محمود خان اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کے طبی معائنے کا مطالبہ | Express News

کلامِعشق

Well-known member
اسلام آباد میں قید ہونے والے عمران خان کی صحت سے متعلق ایک اہم سوال پیدا ہوا ہے جس کا جواب اچکزئی نے بطور حزب اختلاف کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا جس میں عمران خان کی صحت کا معاملہ اٹھایا ہے اور اس سے متعلق ایک اہم سوال پیدا ہوا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ کیسے کیا جائے گا، یہی وہuestion جو وزیراعظم کو پہچانا گیا تھا اور انہوں نے اس سے متعلق ایک اہم خط لکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر تیزی سے ان کی حالات بدلتے جائیں گے، اس لیے وہ اڈیالہ جیل میں قید ہونے والے عمران خان کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرنا پڑے گا، تاہم اس سے پہلے انہوں نے یہ بات بھی کہی ہے کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، اس لیے اس کے طبی معائنہ میں ایک اہل خانہ ڈاکٹر کو شامل کرنا پڑے گا جیسا کہ شوکت خانم یا شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے۔
 
عمران خان کی صحت کا معاملہ ایک اہم問題 ہے، اس میں کوئی بدلाव نہیں ہو سکتا جو اس کی حالات کو بڑھا دے گا 🤕. اچکزئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر ان کی حالات تیزی سے بدلتے جائیں گے، اس لیے وہ اڈیالہ جیل میں قید ہونے والے عمران خان کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرنا پڑے گا، یہ ایک اہم بات ہے کیوں کہ ایک غیر اہل خانہ ڈاکٹر اس صورتحال میں جانب نہیں ڈھیل سکتا۔

اس معاملے میں ایک اور بڑی بات یہ ہے کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، اس لیے اس کے طبی معائنہ میں ایک اہل خانہ ڈاکٹر کو شامل کرنا پڑے گا جیسا کہ شوکت خانم یا شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے، یہ بات بھی ضروری ہے کہ عمران خان کی صحت کے معاملے میں کوئی نہ کوئی ادارہ ان کے احتیاط کا خیال رکھے۔
 
عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر یہ بات بھی توجہ دینی چاہئے کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھیک طرح سے نہیں رہ سکتا، کیونکہ اس وقت اسے صحت مند شخصوں سے ملنا پڑے گا اور ان لوگوں کے ساتھ زیادہ زیادہ سंवाद کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے وہ ابھی بھی پریشانیوں میں ڈوب سکتا ہے، اس لیے اڈیالہ جیل کے اسٹاف کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر کو شامل کرنا چاہئے تाकہ وہ اسے مناسب طور پر طبی معائنہ کر سکیں اور اس کی صحت کی صورت حال کو بھی کھلا دکھائی دیں
 
عمران خان کی صحت کا معاملہ تو یہی problem ہے, لگتا ہے ان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر اچکزئی کا کہنا بھی اچھا ہو گا 🤔 اور اس لیے وہ یہ سونا چاہتا ہے کہ عمران خان کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرنا پڑے گا, مگر اس کی وضاحت تو ہی اچھی نہیں... یہ سہی ہو گیا تو عمران خان کے حالات بھی سہی ہونگے!
 
عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر حالات تو بدلتے ہیں لیکن اس کی جگہ ایک نئی کہانی لائیں گے... یہ سوال کبھی نہیں پوچھا گیا ہوگا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں قید ہونے پر ایک نئی جائے گا یا ابھی ہم اسے یہی دیکھ رہے ہیں... میری بھی opinon ہے کہ عمران خان کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے معائنہ کرنا چاہیے تو یہ صرف ایک بات ہے لیکن یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہیے کہ انہیں جیل میں رکھنے کی حاققت کیا جا سکتی ہے یا نہیں...
 
عمران خان کی قید میں ایسے وقت آیا ہے جب ان کی صحت کو لوگ اور Politics کے حامل لوگ دیکھ رہے ہیں. اب کا سوال یہ ہے کہ عمران خان کو کیسے معاف کیا جائے گا؟ اڈیالہ جیل میں اس کی حالات بدلنے والی ہیں؟

اس سے پہلے عمران خان کی صحت کے بارے میں لوگ جو منٹ بھرا بیس تھے اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ اس کی صحت میں تبدیلی ہونے سے ان کی حالات بدلتے جائیں گے.

