چین کی عدالت نے میانمار فراڈ دھندے میں ملوث 11 افراد کو موت کی سزا دے دی

کھلاڑی

Well-known member
چین کی عدالت نے سرگروں میں ملوث 11 افراد کو موت کی سزا دی، جنھیں میانمار میں فراڈ اور دھندوں کے الزامات میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان میں بدنام منگ فیملی کرمنل گروپ کے ارکان بھی شامل ہیں جو میانمار میں مجرمانہ سرگرمیوں سے ملوث تھے اور ٹیلی کام فراڈ آپریشنز سے منسلک تھے۔ انھوں نے جانب جبری جسم فروشی، بردہ فروشی جیسے دھندے چلائے تھے اور انھیں چین کے شہر وینژو کی عدالت نے ستمبر میں قتل، غیر قانونی حراست، فراڈ اور جوئے کے اڈوں کے قیام کے الزامات میں موت کی سزا دی ہے۔

جنھیں ان گروہوں میں شامل کرنا پڑا تھا وہ سرگروں اور غیر ملکیوں کے ساتھ فراڈ دھندے چلانے کے لیے بلانے اور بیagar لینے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ پاکستانیوں کو بھی ان علاقوں میں قید کرکے جبری بیagar لینے کے واقعات ہوئے اور حکومت پاکستان نے ان شہریوں کو واپس لانے کے لیے پیچیدہ سفارتی اور قانونی کوشش کی۔

میانمار کے سرحدی علاقوں میں قانون کی عملداری کمزور ہونے کی صورت میں ان گروہوں نے جانب غیر ملکیوں سے ملازمت کا جھانسا دیتے اور ان سے بیagar لینے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
 
چین نے ان ملوث افراد کو موت کی سزا دی، جو ایسے حالات میں تھے جہاں وہ اپنی غیرت کے لیے جانب فراڈ اور دھندوں بن گئے ہیں۔ ان کی کارروائیوں سے ایسے لوگ متاثر ہوئے جو صرف اپنی زندگی کے لیے فخر کرتے ہیں۔

میانمار میں قانون کی عملداری کمزور ہونے کی صورت میں، جوابدہ لوگ قید کرکے جبری بیagar لینے سے محروم رہتے ہیں اور ان کے بھائیوں نے ان کا احتاط کیے بغیر ساتھ چلایا۔ وہ ایسی جگہوں پر ملوث تھے جو انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہیں۔

اس بات کو بھی یقین رکھنا چاہئیڒ کہ اس نئے فیصلے سے ایسے حالات پیدا نہ ہوں جو ایسے لوگوں کی زندگی کو نازک بنایں۔
 
یہ بھی تو واضح ہے کہ میانمار میں قانون کی عملداری کمزور ہونے کی صورت میں، کسی بھی ملک یا گروہ کی جانب ملوث افراد کو دوسرے ملکوں سے جبری بیagar لینے اور فراڈ چلانے کے الزامات میں سزا دی جا سکتی ہے؟ لیکن یہ تو بھی کہتے ہیں کہ ان افراد کو بلانے اور بیagar لینے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تو اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ گروہ یقینی طور پر دھندے تھے؟
 
اس بات پر فیلڈ نہیں ہو گیا کہ چین کی عدالت میں سرگروں اور غیر ملکیوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو موت کی سزا دی گئی ہے۔ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ان گروھوں نے غیر ملکیوں کے خلاف دھندے چلائے تھے اور پاکستانی شہریوں کو بھی قید میں رکھا گیا ہے۔ یہ سب کی ایک واضح بات ہے کہ ایسے سرگرمیوں کے لیے قانونی عملداری کمزور تھی اور ان سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے غیر ملکیوں سے ملازمت کا جھانسا دیتے ہوئے بیagar لینے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
 
اس گھرانے کی سزا بھی ایک خطرناں وعدے کا مشعلہ ہے, تاکہ لوگ ان سے تجربات کرنے والوں سے پہلے کے انداز میں خود کو محفوظ سمجھ لین۔ جب تک ہم اپنی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے ہاں، تو ہمیں ایسے بھی مواقع ملاتے رہتے ہیں جس پر ہم اپنی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
 
عمر 🤕 ایسے واقعات کی بھی گنجانی نہیں ہوتی چینی کو اور ان کے عمل داریت سے اٹھنا پڑتا ہے۔ سرگروں میں ملوث لوگوں کو موت کی سزا دی جائے تو ایک سوال اٹھتا ہے کہ اس طرح کے حالات آ رہے ہیں یا ان کا خاتمہ ہو گیا ہے؟ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کون سے لوگ ان حالات میں جبری بیagar لینے اور فراڈ چلانے پر تھلث نہیں رہتے، وہیں اس طرح کی سزائیں ہو سکتی ہیں اور ان لوگوں کو بھی چینی نے اٹھایا ہوتا ہے۔
 
چینی عدالت نے ان گروہوں پر موت کی سزا دی، جو کہ میں دوسرے لوگوں کو جھانسی دیتے تھے۔ یہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ پاکستان کی حکومت نے ان شہریوں کو واپس لانے کے لیے کوشش کی تھی جو وہاں جھانسی دیتے تھے۔ میں یہ سوچتا ہoon کہ پوری دنیا کو ایسے واقعات سے نمٹنا پڑے گا اور قانون کی عملداری پر غور کرنا پڑے گا۔
 
اس کچھ بھی اچھا ہوا کیا ، ملازمت کا جھانسنا دیتے تو کئی معذور لوگ پیدہ ہوتے ہیں ، انki galtiyon ko kam karna zaruri hai.

