گولستان جوہر میں مسلح افراد نے فائرنگ کی، عالمی برادری کا ایک شخص جاں بحق
پولیس کے مطابق، گولستان جوہر کے علاقے میں جس حوالے سے چور سولر پلیٹیں چوری کر رہے تھے وہاں ایک نوجوان وجد عالمانی جاں بحق ہو گیا جو اس وقت کچے کے علاقے میں مقاطع پر زرعی زمین حاصل کر رکھتے تھے اور یہیں موجود تھے جس حوالے سے افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
مزاحمت پر مسلح ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وجد عالمانی جاں بحق ہو گیا، پولیس کا کہنا ہے
پولیس کا کہنا ہے کہ شامات یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چور سولر پلیٹیں چوری کر رہے تھے اور وجد عالمانی نے مزاحمت کی، اس پر مسلح ملzmanوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وجد عالمانی جاں بحق ہوا
یہ واقعہ گولستان جوہر میں پیش آیا جہاں کچے کے علاقوں پر پابندی کے ساتھ اہم شہر کی زندگی چل رہی تھی، اس حوالے سے پولیس نے ایسا کیا جس سے وہ اپنے علاقے کو اس طرح سے سہی لگا سکے جس سے کسی کو بھی پچتایا جا سکے
اطلاع ملتے ہی پولیس اس مقام پر پہنچ گئی اور لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جائے وقوعہ سے تحصیل اسپتال منتقل کر دیا گیا
یہ واقعہ تو اتنا ہی غصہ دلاتا ہے! پھر بھی، اس واقعے کے بعد کیا ہوا؟ پولیس نے ایسا اچانک کارروائی کرتے ہوئے اس علاقے کو کتنا سا دھمکی دیتے ہوئے بہتر لگتا ہے؟ یہ بات بھی چیلنجنگ ہے کہ شامات جس واقعے میں اچانک ہی متحرک ہو گیا، اس کی وہی فیکٹری ہمیں بتائی گئی۔ لاش کو اسپتال منتقل کر دیا جانا ایسا بھی ہمیشہ کی ایک معاملے میں نہیں آتا، یہ تو ایک چیلنج ہے!
اس واقعے کی واقفیت نہیں ہو سکتی، یہ تو کچے کے علاقوں میں بھی لوگ آدھے دھند تیریں لے رکھتے ہیں؟ اس نوجوان کو پھانسی سے ملا کر دیا گیا، پھر یہ کیا فائینس یا پابندی کی بات ہو سکتی ہے؟ وہ لاش کو ٹھیک کرنے کا راستہ نہیں ملا اور اسے سول جیت کی گئی ہوئی شہر میں خود بھی ڈال دیا گیا، یہ بھی تو ایک ہی طرح کا ہوا۔
اس وقت بھی ایسے واقعات ہو رہے ہیں جن سے ماحولیاتی شہر میں زندگی کو توڑنا پڑتا ہے، چور سولر پلیٹیں کچرے کے علاقوں پر لگائی جانی چاہئیں تو اس نوجوان کو ایسا ہوتا ہے کی وہ اپنی زندگیوں کو نہیں سنی پاتا۔ پولیس کے یہ اقدام بھی دیکھتے ہیں جن سے شہر کی ایک طرف جانب سے جانہنہ بھی پھیلنے لگتی ہے
اس حوالے سے ہوا جانے والی ناقصی اور غیر قابل توجھے انٹرنیٹ پوسٹس کے لیے بھی پچتایا جا سکتا ہے، یہ سارے لوگ دیکھ لین گے کہ یہ کیسے ہوا اور ان میں سے جو نہیں جانے والیوں کو بھی سچائی حاصل ہوئی ہو گی، یہاں ایک نوجوان کی جاہ حرب کے بعد جس ملزم کی پابندی تھی وہیں اس نے اپنے حقوق کو برقرار رکھا اور اپنی آزادی کو محفوظ رکھ لیا ہو گا، یہ شہرت دیتا ہے کہ جس ملزم کی جانب سے مزاحمت کی گئی وہیں بھی ایسی شہرت حاصل کی ہوئی ہو گی
جس نے اپنا حق خود وخت بھگتیں ۔اس وقت کے چور سولر پلیٹیں چوری کر رہی تھیں اس لئے انہوں نے مظاہرہ کیا ،اس نوجوان نے اپنی جائداد کی واپسی کے لئے اپنا حق بھگایا، لیکن یہی نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے حقوق کو معتبر قرار دیا ،ان سے پہلے اس علاقے میں کچے کی زمین حاصل کر رکھتے تھے یہی وجد عالمانی تھے جو ایسے مقام پر مقاطع حاصل کر رکھتے تھے ،کیا ان کے حقوق کو معتبر سمجھنا چاہئے ۔
ایسا ہی کیا نہیں ہوا ہو گا؟ پھر بھی اس واقعے پر سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔ آج کل فائرنگوں کی صورت میں لاکھوں لوگ آدھے دہائی تک جان گئے تھے، اور اب ایک نوجوان کو بھی وہی حال ہوا جو کچا چکا ہوا ہے۔ یہ توہین کار کی صورت میں پابندیوں لگائی جاتی ہیں، لیکن لوگوں کو بھی ایسی صورتحال کی پڑھنے میں تنگ آنا چاہیے۔
