حالیہ سیلابوں میں 6 ہزار سے زیادہ افراد جانے والے، 19 ہزار زخمی اور چار کروڑ افراد اسکول سے محروم ہو گئے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی ناکام پالیسی کے نتیجے میں یہ تباہیں ہوئی ہیں۔
عالمی سطح پر انصاف کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کو ایک نئی قسم کی دہشتگردی قرار دیا گیا ہے۔ سیلاب کے بدترین اثرات میں ترقی پذیر ممالک خود بھی شامل ہیں جو ختم کر دیتے ہیں، جبکہ متاثرہ ممالک محروم ہو رہے ہیں۔
عالم کے 10 بڑے کاربن اخراج کرنے والے ممالک 70 سے 75 فیصد آلودگی کا ذمہ دار ہیں، اس سے خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں، یہی 10 ممالک دنیا کی صرف 8 فیصد گرین فنانسنگ حاصل کر رہے ہیں اور دوسروں پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔
یہ ماحولیاتی تبدیلی کی صورتحال کچھ بھی نہیں بنائی گئی، یہ ایک پیداوار سے منسلک ہے، سب سے پہلے ہم اپنی معیشت کو بدلتے چلتے آئیں تو اب ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ہم کی ماحولیات اس حد تک کمزور ہو گئی ہے کہ اب سیلاب اور طوفان سے بھی یہ دیکھنا پڑ رہا ہے، یہ ماحولیاتی تبدیلی کی ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے، ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ "سچائی کھڑی کرنا" لیکن یہ کہا نہیں گیا کہ "کام کی طرح دھوکہ دینا"، اب ہم کو اپنی پیداواروں پر قابو اٹھانے کی توفیق ہوئی ہے اور اب بھی مجروحوں کی مدد کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، ہر کسی کو یہ سوچنا چاہئے کہ "ماحولیاتی تبدیلی" ایک معاشی اورPolitical مسئلہ ہے، ہر کام کے لیے ہم جانتے ہیں کہ پھول کو نہیں پھوٹنا چاہئے بلکہ ان کی تازگی کو محفوظ رکھنا چاہئے، لیکن ماحولیاتی تبدیلی میں ہم انkiyaan nahi karte!
یہ سچ بھی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہیوں میں دنیا بھر میں لوگ شامل ہیں لیکن یہ بات بھی یقینی ہے کہ ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہیوں کو ایک نئی قسم کا جرم قرار دینا ناہی چال ہے۔ ترقی پذیر ممالک بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ وہ اپنے معاشی اور Political مقاصد کے لیے ماحولیاتی تبدیلی سے فائدہ ہی لے رہے ہیں۔
ایسا بھی کیسے ہو سکتا ہے? ماحولیاتی تبدیلی کی ناکام پالیسی کی وجہ سے ابھي ہوائیں اور روڈز پر ٹریفک کم ہونے کا بھی فائدہ ہوا ہو گا۔ تاہم یہ سب کچھ بہت سارے لوگوں کی جائیداد پر تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ 10 کاربن اخراج کرنے والے ممالک کی انصاف کا مطالبہ اچھی بات نہیں، بلکہ وہ اپنی ناکام پالیسیوں پر فیکٹرنگ کرنا چاہئیں جس سے دنیا کو یہ سارے تباہیوں سے دور کیا جا سکے۔
بھائی اس سیلاب کی تباہی نہ صرف ان لوگوں کی جان، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم اپنے اور اپلایاہو کے لیے سستے وازہ ہیں! ماحولیاتی تبدیلی کا ایسا نتیجہ آتے ہیں کہ دنیا بھر میں لوگ ہی نہ ہی دوسروں پر پابندی لaga رہے ہیں بلکہ اپنی جائیدادوں کو بھی بچانے کے لیے اس کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں، اور یہاں تک کہ ان 10 اعلیٰ کاربن اخراج کرنے والوں ممالکوں میں بھی سیلاب نے کئی علاقوں کو تباہ کر دیا ہے!
ایسے سیلابوں کی تباہی کی نئی تسلط کرتے ہوئے، آٹھویں فیصد وہ لوگ ہیں جو دنیا کا باقی بچہ ہیں؟ ایسے سیلابوں کی وجہ بڑی اور چھوٹی دھمکیوں کا نتیجہ ہوتا ہے، اسی لیے ہمیں اپنی آواز ڈالتے ہوئے اور کسی بھی دھمکی سے روک تھام کرنا ہو گا۔
تobaahiin ki dushmani ke karan ghar jo takra raha hai, usse koi bhi solution nahi hai. Hum sabhi ek saath mehsoos kar raha hain ki aapke ghar aur apni zindagi ka kya matlab hai. Lekin main samajhta hoon ki humein sirf ek baar samjhaana padega, ki kaise hum apne kadam badaate hue sahi disha mein chalte hain.
