ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کے معاشی مطالبات کو جائز قرار دیا ہے اور ان کی ووٹنگ اور آواز کو تسلیم کیا ہے۔ لہذا وہ نے کہا کہ مظاہرین بھی اپنے معاشی مطالبات پر بات چیت کرنے پر توجہ دیر نہیں دے سکتے، جبکہ وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تشدد اور بدامنی پھیلانے والوں کو سختی سے روئی جانا چاہیے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ حکومت اور اعلیٰ حکام معیشت کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں پابندیوں سے متاثرہ معاشیات شامل ہے۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ تاجروں اور دکانداروں نے مظاہرہ کرنا بالکل درست کیا ہے، لیکن وہ یہ بھی بتایا کہ ایسے پرامن مظاہروں سے بات چیت کرنی چاہیے جو آمنے سامنے رہتے ہیں، جبکہ شرپسندوں کی طرف سے مکالمہ بے فائدہ ہے۔
ایران میں جاری مظاہرے کے دوران مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف لڑ رہے لوگ دو دہائیوں سے لہر لے رہے ہیں، جس نے مختلف مقامات پر سیاسی نعرے بھی سننے میں آئے ہیں۔ اس مظاہرے کے دوران کم از کم اٹھ سے دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس میں سے ایک سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے۔
ایران کے مغربی شہر ہرسین میں ایک مظاہرے کے دوران نیم فوجی تنظیم بسیج کے رکن کو پھانسی دی گئی، جبکہ قم میں ایک شخص دھماکے کے نتیجے میں جان سے گیا ۔ جھڑپوں اور توڑ پھوڑ کی رپورٹ زیادہ تر مغربی اور جنوب مغربی علاقوں کے درمیانے درجے کے شہروں میں ہوئی ہے۔
ایران کی دارالحکومت تہران میں جمعہ کو کچھ ورکنگ کلاس علاقوں میں مظاہرے ہوئے، لیکن ہفتے کے روز سرکاری تعطیل کے باعث شہر پورے تھا۔ تاہم بعض شہروں نے سڑکیں بند کرنے اور مظاہرے کی کوشش کی، لیکن حکام نے کارروائی کی۔
ایران کے حکومت کا کہنا ہے کہ معاشی مطالبات پر بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں، مگر ملک میں عدم استحکام اور تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تمہیں لگے گا کی یہ مظاہرے ایران کے لیے ایک بڑی فرصہ ہیں، جہاں لوگ اپنی معاشی Problems اور ناکامیتوں پر بات چیت کر سکیں۔ آئت اللہ خامنہ ای کی یہ بھرپور کوشش Iran میں وٹو پوائنٹس بنانے کی ہے، حالانکہ مظاہرے نا ہی ان کے لیے بھی فائدہ مند نہیں دیکھتے بلکہ ایک نئے دور کی شروع کرنے کے لیے چاہیے۔ اور وہیں ان کے مظاہرے سے ایران کے معاشی مسائل حل ہونے کی کچھ ہمت ہو سکتی ہے۔
اس وقت ایران میں مظاہرے کی وجہ سے پوری دنیا کو خوفناک حالات دیکھنا پڑ رہا ہے۔ دو دہائیوں سے لوگ مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف لڑ رہے ہیں، لیکن وہ اپنے معاملات کو سمجھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ تاجروں اور دکانداروں نے مظاہرہ کرنا درست کیا ہے، لیکن وہ اس بات کو جانتے ہوئے کہ وہ اپنے معاملات پر بات چیت کی جانے والی ایسی مظاہروں میں سے باہمی طور پر آمنے سامنے رہتے ہیں، تو ان کا مقصد اچھی طرح نکل پاتا ہے۔
یہ واضع ہے کہ یہ مظاہرے اس وقت بھی جاری ہو رہے ہیں جب تک ملک میں معاشی بحران کو حل نہیں کیا جائے گا۔ مگر اسی دوران یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ تاجروں اور دکانداروں نے اس معاشرتی مسائل پر بھی فخر کیا ہے جو انہیں پچاس لاکھ روپے تک پہنچا رہا ہے، اور وہ بھی اس بات کو تسلیم کرنا چاہیں گے کہ یہ معاشی بحران پوری ملک میں دباؤ پैदा کر رہا ہے اور لوگوں کے خوف و ہدAYہ کو بھی بڑھا رہا ہے۔
اس وقت بھی یہی بات ہے، آیت اللہ خامنہ ای کی بات سے بھی کچھ فائدہ نہیں ہوا، وہ ان مظاہرین کو معاشی مطالبات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ناکام رہنے والوں کی طرف سے بھی یہی بات کہی گئی ہے۔
