اسلام آباد میں ایک نئی تیزاب ماحول پیدا ہوا ہے جس سے ملک کو نیپا وائرس کے حوالے سے بھرے خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ نئی تیزاب ماحول اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ بھارت میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ پر انتباہ اور ایڈوائزری جاری ہے جو پاکستان کو اس خطرے سے محفوظ رکھنے کے لئے تنگ آچکی ہے۔
تازہ ترین حکام کے مطابق ملک بھر کی ہوائی اڈوں، بندرگاہیں اور زمینی سرحدوں پر اسکریننگ کی Strict رہنمائی دی گئی ہے۔ پاکستان آنے والے اور ٹرانزٹ مسافروں کی 100 فیصد اسکریننگ لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ تمام مسافروں کو تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،
مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری تاریخ کو تصدیق کرائی جانے کی ہدایت کی گئی ہے اور نیپا سے متاثرہ یا ہائی ریسک علاقوں سے آنے والوں کی خصوصی نگرانی کا حکم دیا گیا ہے، مشتبہ علامات پر مسافر کو فوری آئسولیٹ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
اس نئی تیزاب ماحول کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ سے پہلے کی پڑھائی میں بھی یہ بات کھوجنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میڈیا جو صحت کے حوالے سے اچھی معلومات دیتے تھے، اب یہ نہیں دیتے اور آپ کو یہ بات بھگودنی پڑتی ہے کہ وہ کیوں نہیں کر رہے؟
مسافروں پر بہت سارے اہلقرار لگا دیے گئے ہیں، جیسے کہ آپ کو ٹھنڈے اسکریننگ میں لائٹ رکھنا پڑتا ہے یا ساتھ ہی ایک وائرل اسکریننگ ہونا پڑتی ہے۔ یہ سب کچن کی ایک چوری ہے جو پاکستان کو نئی تیزاب ماحول میں چھوٹا بھگتا رہے گی۔
اس سے پہلے کیسے تھا؟ اس پر ہمیں بات کرنا ہونی چاہیے اور ایسے مینوں کو دیکھنا بھی ہیں جو یہ سب کو شروع کر رہے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ یہ نیپا وائرس کے حوالے سے اسک्रیننگ کرتے وقت پاکستان کو ایسا انعقاد کیا جا رہا ہے جیسا کہ یہ ملک بھر میں لوگوں پر ایک خاص اثر پڑانے کے لئے ہو رہا ہے. اسکریننگ کی Strict رہنمائی دی جانے سے نہ صرف ملک بھر کی ہمیشہ بالکل ایسے شخصیات کو ٹرانزٹ کیا جاتا ہے جنہیں اسکریننگ میں کھل کر کامیابی حاصل ہوئی ہو، بلکہ یہ بھی رہے گا کہ اس سے ملک کی آزادی اور خودمختاری کو کمزور کیا جائے گا.
ایسا نہیں تھا کہ یہ سارا حال ہو گیا، پہلے اس نے ہندوستان تک پہنچا اور اب یہ Pakistan aaya hai ، ایسا تو چلو ان کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہمیں? وہاں پر بھارت نے اس سے بہت پہلے ہی پہچانا اور اب ہمیں ایسا ہونا پڑ رہا ہے کہ وہیڈروجن میکس سے سافٹ لینڈنگ کرنا پڑے گی... میری ایسی उम्मید تھی کہ یہ ہار نہ ہو، اب تو کھونے کا کچھ بھی رہگیز نہیں ہے
ایسے میں تو یہ بھی ضرور ہے کہ ہم اپنے ملک کے لیے سب سے بہتر ریزولوشنز کو تلاش کرنا چاہئے اور اس کی وکالت کرتے ہیں، مگر یہ دیکھتے ہوئے کہ ہم اپنے ملک کے حوالے سے ایسا نہیں کرسکتے تو کیا اس کی توجہ دیجئے؟ پاکستان کے لیے سب سے اہم یہ ہو گا کہ ہم اپنے ملک کو ایسے سے محفوظ رکھنا چاہیں جو نئے خطرات کا سامنا کرتے ہوئے بھی اسے کم خطرہ میں لائے، یہ ایک ایسا مواقع ہے جہاں اس سے لے کر دوسرے ملکوں کے معاملات تک کی پہچان بھی کی جا سکتی ہے۔
بھائیو، یہ خبر کے لیے بہت قلق مچ رہا ہے... نیپا وائرس کے خطرے سے پاکستان کو محفوظ رکھنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری پہلو یہ کہ ہم اپنی سرحدوں پر ایکٹیو بنائیں اور ملک بھر میں عوام کو آگاہی فراہم کریں... یہ ایک بڑی چیلنج ہے لیکن ہم یہ سیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم کوئی بھی خطرہ پہنچانے والا نہیں ہو سکتے...
