چینی وزارتِ دفاع نے صدر شی جن پنگ کے قریبی سمجھے جانے والے جنرل ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی دونوں فوجی افسران کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
چینی حکومت نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر چین کی فوج کے دو اعلیٰ ترین افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جنرل ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی دونوں فوجی افسران Chen's government نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر چین کی فوج کے دو اعلیٰ ترین افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جنرل ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی دونوں فوجی افسران
چینی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ان اعلیٰ فوجی افسران میں جنرل ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی دونوں شامل ہیں جنہوں نے چینی فوج کے سینٹرل ملٹری کمیشن کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں جو چین کا اعلیٰ ترین فوجی کمانڈ ادارہ ہے اور انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین فورم ‘پولیٹیکل بیورو‘ میں بھی شمولیت رکھی ہے۔
ان دونوں فوجی افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی نے کیا تھا۔ تاہم دونوں افسران پر اس وقت کیا الزامات ہیں، اسکی تفصیلات یا نوعیت کے بارے میں چین کے سرکاری حکام کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
دوسری جانب تائیوان نے کہا ہے کہ وہ چین کی فوجی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ چین کی فوجی قیادت میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
چینی فوج میں کیا بدلا گیا ہے؟ ان دو اعلیٰ ترین افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کی گئی کوئی وضاحت نہیں دی جاتی تو اس سے ایک سوال اٹھتا ہے کہ ان کیا کر رہے تھے؟
کیا وہ فوج میں اپنی قوت کی استعمال کر رہے تھے یا وہ دوسروں پر نज़م چڑھانے والے تھے؟ چینی حکومت کا ان دونوں افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی نہیں ہے کہ وہ گناہ کی طرفMoving ہیں اور ان کا پھیلاؤ اور استعمال سچا تھا۔
ایک دوسرے سے باخل ہو کر تائیوان نے بھی اپنی جانب سے چینی حکومت کی جانب سے اس طرح کے فیصلوں پر نظر رکھنے کی criticism کی ہے اور وہ اپنے ساتھ تین سال تک گھر نہیں آئیں گا.
یہ بات بھی یقینی طور پر چینی سرکار کی جانب سے واضح نہیں ہوسگا کہ ان دونوں فوجی افسران کو کیا الزامات ہیں؟ چین کی فوج کے لیے ایک جگہ پر پھنسنے سے بہت ہمدرد ہوسکتا ہے، مگر اس سے فوری اور مستحکم نتیجہ نہیں نکال سکتا
چین کے لیے معاشی اور سیاسی قوت کے حامل ان دونوں افسران کو جلاسٹ کرنا، یہ ایک بڑا خطرہ ہوسکتا ہے اور اس سے معاشی نظام میں گزرگزر کی بات کا مظاہر ہوسکتا ہے...
چینی وزیر دفاع نے جنرل ژانگ اور لیو کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے؟ پھر وہ دو افراد کی تحقیقات کے بارے میں ایسے احاطے کی ہیں کہ نہ صرف ان کی خدمات اور شغل پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اُن کی سیاسی تعلقات بھی۔ اس سے پتا چلا کہ چین میںPolitics ایسا ہی ہے جہاں کسی بھی شخص کی خدمات یا شغل پر دیکھتے ہوئے ان کے سیاسی تعلقات سمجھ لیں جاتے ہیں۔
لیکن یہ سب میں کیا لے آئے؟ یہ ایسا نہیں ہے کہ چین نے اس طرح کے اعلیٰ افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ صرف اس لیے کیا ہوے کہ وہ چینی فوج میں بھی اچھے مظاہرہ کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی نہیں ہے کہ تائیوان نے اس سے متعلق کسی خاص بات چیت کا مطالبہ کیا ہو؟ کیونکہ تائیوان نے ایسا تو کہا ہے۔
اس تمام بات کو سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن یہ ایک بات بالکل سچ ہے کہ چین میںPolitics اور Military کے مابین ایسے سंबंध ہیں جس کی واضح نہیں ہوتی۔ لہذا، اگر ان تمام باتوں کو سمجھا جائے تو اس میں کوئی دباؤ یا ٹنک تو نہیں ہوگا۔
چینی حکومت نے ایسا کیا ہے کہ لوگ سوچتے ہیں کہ وہ فوجی افسران پر تحقیقات کر رہی ہیں جیسا کہ انہوں نے چینی فوج کے سینٹرل ملٹری کمیشن کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ لیکن کیا یہ صرف ایک چھپنا ہے؟ China defense ministry ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ وہ اپنے فوجی افسران کی تعینات کو ختم کر دیتی ہے۔ تو کیا یہ بھی ایک چھپنا ہے؟
لیوژینلی اور ژانگ یوژیا دونوں میں سے جواب دہانے والی جان ہے۔ China defense ministry ko bhi yaad dilati hai ka aapne kis tarhai investigations kiye hain, kya ye naya kadam hai ya pehle se hi aapne kuchh nahi karne ki koshish ki thi?
