معاشی استحکام، 2026 ملکی معیشت کے لیے فیصلہ کن سال | Express News

ٹریولر

Well-known member
2026 کا معاشی استحکام سال وہی ہوسکتا ہے جس میں آزاد معیشت کی ترقی ہو۔ اس میں روزگار کی ضمانت، داخلے کا اضافہ اور جمود کو دور کرنا شامل ہوگا. تیل اور دیگر اجناس کی کم قیمتوں نے مہنگائی کو قابوع رکھا ہے، لیکن معاشی استحکام کی یہ قائم شدہ قیادت پائیدار ترقی میں بدلی جانی چاہیے.

ملازمت اور داخلے میں اضافے کے بغیر استحکام کے منصوبوں میں عوامی حمایت کمزور ہوسکتی ہے، اس لیے استحکام کو روزگار اور داخلے میں اضافے سے ہی بڑھایا جائے گا.

عالمی سطح پر تیل کی کم قیمتوں نے مہنگائی کو قابوع رکھا ہے، ریکارڈ ترین ترسیلاتِ زر نے جاری کھاتے کو سہارا دیا ہے اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط کارکردگی بہتر سرمایہ کار اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، یہ سارے عوامل معاشی استحکام کے لیے نئی پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں.

ان ساتھ ہی ان سازگار حالات کو پائیدار ترقی میں بدلا جائیے جس سے معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچا، اس لیے ان چار ترجیحات کو پورا کیا جائے گا:

اسٹیٹ کی صنعت اور زراعت کی بحالی: پاکستان کو ٹیکسٹائل، موبیلی فون، دفاعی سازوں اور صارفین کی پائیدار اشیائی تیاری میں شامل ہونا چاہیے۔

حکومت سے عمل دخل رکھنے پر توجہ:

سربندیاً حکومت کوServicing اور وہ کارکردگی اچھی کرنی کی ضرورت ہے جو پانچ برس میں معاشی نمو میں اضافے سے سات فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

دفاعی وہ پیداوار کو یقینی بنائیں:
پاکستان کی دفاعی کارکردگی جہاں آئے تو پلیٹ فارم کیا نہیں۔

شعبے کو کھولنا:
کمی ڈی پی کا فیصد ساتھ ایک دوسرے کھلنے والوں سے جود کی ضرورت ہے، لہٰذا وہ فیلڈ جس میں کمزوری کا شکار ہے اس پر توجہ دی گئی چاہے ٹیلی کام اور توانائی سے نکلنے والی سرکاری بالادستی کی رکاوٹ.
 
پاکستان کی معاشیات میں یہ بات کبھی تو محسوس ہوتی ہے کہ لوگ ملازمت کے لئے ساتھ ساتھ بھی کام کر رہے ہیں۔ لیکن وہ بہت سے لوگ اپنے آپ کو ایک کارکن کے طور پر دیکھتے ہیں جو روزگار تلاش میں مصروف ہوتے ہوئے کھو کر رہ گئے، اس لیے آج کی معاشی پالیسیوں سے یہ ترجیح کی جانے چاہیے کہ جو لوگ کام کرنے کو چاہتے ہیں انہیں بھی ملازمت ملے اور روزگار کی گارंटी دی جائے۔
 
پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے روزگار اور داخلے کی ضمانت کرنا چاہئیے, تیل کی کم قیمتوں سے مہنگائی کو قابوع رکھنے کے باوجود. 📈
 
اس معاشی استحکام کے منصوبوں میں پھون کے لین ہے، ایسا محض وہی نہیں ہوتا ہے، وہ بھی ضروری ہے جو روزگار کی ضمانت کرتا ہو اور اس سے سیرکٹ میں اضافے سے ملنے والی معیشتوں کو بھی یقینی بنایا جائے گا.
 
2026 کا معاشی استحکام سال وہی ہوسکتا ہے جس میں روزگار کی ضمانت ہو، مینڈٹیبلیٹی میں اضافہ ہو اور جمود کو دور کیا جاے، تیل اور دیگر اجناس کی کم قیمتوں نے مہنگائی کو قابوع رکھا ہے لیکن یہ معاشی استحکام کی قائم شدہ قیادت پائیدار ترقی میں بدلی جانی چاہیے
 
تلی وینٹر کے بعد آگے بھاگ کر استحکام کے منصوبوں میں پابندیاں لگا دینے پر توجہ دی جائی چاہیے، اس لیے تیل کی قیمتوں کو واپس نہ رکھنے کا آدش کروائیجے.
 
