چندہ ہندو دیتے ہیں؛ مقبوضہ کشمیر کی یونیورسٹی میں مسلم طلبا کے داخلے پر ممکنہ پابندی - Daily Qudrat

ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی کے بارے میں بھارتی حکومت نے ایک ایسی یادداشت کی، جس میں اس نے ناکام ہونے والے Muslim aspirants کو داخلہ سے رکھنے کی تجویز کی ہے۔ یونیورسٹی کے مسلمان امیدواروں کا اخراج سے وہ اپنی جگہ کے تحفظ کے حصول کے لیے تیز گتروں کو بھی۔ یونیورسٹی میں 50 نشستوں میں سے 42 پر Muslim aspirants کو داخلہ ملا تھا۔

بی جے پی رہنما سنیل شرما نے کہا ہے کہ یونیورسٹی ہندو عقیدت مندوں کے چندے سے چلتی ہے اور داخلہ صرف انہی طلبا کو ملنا چاہیے جو ماتا سے عقیدت رکھتے ہوں۔

دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے کہا کہ یونیورسٹی میں مذہبی ادارے تعلیمی مراکز چلاتے ہیں جہاں ہر مذہب کے طلبا پڑھتے ہیں، لہٰذا اس طرح کی پابندیاں ملک کو تقسیم کر دیں گی۔

ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر مذہب سے متعلق کوئی شرط درج نہیں، اور ماضی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبا یہاں سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔
 
یہ تو تو تو! یونیورسٹی کا جو راز چھپا ہوا ہے وہ پوری دنیا کو دیکھنا ہے! Matra Vishnu Devi university ki ye decision toh bahut si baat hai... 50 se 42 karne ke baad bhi Muslim aspirants ko ek aur chance diya gaya? ya toh unki talash mein nahi hain! Yeh tohi hai qaul ki yahi unka tarika hai - jo matra se hi chalta hai woh sirf usi tarah ki logon ko milta hai.
 
ہمیشہ سے یہ بات معلوم ہے کہ بھارت میں مذہب کی ناکام بننے والی صورتحال تو چور ہی نہیں بلکہ ایسی بھی صورتحال ہے جس سے پوری ملکیت کا خطرہ ہو چکا ہے۔ اب یہ بات اتنی توڑتی ہوئی ہے کہ یونیورسٹی میں Muslim aspirants کو داخلہ سے رکھنا اور وہ تیز گتروں کو بھی شامل کرنا تو ایک بات پہلی ہے، دوسری ہمیشہ کہی جائے گی۔ لیکن اس صورتحال سے پوری ملکیت کا خطرہ ہو چکا ہے، یہ صرف ایک Muslim aspirant ہی نہیں، ہزاروں لاکھوں ہیں جو یہی اچھائی کہتے ہیں۔

اس بات کو پورا سمجھنا چاہئے کہ یونیورسٹی نے مذہب سے بھرپور طور پر تعلق رکھنے والوں کو داخلہ دیا ہے، لیکن اب اس نے ایک بات تو کہی ہے اور اسی طرح کی پابندیاں دوسری یونیورسٹیوں تک بھی پہنچائیں گی۔

ہمیشہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ایسی صورتحال کبھر جائے گی، اور اب وہ صورتحال ہو چکی ہے۔ ہمیں تو اس سے پوری ملکیت کا خطرہ ہے، لیکن یہ بات بھی معلوم ہے کہ اب وہ ناکام بننے والوں کو داخلہ سے رکھنا اور ان کی جگہ دوسروں کو ملنے پر تیز گتروں کو بھی شامل کرنا تو ایک بات پہلی ہے، دوسری ایسا نہیں کہ جس سے ملک کی اکائیت کا خطرہ ہو چکا ہۏ।
 
یہ بات تو واضح ہے کہ ایک جگہ پر پابندیاں لگانے سے آپ اپنے دوسرے فلاح مندوں کو اخراج کرنا پڑتے ہیں۔ یہ ایک عظیمLessons Lesson ہے کہ آپ کی جگہ پر پابندی لگانے سے دوسروں کو نقصان پہنچتا ہے اور آپ اپنی خود کی ذمہ داریوں کا بھی خیال نہیں کر سکتے۔
 
اس کی کیا ایsi hai? یونیورسٹی میں Muslims aspirants ko bhi nahi milna chahiye? yeh kaisa kuchh hai ki wo Hinduism se akele chal sakti hai? yahaan par National Conference ka bat tha ki yah kuchh meri nazron mein khasa nahi lagta, sabko ek jagaana chahiye ki yahaan phir bhi education ko lekar koi bhi mazhab ya aakar ka faisla nahi hona chahiye. Main kya soch raha tha kyunki maine dekha hai ki University mein 50 se 42 seats par Muslim aspirants milne chale, aur ab wo logon ko bahar kar diya jaa raha hai jo mathe mein sikhayenge? Yeh yahi cheez hai jo Bharatiya government ke liye galat hai.
 
