چینی عدالت نے ایک گروہ کو موت کی سزا دے دی جس نے میانمار میں بڑی ملازمت حاصل کر کے فراڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل تھا۔
چین کی عدالت نے اپنے مشرقی صوبہ ژیجیانگ کے شہر وینژو میں ایک مقدمہ چلایا جس میں 11 افراد کو قتل، غیر قانونی حراست اور فراڈ کے الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی۔ ان میں بدنام منگ فیملی کرمنل گروپ کے ارکان بھی شامل تھے جنہوں نے مجرمانہ سرگرمیوں کی کئی سرزمینوں پر قائم کیا تھا اور ٹیلی کام فراڈ اور غیر قانونی جوئے کے اڈے چلائے تھے۔
ان عادی مجرموں نے جسم فروشی اور غیر ملکیوں کو قید رکھ کر ان سے بیagar لینے میں بھی شامل ہوئے۔ منگ خاندان کے افراد ان بہت سے مافیا گروہوں میں سے ایک تھے جنہوں نے لاؤکینگ شہر کو مجرمانہ انداز سے کنٹرول کرتے ہوئے ایک غریب شہر کو کیسینو اور ریڈ لائٹ سرگرمیوں کے ایک چمکدار مرکز میں تبدیل کر دیا تھا۔
ان کی جعласازیوں اور مجرمانہ سرگرمیوں کی سلطنت 2023 میں تباہ ہوئی جب انہیں میانمار کے اس سرحدی علاقہ کے مقامی ملیشیا حکام نے حراست میں لیا اور چین کے حوالے کر دیا جس سے ان کی جرائم کا سامنا ہوا۔
چینی حکومت نے اپنے شہریوں کو اس علاقہ میں ہونے والے جرائم کے خلاف سختی سے نوٹس لیا اور ان جرائم میں ملوث چینی بھی گرفتار کرکے چین لانے اور قانون کے کٹھرے میں کھڑا ہونے کی کوشش کی۔
میانمار کے اس علاقہ میں dozens پاکستانیوں کو قید کرکے جبری بیagar لینے کے واقعات ہوئے۔ حکومت پاکستان نے بہت سے شہریوں کو ان جہنم سے نجات دिलائی اور انھیں پکازا تو China واپس لانے کے لئے پیچیدہ سفارتی اور قانونی کوشش کی۔
یہ صرف چینی حکومت کا ایک مایوس کن نتیجہ ہے، ہمیں اس بات کو یقین دلاتے ہیں کہ جب انہوں نے کچھ اٹھانا شروع کیا تو وہ ایک ساتھ پھنس گئے تھے، لیکن آج تک انہیں ہمارا ایک بڑا شکار حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
چین کی ناکام عدالت نے ان مجرموں کو موت کی سزا دی، لیکن یہ توہین پھیلانے والی ان کے مظالم اور جسمانی عارضہ میں سے کسی کی بھی بات نہیں ہو سکتی، اس لیے ان کی ملاقات سڑک پر ہونا ہی بہتر ہوگی۔
یہ بھی تھوڑا سا جھٹکا ہے کہ یہ چینی عدالت نے اپنے شہر میں ایسے مجرموں کو موت کی سزا دی ہے جو اس وقت ملازمت پر ہیں اور فراڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل تھے۔ لیکن یہ سوال ہے کہ کیا انہیں وہی سaza مل سکتی ہے جو نوجوانوں کو ملازمت کرنے والوں پر لگائی جاتی ہے یا انھیں کسی خاص قانون کے تحت معاف کر دیا گیا ہے؟
چینی حکومت کو اپنی صلاحیتوں کی پeshکشی کرتے ہوئے یہ بات بھی اہم ہے کہ ان مجرموں نے کس طرح مجرمانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔ کیونکہ اس بات کو نہ دیکھتے ہیں کہ جب بھی ایسا کچھ ہوتا ہے اور کسی نے سزہ دیا ہو تو وہ سزا جاری رکھ دی جاتी ہے۔
میانمار کے شہر میں dozens پاکستانیوں کو قید کرکے جبری بیagar لینے کے واقعات تو یہ بات بھی بتاتی ہیں کہ اس سے ان کی حکومت کا کچھ نہ کچھ حاصل ہوا ہوگا، لیکن وہاں کے شہریوں کو اور ان کی حکومت کو بھی یہ بات کیسے لگتی ہے۔
یہ سب دیکھتے ہی اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ایسے مجرموں کو نہ دیکھا جائے اور ان کی ایسی سلوک کی بھی روک نہ دیا جائے۔ تoba تھا، جو ان لوگوں میں سے ہر کس کی جانب رہتا ہے ، لیکن اب یہ بات کچھ دیر سے ہو چکی ہے کہ اس طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنا مشکل نہیں بلکہ ممکن ہے۔
