نئی سندھ میں نویں اور گیارہویں جماعت کے پاسنگ مارکس کی تبدیلی اور نئی گریڈنگ پالیسی نافذ ہوگی جس سے ایسے طلبہ جو 2026 میں سالانہ امتحانات میں پاس کر سکتے ہیں انھیں 40 مارکس حاصل کرنا پڑے گا۔
سندھ کی نئی گریڈنگ پالیسی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری ہوئی ہے جس سے سالانہ امتحانات میں پاس کرنے والوں کو 40 مارکس حاصل کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ 2027 کے سالانہ امتحانات میں پاس کرنے والوں کو 33 مارکس حاصل کرنا پڈا۔
مفید معلومات کے مطابق نئی گریڈنگ پالیسی میں ایک نئی تبدیلی کا بھی رخ ہوا ہے جس سے 2026 میں سالانہ امتحانات میں پاس کرنے والوں کو "U" گریڈ دیا جائے گا جبکہ 40 سے کم مارکس حاصل کرنے والوں کو ungraded کہا جائے گا۔
سندھ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر نئی گریڈنگ پالیسی نافذ کردی گئی ہے جو اس سال 2026 کے سالانہ امتحانات سے لائگی ہے جبکہ دسویں اور بارہویں جماعت پر یہ 2027 میں قابل عمل ہوگا۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 2026 کی سالانہ امتحانات میں پاس کرنے والوں کو 4 مختلف گریڈز دی جائیں گی جن میں 96 سے 100 تک extra ordinary گریڈ یا اے ++، 91 سے 95 تک exceptional یا اے +گریڈ، 86 سے 90 تک outstanding یا اے گریڈ اور 81 سے 85 تک excellent یا بی ++ گریڈ ہوگا۔
سندھ کی نئی گریڈنگ پالیسی میں ایک بڑا बदल کیا گیا ہے جس پر پوری ملک کے طلباء کو دیکھنا ہوگا! 40 مارکس حاصل کرنا پاس کرنے والی جماعت میں سے ایک بننا ہوگا...
یہ بھی لازمی نہیں ہے کہ 40 مارکس حاصل کرنے والے کو سالانہ امتحانات میں پاس کرنا پڑے! یہ نئی پالیسی ایک اچھی بات ہے، اس سے نوجوانوں کو اپنی کوششوں پر عمل کرنے کی ترغیب ملے گی!
40 مارکس حاصل کرنا ایسا ہی بھی مشکل ہوگیا ہے جیسا کہ پچیس سال قبل تھا! چالاک ہونے والے طلبہ اس میں 2025 اور 2026 کے درمیان 20 مارکس حاصل کرنے کا موقع کھوڈیں گے تو اس کے بجائے وہ 40 مارکس حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اسی سال تک اچھا نہیں کئے گا!
سندھ میٹرک میں آئی ایم اے تینوں سالوں میں سے کوئی بھی گریڈ جیتنے والے طلبہ 2025 کے لیے 34.8% رہتے ہیں
امتحانات میں پاس کرنے والوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے سندھ کی نئی گریڈنگ پالیسی کا مقصد یہ نہیں کہ طلبہ کو کم مارکس حاصل کرنا پڑے!
2026 میں سالانہ امتحانات میں پاس کرنے والوں کی تعداد کا dựżانہ 60.7% ہی ہے جبکہ اس سال تک اچھا نہیں کئے گا!
یہ نئی پالیسی تو کچھ دیر میں لگتی ہے، مگر یہ سمجھنا چاہیے کہ اس نے اس سندھ کی اور بھی ان کو فائدہ پہنچایا ہوگا جو توڑ توڑ کر نہیں دیکھتی تھی، اب وہ بھی محسوس کرپاوگیں گی، چاہے وہ پاس کر سکیں یا نہیں لاکھتے ہیں کہ یہ امتحانات میں کیسے اچھے اور کمزور طالب علم کو دیکھنے کا بھی موقع مل گیا ہوگا، آج کا وقت ایسے معاملات کے لیے اچھا ہے جب پالیسی بنائی جا سکتی ہے تاکہ اس سندھ کی طالب علم کو بھی فائدہ مل سکے،
مرحلیں اتنی مشکل ہو گیاں؟ نئی سندھ میں نویں اور گیارہویں جماعت کے پاسنگ مارکس کی تبدیلی اور نئی گریڈنگ پالیسی جس سے طلبہ کو 40 مارکس حاصل کرنا پڑے گا، ایسے تو یقیناً اس میں بھرپور کوشش کرنا پڈے گا لیکن کیا یہ بچوں کی ذہنی صحت کو بھی ٹیکس لگائے گا؟
یہ پوری چھپنے والی کھیل ہے! یہ پتہ چلتا ہے کہ نئی سندھ میں مارکس کی تبدیلی اور نئی گریڈنگ پالیسی تو ہوگئی ہے بلکہ اس سے انہیں اب 40 مارکس حاصل کرنا پڑے گا جو کہ ایک بھارپور مہanga لڑائی ہوگی! اور یہ نئی پالیسی تو صرف نوجوانوں پر ہی نافذ کی جا رہی ہے، کیا اس سے ان کے مستقبل کو بھی متاثر کرنے والا ہoga? اور یہ تو بھی نئی پالیسی میں ایک نئی تبدیلی ہوئی ہے جس سے 40 سے کم مارکس حاصل کرنے والوں کو ungraded کہا جائے گا، یہ تو بھی ابھی بھی پتہ چلتا ہے کہ انہیں مستقبل سے محروم کرنا پڑے گا!
یہ بھی بھی بھی پتا چلا کہ نئی سندھ میں مارکس کی تبدیلی اور نئی گریڈنگ پالیسی کو لागو دیا گیا ہے جس سے اس سال 2026 میں سالانہ امتحانات میں پاس کرنے والے 40 مارکس حاصل کرنا پڑے گا اور 2027 میں پاس کرنے والوں کو 33 مارکس حاصل کرنا پڈا ہوگا
یہ بات یقینی ہے کہ یہ نئی پالیسی سچم کی جس کے بعد یہ ضروری ہوا کہ اس کی جگہ کسی نئی تبدیلی کو لایا جائے۔ حالانکہ اس پالیسی کو واضح طریقے سے لگائے جانے کے بعد یہ بھی پتا چلا کہ اس میں ایک نئی تبدیلی اور 4 مختلف گریڈز کی شروعات ہوگی جس سے ایسے طلبہ جو سالانہ امتحانات میں پاس کرنے والے بننے کا امکان پیدا ہوگا
یہ تو نئی پالیسی بھی بنائی گئی، اب 40 مارکس نہ تو کافی ہیں اور نہ تو کم ہیں... میٹرک کے دہاکتے لگتے تھے جب میں بھی انھیں 40 مارکس حاصل کرنا پڑا tha, اب یہ نئی پالیسی ایسے لگتی ہے جو 70 کی دہائی سے نہیں بنائی گئی...
mera khayal hai ki yeh nai grading policy kaisi kaam karogi? agar woh bahut mushkil hon to kya log apne haq meh sabit kar paayenge? aur agar uski siyat hai to kitni siyasat par isse prabhav padega?