محمد بن سلمان کا اسرائیل کے ساتھ ابراہیم ایکارڈ پر انکار، ٹرمپ ناراض ہو گئے

آکٹوپس

Well-known member
سعودی عہد کا ایک اعلیٰ رہنما ہونے کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ ابراہیم ایکارڈ پر انکار کر دیا ہے۔ اس کی یہ پوزیشن امریکی صدر کو بہت خوش نہیں آئی۔

سعودی ولی عہد نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش کے خلاف انکار کردیا ہے جس پر امریکی صدر سعودی عرب سے ناراض ہو گئے ہیں۔ اس معاملے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ وہاں امریکی صدر نے زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل فوری طور پر آگے بڑھائیں گے۔

لیکن سعودی ولی عہد نے واضح کیا تھا کہ وہ اصولی طور پر اس عمل کے مخالف نہیں لیکن غزہ جنگ کے بعد سعودی عرب میں اسرائیل مخالف عوامی جذبات کی وجہ سے یہ فیصلہ فی الحال ممکن نہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اگرچہ گفتگو شائستی کے دائرے میں رہی لیکن صدر ٹرمپ اس وقت ولی عہد کے مؤقف سے ناراض ہوئے تھے۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ محمد بن سلمان نے ملاقات میں یہ نہیں کہا کہ وہ کبھی بھی معمول کے تعلقات نہیں قائم کریں گے تاہم انھوں نے دو ریاستی حل کو بنیادی شرط قرار دیا تھا۔
 
اس معاملے میں سعودی ولی عہد کا موقف بہت متاثر کن ہے، خاص طور پر وہاں کے عوام کی مشقت کو دیکھ کر یہ بات کچھ نہ کچھ حیران کن لگتی ہے کہ اس صورتحال میں ایسا موقف اختیار کیا گیا ہے جس سے سعودی عرب اور اسرائیل کی تعلقات کو منفی اثر پہنچ سکتا ہے۔

جب تک یہ رہتا ہو کہ غزہ جنگ کے بعد کے واقعات کو دیکھا جائے اور اس میں عوامی جذبات کی وجہ سے ان تعلقات کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا ہے تو یہ موقف صحیح سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے نتیجے میں سعودی عرب اور امریکا کی تعلقات پر بھی نقصان پڑ سکتا ہے۔
 
سعودی عہد کی یہ پوزیشن تو مندرجہ ذیل صورتحال کا اندازہ دیتی ہے کہ وہاں کیا سائنڈری حل کیسے پیش کیا جا رہا ہے؟ یہ بات تو واضع ہو گئی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی خواہش وہاں تو نہیں تھی، اس کے بجائے دو ریاستی حل کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ لہذا یہ معاملہ ایک دوسرے شعبے سے منسلک ہو رہا ہے جو اس کے نتیجے پر تعلق ڈالتا ہے۔ وہاں کی پوزیشن کو مندرجہ ذیل باتوں سے سمجھایا جا رہا ہے کہSaudi ولی عہد نے یہ فیصلہ غزہ جنگ کے بعد میں لیا ہے جس کی وجہ سے Saudi عرب میں اسرائیل مخالف عوامی جذبات زیادہ ہیں۔
 
میں سمجھتے ہیں کہ سعودی عہد کی یہ پوزیشن ایک بڑا خطرہ ہے! وہ ابھی تو اسرائیل سے معاشرتی تعلقات میں کمی کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور اب وہاں سے بھگنے کے لئے ایک بات نہیں کر رہے! سعودی عرب میں عوامی جذبات بہت زیادہ تھے اور غزہ جنگ کے بعد وہاں اسرائیل مخالف جوہد لگ رہی ہے، اب وہ ان کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں! یہ معاملہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے اور اس پر حل نہیں ملتا! 🤔
 
عرب دنیا میں امریکی اور اسرائیلی تعلقات کے معاملے میں سعودی عرب کی پوزیشن بہت مخالفت کی نمائش کر رہی ہے. اس کا یہ فیصلہ سعودی عوام کے مشق کو دیکھنے سے متاثر تھا جس نے پچیس سالوں میں غزہ جنگ پر بہت کا درجہ دیا ہے. واضح بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں اسرائیل مخالف ماحول تازہ ہے اور اس سےSaudi ولی عہد نے اپنے فیصلے کی بھی تجدید کی ہے.
 
یہ دیکھتا ہوں کہ سعودی عہد واضح کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش سے انکار کر دیا ہے اور غزہ جنگ کے بعد سعودی عرب میں عوامی جذبات کی وجہ سے یہ فیصلہ ممکن نہیں۔ 😐

امریکی صدر کو یہ پوزیشن بہت خوش نہیں آئی اور وہ سعودی ولی عہد کے مؤقف سے ناراض ہو گئے تھے، لیکن یہ بھی دیکھنا اناجاہے کہ محمد بن سلمان نے دو ریاستی حل کو بنیادی شرط قرار دیا تھا۔ اور ابراہیم ایکارڈ پر انکار کرنا تو ایک حقیقی پزیرش ہے! 🤷‍♂️
 
یہ سب جانتے ہوئے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک دیرپا تعلقات کی تاریخ ہے، لیکن اب سے یہ بات کہنی مشکل ہو گئی ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے علاقی میں اسرائیل کا استحکام قائم کرنے کی کوشش کریں گے؟

اس معاملے کو دیکھتے ہوئے، میں سोचتا ہوں کہ یہ ایک اہم تجربہ ہے جس سے دونوں رہنماؤं کے درمیان بات چیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

لیکن اس صورتحال میں ایک بات بھی یقینی نہیں ہو سکتی، جس کا نام یہ ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات واپس چلنے کی جانے کی possibilitہ بھی ہے؟

اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ایک اعلیٰ رہنما ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی اہلیت کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
 
امریکی صدر کی صورت حال میں انتہائی غصہ ہے! وہ اس وقت بھی انکار کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیل سے زیادہ باساؤدی تعلقات قائم کریں گے؟ یہ تو ہمیشہ سے یہی پوسٹرلول۔ لیکن اب جب امریکی صدر اس پر زور دے رہے ہیں تو وہ کیا کھیلا؟ اس کی آگے چلو، وہ تو کس طرح یہ معاملہ حل کرें گا? 🤔
 
اب مگر یہ بھی ایک بات ہی رہی، سلمان کیا کر رہے ہیں? وہ دوسرے ملکوں کی جسمانی ناکامش پر غور نہیں کرتے تو کیسے؟ شائستی کے دائرے میں بھی ہوا تو اور اب یہ بات انکار کر دی، وہ بتا رہے ہیں کہ اگر وہ بھی نہیں تو اسرائیل سے ملنے پر کیسے پکڑیں گے?
 
اس معاملے کی وجہ سے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان ملاقات ہوئی، لیکن یہ بات واضح نہیں کہ ان دونوں رہنماؤں میں ایک دوسرے سے اتنا تعلق تھا کہ وہ فوری طور پر معاملے پر اتفاق کرنے والے ہوتے۔ یہ بات کوئی جگہ نہیں دی، کہ اگر امریکی صدر اس صورتحال سے نمٹنا چاہتے تو انھوں نے ایسا اسکے لیے کیے۔

انہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ غزہ جنگ کے بعد اس خطے میں ملک و شہر میں اسرائیل مخالف عوامی جذبات بڑھ گئے ہیں۔ مگر یہ بات کبھی بھی نہیں کہ ان ماحول میں رہنے والے لوگ ایک معاملے کی وجہ سے کسی اور سے گریوز کرتے ہیں۔
 
اس معاملے میں سب سے زیادہ عرصہ مچنے والے افراد ہیں جو ابراہیم ایکارڈ پر منحنیف ہونے کا خطرہ ہے۔ امریکی صدر کی ایسے رویے سے مایوس ہو کر۔ یہ رہنماؤں کے درمیان میں ایک بڑی فرق ہے۔ عرب دنیا میں ایسا نہیں دیکھا جاتا۔
 
Saudi Wali haan sab kuch galat samjha hai 🤦‍♂️. Unka decision galat tha, Israel ke saath average relation banaye rakhne ki zaroorat nahi hai, Saudi Arab mein kaafi log khwab utha rahe hain. Muhamad bin Salman ko kisi bhi tarah se amriki sadar ke sath dar nahin hona chahiye 🙅‍♂️. Woh baat toh sirf khel badalte hue samjhane ki zaroorat nahi thi, bas galat decision lena tha.
 
اس سعودی ولی عہد کی پوزیشن کا کیا مطلب ہوا؟ وہ ہر وقت اسرائیل سے بے حد مقبول ہیں مگر اب وہ یہ نہیں کہتے کہ اس ملک کے ساتھ معاشی تعلقات قائم کیے جائیں؟ انھوں نے یہ بات بھی بتائی ہے کہ وہ ابراہیم ایکارڈ پر اٹھنے تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات منعقد نہیں کریں گے تو یہ کیا مطلب ہوا؟ ایک بار پھر وہ انسانی معاملات میں بہت ہی غنائی اور طاقتور ہیں مگر انھوں نے یہ بات تو چھپا دی ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات نہیں قائم کرنے پر تیار ہیں؟ :suspenseful:
 
اس معاملے میں سعودی عہد کی پوزیشن بہت ہی منظر نامہ ہے। وہ یہ کہنے والے اعلیٰ رہنماؤں سے توجہ اٹھانے لگا ہے، لیکن یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ وہ غزہ جنگ کے بعد اس خطے میں ابھرتی ہوئی اسرائیل مخالف عوامی جذبات کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں۔ معاملات پالیسی پر زور دیتا ہے
 
اس معاملے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی تھی، لیکن اس میں شائستی کے دائرے میں گفتگو ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ اب بھی واضح نہیں ہوا۔ میں سوچتا ہوں کہ محمد بن سلمان کو اس معاملے پر زیادہ دلچسپی ہونی چاہیے، لیکن انھوں نے یہ فیصلہ اس وقت تک لے لینا تھا جب تک عام عوام کے جذبات و اقدار کو دیکھا جا سکتا ہے۔ معاشی تعلقات میں ایسی سٹیٹس آف ایمپیریل کے مقابلے میں ملک کی سیاسی منظر نامے پر زیادہ توجہ دی جائے چاہئے۔
 
اس معاملے میں یہ بات بہت کہیں زیادہ ہے کہ کس نے ابراہیم ایکارڈ پر انکر کر دیا؟ اس کے بعد کیا سعودی ویلات نے اسرائیل کی طرف سے جو پیغامات بھیجے تھے ان کو کچھ ہی لگا؟

اس معاملے میں سب کچھ ایک ایسے دباؤ اور تانے بانے کی پٹی سے شروع ہوتا ہے جس سے اس کی حقیقت تک پہنچنا مشکل ہے۔ کیا سعودی ویلات میں ایسی عوامی رکاوٹیں ہیں جو انھیں اسرائیل سے لڑائی کے لیے تیار کر رہی ہیں؟

ان معاملات میں کبھی نتیجے کا تعلق نہیں رہتا۔ اور یہ بات بھی کہیں زیادہ ہے کہ انھوں نے اسرائیل کی جانب سے کیا پیغامات بھیجا تھے؟
 
واپس
Top