی ای میلز میں اس کے بھی نام بھارتی وزیر اعظم کا بھی لکھا ہوا تھا۔ ابھارت کے وزرائے اعظم نریندر مودی کو کنگریس کے رہنما سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور انھوں نے ان کی حکومت کے لیے ایپسٹین سے بہت گہری تعلقات ہیں کا الزام لگایا ہے۔
کنگریس کے مطابق ایپستن نے اپنی ای میل میں یہ کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے مشورہ لیا تھا، اور اسرائیل گئے، وہاں امریکی صدر کے فائدے کے لیے یوں ہی ناچنا شروع کر دیا جس سے کامیابی حاصل ہوئی۔
نریندر مودی کے تعلقات سے متعلق ان کی حکومت پر کنگریس نے بھارتی رाषٹریتہ تازہ تنقید کرتے ہوئے تنقید کی۔ اس کے بعد وزیر اعظم کو یہ بات بتائیں جہاں ان کی حکومت میں مشورہ لینے والی ایپسٹن کس قسم کی ساتھی تھیں؟ اور وہ آمریکی صدر کے فائدے کے لیے یوں ہی ناچنا شروع کر دیا جس سے ان کی حکومت کو بھارتی شان کا خاتمہ ملتا ہے؟
بھارتی وزیر اعظم کے ایم ایل آئی ای میلز میں جیفری ایپسٹین سے مشورہ لینا ایسی بات ہے جو ان کے لیے اچھی نہیں تھی؟ کیا وہ ہر ای میل پر اپنی جانچ پڑتال کرنا چاہتے تھے؟ یا اس بات کو بھی ان کا خیال تھا کہ وہ ایپسٹین سے ہمیشہ مشورہ لیتے رہن گئے تھے؟ اور اسرائیل گئے تو وہاں امریکی صدر کے فائدے کے لیے ناچنا شروع کر دیا جس سے ان کی حکومت کو بھارتی شان کا خاتمہ ملتا ہے؟ یہ اس بات کا بھی مشورہ تھا جو وہ اپنے وزیر اعظم کو دیتے رہتے ہیں?
آمہ دuniya میں وہے جو آپ نے بتایا ہے، ایپسٹن سے مشورہ لینے والی جیفری ایپسٹین کا نام بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ بتاتھا کہ ان کی حکومت میں وہ آمریکی صدر کے فائدے کے لیے ناچنا شروع کر دیا جس سے ان کی حکومت کو بھارتی شان کا خاتمہ ملتا ہے!
ماں وہ دیکھتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آج بھی تو وہاں کچھ نہ ہونے پاتے جبکہ ابھارت میں اس طرح کی حالات دیکھتے ہیں تو یہ بتاتھا کہ ان کی حکومت کو اس طرح سے ختم کر دیا جاسکتا ہے۔
ماں مٹھلیں نہ ہو تیریں جو پکتی ہیں، آمریکی صدر کے فائدے سے ناچنا شروع کرنا تو ایک سچچائی ہے۔ لیکن یہ بات بھی بتاتھا کہ وہ آمریکی صدر کے فائدے کے لیے یوں ہی ناچنا شروع کر دیا تھا اور اس سے ان کی حکومت کو بھارتی شان کا خاتمہ ملتا ہے!
اس ایمل کی بات تھی کہ امریکا میں بھارت کی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایم ایل آئی کی جانب سے شائع ہونے والے ای میلز میں کیا مشورہ لیا تھا، اور یہ بات اس پر دلچسپ ہے کہ انھوں نے جیفری ایپسٹین سے کیا مشورہ لیا تھا۔ واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی ای میلز میں اس کے بھی نام بھارتی وزیر اعظم کا لکھا ہوا تھا۔
اس نئے تحریر سے کنگریس نے تنقید کرنے والوں پر نظر ایک بات واضع ہے کہ انھیں یہ بتاتھی کہ جیفری ایپسٹین کو نریندر مودی کی حکومت میں بہت گہری تعلقات ہیں اور اس کے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔
ایم ایل آئی کی ای میلز میں اس پر زور دینا تو آرام ہی نہیں، اس سے پھر آپھوں میں ایک بھارتی شان کا خاتمہ ہوتا ہے۔ نریندر مودی کو یہ بتایئے کہ ان کی ای میلز میں جیفری ایپسٹن کا مشورہ کس لیے لگایا گیا تھا؟ اور اس پر اس کی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو کون دیکھتا ہے؟
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیفری ایپسٹین یہاں کیسے آئے، ایک بار پھر ان کی وہ حکومت جس نے اسرائیل کو اپنا بھائی بنایا تھا اور ابھارت کے وزیر اعظم سے مل کر ان کی حالیت کا معجزہ پیش کر رہا ہے!
chart: اسٹیٹس آف ایپسٹینز
ایپسٹین کے پاس کیسے سے ان تعلقات ہوئے؟ یوں ہی ناچنا شروع کرنا، ابھارت کو بھی ایسا ہی پکڑنا پڑ گا!
