بھارت میں کانگریس کی ایک بڑی شکست کا 2014 کا لوک سبھا انتخابات ہوا، جس کے پیچھے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔ اس نے کانگریس کی سیٹوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کردیا گیا۔ راجیہ سبھا کے سابق ایم پی کمار کیتکر نے دعویٰ کیا کہ اس انتخابات میں کانگریس کی شکست کے پیچھے سی آئی اے اور موساد کا ہاتھ تھا، جو دونوں مل کر کام کرتے رہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کانگریس کی سیٹیں 206 سے زیادہ نہیں ہوسکیں اور پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کردیا جائے۔
کیٹکر نے یاد دلایا کہ 2004 میں کانگریس نے 145 سیٹیں جیتی تھیں، اور 2009 میں یہ تعداد بڑھ کر 206 ہوگئی۔ لیکن اچانک سیٹوں کی تعداد گھٹ کر صرف 44 رہ گئی، جو کوئی عام مینڈیٹ نہیں تھا۔ وہ کہنے لگے کہ اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے خلاف کچھ عوامی ناراضگی تھی، لیکن یہ اتنی شدید نہیں تھی کہ کانگریس صرف 44 سیٹوں پر سمٹ گئی اور اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تک نہ ملے۔
کیٹکر نے مزید الزام لگایا کہ mossad نے ہندوستانی ریاستوں میں انٹیلی جنس کا استعمال کیا اور بارے کی سے ڈیٹا تیار کیا، جو کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنے اور دہلی میں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام کرتے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایجنسیاں اکثریتی حکومت چاہتی ہیں، لیکن کانگریس کی نہیں۔
اس انتخابات میں انٹیلی جنس ایجنسيوں کا ہاتھ ہونا بہت حیران کن بات ہے! آپ تو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایسے ہیں کہ کانگریس کی سٹھ سیٹوں پر سمٹ کر گئی، ابھی انہیں ایک بھی سٹھ نہیڹ؟ ہر چیز کا ایک نہ تو عجائب ہوتا ہے اور نہ تو حیران کن بات!
اس انتخابات میں بھارت میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ہاتھ تھا؟ یقیناً نہیں ، پھر کیوں کہنے دوں? 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں سی آئی اے اور Mossad کی ایسے ہاتھ تھے جو ان کو حکومت چاہتی تھی ، نہیں کہ وہ ان کو اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتی تھی۔
یوں کہ 2004 میں کانگریس نے 206 سیٹیں جیتی تھیں، اور یہ تعداد فوری طور پر 44 تک گرت گئی ، لیکن اس بات کو کسی کا علاج نہیں۔
اس سے قبل 2009 میں سیٹوں کی تعداد بڑھ کر 206 ہوگئی تھی۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ 2014 کے انتخابات میں کچھ حقیقی نویں کھیل جو بھی کھیلے تو یہ سب واضح نہیں تھے۔
یہ وہ صورتحال تھی جس سے ہم سب کچھ جانتے تھے! 2014 کا لوک سبھا انتخابات، جس میں کانگریس کو بڑی شکست کھنی پڑی، اس کی پچھان کرنے والوں نے یہ بات لگائی ہے کہ امریکی اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اپنا ہاتھ تھا۔
مزاحمت کرنے والے، راجیہ سبھا کے سابق ایم پی کمار کیتکر نے یہ کہا ہے کہ سی آئی اے اور موساد دونوں مل کر کام کرتے رہے تاکہ کانگریس کی سيٹیں 206 سے زیادہ نہیں ہوسکیں اور پارٹی کو اقتدار سے بھگoda کر دیا جائے۔
یہ بات کہیں گے؟ کہ اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے خلاف کچھ عوامی ناراضگی تھی، لیکن یہ اتنی شدید نہیں تھی کہ کانگریس صرف 44 سیٹوں پر سمٹ گئی اور اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تک نہ ملے؟
جی پھیر، یہ بات بھی کہنی پڑتی ہے کہ mossad نے ہندوستانی ریاستوں میں انٹیلی جنس کا استعمال کیا اور بارے سے ڈیٹا تیار کیا، جو کانگریس کو اقتدار سے بھگoda کرنے اور دہلی میں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے کے لیے منظم طریقے سے کام کرتے رہے۔
اس بات پر میرا Opinion ہے کہ یہ ایجنسیاں اکثریتی حکومت چاہتے ہیں، لیکن کانگریس کی نہیں!
وہ جب اچانک سیٹوں کی تعداد گھٹ کر صرف 44 رہ گئی تو میں سوچتا تھا کہ یہ پوری جانب سے منسلک ہوا ہوگیا، لیکن وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ Mossad کی مدد سے اور بھی ہندوستانی ریاستوں میں انٹیلی جنس کا استعمال کیا گیا تو یہ اپنے आप سے بھی نازک ہوا ہوگی. ایسا لگتا ہے کہ یہ بات اس وقت تک پھیل گئی جب تک پارٹی کیInternal Struggle کو ختم کرنے کی پوری کوشش بھی کرلیں.
بھارت میں 2014 कے لوک سبھा انتخابات کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ بات کچھ اچھا لگتی ہے کہ جب تک ووٹنگ سسٹم میں تبدیلی نہیں آئی تو کسی بھی政Party کی ہarijanaat کرنے کی کوشش کرتی رہی، مگر یہ بات یقینی ہے کہ ان تمام میڈیا کے اچھے وچھے ٹرینسپارٹرز نے اس حقیقت کو کبھی نہیں پکھا.