ابھی تو چینی فوج کے اس بات کے بعد کا تھوڑا سا اچھا لگتا تھا کہ وہ امریکی فوجی افسران کو خوفناک الزامات پر تحقیقات کر رہے تھے... اب اس طرح کے معاملے ہونے والے جنرل ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی دونوں فوجی افسران کو investigtaon میں لانے کا فیصلہ... یہ بات بھی تو چینی حکومت نے اپنی side پر تصدیق کی ہے کہ ان دونوں افسران نے کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر کام کیا... میرے خیال میں یہ بات تو بھی واضح ہے کہ فوجی اداروں میں ایسے معاملات کو سہی سہا ہی حل کیا جاسکتا ہے... investigtaon سے پہلے بات کرکے سمجھایا جا سکتا تھا...
جنرل ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی دونوں کا الزام ایسا نہیں کہ وہ کمونسٹ پارٹی کی رہنمائی میں تھے بلکہ وہ چینی فوج کے سینٹرل ملٹری کمیشن میں خدمات انجام دئیے تھے اور ان کا فوری کوئی نقصان نہیں ہوسکتا ہے۔ China کی فوج ایک بہت ہی طاقتور اور منظم ادارہ ہے جو چین کی سلامتی کی रक्षا کرتا ہے اور اس میں فوری تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہوسکتی ہے۔ China کی حکومت کو یہ کہہ کر بھارت کے لوگوں کو غصہ میں رکھنا نہیں چاہئیے کہ ان اعلیٰ فوجی افسران پر تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ Yesh!
china ka defence ministry ne kuch galat kar diya hai?
wahin General Zhang Youxia aur Leo Zhenli dono ko sangharsh mein lana ek bada faisle hai. yeh to sikhata hai ki China government party ki aadheen aagawazon par kaam kar rahi hai, bas iske liye kya sair rahegi?
Taywan ne bhi kaha hai ki unhein china ki defense leadership mein hone wali badlaavon ke baare me jankari chahiye. kyunki China ki defense machinery mein aagey badhne ka koi vishwas na ho.
اس لئے کہنے کو بڑا یہ تھا کہ چین کی فوجی قیادت میں کسی نہ کسی صورت حال میں تبدیلی آئے گی، اب تو سب کچھ چنیائی گئی ہے! جنرل ژانگ اور لیو ژینلی دونوں کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا یہ فیصلہ کیا جانا، وہ سب کچھ ایک جسٹ سے شروع ہوتا ہے!
یقیناً چینی حکومت نے اسی لیئے ان دونوں افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ وہ اپنی فوجی قیادت میں ایسے تبدیلیوں کی ترغیب کر رہی ہے جو کہ نہیں بھی چاہیے!
تائیوان کی جانب سے یہ بات کہی جائے گی کہ وہ چین کی فوجی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، وہ سب کچھ ایک نئی چال ہੋ رہی ہے!
لگتا ہے کہ چین کی فوجی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں پر دوسری ملکیں کا بھی اچھا نظر تھا...
