President asif ali zardari approves 7 bills include domestic violence | Express News

بندر

Well-known member
صدر مملکت نے ایک اہم قدم رکھا ہے جس سے خواتین کی زندگی میں بدولت تبدیلی آئی ہے۔ گھریلو تشدد کو روکنے کے لئے قومی سطح پر ایک اہم قانون منظور کیا گیا ہے، جس سے خواتین کو اپنی زندگی میں امن و امان ملے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر مملکت نے ایکٹ آف پارلیمنٹ منظور کیا ہے جو گھریلو تشدد کی پابندی کرتا ہے اور اس سے متعلق تمام قوانین میں ایک اہم تبدیلی لائی ہے۔

اس قانون کے مطابق، بیوی کو گھورنا، دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی دینا بھی جرم قرار دیا گیا ہے اور اس جرم پر کم سے کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 3 سال تک سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

اس قانون میں گالی دینے، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا اور اس کے مرتکب کو تین سال تک کی سزا دی جائے گی۔

اس قانون کے تحت، بیوی، بچوں، گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا اور اس سے متاثرہ شخص کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی دینا بھی جرم ہوگا۔

اس قانون میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی شامل ہے کہ ایکسپریٹس نیوز کے مطابق صدر مملکت نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی توثیق کرائی ہے، جو خواتین کو اپنی زندگی میں امن و امان ملنے میں مدد کرسکتی ہے۔
 
😊 یہ ایک بڑا قدم ہے جو صدر مملکت نے لیا ہے، گھریلو تشدد کو روکنے کے لئے قومی سطح پر قانون منظور کیا گیا ہے جس سے خواتین کی زندگی میں بدولت تبدیلی آئی ہے۔

اس قانون کے مطابق، جو لوگ اپنی بیوی یا دوسری خواتین کو گھورنا، دوسری شادی کرنا اور طلاق کی دھمکی دینا چاہتے ہیں وہ مجرم ہوں گے اور انہیں جرم کے لیے تعزیر کا سامنا کرنا پگا۔

یہ قانون خواتین کو اپنی زندگی میں امن و امان ملنے میں مدد کرے گا اور اس سے ہمیں ایک safer society ملے گا۔
 
یہ تو اچھا ہوگا کہ قومی سطح پر ایسا قانون منظور ہوا ہے جو گھریلو تشدد کو روکے گا لیکن یہ سوچنا مشکل ہے کہ یہ قانون کیسے لागوں گے اور اس سے بھی سوچو گا کہ وہ لوگ جو غلطیوں سے گزرتے رہتے ہیں انہیں سزا ملے گی اور انہیں اپنی غلطیوں کو بدلنا پڑے گا یا نہیں؟
 
ایسا کیا ہو گا اس قانون کی پرہیزgarsائی پر؟ بھولنا ایسا آسان نہیں ہوتا جو کچھ لوگ کر رہے ہیں اور انھیں اُنھیں اُس سے ہٹانے میں اتنی آسانی نہیں ہوتی گالی دینے اور دوسری شادی کا مطالبہ کرنے والوں کو انہیں سزا دی جائے گی تو وہ اس پر لگتے رہے گا۔
 
تم سے بات کر رہا ہوں تو یہ واضح تھا کہ اس قانون کی پاس ہونے سے خواتین کی زندگی میں بہت تبدیلی آئیگی। گھریلو تشدد کو روکنے کی بات کرتی ہو، اب یہ سوشل میڈیا پر بھی سچائی کا مظاہر ہوا ہے۔ اس قانون میں ایک اہم تبدیلی ہے جو خواتین کو اپنی زندگی میں امن و امان ملنے کی مدد دے گی۔ لیکن یہ کھوٹا نہیں کہ میرے بعد میں سوشل میڈیا پر ان کے دوسرے پوسٹ بھی دیکھنے پڈے ہngen۔
 
عہد جدید سے لے کر آج تک خواتین کی بھی کوئی خاص مہم نہیں چلی رہی جس سے ان کی زندگی میں معاونت ہو سکے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس سے ایک قدم آگے بھی چڑھ گیا ہے، گھریلو تشدد کو روکنے کے لئے کیا گیا ہے اور اب خواتین کو اپنی زندگی میں امن مل سکتا ہے۔
 
بہت بھوولہ انسداد گھریلو تشدد کی بات سے پہلے اس پر کام کرنا تھا! اب یہ چلچلتا ایکٹ آف پارلیمنٹ منظور ہوا ہے جو خواتین کے لئے بہت اہم بھوٹی ہوگا!
 
یہ ایک بڑا قدم ہے جس پر صدر مملکت نے چڑھایا ہے، اب خواتین کی زندگی میں امن اور امان کے دھن میں قدم رکھ سکتے ہیں. گھریلو تشدد کو روکنے کے لئے یہ قانون ایک بے مثال اقدار ہے, جس سے خواتین کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے.

یہ قانون صرف گھریلو تشدد کو روکنے کے لئے نہیں بلکہ خواتین کی زندگی میں امن اور امان کو بھی یقینی بنانے کا ہے.

اس قانون کے تحت، بچوں کو گالی دینے یا ان سے جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی دینے سے بھی بچوں کو بچنا ہوگا.

یہ قانون صرف ایک بڑا قدم نہیں ہے بلکہ ایک بے مثال اقدار جو خواتین کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے ہے.
 
یہ بھی یوں ہوتا ہے جیسا کہ ہم سوچتے تھے کہ خواتین کی زندگی میں ایسے बदलाव آئیں گے۔ تاہم، یہ بات بھی پوری طور پر نہیں ہوئی۔ جیسا کہ کہہ دیا گیا ہے کہ ایسے قوانین منظور کیے گئے ہیں جس سے خواتین کو اپنی زندگی میں امن ملے گا، لیکن یہ دیکھنا عجیب ہے کہ یہ قانون صرف گھریلو تشدد کے لئے نہیں بلکہ بیوی کو گھورنا یا طلاق کی دھمکی دینا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

یہ بات یقینی طور پر نہیں ہے کہ تمام خواتین اس قانون کے تحت سمجھت ہیں اور اسے مقبولیت حاصل کرے گا، خاصकर وہ خواتین جو پریشان ہیں یا جسمانی طور پر انکار کردہ ہوں گے تو یہ قانون ان کے لئے بھی نہیں ہوگا۔
 
سچمئی سے بھرپور مہم جاری ہے انیسویں صدی کی دہائی ہے اور اس میں خواتین کی زندگی میں ایک اہم تبدیلی آئی ہے... کہیں 6 ماہ سے لیے 3 سال تک ناکام رہنے والا اہلقضت کے معاملات کو توازن میں لانے کی ضرورت ہوگی...
 
واپس
Top