[تصویر: Một منظر از چین میں ایک شہر]

چینی عدالت نے یہ سزا دی جس کا مطلب بھی ہوگا کہ انki galtiyon ko ابھی زیادہ توڑنا پڈا ، آئی۔

[تصویر: ایک منظر از میانمار میں ایک شہر]

میانمار کی حالات بھی مشکل ہیں، وہاں لوگ اپنی زندگی کھون لیتے رہتے ہیں.

[تصویر: ایک منظر از ایک نوجوان]

میڈیا میں اس پریشانی کو چھپایا جا سکتا تھا، لیکن اس کے بارے میں لوگوں کو علم کرنا ضروری ہے.
 
یہ واضح ہے کہ ملوث افراد کو موت کی سزا دی جائے گی، لیکن ایسا کرنے کے بعد یہ انھیں دوسرے لوگوں پر دھیندے چلانا بستہ ہو گا؟ انھیں موت کی سزا دی جائے گی تو انھیں جانب سیر्फ ایک شخص کو قتل کرنا نہیں، بلکہ پورے شہر میں دھیندے چلانا ہو گا، اس کے ساتھ ساتھ انھیں جانب وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جنھیں وہ شہر سے باہر سے ملازمت کا جھانسا دیتے تھے اور وہی لوگ انھیں بھی ایسے معاملات میں شامل کرتے تھے۔ یہ سب سچ ہے کہ ملوث افراد کو موت کی سزا دی جائے گی لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انھیں معاملات میں شامل ہونے سے پہلے اپنے ذمہ دار معاملات کو مندرج کرنا چاہئے اور بعد ازاں اگر انھیں موت کی سزا دی جائے تو وہ اس کا تعاقب نہیں کریں گے؟
 
یہاں تھی، ایسے وچلے زمرے پر یقین رکھنا مشکل ہوتا ہے کہ کسی بھی معاملے میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں دوسروں کی مدد سے جس لڑائی ہوتی ہے وہ نصف لڑائی میں ہی پورا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک اور مشق ہے جنھیں بھی سرگروں کے ساتھ غیر ملکیوں کے ملاپ کی صورت میں وہی پھر سے جسمانی سرچ انٹیلیجنس کو استعمال کرنے کا موقع ملا رہے ہیں، جبکہ پاکستان نے اپنی حکومت اور اس کی قانونmaking پالیسیوں پر ان کے ذریعے جس سے معمول کیا گیا وہی ملا رہا ہے۔
 
🤯 چین کی عدالت نے یہ ناکام ہونے کا ایک اور حقیقی उदाहरण پیش کیا ہے! ان تمام حالات میں سے ایک کو دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ سرگروں میں موت کی سزا دی جاتی ہے لیکن وہاں کس نے یہ پالیسی بنائی تھی؟ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان گروہوں کو قید کرکے جبرتی بیagar لینے کا الزام لگایا جا رہا ہے!

سٹेटسٹکس کی ذیلی میں آؤ، یہی نہیں بلکہ 2024 میں انفرادی سرگرمیوں میں 75 فیصد کے زمرے میں موت کی سزا دی جانی چلی گئی ہے! اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان فراڈ گروپوں نے 85 فیصد تین سال سے زیادہ قید کی مدت دی جاتی ہے! 😱

میانمار میں قانون کی عملداری کمزور ہونے کی صورت میں، ان فراڈ گروپوں نے 45 فیصد غیر ملکیوں سے ملازمت کا جھانسا دیتے رہتے ہیں! اور ان کی بیagar لینے کی شکایات میں 70 فیصد ایسی شکایات شامل ہوتی ہیں!

اس کے علاوہ، چین میں ٹیلی کام فراڈ آپریشنز سے منسلک ہونے والے ان گروہوں کو 63 فیصد موت کی سزا دی جاتی ہے! اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان گروہوں میں 85 فیصد افراد اس معاملے میں آئین کا خلاف بھی رکھتے ہیں!
 
ایسے حالات کی وہی خواہش نہیں تھی، جب 2015 میں میانمار نے اپنی سرحدوں کو کھولا تھا اور لوگ اپنے گھر واپس آئے تھے۔ اب یہ لوگ مجرمین بن کر جانے کی کھیل رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

چین کے عدالت نے سزا دی، لیکن یہ سزا مجرموں کو بھگتی دیتے ہیں، ان کو ایسی سزا دی جائے جو ان کے گھر واپس آنے کی Hope بن سکے۔

میانمار میں قانون کی عملداری کمزور ہونے کی صورت میں یہ انفرادی کارروائیوں پر مشتمل ہی رہیں گی۔

سفارتی اور قانونی کوشش کی گئی، لیکن وہی بھاگتے رہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

اس معاملے سے آپ کو جو لگتی ہے وہ اسی چیز کی واپسی پر مشتمل ہے جس کے لیے میانمار نے اپنی سرحدوں کھولے تھے۔

ایسا hope نہیں کیا جاسکتا، مجرمین کو سزا دی جا سکتی ہے، لیکن انہیں ایسی سزا دی جائے جو ان کے غور و فكر کو بھگتی دے۔
 
واپس
Top