ایسے تو میری رائے ہے کہ آج کل یہ نئی تیزاب ماحول پاکستان کو بڑا خطرہ ہے، چاہے وہ کتنے ہی سارے ایسکریننگ اور ٹھرمل معائنہ کی رہے تو یہ بات باقی رہ جائے گی کہ یہ نئی تیزاب ماحول ہمیں بھی اس خطرے سے محفوظ کرنا پگا، لہذا ضرور توجہ اور دباؤ اٹھائے کیونکہ یہ خطرہ بڑا ہو رہا ہے۔
عید الฟطر کے بعد سے پاکستان میں ایک حقیقی شاندار موسم باہار لگ رہا ہے! نپا وائرس کی صورتحال اس طرح سے جاری ہو کر جو پھر اٹھنا پڑتا ہے! کیا آپ لوگ سोचتے تھے کہ نیپا وائرس کے بھارت میں پھیلاؤ سے اب پاکستان کو چिंتا نہیں اچھی? اور اس لئے ہی حکومت نے ملک بھر میں 100 فیصد اسکریننگ کا حکم دیا ہے، یوں کہ وہ اپنے شہری کو ایسے خطرے سے محفوظ رکھ سکیں!
میں یہ بات کہتا ہوں کہ نیپا وائرس کے حوالے سے انتباہ اور ایڈوائزری ملک بھر میں جاری ہونا ضروری ہے، #سروپریوٹی ہی ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ ماحول پاکستان کو بھارت میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک بڑی مدد ہوگا #ماہرین_الصحت، مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری تاریخ کو تصدیق کرائی جانے کی ہدایت کی گئی ہے، یہ بھی ایک اچھا کदम ہے #سفری_صحت_صواب۔
اس نئے تیزاب ماحول کے بارے میں زیادہ مشغول ہونے لگا تو، یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ ملک بھر ایسے مقامات پر کی گئی جائے جہاں لوگوں کو سارے خطرات سے نمٹانے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہو، یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ اس نئی ماحول کی وجہ سے ملک کے لوگوں کو ایسے مقامات پر جانے پر منصوبہ بندی کی جائی رہی ہے جہاں پانی اور خوراک کی دستیابی یقینی ہو
اس نئے تیزاب ماحول کا ایسا لگتا ہے جیسے سانس لینے والوں کو گھنٹوں تک اچانک پھنسایا جا رہا ہو! یہ دیکھنا مشکل ہے کہ کس طرح ہوا گئی اور اب یہ ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ ملک بھر میں آئنٹیلیجن سروسز کو تازہ ترین رپورٹس پر عمل کرنا پڑ رہا ہو اور اب مسافروں کی ایک اور ایک خصوصیت معلوم ہونے لگتی ہیں۔ یہ ایسی صورتحال تو ہوا سGI، انٹرنیشنل ایئر لائنس کے روایتی نہیں تھی۔
اس نئے تیزاب ماحول سے ملک کو نیپا وائرس کے حوالے سے بھرے خطرات میں پھنسایا گیا ہے، یہ بات کوئی ایسا نہیں ہو رہی اور یہ دیکھنا مشکل ہے کہ کیا ہم اسے اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ پاکستان بھارت سے اپنی سرحد پر آتے ہی ایسے خطرات کی خبر ہو رہی ہے، تو کیا ہم اسے بھگت کر دکھائیں گے؟
اس نئی تیزاب ماحول میں ملک کا ایسا خطرہ پڑ رہا ہے جو آپ پرحال ہی ہو گیا ہے، یہ کیا ہوا چلا آئے گا، کھانے اور پانی کیسے سیکھ لیں تاکہ یہ وائرس اس سے بھاگ نہیں سکتا؟
