شہرخاندان میں سچائی پر غور و فکر
کیا شہر خاندانی میڈیا نے اپنی نئی پالیسی کے بارے میں عوام کو بتایا ہے؟
اسٹیشن کی طرف سے جاننے والوں پر ایک واضح مظاہرہ
شہریوں نے اپنی انفرادی آزادی کا انتخاب کیا، اور انھوں نے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے سچائی پر غور و فکر کی تجویز کی ہے۔ اس بات کو یقین رکھنا مشکل ہے کہ شہر خاندانی میڈیا نے اپنی نئی پالیسی کے بارے میں عوام سے واضح انکشاف کیا ہو گا۔
انھوں نے کہا ہوگا کہ یہ میڈیا ایک آزاد اور خودمختار مظاہرہ کر رہا ہے، لیکن شہریوں کی ایسے تجویزوں پر غور و فکر نہیں کرتا جو انھیں اچھائی کے راستے سے دور لگ رہی ہیں۔ شہر خاندانی میڈیا کی پالیسی ایک ایسا پہلو ہو گا جس سے عوام کو اپنی انفرادی آزادی کا انتخاب کرنا محرک ہوگا اور اس پر غور و فکر ہو گی، اور یہ واضح مظاہرہ ہو گا کہ شہریوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہیے۔
جب بھی میں ٹی وی پر دیکھتا ہوں کہ لوگ ایسے معاملات کی بات کرتے ہیں جن سے ہم آملہ ہوتے ہیں تو مجھے ان کی آنکھوں میں گہرا غم دیکھنا پڑتا ہے। شہر خاندانی میڈیا کی نئی پالیسی کے بارے میں عوام کو بتانا ضروری تھا، لیکن یہاں اس پر غور و فکر کرنے والوں کے لئے ایک اچھا مظاہرہ ہوا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ شہریوں نے اپنی انفرادی آزادی کا انتخاب کیا ہے اور وہ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسٹیشن کی نئی پالیسی پر غور و فکر کرنا مشکل ہے، انھوں نے عوام سے واضح بتایا ہو گا یا نہیں؟ یہ سوال تھوڑا بھی ہے اور اس پر غور و فکر کرتے ہوئے انھوں نے ایک آزاد مظاہرہ کیا ہو گا یا نہیں؟ اسٹیشن کی طرف سے جاننے والوں پر ایسا مظاہرہ کرنا ہوا تو، اس میں یقین رکھنا مشکل ہے کہ انھوں نے عوام کو واضح بتایا ہو گا۔ واضح بات یہ ہے کہ شہر خاندانی میڈیا کی پالیسی نہیں صرف ایک مظاہرہ ہی تھا، یہ ایک اچھا نقطہ ہو گا جو عوام کو اپنی انفرادی آزادی کا انتخاب کرنے پر مجبور کرے گا اور غور و فکر کرے گا۔
ایس لگتا ہے کہ شہر خاندانی میڈیا کی نئی پالیسی پر عوام سے تنگان ہو گيا ہے۔ انھوں نے یہ مظاہرہ شروع کیا ہے جو بہت اچھی بات ہے، لیکن اس پر عوام کی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو اپنی انفرادی آزادی کو ایسی چیز کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے جس سے اہل خانہ میڈیا کی پالیسی سے تعلق بن جائے۔ عوام کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا اور اپنے ذاتی فائدے پر غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ یہ مظاہرہ ایک ایسا راستہ ہو جس سے عوام کو کچھ نئی بات سمجھنی پڑے اور انھوں نے اپنے انتخاب کی طاقت کو استعمال کرنا تعارف دیا۔
main us news ko dekh kar laga raha hoon kya logon ko pata nahi hai ki shahar khandaani media apni nai policy ke baare mein kisi tarha se public nahi kiya? yeh to sirf ek wajh hai ki log bhi inka dhyan nahi rakhte. main sochta hoon agar yeh policy ban jati hai to phir bhi log uske bare mein kuch na kuch samjhein ge, lekin abhi tak mujhe lagta hai ki har ek log apne hisaab se kuch bhi samajhna chahta hai. bas isliye dekhna hi sabakta hain
اس میڈیا کی پالیسی پر غور و فکر کرنا ایک جگہ ہے، لیکن انھیں سچائی بتانے کے بجائے ایسے باتوں کو اچھا بنایا جانا چاہیے جو لوگوں کو افسوس نہ بھونے پائیں। سچائی تو ہے لیکن یہ بھی ہے کہ لوگ انھیں سچائی سے اپنی زندگیوں کی طرف بڑھانے کا موقع دے رہے ہیں اور انھیں اس میں مدد ملنے والی پالیسیوں کو استعمال کرنا چاہیے۔