اس لیے یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ عمران خان کو کیسے معاف کیا جائے گا؟ کیا وہ اڈیالہ جیل سے نکلا کر شاپنگ میں جانے والے ہیں؟

اس بارے میں لوگ اپنی opinon پر پوری طرح فیکس ہوچکے ہیں اور politics بھی اس سے متعلق اپنا دھندلا بھی چلر اچکزئی نے ایک اہم خط لکھ کر اسی موضوع پر واضح کیا ہے.
 
عمران خان کی صحت کے بارے میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہ معاملہ کافی تھکاوٹ دے رہا ہے. جب تک ان کی صحت میں تبدیلی نہ ہوگی تو کچھ بھی بات نہیں، لیکن اگر وہ سستے ہوگئے تو یہ معاملہ تیزی سے بدلتا ہے. ایک اہل خانہ ڈاکٹر کو شامل کرنا ضروری ہے، نہیں تو یہ انسانی حقوق کا مظالم ہو جائے گا. یہ بات یقینی بنانے کے لیے اچکزئی کی جانب سے اس معاملے پر توجہ دی جانی چاہئے.
 
عمران خان کا صحت کا معاملہ دیکھ کر مجھے یہ سوچنے میں Problem hai! عمران خان کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروانا پڑتا ہے لیکن اس سے قبل اس کی صحت کا معاملہ انسانی حقوق کا معاملہ ہوتا ہے اور اس میں بھی ایک اہل خانہ ڈاکٹر کو شامل کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے مجھے یہ سوچنے میں Problem hai! کیسے ان کی حالات بدلتے رہیں گے؟
 
عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر اچکزئی نے بات کی ہے کہ ان کا طبعے معائنہ کرنا پڑے گا، لیکن وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہے۔ اس لئے انھوں نے بھی بات کی ہے کہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر کو شامل کرنا پڑے گا تاکہ عمران خان کی صحت کا معاملہ ساتھ ہو جائے۔
 
عمران خان کی صحت پر یہ بات تو واضح ہے کہ اس کے حالات جیسے ہی بدلتے چل رہے ہیں، ابھی ان کا سہارہ بھی لگچکچا ہوا تو دیکھنا ہو گا کہ وہ یہاں تک پہنچ جائیں گے جس کی ٹھیکنہ نہیں ہے، اور یہ بات بھی تو تھوڑی دور پہلے کہی جاتے تھے کہ انہیں ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرنا چاہیے، اب واضح ہو چuka ہے کہ یہ بات کوئی بھول نہیں سکتا، اور یہ بھی بات قابل تسلیم ہے کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ انسان کے حقوق کے بارے میں ایک اہم سوال ہے
 
عمران خان کی صحت میں تبدیلی کی صورت حال کیا ہو رہی ہے، یہ بات صرف پھیلائی گئی ہی نہیں بلکہ عمران خان کی قید میں بھی جب تک وہ جلاوطن ہیں تو ان کا طبی معائنہ کرنے کا کام اسٹینڈرڈ پروسیال نہیں تھا اور اب وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کیو کیا جائے گا، یہ بات تو سمجھ میں آئی ہے کہ عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر ان کے حالات بدلتے جائیں گے اور اس لیے وہ اڈیالہ جیل سے باہر نکلنے کا امکان بھی تھا، لیکن اب وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کی گئے ہیں تو یہ صرف ایک معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی موقف کا بھی ہے، آج کل عمران خان کی صحت میں تبدیلی تو اس کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے اور یہ بات تو سامنے آئی ہے کہ ان کا طبی معائنہ کرنے کا کام کس نے بھی کیا ہے، یہ ایک سیاسی منظر نامہ تھا، اور اب وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کی گئے ہیں تو یہ صرف اس کے سیاسی معاملوں کو سمجھنا چاہیے، اور اب وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کی گئے ہیں تو یہ ایک سیاسی موقف کے طور پر دیکھنا چاہیے اور ان میں سے ایک اہل خانہ ڈاکٹر کے ذریعے ٹیکسٹ کی گئی ہے تو اس کو ایک سیاسی معاملہ کے طور پر سمجھنا چاہیے، اور اب وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کی گئے ہیں تو یہ صرف اس میں سے ایک اہل خانہ ڈاکٹر کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی معاملہ ہے، اور اب وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کی گئے ہیں تو یہ صرف اس میں سے ایک اہل خانہ ڈاکٹر کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی معاملہ ہے، یہ بات تو سمجھ میں آئی ہے کہ عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر ان کے حالات بدلتے جائیں گے اور اس لیے وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کیے گئے ہیں، اور اب وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کی گئے ہیں تو یہ صرف اس میں سے ایک اہل خانہ ڈاکٹر کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی معاملہ ہے، اور اب وہ ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیکسٹ کی گئے ہیں تو یہ صرف اس میں سے ایک اہل خانہ ڈاکٹر کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی معامل۔

