سن ڈاگز میں چاند کی موجودگی کا شکار ہوا: آسمان پر ایک نایاب منظر دیکھنے میں آیا
ان کے ساتھ تین اضافی فلکیاتی مظہر نظر آئے، جو اس حیرت کن منظر کی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں۔
سن ڈاگز میں چاند کی موجودگی کا شکار ہوا، جو کسی بھی جگہ دیکھنے والوں کو اپنی حیرت اور خاموش مسرت سے منسلک کرتی ہے۔ یہ منظر عام زبان میں ’فرضی چاند‘ یا ’پیراسیلین‘ کہلاتا ہے، جس کی تصاویر اور ویڈیوز اس وقت سب سے زیادہ پ्रसिदھی حاصل کر رہی ہیں جب یہ آسمان پر چاند کے ساتھ دیکھنے میں آتا ہے۔
اس منظر نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہے، جو اصل چاند کے گرد کئی Addisonے درختوں کی طرح روشنی کے ستونوں سے گزرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
چاند سے تقریباً 22 ڈگری فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں، جو اس کی جسامت میں اضافہ کرتے ہیں اور اس وقت زیادہ واضح نظر آتے ہیں جب چاند افق کے قریب ہو۔
فضائی ادارے اسکائی بریری کے مطابق، یہ منظر پائے جانے والے ساتھ ساتھ وائرل ہوتا رہاہے جس کی وجہ یہ ہے کہ برفانی ذرات کی حرکت اور جسامت ان کے بے پاری کے باعث ایک نایاب منظر دیکھنا آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر موسمی اور فضائی حالات کی وجہ سے بڑی حد تک منفرد ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کو ’فرضی چاند‘ یا ”مون ڈاگ“ کہا جاتا ہے۔
ان کے ساتھ تین اضافی فلکیاتی مظہر نظر آئے، جو اس حیرت کن منظر کی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں۔
سن ڈاگز میں چاند کی موجودگی کا شکار ہوا، جو کسی بھی جگہ دیکھنے والوں کو اپنی حیرت اور خاموش مسرت سے منسلک کرتی ہے۔ یہ منظر عام زبان میں ’فرضی چاند‘ یا ’پیراسیلین‘ کہلاتا ہے، جس کی تصاویر اور ویڈیوز اس وقت سب سے زیادہ پ्रसिदھی حاصل کر رہی ہیں جب یہ آسمان پر چاند کے ساتھ دیکھنے میں آتا ہے۔
اس منظر نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہے، جو اصل چاند کے گرد کئی Addisonے درختوں کی طرح روشنی کے ستونوں سے گزرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
چاند سے تقریباً 22 ڈگری فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں، جو اس کی جسامت میں اضافہ کرتے ہیں اور اس وقت زیادہ واضح نظر آتے ہیں جب چاند افق کے قریب ہو۔
فضائی ادارے اسکائی بریری کے مطابق، یہ منظر پائے جانے والے ساتھ ساتھ وائرل ہوتا رہاہے جس کی وجہ یہ ہے کہ برفانی ذرات کی حرکت اور جسامت ان کے بے پاری کے باعث ایک نایاب منظر دیکھنا آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر موسمی اور فضائی حالات کی وجہ سے بڑی حد تک منفرد ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کو ’فرضی چاند‘ یا ”مون ڈاگ“ کہا جاتا ہے۔