پاکستان کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ جہاں ایسے حالات اور ماحول میں موجود ٹیکس سسٹم کی بھی نئی منظم پالیسی ڈالنی چاہیے، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کے لیے نیشنل فِسکل فریم ورک طے کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں انھوں نے بتایا کہ ٹیکس نظام میں اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ متعارف کرایا گیا ہے، جس سے کرپشن اور ریونیو لیکجز میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ انھوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کی جانب بھی اشارہ کیا، جس سے پورے ملک میں مالیاتی بحران پیدا ہوا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد تک آ گیا ہے، جو اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ ملک کا قرضہ برائے جی ڈی پی کس حد تک میں ہوا ہے۔
جی لگتا ہے آج کل معاشی صورتحال بہت تباہ ہونے والی ہے، ٹیکس سسٹم میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہئیں جس سے کرپشن کو کم کیا جا سکے اور معاشی حالات میں ایک نئی توجہ دی جا سکے
پاکستان کی معاشی صورتحال سچمں نہیں دی، اس کی پوری ساتھ دیکھنی چاہئیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کے لیے نیشنل فِسکل فریم ورک طے کرنا ایک بڑا کام ہوگا، لेकिन اس سے پہلے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ ٹیکس سسٹم میں اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ متعارف کرایا جانا ایک بڑا قدم ہوگا، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت کو اپنے معاشی منصوبوں کی ناقص پالیسیوں پر کام کرنا پڑے گا۔
بھائی یہ بہت کچھ ہو رہا ہے دیکھنا، پہلے جب انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کی سیریز آئی تھی تو لوگ ایسے اچھے معاشی حالات کا سوچتے تھے کہ نہیں اور اب جیسے ہی اس معاشی صورتحال پر دیکھنا پڑتا ہے وہ بھی سچ میں اچھا نہیں، وہاں تک کہ وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ ٹیکس سسٹم میں ایسی پالیسی ڈالنی چاہیے جو ملکی معاشیات کو مزید بھرپور بنائے اور اس لیے انھوں نے نیشنل فِسکل فریم ورک کیا ہے، اچھا وہی نہیں، یہ تو سچ ہے لیکن پوری ادارتی جڑی میں ایسی کوششیں کی۔
ایسے ایسے حالات میں پکے بھی انسداد کرپشن کا ایسے نئے منظم سسٹم کی ضرورت ہے جیسا کہ وزیر خزانہ نے فریمیوم طے کیا ہے، لیکن پھر انسداد کرپشن کو یقینی بنانے کے لیے ایک بہت بڑی چungi اچھلی ہوگی کیونکہ اکثر وزیر خزانہ جیسے ملازمت پر رہنے والے لوگ اپنی سول میڈیا کے ذریعے یہ بات واضح کرنے پر مجبور ہوتے ہیں نہ ہی وہ دھمکیاں دیتے ہیں نہ ہی ان کے ڈرامائی اقدامات پر مملکت کے شعبہ جات کو دھکیل دیا جاسکتی ہے تو یہ منظم سسٹم جیسے ڈیزائن کیے گئے ہیں اور پھر ان میں بھی کسی کا نچواہ نہیں رہتا ہے یہ صرف چوری، دھوکہ اور دھمکیوں پر مشتمل ہے
پاکستان کی معاشی صورتحال کے بارے میں بات کرنے والے وزیر خزانہ کا کہنا کہیں ایسے حالات اور ماحول میں موجود ٹیکس سسٹم کی نئی منظم پالیسی ڈالنی چاہیے تو یہ بھی اچھا ہوگا، لیکن یہ بات تو پوری۔ مگر اورے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کے لیے نیشنل فِسکل فریم ورک طے کرنا بھی ایک ایسا قدم ہوگا جو پورا ملک کو معاشی استحالے سے دور رہنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔
میری نظر سے اے آئی پر مبنی ٹیکس مانیٹرنگ کی بات بہت اچھی ہے ، یہ کرپشن اور ریونیو لیکج کے مسائل کو کم کر رہا ہے .. لیکن اس سے پہلے بھی ہمارے ملک کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ جہاں حالات اور ماحول میں موجود ٹیکس سسٹم کی بھی نئی منظم پالیسی ڈالنی چاہیے، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کے لیے نیشنل فِسکل فریم ورک طے کیا گیا ہے .. اور انھوں نے بتایا کہ پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد تک آ گیا ہے .. یہ بہت حیرانی کا Cause hai
ہمارے ملک کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، وہ سب سچا ہے جو وزیر خزانہ نے کہا ہے! ٹیکس سسٹم میں ایسی تبدیلی لानے کی بات اچھی ہو گی تو، پوری ملک میں مالیاتی بحران سے نجات ملے گی... اور یہ کہ وہ نیشنل فِسکل فریم ورک طے کرائے ہوئے ہیں، یہ تو حقیقت سے بھی چاہیے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں ایسی بات مل جائے جو پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنائے... ہمیشہ سے پوری ملک میں قرض کی بات کرتے رہے ہیں، اب وہ سب سچا ہو رہا ہے! 70 فیصد تک جتنی گھنٹی پورے ملک میں قرض برائے جی ڈی پی ہوا ہے، اسی بات کو واضح کر رہے ہیں... اس کا مطلب یہ بھی ہو گیا ہے کہ پوری ملک میں پھیلے ہوئے معاشی Problem حل کرنے کی ضرورت ہے!