📊
عمران خان کی صحت میں تبدیلی کا تناسب اور ان کی قید میں رہنے کا وقت:

(چार ماہ)
ہجرت
33.4%

سیکشن میں چار ماہ کا درجہ
عمران خان کی صحت میں تبدیلی کا تناسب اور ان کی قید میں رہنے کا وقت:

(چھ ماہ)
ہجرت
67.8%

سیکشن میں چار ماہ کا درجہ
عمران خان کی صحت میں تبدیلی کا تناسب اور ان کی قید میں رہنے کا وقت:

(چھ ماہ)
ہجرت
100%

سیکشن میں چار ماہ کا درجہ
 
عمران خان کی صحت کا معاملہ تو کچھ عرصے سے ہی ہوا رہا ہے، اس سے قبل بھی ان کی صحت میں تبدیلیاں دیکھنے کو ملیا کرتی تھیں، اب کہ وہ اڈیالہ جیل میں قید ہو رہے ہیں تو اس معاملے پر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کی صحت میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں تو وہ اچکزئی کے لکھے ہوئے خط کو پہچانتے ہی جیل کے ڈپٹی انسپेकٹر کی طرح ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرنا پڑے گا، یہ بات بھی سب کو بات چیت کرنی چاہئے کہ عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر وہ حالات بدلتے جائیں گے اور اس سے پہلے بھی ان کی صحت کو بہتر بنانے کا جواب دیا جائے، ایسا ہی رہے تو عمران خان کی قید میں سے نکلنے پر وہ اپنی پوری زندگی کو بھرپور طریقے سے شروع کر سکتے ہیں
 
عمان خان کی صحت پر بات کرنے والی بات بہت اچھی ہے، لیکن اس سے پہلے تو ان کی صحت کا معاملہ کیا جائے گا؟ اڈیالہ جیل میں قید ہونے والے عمران خان کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرنا پڑے گا یا اسے فوری طور پر شفیا اسپتال لے جاتے ہیں؟ یہ بات تو پتہ چل گی، لیکن اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟
 
عمران خان کی صحت پر توجہ دینا ہی بہت اچھا تھا، لیکن یہ بات یقینی طور پر بیان کرنی چاہئیے کہ وہ کیسے ٹیکسٹ میں رہ سکتے ہیں? ان کی صحت میں تبدیلی ہونے کی صورت میں وہ اپنے اہل خانہ کو کیسے پکرانا چاہیں گے؟ یہ ایک بڑا معاملہ ہو سکتا ہے اور اس پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہو گا۔
 
عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر ہر کوئی اپنی بات کہ رہا ہے لیکن یہ بات تو بھی پوری ہو گی کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ ان سے زیادہ اہم نہیں ہوگا جو ایسے افراد کو جسمانی طور پر مشکل صورتحال میں ہوتے ہیں، عمران خان کو بھی اپنی صحت کے لیے دیکھنا پڑے گا اور اس سے پہلے انہیں سوجھتی میرتی اور ایسی چٹان کی ضرورت ہوگی جو انہیں اپنی صحت کے لیے دیکھ سکے، جبکہ عمران خان کی صحت کا معاملہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہوتا ہے تو اس کے لیے ایسے ڈاکٹر کو شامل کرنا چاہیے جنہوں نے اس طرح کی صورتحال میں بھی اپنے patients کو سوجھایا ہو، ہمت ہی کس حد تک ہوتی ہے؟
 
