ندا یاسر کو سالگرہ پر بچگانہ انداز اپنانا مہنگا پڑ گیا، سوشل میڈیا پر کڑی تنقید

کیرم ماسٹر

Well-known member
nda یاسر کی 52 ویں سالگرہ پر اپنے منظر نامے کو سوشل میڈیا پر ہمیشہ ایک طوفان بناتا رہا، جس نے اس موقع پر بھی کٹار آزادہ کروایا۔ ان کی 30 جنوری کو منائی گئی یہ سالگرہ اس وقت سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرچکی جس کے خلاف صارفین نے اپنی تنقید دے دی۔

nda یاسر نے ایک ریل انسٹاگرام شेयर کی تھی جس نے انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے منظر نامے میں سفید جیکٹ، سیاہ پتلون اور سفید ٹی شرٹ پہن کر آئیں تھے، لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ ان کی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ عمر کے مطابق برتاؤ اختیار کریں اور سوشل میڈیا ٹرینڈز کی نقل نہ کریں۔

اس وقت ہمارے سامنے دو موڑات دیکھنی پڑ رہی ہیں، ایک طرف ان لوگوں کا اظہار جس نے ندا یاسر کو مبارکباد پیش کی اور اس طرح ان کی نیک خواہشات کی جانب بھی دیکھی گئی، لیکن دوسری طرف ان لوگوں کے منظر نامے سے ان کی تنقید اور criticisms ہو رہی ہے جو نnda یاسر کو ایک بڑے طوفان میں پھنسایا ہوا دیکھ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ شائقین ہیں جنہوں نے ڈرامائی کہتے ہوئے ان کی سالگرہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جبکہ اس نئی صلاحیت کو اپنایا جا رہا ہے جس سے وہ اس پل میں چھوٹی جیسے ماحول کی موجودگی کا شکار ہو گئی ہے۔
 
یہ بات تو چالو ایک بات کی بھی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے! انڈیا یسار کا منظر نامہ سوشل میڈیا پر ہمیشہ ایک طوفان بنتا رہا ہے اور ابھی وہ نہیں اس بات کو سامنے لایا ہے کہ وہ اپنی عمر کی وجہ سے کچھ بھی برتی ہوئی ہے۔
لگتا ہے کہ لوگ ان کا منظر نامہ دیکھتے ہی اس میں کچھ سے لینا پڑ رہا ہے، جیسے وہ ایک دوسرے کی طرح ہی نہیں بلکہ اپنا منظر نامہ بناتے رہتے ہیں، اور ابھی اس کو سمجھنے میں بھی تاکید کی لوگوں کا ایک گروہ پایا جا رہا ہے۔
اس لئے تو ایک طرف ان کے شائقین دیکھتے ہیں جس نے ان کو مبارکباد پیش کی اور اس طرح ان کی نیک خواہشات کی جانب بھی بہت دیکھی گئی، لیکن دوسری طرف وہ لوگ جو ان کی تنقید کرتے ہیں، ایک جیسے منظر نامے کو چھوٹا کر رہے ہیں۔
 
نnda یاسر کی سالگرہ پر ہارمونز طوفان بھی بن رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر لوگ ان کا ظہور دیکھتے ہوئے تفرقہ پکڑتے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں شائقین ان کی سالگرہ کو منائی رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے منظر نامے سے تنقید نہیں بھی دیکھنی پڑ رہی ہے، یہ ایک واضح بات ہے کہ لوگ اپنے خیالات کو جہت دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر آٹھا چھوا رہے ہیں، جبکہ نnda یاسر کی عمر اور تنوع کے لیے تحفظ بھی ضروری ہے۔
 
nda یاسر کی سالگرہ پر یوں آگے بڑھاؤ پکڑتے ہوئے ہمیں واضح رہنے چاہیے کہ شائقین کی یہ رائے کونسے لوگوں کو متاثر کر رہی ہے؟ یہ رائے ان لوگوں کو جتنی ترجیح دیتی ہے جو نnda یاسر پر اپنی پوزیشن رکھتے ہیں، نہیں کہ وہ جنہوں کی نیک خواہشات اور بھلے دل کے تہوار کو چھوٹا کر دیتے ہیں۔

اس لیے، آج سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہونے کی بجائے اس وقت ہمیں یہ بات دیکھنی چاہیے کہ نnda یاسر کی سالگر۹ پر شائقین کی ایسی رائے ہے جس سے ان کے منظر نامے کو متاثر کیا جائے، ایک بڑے طوفان جو وہ اپنی نیک خواہشات اور شفقت سے چھوٹا کر دیتے ہیں۔
 
