مسلمان طلباء کے داخلے پر پابندی: Mata Vishnu Devi University میں یہ ایک واضح معاملہ ہے جس پر بھارتی دہشت گردی کے نेतا بی جے پی رہنماؤں کی چرچہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ لایا ہے جس میں مسلمان طلباء کو انسداد سیکولرٹی اور مذہبی ایکایوتھیٹس کی واپسی کی وضاحت دی گئی ہے۔
بی جے پی کے رہنماؤٔں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ایک یادداشت میں کہا ہے کہ یونیورسٹی میں مذہبی اداروں کی سیکولرٹی پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اس طرح کی پابندی کے تحت ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں صرف ہندو عقیدت مند طلباء کو داخلہ ملے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مذہبی ایکایوتھیٹس میں پڑھنے کا موقع ملے گا، اس طرح یونیورسٹی میں سیکولرٹی کی واپسی کے مطابق مذہبی اداروں کو دوسری جگہ سے منتقل کر دیا جائے گا۔
اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر مذہب سے متعلق کوئی شرط درج نہیں۔ لہٰذا یہ ایک واضح معاملہ ہے جس کے لیے یونیورسٹی کی طرف سے اپنی پالیسیوں پر استعفیٰ دیا جانا چاہیے اور بی جے پی کے مطالبے پر انھیں بھی اس معاملے میں ایک حاضری دی جانی چاہیے۔
بی جے پی کے رہنماؤٔں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ایک یادداشت میں کہا ہے کہ یونیورسٹی میں مذہبی اداروں کی سیکولرٹی پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اس طرح کی پابندی کے تحت ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں صرف ہندو عقیدت مند طلباء کو داخلہ ملے گا اور نہ ہی انہیں کوئی مذہبی ایکایوتھیٹس میں پڑھنے کا موقع ملے گا، اس طرح یونیورسٹی میں سیکولرٹی کی واپسی کے مطابق مذہبی اداروں کو دوسری جگہ سے منتقل کر دیا جائے گا۔
اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر مذہب سے متعلق کوئی شرط درج نہیں۔ لہٰذا یہ ایک واضح معاملہ ہے جس کے لیے یونیورسٹی کی طرف سے اپنی پالیسیوں پر استعفیٰ دیا جانا چاہیے اور بی جے پی کے مطالبے پر انھیں بھی اس معاملے میں ایک حاضری دی جانی چاہیے۔