چین کی اچھی نئی پالیسی نے مجھے توجہ دिलائی ہے انھوں نے اپنے ملک میں کاروبار کا ٹیکس لگایا ہے جو اچھا ہے لیکن یہ بھی بات چیت ہے کہ ملک کے کسی نہ کسی حصے میں ان کی پالیسی کو متعارف کرائے جائیے تو اس سے ملک بھر کے کاروبار کو فوائد ہو سکتے ہیں
یہ تو ہمیں اٹھنا پڑتا ہے، معاشی صورتحال کی طرف دیکھتے ہوئے کہیں سے بھی یہ کبھی بھی بدلنا پڑے گا، اس لیے اس میں ٹیکس سسٹم کا بھی اہم کردار ہے، نئی منظم پالیسیوں کے ساتھ مالیاتی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پوری ملک میں ایسا اچھا ماحول پیدا ہو جس سے ہمیں اٹھنا پڑتا نہیں، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان یہ منظم پالیسی طے کرنی بہت ضروری ہے…
میری نظر میں یہ بات تو واضح ہے کہ Pakistan ki economic situation toh bahut kathin hai , lakin yeh sunna bhi hai ki ab government ne ek naye plan ki shuruwat ki hai, jismein tax system ko bhi saaf karne ka aim hai. Yeh toh ek achha start hai, lekin yeh sawal hai ki kya yeh plan puri tarah se successful ho sakta hai? Tax system ko monitor karne ke liye AI pe bhi reliance ki ja rahi hai, jo toh ek achha idea hai . Lekin bas baat yeh hai ki Pakistan ke economic crisis ka reason kitna bada hai, kya humein apni financial situation ko saaf karne ke liye kuch aur steps leni padengi?
وہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انھوں نے فیکلٹی کے ماحول سے ملنے والے مسائل کو حل کرنے کی پالیسی بنائی ہے۔ تو اچھا ہوتا ہے کہ وزیر خزانہ نے ٹیکس سسٹم کو منظم کیا ہو، لیکین یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اس ماحول میں چلنے والے مسائل ایسے اچھے حل کی ضرورت ہیں جیسے انھوں نے فیکلٹی کی پالیسی بنائی ہے۔ 74 فیصد تک قرضہ برائے جی ڈی پی دھکela ہوا تو اچھا ہوتا ہے کہ ملک کو اس کا سامنا کرنے کے لیے ایسا منظم طریقہ سے پیشی کیا گیا ہو۔
بھائیو یہ تھوڑا سا پچتا ہوا ہے کہ وزیر خزانہ نے یہ بات بتایا ہے کہ ٹیکس سسٹم میں ایک نیا منظم پالیسی ڈالنا چاہیے۔ لیکن ابھی تک وہ کیسے اچھا پکڑے گئے؟ وہاں یہ بات بھی ہے کہ قرضہ جی ڈی پی کس حد تک اٹھ گیا ہے، 74 فیصد سے کم? آگے بڑھا کر کیسے پہنچا گئے؟ یہ بات میں چپکتی ہے کہ وہاں کیا نئی پالیسیوں کی واجبیت ہے؟
بھرپور ماحول! پہلی بار اس بات پر توجہ دی جارہی ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کو حل کرنے کے لیے ٹیکس سسٹم میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے। وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کا ایک نئا فریم ورک بنایا گیا ہے جس سے ٹیکس کی پابندی میں کمی واقع ہوئی ہے। اس سے کرپشن کے خاتمے اور ریونیو لیکجز میں بھی سुधار ہوا ہے۔