یہ بہت مایوس کن بات ہے کہ ان مجرموں کو موت کی سزا دی گئی جو انسانی حقوق کی انتہا کر رہے تھے۔ انہوں نے انسانی جान کو بھگتی کیا اور کئی لاکھ پاکستانیوں کو ایسے حالات میں پڑوس دیا جو ان کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ تجارتی معاملات میں شامل ہوئے جنہوں نے اپنی زندگی کھو دی تھی۔ اس کی جائزہ ان کے فرار بچنے والوں کو کرنی چاہیے جو پاکستان میں ان کی قید کے خلاف جدوجہد رکھ رہے ہیں۔
یہ بے faith تھا! چینی عدالت نے ایسے لوگوں کو موت کی سزا دی جس نے فراڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہوا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ جرائم کر رہے تھے بلکہ انہوں نے چینی حکومت کے ساتھ بہت سے معاہدے کیے تھے اور انہیں اپنی governments کی فریڈمز سے محروم رکھا گیا تھا! #چین_نے_موٹ_کی_سزا_دی_ہے #فریڈمز_مصیبت
یہ ایک بڑی بات ہے چینی عدالت نے ایسے لوگوں کو موت کی سزا دے دی جس نے اپنے ملک میں فراڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل تھا، یہ بات تو نہیں رہی کہ ان مجرموں نے ایسے لوگوں سے بیagar لینا جس کے ملک بھی نہیں تھا، یہ کہنے میں بھی بات ہے کہ انھوں نے اپنی ملک کے شہر کو ایسی طرح سے کنٹرول کر لیا جس سے کہ لوگ اسے مجرموں کا شہر سمجھنے لگے، ابھی تو اس وقت بھی ان مجرموں کی جانچ کیسے ہوئی کہ انہوں نے اس ملک میں ایسے جرائم کیا جس سے کسی کو بھی پتہ چلے گی؟
اس جواب میں ڈرپ ہوچکا ہے... چینی عدالت کی یہ فیصلہ نے مجرموں کو موت کی سزا دینے کا ایک بڑا اشارہ ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ ان مجرموں نے اپنی جرائم کی گئی وہی لائحہ جائزہ کیا تھا جو انہیں سزائی دے رہی ہے؟ یا تو یہ سزا انہیں پھانس دے رہی ہے یا اس میں کچھ ایسا ہوا ہے جو ڈرپ ہو چکا ہے...
یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ایسے مجرموں کو موت کی سزا دی جائے جو اپنی جرائم میں بھی رکاوٹ نہیں پاتے اور انki وادھیوں میں بھی شامل ہوتے رہتے ہیں۔ چین کی عدالت کی یہ کاروائی ایسی ہے جس نے ان کے جرائم کو عام لوگوں کے سامنے لایا اور انki وادھیوں میں ناکام تھپک دی۔ لیکن یہ بات بھی بات ہے کہ چین کی حکومت نے اپنی سرحدی علاقوں میں جرائم کو روکنے کے لئے کیا ہے اور انki وادھیوں میں بھی اس پر عمل کیا ہے۔ اب جب یہ مجرموں کو موت کی سزا دی گئی ہے تو یہ بات بھی پٹوچلی ہے۔
اس ملک میں بھی اس طرح کی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، جس نے کسی نہ کسی شکایت پر موت کی سزا سنائی ہو۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ان مجرموں نے وہ کام کیا تھا جو اس ملک میں کرتے وقت اچھی نہیں سُنے جاتے۔ اور اب چینی حکومت نے اپنے شہریوں کو انھیں پکاز لینے کی کوشش کرنے پر اصرار کیا ہے؟ یہ وہ ملک ہے جس کے شہریوں نے اپنی ہی حکومت سے سانس لیا ہوتا ہے اور اب انھیں کسی دوسرے ملک میں ناکام پانے کی ہمت ہے؟ ایسا کیا توقع کرسکتے ہیں؟
توقع کرتا ہوں کہ مزید جسمانی سرگرمیوں میں اُتریگا تو یہ سب کچھ خیر خواہیں ہوگی مگر فیکٹریوں، ملٹری اور پالیسی پہلے لانے کی ضرورت ہوگی جبکہ عوام کو دھنیں دی گئیں تو یہ سب کچھ بھاگات مگر ہمیشہ یہی ہوتا ہے نہیں؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ چین نے بڑی چھوت پڑائی ہے۔ ان مجرموں کو موت کی سزا دی گئی جو اس لیے بدعرض فائدہ اور دوسروں پر تشدد کرنے کے لئے ایک گروپ تھے۔ یہ بات چیت نہیں ہو سکتی کہ ان میں سے کوئی بھی مجرمانہ کام نہیں کیا تھا اور انہیں مجرم سمجھنا ضروری ہے۔