تھوڈا سا بہت کچھ ہوا ہے، اس سال معاشی استحکام کا امکانات نہیں تو 2026 میں آج تک کی کارکردگی کے مطابق نہیں ہوسکتا ۔ روزگार کی ضمانت اور داخلے میں اضافے سے پوری معاشی تباہی دور کر لی جائے گا، یہاں تک کہ تیل اور دیگر اجناس کی کم قیمتوں نے بھی مہنگائی کو قابوع رکھا ہے۔ لیکن معاشی نمو میڹلے چھپانے سے بڑھنا کس کو لگتا ہے، یہاں تک کہ اسٹیٹ کی صنعت اور زراعت کی بحالی کے لئے پوری توجہ نہیں دی گئی تو اس معاشی استحکام کا کوئی منصوبہ بھی نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ، ڈپٹیکر کی کارکردگی بھی اچھی ہونی چاہیے، اس سے معاشی نمو میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ اور دوسری سے پوری وہ کارکردگی بھی اچھی ہونی چاہیے جس کے ذریعے پوری معاشی تباہی دور کی جا سکے گا۔

یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ کس طرح ان تمام تر ساتھ ہو کر معاشی استحکام کو نئی پلیٹ فارم فراہم کی جائے گا.
 
تین سالوں میں معاشیات، ٹیکسٹائل، موبیلی اور اسٹریٹجک ایجنسیوں کا کامیاب منظم ہونے پر یہاں سے بھی پچاس فیصد کی اضافہ ہوسکتی ہے.
 
تمام لوگ جانتے ہیں کہ تیل اور دیگر اجناس کی کم قیمتوں نے مہنگائی کو قابوع رکھا ہے، لیکن یہ بات بھی ایسی ہے کہ معاشی استحکام کی پائیدار ترقی سے ہی معیشت میں سستگی دور ہوسکتی ہے 📈

ایسا کیا ہوگا جب روزگار اور داخلے میں اضافے کی گئی؟ اس سے لوگوں کو یقینی طور پر فرصائیاں ملنی چاہیں؟ یہ بات تھی کہ ملازمت اور داخلے میں اضافے کے بغیر استحکام کے منصوبوں میں عوامی حمایت کمزور ہوسکتی ہے!

اس لیے وہ لوگ جو معاشی نمو میں حصہ لیتے ہیں ان کی کارکردگی اور پریکٹس کو بھی نظر رکھنی چاہئیں. آپ دیکھیں کہ وہ کیسے کام کر رہے ہیں اور وہ آگے بڑھنے کی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں.

آپ کیا سوچتے ہیں؟
 
اس معاشی استحکام کا سENA ابھی لگتا ہے، مگر وہ تو بھی ہمیشہ کچھ نئا کرنے کے لیے پہلے سے آتے ہیں. روزگار کی ضمانت اور داخلے میں اضافے سے استحکام ضرور بڑھے گا، مگر اس کا معیار کیسے؟

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تیل اور دیگر اجناس کی کم قیمتوں نے مہنگائی کو قابوع رکھا ہے، لیکن اس سے بھی وہ معاشی نمو کی بات کر رہے ہیں جو ابھی ابھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن یہ سبھی کو اسٹاپ نہیں کرتا.

ملازمت اور داخلے میں اضافے کی بات کرنے والوں کے پاس بھی اپنی انصاف ہوتی ہے، مگر وہ اس پر کیسے ٹھرک سکتے ہیں؟

دفاعی کارکردگی سے بھی ہمیشہ آگاہ رہنا پڑتا ہے، مگر یہ معاشی استحکام کیسے بنایا جا سکتا ہے جس میں دفاعی کارکردگی بھی شامل ہو؟

شعبے کو کھولنا اور ان کی مدد کرنا ایک نئی پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے، لیکن اس کے لیے سارے لوگوں کو اپنی جگہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر وہ سبھی انصاف سے نہیں آتے.

اس معاشی استحکام کا یہ منصوبہ بھی ریکارڈ ترین کامیابی کے لیے پڑے گا، مگر اس کی توقع اور علاج کیسے کیا جائے گا؟
 
یہ ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سب چاروں ترجیحات کو پورا کرنے کے لئے ایک واضح پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو تمام اس بات کو سنبھالے: کہیں کہیں بھرپور استحکام کی قیمتیں، روزگار اور شاملہ کی گئی ڈی پی، انسداد جمود اور دفاعی کارکردگی کو یقینی بنائیں۔ اور اس لئے ایک ایسا پلیٹ فارم چاہئے جہاں سرکاری اور نجی اداروں دونوں کے درمیان ایک واضح تعلق بٹھائے جا سکے تاکہ ان سب کو ایک ہی مقام پر جوش آئے۔
 
بھانے 2026 کا معاشی استحکام پاکستان کے لیے ایک نئی پلیٹ فارم ہے، یوں تو اس میں روزگار اور داخلے کے اضافے کی ضرورت ہے، لےکن یہ بات تو صارم ہے کہ وہ پلیٹ فارم ہی استحکام کا نئا نام دے گا... ہوں ہی پہرپور ترقی کے لیے چار اہم ترجیحات ہیں:

سٹیٹ اور صنعت کی بحالی، توجہ سے کارکردگی کو بڑھانا، دفاعی کارکردگی کو یقینی بنانا اور شعبے کا کھولنا۔ لیکن یوں پہ چل کر 2026 کا معاشی استحکام ان تھانواں سے ہوتا ہے جس میں وہ پلیٹ فارم اپنی فری ڈومین کے لیے ایک نئی اور مستحکم منظر نامہ پیش کر سکتی ہے...
 
واپس
Top