یہ مظاہرے دو دہائیوں سے جاری ہو رہے ہیں اور اب تک اس کے نتیجے میں تین سے چار ہزار افراد ہلاک ہو گئے ہیں، پھر بھی لوگ جاری رہتے ہیں۔
میں اس بات کو یقینی طور پر نہیں کہ سکیورٹی اہلکار میں جان گئی تھی، مگر وہ بھی ایک معاشی مظاہرے میں ہلاک ہوگئے ہیڰ۔
یہ بہت عجیب ہے کہ ایران میں لڑنے والوں کو معاشی مطالبات پر بات چیت کرنی پھر سے نہیں کی جاتی، ان کی ووٹنگ اور آواز تسلیم نہیں کی جاتی۔ یہ تو کبھی بھی اپنے معاشرے کی خواہشوں کو سمجھنے میں بہت کم ہوتا ہے، اور پھر انھیں ووٹ کے طور پر بیچ کر دیتے ہیں۔
اس تحریک کی بڑی بات یہ ہے کہ لوگ اپنے معاشی مطالبات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسی بات چیت نہیں کرتے جو سچ میں اس وقت کو پکڑ لے۔ مظاہرے کی راتوں میں توڑ پھولنے اور جھڑپوں میں ہلاکت کیسے؟ اسے توہمہ نہیں بنانے دیا جا سکتا۔ تاہم، حکومت کو لوگوں کی بات سمجھنا ہوگا اور وہ انki اور بھی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بات دیر سے معلوم ہو گئی ہے کہ ایران کے لوگ وہی معاملات پر بیٹھنے کی تلافی نہیں چاہتے جس کے لیے دو دہائیوں سے لہر لے رہے ہیں، مگر اب تو وہی بات بھی کہی جا رہی ہے جس پر وہ پچاس سال پہلے بیٹھ کر چکے تھے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا یہ آدہ بھی نئی بات نہیں ہے، اس نے بھی کہا ہو گا کہ تشدد اور بدامنی کو روکنا چاہئیے، مگر یہ بات اب تک کی بات ہے جو نہیں تبدیل ہونے دیتی ۔
لوگ کیا پھر اس معاملے پر بیٹھتے رہنے کا لطف آسکے گے؟ آٹھ دن کے مظاہرے میں اس بات کو جانتے ہیں کہ وہ نئے معاملے پر رات پھلنے سے بہتر نہیں چلا سکتے، مگر یہی ہے جو لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ وہاں پر بیٹھ کر آئندہ کی بات کیا جائے گا؟
تاجروں کی چال بڑی ہیڈسٹاپر ہوئی، مظاہریں دیر تک چل رہیں اور شہر پورا کھنڈر ہو گیا… سڑکیں بند کی گئیں تو تھکے ہوئے لوگ بھاگتے ہوئے دیکھتے رہے، یہ نہیں کہ اس میں کچھ اور خلاپ ہو… اور جب حامی مظاہرے کرنے والے لوگ بھاگتے ہوئے دیکھتے رہے تو وہیں نئے مظاہروں کا خلاپ ہوا… آج یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ اٹھ سے دو لوگ جان سے گئے، اب تو سڑکوں پر جان ہی نہیں پاتا…
ایسے میں یہ بھی بات کی جاسکتا ہے کہ مظاہرین کو وہ ماحول بنانا چاہتے ہیں جو انہیں ایسی باتوں پر زور دینے کی اجازت دے سکتا ہے کہ اس کی پوری پالیسی کو تلافی کرنا مشکل ہو جائے۔
تمام پیٹرول پمپوں پر رکاوٹ دیر ہی نہیں دی جا سکتی، مگر ان لوگوں کی آواز کو تسلیم کرنا ملکی معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ اس میں تو ایک بات طے ہو گئی ہے کہ تشدد نہیں پھیلایا جائے، مگر یہ بھی ضروری ہے کہ تازہ وارنٹز پر انتباہ دیا جائے۔
ایران میں مظاہرے کی وہ چیز جو مجھے متاثر کرتी ہے وہ معاشی عدم استحکام کا ایک بڑا زریعہ ہے، یہ لوگوں کو ایسے مسائل سے لڑنا پڑتا ہے جسے ابھی تک حل نہیں کیya گیا ہے اور اس پر بات چیت کرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔
ان کے معاشی مطالبات کو جائز قرار دینے سے نکلتا ہے کہ وہ لوگ کھو بھون لگتے ہیں اور اس کی وجہ سے تشدد اور بدامنی میں اضافہ ہوتا ہے، ابھی تک تاکفیریوں اور دوسری گروہوں کے درمیان ہونے والی توڑ پھوڑ کو بھی یہ لوگ جواب دیتے ہیں اور اس طرح سے معاشی مسائل حل کرنے کی کوشش میں ناکام رہتے ہیں۔
یہ معیشت کی بات لگتا ہے تو مظاہرین کو بھی انچارج قرار دینا بالکل درست نہیں ہو سکتا، اگر وہ اپنے معاشی مطالبات پر بات چیت کروں تو بہتر ہوتا۔
آئے تو مظاہرین میں پوری قوم کی آواز نہیں ہوتی، کیونکہ ان میں اکثر وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو کھاتے ہیں اور بھوگتے ہیں، ایسا تو اس معیشت سے لگتا ہے جس نے وہی لوگوں کو کافی تباہ کر دیا ہے جو اب معاشی بدحالی کی قربت سے بھر گئے ہیں اور انہیں کسی بات کے لئے آجہا ہونا پڑتا ہے۔