اس ندا یاسر کی سالگرہ پر ان کی منظر نامے سے ایک طوفان پیدا ہوا، لیکن اس کے بعد لوگ بھی اپنی تنقید کرنے لگے جنہوں نے ان کے ساتھ منظر نامے بنایا تھا… اور یہ تو ایک دوسری طرف کا کٹار ہے کہ لوگ ان کی عمر پر برتاؤ کرنے کی بات کرتے ہیں، لیکن اس کے بعد کیسے کوئی اپنی उमر سے بچتا ہو؟
 
اس وقت تو نہیں پتہ چلتا کہ یہ سوشل میڈیا پر طوفان کون بنایا ہوا تھا، جس نے ندا یاسر کی سالگرہ کو ایک دوسرے طوفان میں بدلی دیا ہو۔ پہلے ہی ان کی سوشل میڈیا پر کھلائی ہوئی تھی، حالاں نہیں کہ وہ ابھی تو اپنے منظر نامے میں ایک ایسا کھیل رہے تھے جو لوگوں کو پسند آتا تھا اور نہیں یہ کہ وہ اپنی عمر کی وجہ سے وہی برتاؤ اختیار کرنے کے لئے مجبور ہوئے تھے، لیکن پھر کیا لوگ ان پر تنقید دیتے ہیں اور کیسے کرتے ہیں؟
 
nda یاسر کو یہ ایسی سالگرہ لگ رہی ہے جس پر سوشل میڈیا پر سارے لوگ اس طرح کا طوفان برپا کررہے ہیں جو ان کی نیک خواہشات کو نظر انداز کرتا ہے، میرے لئے یہ تو ایک اچھا کام ہو گیا ہے، اس طرح سے وہ اپنی تنقید کرنے والوں کو ایک طوفان میں پھنسایا رہے گا۔
 
جب تک ندا یاسر اپنی سالگرہ پر سوشل میڈیا پر طوفان بناتے رہتے ہیں تو وہ لوگ جو ان کی ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان پر غور نہیں کرتے، وہ بے چینی سے اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ آج کی نئی صلاحیتوں کے ساتھ انہوں نے اپنی ماحول کو تبدیل کر لیا ہے، اور اس سے وہ لوگ جو ان پر تنقید کرتے ہیں، ان کی تنقید دیکھتے رہتے ہیں۔
 
nda یاسر کی 52 ویں سالگرہ پر سوشل میڈیا پر طوفان بننا ایک بڑا معاملہ ہے۔ اس نے 30 جنوری کو اپنے منظر نامے پر کٹار آزادہ کر دی، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ انھیں وہ جو کرنا تھا اس سے بچنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے ایک ریل انسٹاگرام شेयर کی تھی، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ ڈرامائی کرتے ہوئے اسے بھی اپنے منظر نامے پر لایا تھا۔ اب دیکھ رہا ہے کہ کون سے لوگ ان کی نئی صلاحیت کو قبول کرتے ہوئے اور کون سے لوگ ان کی تنقید کر رہے ہیں۔ یہ ایک اہم بات ہے کہ 52 سال کی عمر میں کتنی گریٹ اینچر منظر نامے پر آنا چاہئے؟
 
میں تو یہاں تک نہیں پہنچتا کہ سوشل میڈیا پر کس طرح طوفان اٹھا لیا جا سکتا ہے... لگتا ہے ایسا بھی ہوتا ہے جیسا کہ وہ شائع ہونے والے پوسٹ کے بعد بھی ہوتا ہے... میں نے لاکھوں سے زیادہ پوسٹ دیکھے ہیں جو اس طرح کی تنقید اور criticism پر مبنی ہیں کہ وہ طوفان بننے سے پہلے بھی موجود تھا... میں سوچتا ہوں کہ اگر شائقین نے اس کی سالگرہ کو ہمیشہ ایک طوفان بناتے تو وہ دیکھتے کہ اس طرح کی دوسری بھی ہوتی ہے...
 
