پنجاب کے سینٹرل ریجن میں شدید دھند، موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند | Express News

محفلِیار

Well-known member
پاکستان میں دھند کے باعث موٹرویز نہیں چل پائیں گی، لاہور سے ملتان تک تینوں موٹروے بند ہو گئے ہیں۔

موٹروے ایم تھری کو فیض پور سے رجانہ تک دھند کے باعث بند کر دیا گیا ہے، جبکہ موٹروے ایم فور کو فیصل آباد سے ملتان تک ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

موٹروے ایم فائیو رحیم یار خان سے روہڑی تک بھی دھند کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے، جس میں بڑی گاڑیوں کو اور ایسے ریکارڈ کرتے ہوئے کہنے کے لیے کہ یہ موٹروے انھیں سے نہیں گزرنا چاہئے، اس کی وجہ بھی دھند ہی ہو گئی ہے۔

دھند میں لین کی خلاف ورزی موٹرویز پر دھند کے باعث زیادہ خطرہ پڑ سکتا ہے، اس لیے روڈ یوزرز کو لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کرنی چاہئے۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں، جس سے ان کے سفر کو آمنے سامنے لانے کا اہل بنائے گئے ہیں۔

دھند کے دوران صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک کے اوقات کو محفوظ سفری وقت سمجھیں، لہذا اس دوران سفر کیا جائے۔
 
موٹرویز بند ہونے پر پہلے میں سोचو تاکہ اگلی بار یہ نہ ہو کہ موٹرے بھی بند کر دیے جائیں گے! دھند کی وجہ سے 3 موٹروے بند ہونے میں بھاگ پکڑ رہا ہے، یہ تو آسانی ہوگئی ہے لیکن پچھلے سالوں میں ایسی صورتحال نہیں دیکھا گیا تاکہ اب سمجھائی جائے کہ موٹرویز پر لین کی خلاف ورزی سے بڑا خطرہ پڑتا ہے، اس لیے لین ڈسپلن کو روڈ یوزرز پر عمل کرنی چاہئیے۔
 
موٹرویز بند کر دیا جانا، یہ بہت حیرانی کن ہوا ہے۔ ڈرائیوिंگ کی ایسی سہولت جس پر ہم انحصار کرتے ہیں اس کو موٹرویز میں لے کر چلا گئا، اب وہ ہی نہیں چل رہی ہیں تو ہمیں یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ کیسے سفر کیا جائے گا؟

جب تک دھند نہیں، لین ڈسپلن پر نہیں ہو گا اور موٹرویز بھی نہیں چل پائیں گی۔ ایسے میں سفر کے لیے ہم اپنی جان و مال کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں یا ہمیں ایسی جگہ تلاش کرنی پڑے گی جہاں سفر کرتے ہوئے ہمیں کوئی عذری نہیں ہو گا۔ یہ سب ایک حیرانی کن معاملہ ہے اور ہمہ جگت کے لیے بھی خطرناک ہے۔
 
موٹرویز بند ہونے پر توڑ پڑ گئی نہیں، اس پر کسی کی فیکٹRIکی نہیں، یہ ایک دھند کا مظاہر ہو رہا ہے تاکہ لین ڈسپلن پر سب کو پھنسایا جائے। آج بھی لوگ لین ڈز اور موٹرویز میں ایسے ہیں جو اس دھند کے دور میں بنائی گئی سے پہلے کی تھا، اب تو یہ محض منظر ہے۔

دھند کے مظاہرین کو ہمیشہ ایک موٹروے بند کرتے ہیں، پھر واپس چلتے ہیں اور لوگوں کو ہمت دلائی دیتے ہیں کہ ان پر انصاف ہو گا، لیکن اس دھند کی وجہ سے ایک موٹروے کا بند ہونے کا اہمیت کیا ہے؟
 
تھر موٹروے فیاض پور سے رجاناہ تک بھی بند ہو گئا ! یہ تو یہاں کی حالات کس طرح ہیں! میں تھر موٹروے کو بہت پیار کرتا ہوں، لاکھوں رکاوٹوں اور چیلنجز کے باوجود بھی اس نے ہمیشہ اپنی جگہ حاصل کی ہے۔

جب تک یہ موٹروے چل رہا تو میں ان کو ایک نہانے والا سبسکرائیب تھا، اب بھی اگر اس پر سفر کر سکا تو مجھے ہمیشہ اچھا محسوس ہوتا ہے۔

جن لوگ اس موٹروے کو بند کرتے ہوئے لین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ان پر مجھے بھی اچھا محسوس نہیں ہوتا، کیونکہ یہ تو کبھی بھی موٹروے کی فان بھی نہیں بن گئی!
 
ایسا دیکھنا تھوڑا بہت خوش کہ لوگ ہمیشہ دھند کے باعث موٹرویز نہیں چلائیں گی، اب بھی ایک بار موٹرے بند ہونے سے لوگوں کی زندگی میں بھی تباہی پڑ سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں موٹرویز کے استعمال کو روکنا چاہئے، بلکہ لین دھند کے باعث خطرہ پڑنے پر روڈ یوزرز کی ذمہ داری ہو گی، اس لیے لوگ ایسے دنوں کو ترجیح دیں جب سفر کرنا آسان ہو۔

اس بات سے ابھی کچھ لگتا ہے اور موٹروے میں چلنے کی تھوڑی سی کمی تو آئی ہے، لیکن یہ سب ہمیں اس بات کو یاد دلاتا ہے کہ موٹرویز بھی انسان کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
 
یہ بھی دھند کا ایک اور ممتاز مثال... موٹرویز ڈرائیو کرنے کو چھوڑ کر سڑکوں پر باہر نکل جانا بھی گمراہ کن ہوسکتا ہے...

موٹرویز بند ہونے کا یہ عالمی ریکارڈ تو بھی ٹوٹ گیا ہے... دھند کی وجہ سے تینوں موٹروے کو بند کر دیا گیا ہے، جس سے ابھی تک کے سب سے پہلے ریکارڈ بن گیا ہے...

دنیا بھر میں کون سی گاڑیاں اور کون سی سڑکوں پر سفر کرتی ہیں؟ ایسے منظر کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ سوچنے کی پوری ضرورت ہوگی...
 
واپس
Top