کمیٹی نے پیشگوئی دی: کچھ دिनوں میں سیلاب اور برف بارش کا ماحول بننے کا امکان
سیرینیز پر مشتمل یہ خبریں ملک کی مختلف علاقوں میں 31 جنوری سے شروع ہونے والی بارش اور برف باری کو متعین کرتی ہے جب کہ موسم کے شدت میں شہرों اور سیاحوں کو محفوظ رہنے کی جانچ پر آئی ہے۔
اس کمیٹی نے بتایا کہ کمزور مغربی ہوا 30 جنوری سے ملک کے مغربی اور شمالی علاقوں میں داخل ہوگی جس کے بعد 3 فروری تک برقرار رہی گئی۔
شام کے بعد یہ ہوا سیلاب کی صورت میں شہریں اور سیاح ایک طرف بھاگنی پڑے گی جب کہ شمالی بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقوں میں 31 جنوری سے تین فروری کے درمیان بارش اور ہلکی سے درمیانی برف باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب اور برف بارش کا امکان
اس سلسلے میں اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، سیالکوٹ، گجرانوالہ اور گردنواح 1 سے 3 فروری تک متوقع بارش کی جانچ پر آئی ہے جب کہ مری، گلیات اور ملحقہ علاقوں میں بارش اور برف باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
اس حوالے سے بلوچستان کے شمالی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ سیلاب اور برف بارش کا امکان 31 جنوری سے تین فروری کے درمیان ہے جب کہ وہاں پریشانی متعارف کرائی گئی ہے۔
سڑکوں پر برف اور سیلاب کے باعث سڑک کو بند کرنا پڑ سکتی ہے
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ برف باری کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے جب کہ بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔
یہ خبروں سے یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ ماحولات بدل رہے ہیں اور ابھی سے ہوا کا موڑ بدل کر اچھی سے ناکام ہونے کی بات ہو رہی ہے، سیلاب اور برف بارش کا امکان 31 جنوری سے شروع ہو گا تو یہ سب کو محفوظ رہنے کی جانچ پر آئے گی لیکن یہ بات بھی پتہ چلا گئی ہے کہ میری ٹیلیفون کی صلاحیت ان Condition میں بھی کام کر سکتی ہے؟ اور یہ سب کچھ کینٹakuوں کو لازمی نہیں ملے گا، یہ بھی دیکھنا پڑega کہ ان Condition میں سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے؟
ابھی کچھ دنوں پہلے یہ سوچنا مشکل تھا کہ ایسے ماحول میں آہستہ آہستہ سیلاب اور برف بارش شروع ہوجائے گا۔ اب تو پتہ چل گیا ہے کہ 31 جنوری سے ملک بھر میں مختلف علاقوں میں بارش اور برف بارش کا امکان ہے اور شام کے بعد یہ ماحول کمزور ہوا کی وجہ سے بدل جائے گا۔ اس لیے آئیے محفوظ رہنے کی جدوجہد کریں اور سڑکوں پر ٹریفک کے نتیجے میں کوئی نقصان نہ ہو سکے!
یہ سب سوچو ہوں گے کہ آسمان سیلاب کی بات کر رہے ہیں، لیکن یہاں تک کہ میری ماں نے بھی سنہری پہنو تھیک دھوننے والا پہلے 31 جنوری کو ہی کیا تھا، اب اس پر فٹر کیا گیا ہے، میرا بچا پھول سوزنا چاہتا تھا اور اب وہ 2 فروری تک پھل سوزنے میں ناکام رہے گا، تو یہ کس طرح ہوگا؟
یہ رات کو دیکھا کہ پوری دنیا بارش اور برف باری سے گزری گئی ہے، جس کی پیشگوئی تھی اور نہیں پہچانی گئی تھی… اس سے قبل یہ بات بھی پوچھنے کا لئے تھی کہ یہ کتنی شدید ہوگی، اب دیکھتے ہیں کہ موسم کے شدت کی حد تک پوری ہو گئی ہے۔ سیلاب اور برف بارش کی پیشگوئی کرتے وقت یہ بات کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ شہروں میں ایسی صورتحال پیدا ہوگی جو لوگوں کے لیے خطرناک بھی ہوسکتی ہے اور ان کی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ لہٰذا یہ بات ہی معقول ہے کہ 31 جنوری سے تین فروری تک ملک بھر میں بارش اور برف باری کا امکان ہے۔
یہ دیکھنا مشکل ہے اور چینیلا بننے لگ رہی ہے کہ سیلاب اور برف بارش کی پہچان نہیں کر سکیں... آپ سے زیادہ چینلوں کو پتہ نہیں چلا کہ کس چیز سے لڑنا پڈے ہو... ایسے میں وہاں ٹریفک بند کرنے کی ضرورت ہے تو یہی نہیں بلکہ وہاں کھاتے پینے کو بھی متاثر کر سکتی ہے...
