امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان جو افغانستان جنگ میں نیٹو کی غیر امریکی فوجیوں کی کردار پر حملہ کر رہا تھا، اس سے ڈنمارک سمیت یورپی ممالک نے شدید خوف و ہماقت کا اظہار کیا اور اپنے فوجیوں کو ان کی مدد کے لیے جمع کیا۔
امریکہ کے اس بیان پر ہزاروں سے زائد لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے، جس میں افغانستان جنگ میں جان سے جاننے والی فوجیوں کی یادگار کا احترام بھی شامل تھا۔ یہ مارچ ڈینمارکی دارالحکومت کوپن ہیگن میں منعقد کیا گیا تھا، جہاں لوگوں نے اپنے فوجی اہلکاروں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور امریکی سفارتخانے کی طرف جانے سے پہلے خاموشی کے ساتھ جانا تھا۔
یہ احتجاج ڈینمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں منعقد کیا گیا تھا، جہاں اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا جو نتیجتاً ان لوگوں کی طرف بڑھا جسے اس بیان نے توہین دے دی تھی۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یورپی نیٹو فوجی افغانستان میں محاذِ جنگ سے پیچھے رہے۔ اس بیان پر ڈینمارک سمیت یورپی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور ان کی طرف جانے لگے، جس میں اس سے قبل بھی شہریوں نے اپنے فوجی اہلکاروں سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی کہانی کتنے لوگوں کو متاثر کر رہی تھی، اس بات کی کوئی ایسی بات نہیں جو نہ بہت سے لوگ محسوس کرنے لگے ہوں گے! امریکی صدر کا بیان تھا کہ نیٹو کی غیر امریکی فوجیوں کی کردار پر حملہ کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری تھا کہ کس قدر نازک دھندلی بات کے سامنے یہ محافل بڑھ گئی ہیں! لوگوں کی آنکھوں میں پانی آ گیا اور انہوں نے اپنی فوجی اہلکاروں سے یکجہتی کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے، یہ لکھنے کی ضرورت نہیں تھی!
امریکہ کے صدر ٹرمپ کو اس پر بھی انتباہ دی جانی چاہئے کہ آمرکہ کی جانب سے ہونے والی وارننگوں پر یورپی ممالک تہمت دار نہیں ہوتے ۔ ابھی تک انہوں نے اپنی فوجیوں کو افغانستان کے لیے جان سے جاننے والا خدمات انجام دیں، اور جس طرح وہ ان پر شکر و عزیت کی گئی، اسی طرح ڈینمارک بھی اس پر جواب دے گی۔ یوں کچھ کھوتے ہیں تو لوگوں کی ایک نئی تحریک پیدا ہوجاتی ہے جس میں لوگ اپنے فوجی اہلکاروں سے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا شروع کرتے ہیں، اور اس طرح یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ان پر کوئی تھوڑا بھی بدنامی کھیلنے کی محنت نہیں کرے گی۔
وہ بات جس پر لوگ ہزاروں سے زیادہ شخصوں نے انٹرنیٹ پر لکھی ہے اور سڑکوں پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بات ہے کہ لوگ اپنے فوجیوں کو ان کی مدد میں جمع کرتے ہیں، یہ ایک بات ہے جو دل کی جسارت سے بھرپور تھی اور اس میں شہریوں نے ایسی ایک وضاحت کے ساتھ ایک ایسی بات کی تھی جو ہر انسانی معاشرے کو یاد دिलتی ہے۔
اس America ki sadqey ko dekh kar mujhe lagta hai ki wo kahaan tak jaa sakti hai? Yeh to America ke sadar ko bhi galat fahm meh gaya hai, kyonki unke sab qawaid par yahi haq nahi. Unhone kaha tha ki NATO ki non-American forces Afghan mein kamzor hain, lekin wo bilkul sahi nahi hai. Yeh logon ko yakeen hi nahi tha ki unka koi kuch galat hai. Woh bilkul sahi gaye, apne America ke sadar ne kaha taki?
Mujhe lagta hai ki Yurap ke logon ka yeh tareeka bahut achcha hai, woh akele na ho kar ek dusre ko madad dete hain. Mujhe lagta hai ki America ko bhi apni galtiyon ko sikhne dena chahiye. Wo bilkul sahi gaye, apne America ke sadar se koi galat nahi hoti?
Yeh dikh raha hai ki America ko yakin hona chahiye ki wo alag alag logon ka faisla kar sakti hai. Unki government ki baat na ho, log apni galtiyon ko sikhate hain. Mujhe lagta hai ki yeh bahut sahi tareeka hai, America ko apne logon ki baat sunna chahiye aur unki madad karni chahiye.