ایسا تو کیا نا ہوا ، گولستان جوہر میں بھی ایک نوجوان جاں بحق، یہ بات کھونے کے لیے کہ شامات مہنگے سولر پلیٹز چوری کر رہے تھے تو اس پر ایسا کر دیا گیا، ایسی ڈیٹا کچری کو دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ شامات واضح طور پر نہیں، پھر اور فائرنگ کی گئی تو یہ کیا حقیقت تھی؟ ایسا ماحولیہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو ڈرب کر رہے تھے ، ایسے میں کچنا بھی اچھا لگتا تھا؟
یہ واقعہ گولستان جوہر میں پیش آیا، جس میں ایک نوجوان وجد عالمانی جاں بحق ہوا، اس سے ہم سب کو پچتایا ہو رہا ہے۔ یہ ایک حوالے سے تو تھا جس پر چور سولر پلیٹیں چوری کر رہی تھیں، لیکن اس وقت کی بات ہوتی ہے جب وہ نوجوان Mazاحمت کر رہے تھے اور اس پر مسلح ملزمان نے ایسا کیا جو اس کی جان لے گئی۔ یہ سب کچے کے علاقوں میں ہوا جہاں پابندی کے ساتھ اہم شہر کی زندگی چل رہی تھی۔
اس واقعہ پر پابندانہ بات کہنا مشکل ہوگیا اور سارے لوگوں کو یہ سوچنے میں مجبور کیا جا رہا ہے کہ کون سا ملزم ہوا، لیکن اس کی پابندی کی بات کرنا مشکل ہوگیا اور سارے لوگ کو یہ سوچنے میں مجبور کیا جا رہا ہے کہ مگر دوسری جانب بھی کچھ ایسی بات ہوئی ہو سکتی ہے۔ یہ سب سے بھی غم ناکار ہے، اور ہمیں صرف ایک بات سوچنی چاہئے کہ زندگی میں کوئی بھی مسئلہ حل کرنے کی طاقت ہمیں ہی ملتی ہے، اور اس مسئلے سے نکلنا یقینی بات ہے۔
اس واقعے نے مجھے بالکل آغاہ نہیں کیا ہے، ایسے situations ہوتے ہیں جب آپ سے بھی اچھا سوال پوچھنا چاہئے۔ کہا جاتا ہے کے لوگ فائرنگ کرنے سے پہلے Mazahamat (امر) کے لیے کیا تھے، اس پر بات نہیں کی گئی۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ مزاحمت کر رہے تھے وہ اچھے لئے نہیں تھے، وہ لوگوں کو چوری کرنے کا مقابلہ کر رہے تھے کیونکہ وہ سولر پلیٹیں چوروں سے لڑ رہے تھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان لوگوں کو پچٹایا جا رہا ہے۔
اس نوجوان کی جان لینا ایک دریختا تھی، یہ ایسا واقعہ ہوا جس پر کچھ لوگ سنیں اور کچھ لوگ نہیں… پولیس کو اس جگہ بھی پہنچنا ایک کام تھا، لیکن ان لوگوں کو یہ کہنا کہ وہ کیا کر رہے تھے اور وہ کیوں جان لینا پڑا، تو بھی نہیں دیکھا جاتا…
یہ واقعہ تو بہت دکھدکاتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس نوجوان کو پچتایا جانا انسفرٹنگ اور بے فطرت ہے۔ وہ کھڑے ہونے والی ایک شخص سے نہیں لڑتے تھے، تو ان کا نقصان کیا جائے گا؟ اس واقعہ پر کئی سوال اٹھاتے ہیں، بچوں کو کہنے والی دلیلوں کے مقابلے میں کیا کر سکتا ہے؟
ایسا نا آسان ہو گیا ہے، وہ نوجوان جس کے بعد ایسا واقعہ پیش آیا وہیں ہوتا تو پھر بھی کسی کی بھی جان۔ پولیس کو اچھی طرح سے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے علاقے میں کون سا اثر چڑھاتے ہیں تو اس پر بھی نظر رکھتے ہیں، کسی کی جان کو یقینی بنانے کے لیے نہیں بلکہ پابندی اور سہی زندگی چلائی جاتی ہے۔
یہ واقعہ بہت دुख دہ ہے، یہ تو پابندیوں اور قانون کے حوالے سے سمجھنا چاہیے لیکن ان لوگوں کو جو کچے کے علاقوں میں فائرنگ کرنے کے لئے واپس جانے والے ہیں وہ بھی ایسی فوجی کارروائیوں سے بھگڑتے پھرتے ہیں۔ اب وہ نوجوان جو ان میں شامات کیا تھا، وہ بھی شہید ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس علاقے کی پابندیاں اور قانون کی بات بھی توڑی گئی۔ اب یہ کچے کے علاقوں میں فائرنگ کرنے والے لوگ ایسے ہی بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ تو لاکھ لاکھ کے پابندیوں اور قانون کی باتوں میں بھی بات نہیں آتی لیکن اگر کسی فرد کو کچتے علاقے میں فائرنگ کرنے کی کوشش ہو تو اس پر اٹھنا لازمی ہو گا۔
اس بھی کہیں نا کہیں یہ ہوتا رہتا ہے کہ لوگ گALTیوں سے لاپتے ہوئے افراد پر فائرنگ کر دیتے ہیں، اس صورتحال کو حل کرنے کی ضرورت ہے جس سے یہاں تک پہنچتا ہے کہ ان لوگوں کی جان کو کبھی بھی نہیں سانسنیا دیا جائے، آپ دیکھتے ہیں جو گولستان جوہر میں ہوا وہاں تک پہنچتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے معاملات سے دوڑنا پڑتا ہے، اس لیے کہیں نا کہیں یہی صورتحال دیکھتے رہتے ہیں