اسٹیشن کی پالیسی کتنے معقول ہیں، اور عوام پر ان کی نئی پالیسی کے بارے میں واضح جानकاری نہیں دی گئی تو اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شہر خاندانی میڈیا بھی ایک ایسا معاملہ ہیں جس پر واضح نہیں بتایا جاتا ہے۔ سچائی کو استعمال کرنا اور اپنی انفرادی آزادی کو استعمال کرنا ایسا ہوتا ہے جیسے لوگ اس کے بارے میں واضح بتانا چاہتے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں بتایا گیا ہو گا تو ان کی تجویز پر غور و فکر نہیں ہوسکتی ہے۔
بے شک شہر خاندانی میڈیا کی نئی پالیسی پر عوام کی تفہیم کا جواب دہ مظاہرہ ہونے والا نہیں ہوگا، بلکہ اس پر غور و فکر کرنے والوں کا ایک ایسا انشورنس سिसٹم بن گا جو عوام کو اپنی آزادی کو محرک بنائے گا اور انھیں سچائی پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دے گا
میں لگتا ہے کہ یہ میڈیا کی جانب سے ایک واضح مظاہرہ نہیں، بلکہ ایک غیر واضح اور غیر مسلم مظاہرہ ہو گا جس کی بنیاد پر شہریوں کو اپنی انفرادی آزادی کا انتخاب کرنا محرک ہوگا، لیکن یہ بھی ناقص ہوگا کیونکہ یہ میڈیا کو عوام کو اپنے حق میں آگے بڑھنا ہو گا اور انھیں خود کے انتخاب سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
انھیں سچائی کی پوری دھار کا تعلق نہیں ہوگا یہ میڈیا اس وقت تک اپنی پالیسی کا انکشاف کرنے والا ہے جب تک یہ عوام کو اپنی آزادی کی پوری قدر سے لبری نہ دے گا
اسٹیشن کی طرف سے جاننے والوں پر ایک واضح مظاہرہ، یہ بات بھی تھی کہ عوام کو اپنی آزادی کی پوری قدر کا فائدہ اٹھانے کے لئے غور و فکر کرنا ہوگا اور اپنے انتخاب میں سچائی کو پہلے رکھنا ہوگا
نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ بات بہت پریشانی کن ہے کہ عوام کو اپنی انفرادی آزادی کا انتخاب کرنا ہوگا اور اس پر غور و فکر کی جائے، لेकن شہر خاندانی میڈیا نے ایسا یقین رکھنے والی نہیں کہ عوام کو ان کی تجویز پر عمل کرنا ہوگا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کو اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی لانے کے لئے مجبور کیا گیا ہوگا، اور یہ بات بھی دیکھتے ہوئے کیہ اچھا ہے کہ عوام کو اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی لانے کے لئے مجبور کیا گیا ہوگا؟
شہر خاندانی میڈیا کی نئی پالیسی پر غور و فکر کرنے والوں کو مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف ایک مظاہرہ ہے جس سے عوام کو بھاگ رہی ہائی لائی اور اس پر غور و فکر نہیں کرنا پڑے گا۔ میڈیا کے پاس اپنی تجویزوں پر غور و فکر کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے، نہ کوئی ایسا پہلو ہو جس سے عوام کو انفرادی آزادی کا انتخاب کرنا محرک ہوگا۔
یہ بات تو نہیں کمزور اور نہیں توجہ خیز کہ شہر خاندانی میڈیا کی نئی پالیسی پر عوام کو کچھ لگ رہا ہے؟ ایک طرف، یہ اس بات پر مظاہرہ کر رہا ہے کہ وہ شہریوں سے کچھ نہیں چاہتے اور دوسری طرف، لوگ اس میں اپنی انفرادی آزادی کا انتخاب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑا معاملہ ہے جو کچھ بات کے لئے ضروری ہے۔ میرے خیال میں، شہر خاندانی میڈیا کو اپنی پالیسی کی وضاحت کرنا چاہیے تاکہ عوام کو اس پر غور و فکر کرنے کی اجازت دی جاسکے۔
ابھی بھی پچیس سال قبل شہر خاندانی میڈیا نے ایسا ہی میٹنگ لہری تھی جب عوام کے حوالے سے ان کی پالیسی کو متعلق کرتے ہوئے یہ باتوں کو ہرجانا پڑا۔ اب وہ میڈیا ایک آزاد اور خودمختار مظاہرہ کر رہا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہوگا کہ عوام کے لئے ان کی پالیسی کے بارے میں واضح انکشاف کیا نہیں ہوا گا۔ یہ بتنا کافی مشکل ہوگا کہ عوام کو کیا فائدہ پہنچائے گا اور کیا ان کے حوالے سے غلطی ہوئی ہو گی؟