نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ حملے کے ذمہ دار برینٹن ٹیرنٹ نے ایک بار پھر عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس کا اعتراف جرم کالعدم قرار دیا جائے۔ برینٹن ٹیرنٹ نے یہ کہا کہ ان کو تنہائی اور دیگر قیدیوں سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے اعصابی تھکن کا شکار تھا اور اسے لگا کہ اس کے پاس اعتراف جرم کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
برینٹن ٹیرنٹ کی جانب سے یہ دعوا پیش کیا گیا ہے کہ ان کی ذہنی صحت جیل میں سخت حالات کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی، جو اس کو مجبوراً اپنے جرائم کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔
ابھی پچاس سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے مارچ 2020 میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزامات تسلیم کیے تھے، جس کے بعد اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ابھی اس نے اپنی سزا اور جرم کی حیثیت کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ برینٹن ٹیرنٹ نے یہ کہا کہ انہوں نے اپنی بیماری کو اپنی سیاسی سوچ اور تحریک کی وجہ سے چھپایا رکھا تھا۔
عدالت اب اس نکتے پر غور کر رہی ہے کہ کیا جیل کے حالات thậtے اتنے غیر انسانی تھے کہ مجرم درست فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔
برینٹن ٹیرنٹ کی جانب سے یہ دعوا پیش کیا گیا ہے کہ ان کی ذہنی صحت جیل میں سخت حالات کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی، جو اس کو مجبوراً اپنے جرائم کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔
ابھی پچاس سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے مارچ 2020 میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزامات تسلیم کیے تھے، جس کے بعد اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ابھی اس نے اپنی سزا اور جرم کی حیثیت کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ برینٹن ٹیرنٹ نے یہ کہا کہ انہوں نے اپنی بیماری کو اپنی سیاسی سوچ اور تحریک کی وجہ سے چھپایا رکھا تھا۔
عدالت اب اس نکتے پر غور کر رہی ہے کہ کیا جیل کے حالات thậtے اتنے غیر انسانی تھے کہ مجرم درست فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