ایسا لگتا ہے کہ اس واقعے سے پہلے چینی حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ چینی فوج کے سینٹرل ملٹری کمیشن میں خدمات انجام دेनے والوں کو ایسے الزامات سے گواہی دینے پر مجبور کریں گے جس سے ان کی فوجی سرگرمیوں کو نقصان ہو سکے۔ اور اب وہی کیا جا رہا ہے، ایک پلٹ بھر ناکام اور گمراہ فوجی افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ چینی حکومت اس وقت بھرپور سیاسی تanga لگائی رکھی ہوئی ہے اور وہ کسی بھی طرح کی فوجی سرگرمیوں سے اپنے مفاد کو بڑھانے کے لیے ہر جیسا تیزاب استعمال کر رہی ہے۔
ہاان، یہ بات بھی تھی کہ چین کی فوج میں سے کسی نے بھی اس پر غور کرنے کا جواز نہیں دکھایا کہ وہ چین کی فوجی قیادت میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر نظر رکھتا ہے؟ تو اس سے پہلے بھی ان لوگوں کو تحقیقات کے دائرے میں لایا گیا تھا، اور اب ان پر سنگین الزامات ہیں۔ نہیں تو یہ چینی فوج کی زندگی کس طرح ہوگی؟
چینی وزارتِ دفاع نے ایسے دو فیصلے لیے جن کا منظر دیکھنا بھی اچھا نہیں ہوگا، جبکہ تائیوان کی جانب سے ان کی طرف سے فرایض کیا جارہا ہے تو یہ سب کو ایک سے زیادہ جھٹلانا شروع کر دیتا ہے! پہلا فیصلہ جنرل ژانگ اور لیو ژینلی دونوں کے خلاف کیا گیا ہے جو چینی فوج میں سب سے اعلیٰ ترین تھے اور اب وہی نہیں ہیں! یہ ایک بڑی بات ہے، مگر اس کی پھوری کس بات کی ہوگی؟
ان دونوں کے خلاف تعینات تحقیقات میں نہ صرف ان کی فوجی خدمات کو کیا جائے گا بلکہ انہیں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی سے منسلک کیا گیا ہے! اور یہ ان دونوں کے لئے بھی ایک عظیم فرصت ہے، اب وہ اپنی پوری زندگی فوجی زिंدگی کو چھوڑ کر عوام میں کام کرنے آئیں گے!
میں یہ سोचتا ہے کہ China کی فوجی قیادت میں انٹرنیٹ پر کسی بھی تبدیلی کو دیکھ کر پہلی سوسائٹی وہ ہوتی ہے جو سب سے पहलے رپورٹ کرتی ہے اور پھر آج چین کا وزیر دفاع نے بھی ایسا ہی کیا ہے کہ وہ China کی فوجی قیادت میں کسی تبدیلی کو دیکھ کر سروس شروع کر دی ہے اور اب دو فوجی افسران جنرل ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی دونوں کی تحقیقات کے دائرے میں لائے گئے ہیں۔
میں سوچتا ہوا کہ China کی فوجی قیادت میں کسی بھی تبدیلی پر دیکھنے والی پہلی سوسائٹی اسے رپورٹ کرتی ہو اور اب آج China کی حکومت نے ایسا ہی کیا ہے۔ میں یہ بھی سوچتا ہوا کہ تائیوان کی सरकارت نے China کی فوجی قیادت میں کسی تبدیلی کو دیکھ کر گہری نظر رکھی ہوئی اور اب وہ چین کی حکومت پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
میں یہ بھی سوچتا ہوا کہ China کی فوجی قیادت میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے انٹرنیٹ پر کوئی رپورٹ نہیں کرتی، لیکن اب آج China کی حکومت نے ایسا ہی کیا ہے اور میں یہ بھی سوچتا ہوا کہ وہ ایسے پہلے سروس شروع کرتی تھیں جب وہ کوئی تبدیلی دیکھتے تھے۔
تمام دیکھیں اور سوچیں, چینی فوج کا یہ منظر ہمیشہ سے نہیں ہوا، پہلے بھی کچھ اس طرح کی تبدیلیاں ہوئی اور اب ان پرInvestigation ki jaa rahi hai. Yeh zarur tension ka kaaran banega