بھارت میں 2014 کے لوک سبھا انتخابات کو دیکھتے ہی یہ بات واضع ہوتی ہے کہ کانگریس کی شکست نہ صرف اس پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کردیا گیا، بلکہ اس کے علاوہ سی اے آئی اور mossad کی بھی بڑی کردار تھا!
دیکھ لو، 2004 میں کانگریس نے صرف 145 سیٹیں جیت رہی تھیں، لیکن 2009 میں اس کے پاس 206 سیٹیں تھیں! اور تو 2014 میں اچانک یہ تعداد گھٹ کر صرف 44 ہوگئی! واضح ہوتا ہے کہ ایسی کارروائی ہوئی جو اس بات کو یقینی بناکر دیتی تھی کہ کانگریس کی کوئی مینڈیٹ نہ رہے!
وہ کہتے ہیں کہ mossad نے بارے کی سے ڈیٹا تیار کی، جو دیکھ کر واضع ہوتا ہے کہ یہ ایجنسیوں کی بھی کوئی ذمہ داری تھی! اور دیکھ لو، سی اے آئی اور mossad نے ہندوستانی ریاستوں میں انٹیلی جنس کا استعمال کیا!
یہ بات یقینی ہوتی ہے کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے نتیجے میں کانگریس کی شکست سے کوئی اور بھی ذمہ دار نہیں ہوتا!
اس انتخابات سے پتا چلتا ہے کہ پی ایس ایف اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا استعمال کرنے کا خطرہ بھارت میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ یہ بات نہیں پتہ چلتی کہ وہ لوگ کس طرح کام کرتے رہے اور اس سے کیوں لाभا۔ لیکن ان کے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے ہمیں پتا چلتا ہے کہ وہ بھارتی عوام کے حقوق کو تھوڑی سے بھی کم استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر زیادہ سے زیادہ دیکھنا چاہئے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی Politics میں کیا خطرہ ہے۔
میں سوچتا ہوا تھا کہ یہ بھی کچھ کامیاب رہنما ہیں جیسا کہ لوک سبھا میں امریکی سی آئی اے اور اسرائیل کی موساد کا کردار تھا ۔ لیکن ایسا کیا کہ وہ لوگ کچھ دیر تک بھاگتے رہے کیسے? مینے تو سوچا کہ یہ اکیلے نہیں تھے بلکہ کچھ سیاسی سرگرمیوں کو بھی دیکھنا پڑتے ۔
ایک سچائی چھپانے والا میڈیا کے گروہوں پر بھارتی ناکام ہونے کی واضح وجہ کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات ہیں؟ یہ سچائی اس بات ہے کہ ایسے شخصوں کو ماحول میں اپنی ناکامیت اور ہار کی پریشانیوں کا تجربہ دیکھانا چاہئیے جو یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ ابھی بھی بھارتی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں؟ لیکن میرے پاس ایک सवाल ہے: یہ بات کیسے تھی کہ ان لوگوں کو یہ سوچنا پڑا کہ وہ بھارتی سیاست سے نکل جائیں؟
بھارت میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ہاتھ تو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا جاسکتا ہے کہ کسی پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کردیا جائے، لیکن یہ بات یقین دہانی نہیں کہ پھر ان تمام ایجنسیوں نے ساتھ مिल کر ہی اِن کی سے کام کیا ہوتا ہے. میں سوچتا ہoon کہ اس میں ایک سے زیادہ ایجنسیوں کے بے فیکر کاروبار کو لگاینا بھی اِن انتخابات کی نتیجے پر انحصار کرنا تھا.
امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا یہ ساتھ لینا تو حقیقت میں وہ پارٹی کو آگے بڑھانے سے روک رہی ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ اسے جیتنے سے روکیا گیا ہو، بلکہ یہ کہ وہ اسی ٹیکنالوجی اور منصوبوں کو استعمال کرکے پارٹی کی صلاحیتوں کو کم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے لیے ڈھانچہ قائم کرسکیں، یہ بہت خطرنا ہے اور اس سے یہ جاننے میں Difficulty ہوگی کہ اور کیسے کام کرتا ہے۔
اس نئے انتخاب میں کانگریس کی شکست کو دیکھتے ہوئے، میں سوچتا ہوں کہ یہ بات غلط نہیں ہوسکتی کہ بھارت میڰ انٹیلی جنس ایجنسیاں نے وہاں کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہوں۔ یہ بات سچ ہو سکتی ہے کہ Mossad اور سی آئی اے دونوں کے درمیان تعلقات نافذ ہونے کی امکانیت تھی، خاص طور پر جب 2009 کے انتخابات میں کانگریس کو دوسری سے باہر چھوٹنا پڑا تو اس نے واضح طور پر دکھایا کہ ان دو ایجنسیوں کے درمیان تعاون تھا۔ لیکن یہ بات بھی سچ ہوسکتی ہے کہ یہ انتخاب کے نتیجے میں بھی کوئی غلطی نہیں تھی، پوری دنیا میں انتخابات کی پالیسیوں اور ان کی منظر نامے کو چیلنج کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
یہ بات بھی تھی جیسے 2014 میں لوک سبھا کے انتخابات میں سی آئی اے اور mossad دونوں نے انحصار کی پالیسی کو اتنا ہی موڈرن اور جدید بنایا جیسا اس سے پہلے تھا… لگتا ہے کہ یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ ابھی ایک سال میں پاکستان کو برطانوی ہندوستان سے آزادی ملی اور ابھی اس نے ہندوستان پر حکومت قائم کرلی… یہ ایسی بات ہے جس کا تعلق بھی ایجنسیاں نہیں بلکہ ان کی خواہش کا نتیجہ…