عمران خان کی صحت کی بات आतا ہی طویل ہو گی، پہلے وہ اڈیالہ جیل میں رہتے ہیں تو اور پھر وہ فوری طور پر طبی معائنہ کے لئے نکلپاتے ہیں، یہ سارے معاملے سے بچنے کے لیے ایک اہل خانہ ڈاکٹر کو بھیجا جائے گا، مگر عمران خان کی صحت میں تبدیلی تو ہو چکی ہے ان کے حالات اور اس پر فوری جواب دینے والے ہی نہیں ہو سکتے، یہ صرف ایک بات ہے کہ عمران خان کی صحت میں کیسے ترمیم کیا جائے گا اس پر فوری جواب دیا جا رہا ہے؟

اس معاملے میں سارے لوگ اپنے ایلینز کھیل رہے ہیں، اور نا آفتاب کی بات نہیں کر پاتے۔ عمران خان کو دیکھتے ہوئے ایک سا ماحول میں رکھ دیا جائے گا جو اس کے لیے بہترین لگے۔

اس معاملے سے متعلق وہی بات پھر سے ہو گی، عمران خان کی صحت میں تبدیلی تو ہو چکی ہے اور ان کے حالات بھی بدلتے جائیں گے، لیکن اس پر فوری جواب نہیں دیا جا سکتا۔

ایسے میڈیا لوگ جو یہ بات کرتے ہیں ان کی لگن بھی اچھی ہوگی، لیکن عمران خان کو دیکھتے ہوئے اور اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایک سا ماحول میں رکھ دیا جائے گا جو اس کے لیے بہترین لگے، دیکھو عمران خان کو اچکزئی کی طرح جیل میں رکھنا چاہئے تو اس کے لیے سڑک پر چل کر گزرنا بہتر ہوگا! 🤔🚨
 
عمران خان کی صحت کا معاملہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں سارے معاملات کو چھوڑ کر صرف صحیح طبی معائنہ اور ضروری احتیاط کے ساتھ قدم رکھنا پڑتا ہے। یہ بات نہایت بے شبہ ہے کیونکہ اگر اس معاملے میں کسی بھی غیر ضروری یا حیدوی ناکام تدابیر کو اپنایا جائے تو عمران خان کے حالات مزید بدلتے ہیں جو ایسا ہونے پر اس سے پہلے یہ فیصلہ نہیں لگ sakta ہے کہ عمران خان کی صحت میں کوئی تبدیلی اور توسیع ہو رہی ہے یا نہیں
 
عمران خان کی صحت میں تبدیلی ہونے پر ان کے حالات بھی بدلتے جائیں گے، یہ تو آسان نہیں ہوگا۔ اڈیالہ جیل میں قید ہونے والے عمران خان کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرنا پڑے گا، لہٰذا اس سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے؟ ان کی صحت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تو کیا ضرر ہوگا؟ اور اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو یہ سارے جوہم سے پہلے ہی آجھان لگ جائیں گے۔
 
عمران خان کی صحت کا معاملہ بہت اہم ہے، لکھی ہوئی گئی خط میں انہوں نے سادہ بات کہی ہے جس پر دھیا ہوا نہیں ہے ، عمران خان کو ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرنا پڑے گا، یہ بات تو صحت کے دیکھ بھال میں آئی ہے لیکن عمران خان کی صحت کا معاملہ بنیادی انسانی حقوق کا بھی ہے، اب پہلے اس سے متعلق بات چیت نہیں ہوئی تو آج وہی بات ہو رہی ہے ، عمران خان کو ایک دوسرے معائنہ سے پہلے اپنی جگہ میں دیکھنا چاہیے اور اس کے بعد صرف ایک اہل خانہ ڈاکٹر سے ٹیسٹ کرایا جائے ، یہی بھلا نہیں کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ ہمیشہ تو ایک طاقت کی بات میں رہتا رہا ہے
 
واپس
Top