Mehsoos karte hain ki duniya bhar mein log aatmasakht nahi ho rahen hain. Har koi hi apni galti sunta hai, aur kisi ko bhi help nahin karta. Lekin mujhe lagta hai ki humein ek dusre ke saath samajhne ki zarurat hai, aur safar mein saath le jaane ka mauka dena.
Humari duniya mein kai cheezon ke liye charcha hoti rahi hai, lakin main sochta hoon ki humein sabse zyada aatm-sakht hona chahiye. Aapke ghar ko bhi, apni zindagi ko bhi sahi disha mein badalne ke liye ek samarpan karna padega.
Hum logon ko yah samajhne ki zarurat hai ki humein ek dusre par nazar na rakhna chahiye, aur har cheez ki baat ka dhyan rakhna chahiye. Main sochta hoon ki humein sabse pehle apne aapko sahi disha mein badalna chahiye, aur phir duniya ko bhi sudharne ka mauka dena padega.
بھائیو... یہ سیلابوں کی تباہی بہت گہری ہے... مجھے اچھی نہیں لگ رہا کہ ہم اپنے ماحولیاتی حالات پر کیا کرتے ہیں؟ میلوں کہتے ہیں کہ ہمارے باپو کی پالیسیوں نے اس لیے یہ تباہی ہوئی ہے، لیکن بھائیو، ماحولیاتی تبدیلی سے نکلنے کا راستہ ہمیں اتنا آسان نہیں دکھتا... میرے خیال میں، ہم اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ انصاف کے لیے ہر جگہ سے آواز اٹھائے بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے لیے بھی ہمیشہ پہلی سٹینڈنگ لینا چاہئے...
عزیز اللہ یہ تباہی کی کس قدر بھاری وجوہات ہیں؟ ماحولیاتی تبدیلی کی ناکام پالیسی اور بھارتیوں میں ہونے والی غلط فہمی کا یہ تباہی کیا ہے؟ 6 ہزار سے زیادہ لوگ جانے والے، 19 ہزار زخمی اور چار کروڑ افراد اسکول سے محروم ہو گئے ہیں... یہ تو غلط فہمی کی گھریلو جگہ ہے، کیا کوئی اس بات کو سمجھتا ہے؟ دنیا کے تین چارٹرڈ ممالک 70 سے 75 فیصد آلودگی کا ذمہ دار ہیں... یہ کیا دیکھتے رہو?!
یہ گھر و گھر سیلاب آ رہا ہے! ماحولیاتی تبدیلی کی ناکام پالیسی سے یہ تباہیں ہوئی ہیں... کیا ہوا؟ سیلاب میں جاننے والوں کی تعداد 6 ہزار تک پہنچ گئی ہے، زخمی 19 ہزار ہیں اور اسکول سے محروم چار کروڑ افراد... یہ تو بھی تباہی ہے! دنیا کی 10 بڑی کاربن خروجی والی ممالک ان 70-75 فیصد آلودگی کا ذمہ دار ہیں... کیا انہوں نے سچ میں کھوج لی؟ جب تک ان پر پابندیاں نہ لگائیں گی، جس طرح ہوا یہ تباہی نہیں ہو سکتی!
عواقف کو یہ سوچنا کہ اس میں سے کسی بھی فرد کی ذمہ داری نہیں ہے، ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسیوں کی کمزوری کا مطلب ہے ان لوگوں پر یہ عائد کرنا کہ سیلاب کی وجہ اس کے لیے نہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کی ناکام پالیسیوں کی وجہ ہے، اور دنیا میں بھرپور عاقفت نہیں ہے اس لیے ان 10 ممالک کو ایسا لگنے دوں کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری کی پورا کر لی۔
بہت توڑ پکڑ، 6 ہزار سے زیادہ لوگ جانے والے، 19 ہزار زخمی اور چار کروڑ فیکٹریوں سے محروم ہونے والے... ایسا تو ہوتا تو اس کے نتیجے میں ہی نہ بنتے! ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسی ناکام ہو رہی ہے، دنیا بھر میں لوگ ایسا دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں اس کی بدولت جان سаковنی ہو گی تو کچھ نہ ہوتا؟ سیلاب اور آلودگی دونوں ایسے واقعات ہیں جو ہمارے لئے بڑے دوسرے ماحول بن چکے ہیں...
یہ بھی کچھ تباہ کن سیلابوں کا ثبوت ہے اور یہ بات بھی نہیں کہ ہم اپنے منصوبوں سے ان کی جلد رکھ سکتے ہیں? ماحولیاتی تبدیلی کی ناکام پالیسی کا یہ نتیجہ دیکھنا بھرا ہوا ہے، اور اب اس پر جھیلنے والوں کے لئے جواب ایک ساتھ ایسے ماحولیاتی منصوبوں کو ترغیب دینے کی ضرورت ہے، جو صاف پانی اور سرچھا سے بھرپور ہوں۔