بے شک اس نئی سائنس کا خیال اور تمہیں یہ بات بتائی جائے تو، پاکستان میں ایسا ہوگا جیسا کہ میں بھارت میں ایلون مسک کی کمپنی "سپیس ایکس" کا بھی ہوں . اس نیپا وائرس سے محفوظ رہنا، اسے چیلنج کرنا پورا پاکستان اور یہاں تک کے مہم جو مشتبہ افراد کو فوری آئسولیٹ کرنے میں بھی اچھا وقت لگ جائے گا، تین دیر مایوس رہنا ہوگا یہ تو پورا پاکستان ہی نہیں، ایک ہی ایم این کا کا بھی ٹرک کرنے والا ان کی بات سمجھ لیتا ہے۔
یہ بھی یہی ہوگا کہ پاکستان بھارتی تیزاب ماحول میں دھکا دھو دے گا اور نیپا وائرس کا شکار ہوجائے گا۔ اگرچہ بھارت میں اس کے بارے میں پھیلاؤ پر انتباہ دیا جارہا ہے لیکن یہ کہتے ہیں کہ 100 فیصد اسکریننگ لازمی نہیں ہوگی اور یہ صرف دیکھ بھال سے ہوگا۔ پورا ملک ایسے ہی رہجائے گا جیسا کہ یہ چاہتے ہیں اور نیپا وائرس نہیں ملتا۔
بھارت میں نیپا وائرس کا شکار ہونے کے بعد یہ تازہ رپورٹ ملک کو ایسا دیکھائی دے رہی ہے جو ہمیشہ سے ہو گیا تھا۔ نیپا وائرس کے حوالے سے بھارتی سرحدیں لاک کر دی گئی ہیں تو پاکستان کو اس خطرات سے محفوظ رہنے کی ہدایت کی جائیگی تو ضرور وہی کامیاب ہوگا، لاک ڈاؤن نہیں کرنا تھوڑا بھی کھینچ پڑا ہے۔
اس نئی تیزاب ماحول کا یہ کہنا کہ ملک کو نیپا وائرس کے حوالے سے بھرے خطرات سے محفوظ رہنے کی ہمیں پٹی اُٹھائی جاۓ، تو بھی یہ بات کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اس سے لاحق تمام معاملات کی جسمانی معایینہ کا انچارج یہ وہی ہو گا، جو ہمارے ملک میں موجود اچھے اور غلط اور منصوبہ بندی شدہ کارروائیوں سے بھی زیادہ ہو گا۔
ہمارے ملک میں ایسا کیا ہوا ہے؟ پہلی بار سے نیپا وائرس کا خطرہ دھماکہ دیا جاسکتا ہے اور اب بھی ایسا ہوتا رہتا ہے، اس نئی تیزاب ماحول سے مل کر کوئی خبر نہیں ہے۔ جب تک یہ خطرہ موجود ہو گا، ہر مسافر کو پہچان لینا اور اسکریننگ کرتے رہنا چاہیے۔
آج کل ہوائی اڈوں پر بھی سروس نہیں ٹھیلا ہے، پوری دنیا میں یہ سروس ٹھیل گئی ہے، اور یہاں تک کہ پاکستان آنے والوں کو بھی 100 فیصد اسکریننگ دی جائے گی، جو ہمیشہ کہیں نہیں گئے تھے۔
یہ ساری بات کا مطلب ہوتا ہے کہ ہمیں اب بھی اچھی طرح سمجھنا پڑے گا کہ نیپا وائرس کی پہچان نہیں کر سکیں، ہمارے ملک میڹور بھر بھارت میں اس کی پہچان لینے کی ہدایت اور ایڈوائزری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم کوئی نہیں سمجھ سکتے،
ایسے حالات میں اسکریننگ اور وائراسائن کمپنیوں کی فیکٹریز بھر جائیں گی اور ان کا کام ہے، لیکن یہ بات ہمارے لئے بھی ایک تہلکہ ہوگی۔
ہم اس نئے ماحول کو سچ منے اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