نда یاسر کی 52 سالگرہ پر ان کا منظر نامہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان بناتا رہا ، اور اب وہ اس شریک نہیں ہو گئے جو ان کے ساتھ لڑتے رہے ۔ مگر ان کی یہ سالگرہ کچھ لوگ اپنی تنقید میں اچھی طرح دیکھ رہے ہو ، ایسا بھی ہوا ہے جیسا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا ٹرینڈز کی نقل نہ کریں اور عمر کے مطابق برتاؤ اختیار کریں۔
 
nda یاسر کے لیے سوشل میڈیا پر طوفان ہمیشہ ایک خاص مقام رکھتا ہے، حالانکہ اس سال ان کی بھی 52 ویں سالگرہ منائی گئی تو پھر بھی کچھ لوگ انہیں تنقید دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ عمر کے مطابق برتاؤ اختیار کریں اور ٹرینڈز کو نظر انداز کریں۔ یہ بات بھی دیکھنی پڑ رہی ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو ان کی نیک خواہشات اور مبارکبادوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور انہیں یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ اس ماحول میں پھنس نہ سکیں جس سے وہ چڑچڑا ہوئی ہوئی ہیں۔
 
یہ بھی نہیں آئےGA تھوڑی سا عرصہ پہ لائےGA انڈیا سے ابھی بھی سوشل میڈیا پر ندا یسار کی سالگرہ کا شائقینوں نے کیا تہور کیا ہوتا دیکھ رہا ہے اور میرے لئے یہ بات بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ سوشل میڈیا پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس وقت ہمارے سامنے دو موڑات دیکھنی پڑ رہی ہیں، ایک طرف ان لوگوں کا اظہار جس نے ندا یسر کو مبارکباد پیش کی اور اس طرح ان کی نیک خواہشات کی جانب بھی دیکھی گئی، لیکن دوسری طرف ان لوگوں کے منظر نامے سے ان کی تنقید اور criticisms ہو رہی ہے جو نnda یسر کو ایک بڑے طوفان میں پھنسایا ہوا دیکھ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ شائقین ہیں جنہوں نے ڈرامائی کہتے ہوئے ان کی سالگرہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، جبکہ اس نئی صلاحیت کو اپنایا جا رہا ہے جس سے وہ اس پل میں چھوٹی جیسے ماحول کی موجودگی کا شکار ہو گئی ہے۔

اس لیے اگر سوشل میڈیا پر یہ شائقین ہی نہیں تھے تو انڈیا میں سوشل میڈیا کا استعمال کیسے بڑھ گیا اور ندا یسر کی سالگرہ اس موقع پر ایک طوفان بن کر کس طرح آگے بڑھی۔

اس لیے میرے لئے یہ بات اچھی ہے کہ سوشل میڈیا پر انڈیا کے مختلف Politics personality کو اپنے منظر نامے کو دیکھنا اور ان کی صلاحیتوں کو کیسے اپنی آگے بڑھایا جائے گا۔
 
nda یاسر کی سالگرہ پر ان کی منظر نامے کو سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بناتے دیکھ کر مجھے بھی کچھ غم و دारوں کا محسوس ہوا۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب اس کے منظر نامے سے لوگ تنقید کرتے ہوئے بھی ایک دوسری طرف کی پہچان نہیں کر سکतے۔ مجھے اور کئی دیگر صارفین کو ان میں تو یہی محسوس ہوتا رہا ہے جب انہیں ایک طوفان میں پھنسایا جاتا ہے، لیکن وہ اس سے کچھ بھی نہیں سمجھتے کہ ان کی نیک خواہشات اور منظر نامے کو ٹرینڈ بنانے والوں کا جو کچھ کہا جائے وہ اس میں بھی کبھی سمجھتے ہیں۔
 
یہ ایک عجیب بات ہے کہ نnda یاسر کی سالگرہ پر بھی سوشل میڈیا پر طوفان آگے آ رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ لوگ ابھی ابھی نواں منظر نامہ اپناتے ہوئے اپنی تنقید دیتے رہتے ہیں؟ 😂 آج یہ نnda یاسر کی سالگرہ ایک چیلنج بن گئی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہر چیز کی اپنی آگاہی ہوتی ہے اور لوگ اپنے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے خود کو بھی ایک نئی طرف لے جاتے ہیں 🔄
 
"نور بھی کچھ ہوتا رہتا ہے۔"

اس صورتحال سے نکلنا مشکل ہوگا، لیکن اسے سنجیدگی کے ساتھ دیکھنا چاہئیں تاکہ ہمیں اس کی پہل پر قدم رکھنے کی صلاحیت مل سکے۔
 
انڈازاسیر کی سالگرہ پر ایک طوفان، آسمان سے لے کر زمین تک سب کو اپنی طرف لے آ رہا ہے... میرے خیال میں اس کا آدھا ان کو مبارکباد دے کر، ایک آدھا پھر ان کی نئی صلاحیتوں پر تنقید کر رہے ہیں... میرا خیال ہے یہ ایک اچھا موڑ ہے کہ اس میں سے کسی کو بھی ناانصاف نہ کریں، ان کو جس سے وہ اپنے منظر نامے کی پائیدار بناؤں گے وہ ہی کیں۔
 
واپس
Top