ਇਹ بات حقیقت میں تباہ کن ہے کہ جو لوگ ابھی بھی مذاہب سے متعلق کوئی شرط نہیں رکھنے کی وجہ سے یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں، اچانک انھیں داخلہ سے باہر کر دیا جائے گا? یہ تو ایسے معاشرے کا سلسلہ بن رہا ہے جہاں آپ کے مذہب کی وجہ سے آپکے ناکام ہونے والے Dream کو ختم کر دیا جائے گا
 
یہی کچھ ہوا؟ بھارتی حکومت نے مسلمان طلباء کو مٹی میں پھوس کر دیا ہے، یونیورسٹی میں مذہب سے منسلک ہونے کا کوئی راز نہیں، تمام افراد کی کوئی فرقت نہیں ہوتی ۔ لاکھوں مسلمان طلباء کو داخلہ سے رکھنا یونیورسٹی کی حیثیت کھو دیتی ہے؟
 
ਮੈں اسی وچارے میں نہیں کروں گا، لیکن مجھے یہ سوچنے پر غور ہوا ہے کہ کیا یہ سچ کہلائیں گی؟ Matasinh Diwyi University میں Muslim aspirants کو داخلے پر پابندی لگا دئیے جانے کی یادداشت، وہاں تک ایسا نہیں ہوا جس کا یہ نتیجہ ہو سکتا ہے?

کوئی بھی پابندی، اسی university میں داخلے پر ہونے والے Muslim aspirants کو رکھنا وہاں کے political capital ko increase karne ka ek tarika ho sakta hai. University mein Hindu devotees se funds milte hain, isiliye inhe university chalane ke liye hi fund mil raha hai?

Lekin, National Conference ki baat sach hai, yeh university mein different religions ka students pade ja rahe hain, to kya ye sirf Hinduism tak hi limkijwa karke aur Muslim aspirants ko out karega?

Main sochta hoon koi bhi decision iss university ke management ne lekar liya hai.
 
اس بات کا کوئی منہ سُنا نہیں ہوتا کہ جب ایسا کام ہوتا ہے تو پوری دuniya اس پر نظر رکھتی ہے . مادی ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کو داخلے سے روکنے کی یہ فیصلہ کیا گیا ہے تو یہ ایک بڑا معاملہ بن جاتا ہے . میرے خیال میں اس پر بات چیت کرنی چاہیے اور نہ کہ کسی ایسے شخص کو بھی ان کی ساتھ نہ رکھنا چاہیے جو اس میں تیزی سے گتروں کی لڑائی چاہتے ہیں . اس کے بجائے یہ بات سوچنی چاہیے کہ یوں کیا یونیورسٹی اپنے تمام طلباء کو ساتھ لین سکیں اور انہیں ایک اچھی سہولت میں داخلہ دیا جاسکے۔
 
😞 یہ تو حیرانی کی بات ہے کہ بھارتی حکومت نے ماتی ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے! یہ تو وہی صورتحال ہے جیسے وہ کہتے ہیں کہ صرف ایسے طلباء کی بجائے جو Hindus ہوتے ہیں، انھیں ہی آزماں بکھرنے دی جائے گی! 🤕

مگر یہ بات کے ساتھ ساتھ ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ ماتی ویشنو دیوی یونیورسٹی میں 42 نستوں پر Muslim aspirants کو داخلہ ملا تھا اور انھیں 50 نشستوں میں سے بھی داخلہ مل گیا ہے! یہ کس طرح ممکن ہے؟ 🤔

دوسری جانب نیشنل کانفرنس کی بات کے لئے، یہ تو اچھا کہیں پابندیاں نہیں چلو! اس طرح کے پابندیوں سے ہر مذہب کے طلباء کو تنخواہ کی وعدی میں دھोखا دیا جاتا ہے اور انھیں اسکول کے دروازے سے باہر کردیا جاتا ہے! 😠
 
اس بات کو یقیناتا نہیں کہ وہ University بھر میں کتنی توسیع کرتی ہے? university کی پابندی اور اس کی جگہ کے تحفظ کے لیے سوجھتی گئی، پوری India ki chunauti hai.
اس University mein Muslim aspirants ko bhi entry ki pabandi karni hi nahi, unhein bhi apni jaga se chuna jana chahiye?
Unki baat sunne ke liye bhi khair, par ye university aik secular institution hai toh anya dinon mein bhi kuchh na kuchh galat nahi kiya gaya tha.
 