یہ تو سیلاب اور برف بارش کا امکان اٹھائی گئی ہے، اب بھی یہ بتایا نہیں گيا کہ یہ کیوں ہوا گا؟ پہلے تو مغربی ہوا کمزور اور بعد میں تیز ہوئی، اب یہ بتایا گیا کہ یہ کمزور ہوجائے گا اور پھر تیز ہوگی، اس سے کیا یہ نتیجہ ہوگا؟
عذرا ان پریوشن کو اس وقت تک متعین کرنا چاہیے جب تک کہ سیلاب اور برف بارش کے اثرات نظر نہ آ رہے ہوں، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ لوگ اپنی جانوں کی حفاظت کروں اور ایسے علاقوں میں بھی جائیں جہاں پریشانی نہیں ہو رہی ہو، مگر وہ لوگ جو ضرورت مند ہیں ان کے لیے اس صورت میں بھی سہارا ملنا چاہیے
یہ بات سب کو مل کر جاننا چاہیے کہ کچھ دिनوں بعد سیلاب اور برف بارش کا ماحول بننے کا امکان ہے۔ 31 جنوری سے شہروں اور سیاحوں کو محفوظ رہنے کی جانچ پر آئی جس کے بعد موسم کے شدت میں شہر اور سیاحوں کو محفوظ رہنا ہو گا۔ لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ موجود ہے، اس لیے سڑکوں پر برف اور سیلاب کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ چلو سڑکوں کو بند کرنا پڑ سکتی ہے، اس لیے کہ سیلاب اور برف بارش کے باعث لوگوں کی زندگی پر بھیImpact pad sakta hai.
میں یہ سوچتا ہوں کہ سیلاب اور برف بارش کا امکان ملک بھر میں پہنچ گیا ہے، اب 31 جنوری سے تین فروری تک ماحول کیسے رہega? یہ بتاتے ہی گہری خوف کی لہریں پیدا کر رہے ہیں! سڑکوں پر برف اور سیلاب کا باعث ٹریفک روانی متاثر ہوسکتی ہے تو پھر وہاں کی زندگی کیسے رہ گی؟ اور یہ سلیٹن سڑکوں پر گھسنا بھی کیسے رہेगا? ساتھ ہی ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی موجود ہے تو یہ کیسے رکھی گئی؟
یہ تو یقینی بات ہو گئی ہے کہ برف بارش اور سیلاب کا ایک نواں سیزن آ رہا ہے جو اسٹریچ برکنگ کی ہمت بھی کرتا ہے! 31 جنوری سے ملک بھر میں یہ سیلاب اور برف باری نہیں آئی تو کیا اس میں 3 فروری تک پہلے سے بنائی گئی پراپی کا کوئی خیال تھا؟
آرے کیوں نہیں؟ کمزور مغربی ہوا بھی آ رہی ہے تو یہ سیلاب اور برف باری ہمارے لیے ایک گھنٹا کھیل کھیل کر بیٹھ جائے گی!