سائنس دانوں کی نظرانداز کو نظر انداز کرنا بہت کثیف ہے، اسے تو آہستہ آہستہ کرو یا بھانپ بھانپ چلا جاتا ہے؟ یورپی ممالک نے ان سڑکوں پر لگتے ہوئے پتھر اور پھول رکھنے کی کوشش کی، اب بھی ان کی ایک اسی واضھٹ بن گئی ہوگی۔
اس معاملے سے مل کر یہ سوچنا مشکل ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا تھا، لیکن اس پر یورپی ممالک کی پانچ فٹ کی آواز سامنے آئی، اور اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ سچ کہلاتا ہے؟
اس نئی ٹی وی سیریز جو اس وقت منفرد ہوئی ہے، جس میں ایک فلم انسٹالری کے بعد اپنے اپنے اور اپنی شگفتگی پر منحصر ہونے والے شخص کی کہانی کو پیش کرتا ہے، یہ رہتے ہیں ایک فلم میں اس ٹھیس کی وجہ سے جو ہوتا ہے؟ اور یہ کہانی ایسے ہی ہے جس کی کہانی کو دیکھ کر ہمیں اس نئی ٹی وی سیریز سے محبت ہو جاتی ہے، چاہے اس میں ایک طالب علم ہو یا ایک ڈرامہ ہو، یہ ہمیں اکثر گھبرا دیتا ہے اور ہمیں اپنے آپ کو اس کے ساتھ جोडتا ہوتا ہے…
ایسی صورتحال میں ہر شخص کو اپنی جان کی جانپھرنا پڑتا ہے۔ امریکی صدر کا بیان تو ہی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کس قدر خطرناک اور غلط فہمیوں کی پہچان لگائی جاتی ہے۔ اگر یورپی ممالک نے ان کی طرف جانا تو اس پر ایک پیغام بھی چلا گیا کہ وہ لوگوں کی جانب سے محبت اور احترام کو نہیں سمجھتے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بات سے اس وقت کچھ نہیں بتاتا جس سے نہٹایا جا سکتا. ان کی باتوں پر لوگ نکل آئے اور اس سے یہ بھی بات ملتی ہے کہ یورپی ممالک میں ایسی ایک جسمانی طاقت نہیں تھی جس سے ان کی باتوں پر احترام دیا جا سکے. لوگ ان کی باتوں پر خوف و ہماقت کا اظہار کرتے ہوئے نکل آئے، جو بھی بڑے پیمانے پر احترام اور اشراف کا سائہ ہے.
اس بات کو پوری طرح سمجھنا ہوتا ہے کہ جب کسی کی باتوں پر لوگ نکل آئے تو وہ بات اس لئے اچھی نہیں تھی جو انہوں نے کہی تھی. لیکن یہ بھی بات معقول ہے کہ ایک صدر کا بیان اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ جس بات کی بات کر رہے ہیں وہ وہی ہوتی ہے جو ان کے سیاسی معاملات کی جگہ بھی اچھی نہیں ہوتی.
اس صدر کی بات تو پورے دنیا میں ہونے لگتی ہے، کوئی بھی بات اس طرح نہیں کی جاتی جو لوگوں کے دل کو ٹک کرنے لگی ہو۔ اب یورپی لوگ کہتے تھے کہ نیٹو کی فوجیں ایسے ہیں، لیکن اس بات کو نہیں سمجھا کہ ان کی جانوں سے بھی ایک لچکا ہوتا ہے۔ اب یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں آئے ہوئے ہیں، اور ان کی بات ایسی تو کیا گیا تھا جس نے اس کو نہیں دیکھا کہ وہ کتنے بھی لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے اس بیان میں ہلاک ہونے والوں کی یاد و اقدار کو توہین دینا بہت گمراہی ہے، یہ فوجیوں کا احترام کو پھانچ کر دیتا ہے جس سے ان کی جانب سے ایک زیادہ ترتیبیہ اور ایماندار تجاوز نکلتا ہے…
امریکہ کے صدر کو یورپیوں پر غرض کا زور کرتے ہوئے چلنے والی بات تو منحصر ہے لیکن جو یہ بات نہیں تھی کہ اس بیانات پر لوگ بڑے پیمانے پر سڑکوں پر نکل آئے تو وہ پتہ چلتا ہے کہ اس کو بھی نظرنا ہی ضروری تھا۔ اور دیکھو کوپن ہیگن میں یہ مارچ ڈینمارکی دارالحکومت میں منعقد ہوا تو وہاں لوگ بلاشبہ ایک ہی بات کے لئے آتے تھے، جو کہ ان فوجیوں کی یادگار کی طرف ہی تھی۔
یہ ایک دہریلے واقعے ہے جس میں امریکہ کے صدر کی بات سے لگبھगے لوگوں نے جدوجہد کرنا شروع کر دی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ میں جان سے جاننے والوں کی جان بھی لگتی ہے اور اس پر احترام کرنا ضروری ہے۔ امریکہ کے صدر نے یہ بیان دیا تو یہ سچمڈا ہوا تھا، لیکن لوگوں کی بات کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ اس کا احترام نہیں کرتے۔
اس سے ڈینمارک میں ایک اہم بات سامنے آئی ہے جو یورپی ممالک کے لیے ایک علامت ہو سکتی ہے۔ اس نے دکھایا ہے کہ لوگ اپنے حقوق کی طرف بڑھتے ہیں اور ان پر زور دیا جاسکتا ہے۔
پتہ چلا ہوا کے وہ لوگ جو افغانستان جنگ میں جان سے جاننے والی فوجیوں کی یادگار کے لئے آے، اس پر امریکی صدر نے کیا؟ یہ ہی لگتا ہے کہ وہ کچھ گaltiyan ہوئیں جو فوجیوں کی مدد کے لیے سڑکوں پر آتے دیکھا جاسکتا، لکن ان لوگوں نے اپنی ایسا کرنا ہی کہی ہوگا جو اس بیان کو توہین دے دیا ہوا تھا۔ آج سے پہلے یہ توہین دی گئی تھی، اب وہی لوگ کیا کے۔
میری رائے ہے کہ ایسے بیان کو لینے کی ضرورت نہیں اور اس پر انٹرنیٹ پر بھی بہت سا ردعمل سامنے آیا تھا، لیکن یہ بات تو واضع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باتیں ان میں جو حقیقی تعلقات ہیں وہ واضح نہیں تھیں، یہ تو ایک سیاسی ماحول بنایا جا رہا ہے۔ اس سے ڈینمارک سمیت یورپی ممالک نے اپنی فوجیوں کی مدد کے لیے جانے لگے اور ایسے احتجاج جیسا ہوا تو اس پر انٹرنیٹ پر بھی رائے دھار رہی ہیں جو کوئی بھی اپنے حق میں نہیں چاہتا