ہمیشہ سے یہ بات غلط ہی رہی ہے کہ مذہب ایسا ہوتا ہے جو تمام انسانوں کو ایک جیسا بناتا ہے، اس کے برعکس ہر انسان اپنی اپنی یقینیں اور مذہب سے تعلق رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں ایسی بیانیوں کی پیداوار ہوتی ہے جو انسان کو الگ کرتی ہیں۔

اس وقت یونیورسٹی کا دھANDا اس بات پر مبنی ہے کہ وہ صرف وہی طلباء کو داخلہ دیں گے جس میں ایک خاص مذہب رکھتے ہیں، یہ تو کیا انچا لگتا ہے، نہ تو انسانی سماج کی ایسی پابندی کی بات کی جا سکتی ہے جس سے کسی شخص کو اپنی تعلیم حاصل کرنے سے روکیا جائے گا۔
 
بھارتی حکومت کی نئی پابندی میں سچمچ اور کھاتے کھاتے لگ رہا ہے! یونیورسٹی میں مسلمان طلباء کو داخلہ سے روکنا ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنی معیشت اور دھنجوں پر پھस گئے ہون۔ ماضی میں یہی نہیں تھا کہ اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہزاروں طلباء مختلف مذہبوں سے تعلق رکھتے تھے اور اب وہ سب کو داخلہ سے روکنا کیسے؟ ایسا نہیں چلا جائے گا! 😒
 
اس میں تو بھی یہ بات نہیں آئی کہ جیسے جیسے ملک نوجوانوں کو ڈرامہ بنایا گیا ہے وہ اسی طرح سے پریشانی میں پڑتے دیکھ رہے ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے مسلمان طلباء کے داخلے پر پابندی لگانا اور ناکام امیدواروں کو داخلہ سے روکنا جیسے جیسے یہ باتھومر بن رہی ہے تو یہ باتھومر ہی زیادہ ہوتی چلیگی۔
 
یہ تو بھارتی حکومت کا ایک نئا ریکارڈ بن گیا ہے! 😂 مگر یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ وہاں کس طرح رولڈ اسٹریٹ کی پرچم لے کر داخلہ لینا مشکل ہے؟ 🤣 اور یہ بھی بات پتہ چلی گئی ہے کہ وہاں کی جگہ کی حفاظت کے لیے تیز گتروں کو بھی اخراج پر لگانا پڑتا ہے! 🚫 مگر یہ سارے باتاں تو عالمی رواداری کی جگہوں پر کیسے چل سکتی ہیں؟ 😬
 
اس بھارتی وژن کو سمجھنا بہت مشکل ہے, یونیورسٹی میں مذہبی تعلقات کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے اور ابھی یہ پابندیاں لگائے جائیں گے, تو یہ بہت مشکل ہو گیا ہے. کیا وہ چاہتے ہیں کہ تمام طلباء کو چھوڑ دیں جو مذہب سے متعلق کسی شرط کی پابندی پر بھرosa کریں، مگر یہاں انہیں اس طرح سے نہیں چھوڑنا چاہیے.
 
جب 42 نشستوں پر Muslim aspirants کو داخلہ ملا تو اس کی ناکافی تھی… 🤔
یہ سچ ہے کہ University Hinduism ka darwaza hi khulta hai, lekin Yeh kaisi baat hai? 🤷‍♂️
National Conference ki baat bhi sahi hai, university mein religion ke bare main koi condition nahi ho jata… 👎
Mati Vishnu Devi University ki website par kuchh na kuchh darj nahi hai, aur yeh baat bhi sahi hai ki thousands students different faiths se aaye the. 🙏
 
یہ واضح ہے کہ حکومت نے اپنی پالیسی میں کچھ بدل دیا ہے، لہٰذا یہ بھی درج ہونا چاہیے کہ اگر کسی یونیورسٹی میں داخلہ لیں تو وہ اپنے دوسرے رشتوں اور تعلقات سے آزاد نہیں رہنا چاہیے... مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کسی یونیورسٹی میں مذہبی شروعات کی گئی ہیں تو وہ اچھی نہیں سوفری ہوتی...
 
یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ بھارتی حکومت بھی دوسرے شعبے کی طرح ہی ایسے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے جو اس سے ملنے والے اچھے نتیجے کی طرف لے جائیں گے۔ یونیورسٹی کا ایسا معاملہ ہوتا دیکھنا ہر کے لیے متعقب ہے، پہلی baat تو وہیں سے چلئیں گے جو اچھا ہو گا لگتا ہے، لیکن یہ بات بھی فیکٹ کے طور پر رہنی چاہیے کہ یہ معاملات ملک کے سماجی تناؤ کو مزید بدतर بنائون گے۔
 
واپس
Top