سڑکوں پر برف اور سیلاب اچانک آجے پڑ سکتی ہے تو یہ بھی ایک نئی چال ہو گئی ہو گی! ہم نے اس کا انتظار کیا تھا تو اب واجب کس لئے؟
تحریر کی جان پھیپھادی دکھائی دیے گئے ہیں! سیلاب اور برف بارش نے ہر جگہ کھل کر بہنے لگا ہے، ایسے میں پتہ چل گیا ہے کہ جب تک صحت ملتی ہے اور ہوا کی گھنٹی دھمی درملا رہے تو موسم کو قابو میں رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ میں یہی بتاؤں گا کہ کتنے بھی پ्रयاس کیے جائیں تو سیلاب اور برف بارش کی آگ نہیں تھام سکتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ موسم کو لانے والی یہ ہوا ہی وہ سب کچھ تبدیل کر دیتی ہے۔
آج سے 31 جنوری تک ملک بھر سیلاب اور برف بارش کا امکان ہے تو کیوں پچتایا جائے؟ منے جو تین فروری تک یہ ماحول بنتا ہے وہاں کسی نے بھی سیلاب یا برف کی پیشگوئی کی تو واضح کر دیجیے کہ محتاج کون ہیں؟ اور پچتائی سے پہلے کیسے اپنے گھر کو بھگتیں اور لاکھ لاکھ پاکستانیوں کی جانت نہیں تھی کہ کب سے ایسا ہو گا؟
یہ سارے موسمی نقطے کچھ اور ہی ہی ہیں! ابھی تو ہمیں پوری دuniya میں تباہ ہونے کی خبر ہی نہیں، اور ابھی یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب اور برف بارش کا امکان، نہیں تو پوری دuniya تباہ ہو جائے گی تو! اربوں روپئے کھرچ کرکے یہ موسمی خبروں پر غور و فکر کیجئے، حالانکہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہمیں تین فروری تک برف اور سیلاب کی خبر بھی نہیں،
ایسے ماحولیاتی مسائل پر غور کرنے میں گھبراہٹ نہیں! ایسے مسائل کے لیے ہمیں نیا فاؤنڈیشن بنانے کی ضرورت ہے، جس سے ہم ان مسائل کو حل کر سکیں، یا کم سے کم ہمیں اس سلسلے میں سچائی کے سامنے چھڑکایا جائے!
یہ سیلاب اور برف بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، تو یہ دیکھنا ہوگا کہ کسی نے اپنے گھر کی تیاری کی ہو؟ پتہ چلتا ہے کہ سڑکوں پر برف اور سیلاب آ رہا ہے تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کسی نے اپنے ٹیکنالوجی کو تیار کر لیا ہے؟
یہ ٹیکنالوجی کی سیریز کی بارش اور برف بارش کے بارے میں بات کرتے وقت اس بات کو جگہ نہیں دیتا کہ سڑکوں پر برف اور سیلاب کے باعث ہونے والی ٹریفک کی روانی کس قدر پھنس سکتی ہے? میں اپنے بچوں کو دیکھتے ہوئے یہاں تک پہنچتا ہوں کہ وہ سڑکوں پر لے جاتے ہیں تو آج بھی برف اور ٹریفک کی چٹان کی وجہ سے ان کا کپڑا پھنس جاتا ہے! یہ وہ لوگ نہیں جو اس کے بارے میں بات کرتے ہیں!
ہمیں 31 جنوری سے برف باری اور سیلاب کی پیشگوئی ہوسکتی ہے، لیکن یہ ایک واضح بات ہے کہ اس وقت تک انہیں متعین نہیں کیا جا سکتا ہے جتنا قدامت پسند لوگ چاھتے ہیں اور وہ اس پر ممانعت کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ تاہم، یہ بات بہुत اہم ہے کہ لوگ اپنی جانوں کی ایک صحت مند پالیسی کو اپنائیں، جیسا کہ برف بارش کے دوران سڑکوں پر ٹریفک کم کرنا اور سفر کے لئے مناسب پرتیوٹی کا تعین کرنا۔
یہ تو سچ ہے کہ جس طرح مغربی ہوا اور برف کی بارش کا ماحول بن گیا ہے، وہیں سیلاب کا بھی امکان ہے۔ نہ تو پوٹھوہار میں بارش کی پیشگوئی صحت مند نہیں تھی، اور اب یہ لگتا ہے کہ اس پر انتباہ سنیا گیا ہے۔ تاہم سڑکوں پر برف اور سیلاب کی وجہ سے ٹریفک پر روانی متاثر ہونے کی صورت حال سے بچنے کے لئے سڑکوں کو بند کرنا پڑے گا، یہ تھوڑی اچھی نیتی ہے۔
یہ کام کر رہی ہے کہ 31 جنوری سے ملک بھر میں بارش اور برف بارش کی پیشگوئی ہو رہی ہے، لیکن یہ بات سچائی نہیں کی جاسکتا کہ پھر اس میں جو سیلاب اور ہوا کی گریبان آنے کا امکان ہے وہ کتنا ہوگا؟ 30 جنوری سے مغربی علاقوں میں ہوئی ہوا اس لئے نہیں کہ یہ ہوا بھارت کی طرف گئی، بلکہ یہ ہوا اپنی اپنے علاقوں سے آ رہی ہے۔