Pakistani VC is World's Youngest Vice Chancellor | Express News

مصور

Well-known member
گینز ورلڈ ریکارڈز نے ایک اور نئی جان کی جس نے دنیا کے کم عمر ترین مرد یونیورسٹی چانسلر بن کر شاندار مقام اپنایا ہے۔ 29 سالہ محمد شاہ زیب اعوان کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) کے وائس چانسلر کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کی نئی قیادت اور ابھرتے ہوئے تعلیمی رجحانات کی نمائندگی بھی ہوتी ہے۔
 
🤔 یہ ریکارڈ بہت منفرد ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس نے ہر کوئی ہٹا دیا ہے۔ 29 سال کی عمر میں یونیورسٹی چانسلر بننا ایک بڑا کام ہوتا ہے، حالانکہ مجھے لگتا ہے کہ اس نے اپنے پاس اپنی ساتھیوں کی مدد کے لیے ایک اچھی پلیٹ فارم تیار کرنا چاہئیں تاکہ وہ ان کی ذمہ داری کو بھر سکیں۔
 
ان نوجوانوں کو ہمیشہ ان کے لئے Hope کی پرچم کے طور پر نظراتا تھا… پھر یہ دیکھتے ہیں 29 سالہ محمد شاہ زیب اعوان نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے گینز ورلڈ ریکارڈ میں اپنی جگہ secure کر دی ہے۔ اس نئے ہونے والے دور میں پاکستان کا تعلیمی نظام ابھرتا دیکھ رہا ہے… یہ بات تو حقیقی طور پر inspirational ہے۔
 
تجربہ کار کا ایک نیا چہرہ، نہیں تو اس کی جانب دیکھتے رہو! 29 سال کی عمر میں یونیورسٹی چانسلر بننے والے محمد شاہ زیب اعوان کو ایک اچھا سندesi لگ رہا ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والا تعلق پاکستان کی نئی قیادت کا بھی ہوگا، جو ابھرتے ہوئے تعلیمی رجحانات کی نمائندگی کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جانب دیکھتے رہنا جاری رہے!
 
یہ سب کچھ اتنا عجیب ہے، پہلی بار سنوں گے کہ ایک نوجوان کو 29 سال کی عمر میں یونیورسٹی چانسلر بننے پر فخر کر لیا جا رہا ہے، ان کے لئے یہ کامیابی اور سچائی کی حقیقت ہوگا! 🤩 نہیں تو، اس کے ساتھ ایک بات بھی لگ رہی ہے کہ ان کے انتخاب میں اس وقت کے معاشرتی شرائط اور ماحول کی بھی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی، اس سے ملتا جلتا یہ حقیقت ہو گا کہ چانسلریں ایسے لوگوں تک پہنچائی جا رہی ہیں جو نہ صرف انہیں لگے ہیں بلکہ انہیں اس کام کے لیے ماحول بھی ملتا جلتا ہے۔
 
پاکستان میں یونیورسٹی چانسلر بننے والے نئے انسान سے میرے لئے ایک خاص علاج ہو گیا ہے۔ 29 سال کی عمر میں اس نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا وائس چانسلر بننا ہمیشہ سے یقینی نہیں تھا، لیکن اب اس کی یہ achievement 🤩 پاکستان کے تعلیمی نظام کی ایک نئی اور بہتر سمت کی نمائندگی کر رہی ہے۔
 
چلو ایسا کیا ہوا ہے یہ نئی جان جو گینز ورلڈ ریکارڈز بن گیا؟ 29 سال کی عمر میں وہ ایک یونیورسٹی چانسلر ہو کر اپنی پیدائش کے 10 سال بعد ہی اس مقام پر فائز ہونے والا سب سے کم عمر شخص کیا کہتے ہیں؟ یہ تو پاکستان کی نئی جینریشن میں تعلیمی رجحانوں کے بارے میں ایک بڑا بات چیت ہے، کیونکہ اس نے بھرپور عمل اور ہمیشہ سے ہی تعلیم اور سکھیلڈ یوٹیلیٹی کے بارے میں اپنی جگہ بنانے کی قوت رکھی ہوئی ہے۔
 
پاکستان میں کم عمروں کے لئے بہت اچھا۔ 29 سالہ محمد شاہ زیب اعوان کو یونیورسٹی چانسلر بن کر شاندار مقام پکڑ لیا ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ پاکستان میں ابھرتے ہوئے نئے لڑakoں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی بھرós میں دی جا رہی ہے۔
 
مریٹ اور انڈیکس کیا بن سکتے ہیں؟ اب نئے خاندان میں شاندار مقام حاصل کر رہے ہیں، جیسا کہ یہاں کے نوجوان نے... میرے لئے ان کا کامیابی کی داستان اچھی نہیں ہوگی، وہ بھی دوسرے لوگوں کی پِچھوں آ رہے ہیں، میرے گhar میں بھی تو یہی ہوتا تھا...
 
ایسا تو کچھ متحرک ہے! نئے دور میں کم عمر کو کام کے لیے سب سے اہم تصور بنایا جا رہا ہے، ایسا کیسے ہوگا؟ آج نے پڑھا کہ 29 سالہ محمد شاہ زیب اعوان کو وائس چانسلر بنایا گیا ہے، یہ تو بہت متاثر کن ہے لیکن اس کی ایسی چابی کیسے ہوگی جو تین دہائیوں میں یونیورسٹی کی راہی پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
 
😍 پھر ایک بار فیکس ہو گا اس نئے چانسلر کو، وہ کون سی ادارات میں کام کر رہا تھا تو یہ بھی ہو جائے گا۔ لگتا ہے انہیں ایک لامبی پچھا لگ رہا ہے، اس لیے نہیں وہاں اور وہاں پہنچ جائے گا۔

ایسا لگتا ہے انہوں نے اپنے ساتھ ایک نئا ہی سیکٹر چلانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے، جو کہ پورے پاکستان کو نئی تعلیم دیں گے اور اس کی یونیورسٹیوں کو بھی ہمیں تعلیم ملے گی۔

علاوہ ازیں انہیں ابھی ویلفائر کرسٹل ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے، جس نے یونیورسٹیوں کو بھی پہلا ایوارڈ دیا تھا۔
 
بھارتی کمپیوٹر کیمپس میں سے ایک ہونے کی جگہ یہ جان اپنی پیداواری صلاحیت کی وجہ سے نہیں تھا۔ اسے اپنی تعلیم کی قوت اور انعقاد کے ساتھ بڑا کرنا ہوگا، فیکلٹی آف مینجمنٹ کے چانسلر بننے کے بعد اس کی فراہمی کو بھی پورا کرنا ہوگا، نئی پلیٹ فارمز کو اپنایا جا سکتا ہے اور واضح رہائش جائیداد کی تجویز کی جا سکتی ہے
 
ابھی یہ دیکھا گیا تھا کہ ہر سال کوئی نا کوئی نوجوان ایک اور نئی جان لاتا ہے، حالانکہ یہ بہت اچھا ہے کہ وہ نئی پوزیشن پر کھڑے ہو کر دنیا کو دیکھنا چاہیں بلکہ اب ایک نوجوان جو صرف 29 سالہ ہے، اس نے ایسے اچھے مقام پر فائز ہونے کا مقصد اپنایا ہے جس میں وہ خود کو بھی سمجھتے ہیں نہیں تو پھر یہ سچا مقصد نہیں ہو سکتا۔
 
واپس
Top