ایمیلز میں ایپسٹین کے نام کے لئے اس کی ایسی ضرورت تھی کہ ابھارت کی حکومت کو دھچکہ لگا۔ ابھارت کا شان خاتمہ کس کے ہاتھ میں آ رہا ہے؟
تمہیں پتہ چل گا کہ یہ سب کوئی اچھا نہیں لگے گا، ایپسٹن کی ان ای میلز میں شعبہ و معاشرے تک جانا ایسا ہے جیسے وہ اپنی صبح کے پانی دیتے ہیں، اور اب نریندر مودی کو بھی اس کا شکار ہوا، یہ تو ان کے لیے ایک ایسا موقع تھا جس پر وہ اپنی حکومت کو بھارتی شان سے بدلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
امریکا میں بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ جیفری ایپسٹین کی بات چیت، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو پورے ممالک کو توجہ دیتا ہے۔ اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ اس بات کی واضحی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ایپسٹین کس قسم کی ساتھی تھیں، اور ان کے تعلقات کس طرح بھارتی وزیر اعظم کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگر یہ بات واضح نہیں ہوتی تو یہ معاملہ واضح ہو جائے گا کہ بھارتی وزیر اعظم کی حکومت کے ساتھ امریکی صدر کے فائدے کے لیے ناچنا شروع کرنے والی ایپسٹن کس قسم کی ہے، اور ان کے تعلقات کیسے ہیں۔
امریکا میں ایپسٹن کی ای میلز میں اس کا نریندر مودی سے مشورہ دینا، یہ تو کوئی بات نہیں اور جب اس نے بھی اپنی ای میل میں ان کی governments کے علاوہ اسرائیل جانا تھا تو نچٹنے کا لازمی کرمال ہی ہوتا !
امریکہ میں ہر کچھ ایک اور سگنل دیتا ہے۔ یہ بھی ایک بات ہے کہ ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جو اپنے منفرد ماحول میں اور نئے خیالات کو ترشح کرنے کی ججبت کرتے ہیں۔ یوں ہی ایم ایل آئی نے امریکہ میں بھارتی وزیر اعظم سے مشورہ لیا تھا، اور جیفری ایپسٹین کے مشورے پر اس نے اپنے معاملات کو بڑھایا۔
اس میں بھی ایک اور واضح بات آئی ہے کہ امریکی صدر اور اسرائیل کی ساتھیوں سے جس तरह بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ لیا تھا وہ سب کچھ ایپسٹن سے ہی ملتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ بھارت کی حکومت کے لیے واضح منافع اور حصول کی لڑائی ہے۔
اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ بھارت کی وزیر اعظم نریندر مودی ایم ایل آئی کی جانب سے شائع ہونے والی ای میلز میں جیفری ایپسٹن کی مشورہ پر عمل کیا، تو مجھے اس بات میں شک ہے کہ وہ ساتھیاں ان کے ساتھ یہ کیسے تعلقات رکھتی ہیں جو ان کی حکومت کو ایسے موقع پر بچانے میں مدد دیتی ہے۔
مگر واضح ہے کہ انہوں نے ان کے ساتھ آمریکی صدر کی فائدے کے لیے ناچنے والی سائنس کو یہ کیسے واضح کر دیا تھا۔ اور اس سے بھارتی شان کا خاتمہ کس وجہ سے ہوا؟
جب ایپسٹن نے وزیر اعظم سے مشورہ لیا تو یہ صرف ایک نئی چوری تھی، اور اب ان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کے تعلقات کا بھی پتہ چلا آگا، ان کے ساتھ ایپسٹن کی ایسی بات تو نہیں ہوتی کہ وہ آمریکی صدر کے فائدے کے لیے اس طرح ناچنا شروع کر دیں۔
انہوں نے جس منصوبے میں اسرائیل گئے، وہ صرف ایک بھیجتے ہوئے پیسہ کا معاملہ تھا اور وہاں بھی ان کی حکومت کو ناچنا پڑا جبکہ اس میں کسی کی فائدا نہیں تھی، یہ صرف ایک اورExample ہے کہ انہیں ملک پر حکومت کرنے کے لیے چوری لگاتی ہیں اور اب ان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کے تعلقات کا پتہ چلا آئا۔