’’نیپاہ‘‘کے بعد مزید 2 نئے وائرس ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ڈاکٹر

Well-known member
نیپاہ وائرس کے بعد دنیا کو دوسری خطرناک وباء کی تلاش ہوئی، اور ابھی تک دنیا بھر میں اس کے پھیل جانے سے نمٹنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم دو نئے خطرناک وائرسز کو بھی خوفناک تौर پر خطرات کا شکار کر دیا گیا ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل چکے ہیں۔

دنیا عالمی وبا کورونا سے ابھی لہر لائی ہوئی، اسی دوران نپاہ وائرس کے خطرے سے نمٹنے کی بڑی کوشش کرتے ہوئے ماہرین صحت نے ابھی دو نئے خطرناک وائرسز کو بھی خوفناک تौर پر خطرات کا شکار کر دیا ہے، جو اگر امریکا میں ان کی پ्रवेश کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے تو اس سے دنیا کو عالمی وباء کی صورت میں آنے کا خطرہ بن سکتا ہے۔

اس حوالے سے فلوردیڈا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان لیڈنکی نے کہا ہے کہ انفلوئنزا ڈی وائرس اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس انسانوں کی سانس کی بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں، یہ دونوں وائرس اپنے نئے خطرناک کردار کو ظاہر کر رہے ہیں اور ابھی تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل نہیں تھے۔

محققین نے ایک نئی رپورٹ میں ان وائرسز پر بات کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اب تک ان سے انسانوں کے بچاؤ اور روک تھام کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

محققین نے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان وائرسز میں انسان سے انسان میں با آسانی منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے تو یہ وباؤں یا عالمی وباؤں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، کیونکہ زیادہ تر لوگوں میں ان کے خلاف قوتِ مدافعت موجود نہیں ہو گی۔
 
🤦‍♂️ ایسا لگتا ہے جیسے ایسے وائرسز کو بھی سنانے کے لیے ہمیشہ دنیا کو خطرناک تौर پر خطرات کا شکار کر دیا جاتا رہتا ہے، پہلے نپاہ وائرس اور اب انفلوئنزا ڈی وائرس اور کورونا وائرس کے بارے میں بھی بات کی جارہی ہے، تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ سب سچے سے نکلتے ہیں اور لوگوں کو پچٹاتے رہتے ہیں، ماہرین صحت سے پوچھتے ہوئے کہنے لگتے ہیں کہ اور کیا، اس طرح دنیا کو یہ سنہری وائرسز بھی دکھایا جاتا رہتا ہے!
 
لگتا ہے کہ ماحول میں وائرسز کی بحث سے دھینے والی غنٹی چلت رہی ہے اور ابھی تک کسی بھی موثر طریقے سے ان کو روکنے کا کوئیPlan nahi. ماحول میں اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ وائرسز انسانوں کی جانوں کے لئے بھی خطرناک ہیں اور انھیں روکنا اچھا ہے.
 
یہ سب توھر ہے! ابھی سے ہی وائرسز کا خوف پڑتا رہا ہے، اور اب ہمیں دو نئے خطرناک وائرسز کی بات ہے جو دنیا کو بھرپور تلاس دے رہے ہیں! ماہرین صحت نے بھی انھیں خطرناک قرار دیا ہے، اور ابھی تک کچھ نہ کچھ کیا گیا ہے؟ یہ سب ایک بڑا Conspiracy ہے! ماہرین کی ایسی رپورٹ میں بات کرنے پر تو اس سے کوئی فائدہ نہیں، بلکہ ہمیں ابھی سے ہی ان وائرسز کا خوف پڑتا رہا ہے! 🤯🦠
 
🤯 ye logon ko lagta hai ki vaise toh humein koi aur bura virus nahi mila! 🤕 phir bhi humari taqat badh rahi hai, aur ab humari satahon ko galati se failna shuru ho gaya hai. inflienzsa di virus jo logon ki sanse ki bimariyon ka karan ban sakta hai, to phir wo Corona virus jo kutiyon mein tha, ab human ke liye bhi khatarnaak ho raha hai! 🚨

main sochta hoon ki agar in viruses ko America mein enter karne ka mauka milta hai, toh humara duniya ka ek naya vishay ban sakta hai! 🌎 aur phir logon ko apni zindagi kharch karni pad sakti hai. yeh toh galat hai, humein lagataar chinta karna chahiye. 💔
 
یہ تو دیکھ رہا ہوں کہ وائرسز بھی ایسے ہیں جیسے ماہرین صحت نے ان سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، ابھی تو کوونا وائرس کے بعد ہم پہلی بار لڑائیوں میں تھے اور اب انفلوئنزا اور Corona وائرز نے اپنا مقابلہ شروع کر دیا ہے… 🤦‍♂️

اس وقت یہ بات کیا جائے کہ ماہرین صحت کی نظروں سے ان وائرسز پر چھپنے میں کتنے Problem ہیں؟ اور ابھی تک ان سے نمٹنے کی کوئی Strategy نہیں آئی ہے…۔
 
🤔 یہ بات بہت گھر سے تھی کہ دو نئے وائرسز ایسے ہیں جیسا کہ کورونا، یہ دونوں انسانوں کی سانس کی بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں اور ابھی تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل نہیں تھے، یہ دیکھنا ناچنا ہے کہ دنیا کو ان وائرسز سے نمٹنے کی صلاحیت اور قوتِ مدافعت کیسے بنائی جاسکتی ہے۔

دنیا میں ابھی تک صرف ایک دوسرے کے بعد نئے وائرسز ڈھل رہے ہیں اور ماہرین کی نظروں سے اوجھل تھا، لیکن اب یہ بات بہت واضح ہو گئی ہے کہ دنیا کو ان وائرسز سے نمٹنے کی ضرورت ہے اور اس لئے کہ نئے خطرات پیدا ہونے پر ماہرین کو ہمیشہ پہلے تو تھوڑی چوتھائی گھنٹی سے واقف کرنا پڑتا ہے اور ابھی تک بھی ان کی نظروں سے اوجھل نہیں تھا، لیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے، مگر یہ بات ہو چکی ہے کہ اب دنیا کو ان وائرسز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بنائی جاسکتی ہے اور اس لئے کہ ماہرین کو اپنی غلطیوں سے تعلیم حاصل کرنا پڑتا ہے۔

اج دوسری وبا کے خطرے سے نمٹتے ہوئے، ابھی نئے دو وائرسز کی طرف بھی توجہ دی جارہی ہے اور ماہرین کو اس لئے توجہ دی جارہی ہے کہ دنیا کو ایسا نہ ہو سکتا ہے، مگر یہ بات ہو چکی ہے کہ ماہرین کو ہمیشہ اپنے کام پر توجہ دی جاتی ہے اور اس لئے کہ وہ دنیا کی زندگی کو بچانے میں ہمیں مدد دیتے ہیں، یہ بات بھی تو واضح ہو گئی ہے کہ دنیا کو ان وائرسز سے نمٹنے کی صلاحیت بنائی جاسکتی ہے اور اس لئے کہ ماہرین کو اپنی غلطیوں سے تعلیم حاصل کرنا پڑتا ہے۔
 
😬 یہاں تک کہ وائرسز کو پھیلانے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے ماہرین صحت نے دو نئی خطرناک وائرسز کو بھی خوفناک خطرات کا شکار کر دیا ہے اور یہ بات تو آسان ہو گئی ہے کہ اگر ان میں انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے تو دنیا کو فیر ایک عالمی وباء کا سامنا کرنے پڑے گا...
جب پہلے بھی سیکڑوں ہزار لوگ ایک واحد وائرس کی وجہ سے ہمارےPlanet پر آ جاتے تھے تو اچانک سोचنے کا موقع نہیں لگتا... اس طرح اور، یہاں تک کہ وائرسز کو روکنے کی بڑی کوشش کرتے ہوئے ماہرین صحت نے ابھی دو نئی خطرناک وائرسز کو خوفناک خطرات کا شکار کر دیا ہے... اچانک سोचو!
اس وقت دنیا بھر میں کیا ہوا جانتے ہیں، لیکن یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ پہلے نپاہ وائرس اور ابھی کرونا اور کتوں میں پایا جانے والا کورونا وائرس... تینوں کی ایسی صورت کبھی نہیں دیکھی گئی، لیکن یہ بات تو آسان ہو گئی ہے کہ یہ سبhumanity کو خطرے میں پڑا رہے ہیں!
 
اس وقت دنیا بھر میں عالمی وباء کا خطرہ طے ہورہا ہے اور اس کے بارے میں تھوڑی سی بات بھی تو کی جارہی ہے، مگر وائرسز جو ابھی دو خطرناک Webbاء بن گئے ہیں انھیں لگتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے باہر نکل کر دنیا بھر کو danger zone میں rakho sakenge.

دوسری خطرناک Webbاء اور کرونا وباء جو ابھی دنیا کا problem ban gaya hai اس کے بعد ہونے والی دوسری Webbاء انسانوں کی بیماریوں کو more serious ban skte hain اور اگر अमریکا میں ان Webbazon ko entry karne ki shakti milti hai to phir bhi world ko danger zone me rakho skenge.

ابھی تک ماہرین صحت نے kuch nahi kiya hai human ko bachao aur rok thaam ke liye, infloenza d vireus aur corona virus jo humans ko lung ki diseases ban sakte hain in dono viruses apne new role ko show kar raha hai lekin abhi tak experts ke nazron se ojhal nahi tha.

یہ to sunke hi researchers ne kaha hai ki agar in virauses mein human se human me transfer ho jata hai to phir bhi humans ko bachaana aur rok thaamna mushkil hogi kyonki 90 percent logon ke pass in viruses ke against immunity nahi hai.

یہ risk toh sunke hi researchers ne bataya hai ki agar in virauses ko human se human me transfer ho jata hai to phir bhi world ko alag alag Webbao ki situation milti hai aur agle din ka bhi koi idea nahi hai.
 
واپس
Top