President Asif Ali zardari reaches UAE | Express News

پی سی گیمر

Well-known member
صدر آصف علی زرداری نے ابوعہبی میں ایک چار روزہ دورہ شروع کر دیا جس کے دوران ان کی اہم ملاقاتوں سے متعلق بڑی خبر تھی، جو یہ بتائی گئی کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری پر بات چیت ہونے والی تھیں۔

دورے کی شروعات اس وقت کئی بڑے ماہرین سیاسی کے استقبال سے ہوئی جب انہوں نے ابوظہبی کے زید انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صدرِ مملکت کا استقبال کیا، جن میں متحدہ عرب امارات کے وزیرِ انصاف عبد اللہ بن سلطان بن عواد النعیمی نے شرکت کی تھی۔

دولت کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی خاتونِ اوّل بی بی اسفاہ بھٹو زرداری نے استقبال کی ایک کامیاب تقریبا۔ سائنسدان اور سفیر پاکستان شفقت علی خان بھی ان ساتھ ہیں، جس کے بعد صدر آصف علی زرداری کو متحدہ عرب امارات کے صدر کی حیثیت سے استقبال دیا گیا تھا جو اس دورے کے دوران اہم ملاقاتوں میں شامل ہونے والی تھیں۔

دورے کے دوران ان کی اہم ملاقاتوں سے متعلق بڑی خبر بتائی گئی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، اس میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تجارت، Economic cooperation، دفاع، سلامتی اور عوامی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کی تھیں۔

دولت کا اس دورہ صدر آصف علی زرداری اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات، اعتماد اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر قرار دیا جارہا ہے۔
 
سرفراز بھی ابوظہبی میں چلے گئے صدر آصف علی زرداری کی دورے پر فخر کرتا ہے اور اس کی یہ ملاقات پاکستان کی Economic cooperation،Defense relations اور International relations کے لیے بڑی خبروں میں سے ایک ہے.

ایسا لگتا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے ایسے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گئے.

بھٹو زرداری بی بی اسفاہ کے دورے میں ایک بہت ہیSuccessful تقریبا ہوا، اس پر سرفراز یقین رکھتا ہے اور صدر کی وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی خاتونِ اوّل بی بی اسفاہ کے استقبال میں بھی اس کی شرکت لگتے دیکھ کر خوش تھا.
 
ابوظہبی کے دورے کی واضح منصوبہ بندی سے پہلے میں اس پر نظر انداز نہیں رکھنا چاہئے جس کے بعد دو ملکوں کے درمیان جو بہت سارے پہلوؤں پر بات چیت ہو گی، اس میں کیا ہونگے؟ یہ تھرڈ ورلڈ کے لیے بہت اہم رول پلے ہوگا اور اب وہاں سے دو طرفہ تعلقات، تجارت اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کی جانب بھرپور کوششوں پر نظر آ گئی ہے.
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ دورہ ایک ٹوئٹ بھی بن سکتا تھا، اس لیے اس پر بڑا توجہ نہیں دیya jaa raha ہے اور اس میں کیا کوئی ریکارڈ کیوں نہ کرے ؟ وہ دوسرے دورے جسے لوگ بھی بھول گئے تھے وہاں تو ہونے والی باتوں کا یہ کچھہا ساتھ نہیں ہوتا اور اب یہ دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کر رہے ہیں تو یہ بات بھی نہیں تھی کہ یہ باتوں میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہے۔
 
یہ دورہ ایک بڑی بات تھی ، پچاس سالوں سے دو ملکوں کے درمیان رشتوں میں بدلाव آ رہا ہے اور یہ دورہ صدر کی طرف سے اس رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم قدم تھا۔ اب یہ بات سچ بھی تھی کہ دو ملکوں کے درمیان کیا رہا ہے ، حالانکہ دورے نے ہر ایک کو خوش کر دیا ، لیکن اس کی دوسری طرف سے بھی یہ بات سچ تھی کہ کیا اب دونوں ملکوں میں اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کسی بھی قیمتی کارروائی کرنے کی ہمت ہے۔
 
ایسے دورے کے بعد بھی متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاشی تعاون میں کام کرنا اچھا ہوگا بلکہ اس کی منصوبہ بندی کے بارے میں مزید تحقیق کیا جائے گا کہ ایسا کون سے بڑے معاملے ہیں جس پر دھ्यان دیا جا سکے گا۔
 
علاوہ ازیں اس دورے سے متعلق بڑی خبروں کی پھیل رہی ہے، لیکن مجھے یہ بات سے زیادہ توجہ دینا چاہئے کہ صدر آصف علی زرداری نے ابوعہبی میں چار روزہ دورہ شروع کر دیا ہے، اور اس دورے کی وجہ سے دوسرے ملکوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے، مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ اس دورے نے دوطرفہ تعلقات اور تجارت میں بھی دلچسپی پیدا کی ہے، لیکن مجھے یہ بات تو پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے اس دورے سے زیادہ ضرورت ہے، اور اگر اس دورے کے نتیجے میں دوسرے ملکوں کے ساتھ معیشت میں شراکت داری کی بات چیت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کو بہت فائدہ اٹھانے کا موقع ہو گا 🤔
 
ابوظہبی میں ایسا دورہ انٹرنیشنل اسٹیج پر شروع ہوتا تو یہ بھی مندرجہ ذیل بات سے متعلق ہوتا جس کو اب تک پڑھا نہیں گیا تھا کہ صدارت سے پہلے ان کی زندگی کی کتنے عزمات رہے ہیں جو اس وقت تک نہیں دیکھے گئے جس کے بعد یہ سارے پہلو میٹرنگ پر ٹھہر جائیں گے.
 
ایسا لگتا ہے کہ اس دورے سے بعد کی ایک نئی اور بہتر توجہ اٹھائی گئی ہے جس میں دو ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، یہ سچ ہوگا کی ناکام پوسٹز جو ابھی ہمیشہ اور جسمانی طور پر بھی تھیں اب کچھ سے بھی دور ہو گئے ہیں، اس دورے میں کافی معقول بات چیت کی جا رہی ہے جو مستقبل کو بہتر بنانے میں مدد کرے گی، ابھی اور ایسا لگتا ہے کہ دوسری سہولت تائی کنگ میں پہلے کی طرح نہیں ہوگی۔
 
یہ دورہ ایک اچھا قدم ہے، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کیا یہاں ایسے بھی لوگ تھے جو خوفزدہ ہو کر کچھ دیر سے دورہ نہیں کر پائے؟

یہ دورہ اس وقت بہت اچھا لگ رہا ہے جب تک کہ اس پر یہ بات غلط نہ کہی جائے کہ یہ اس وقت سے شروع نہیں ہوا، کیونکہ اس کو ابھی تو دوسری بار پہنچانے میں ہمارا کچھ عرصہ لگ گیا تھا۔

ایسے دورے سے تعلقات مضبوط بننے اور برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے کا کام ہوتا ہے، مگر اس پر یہ بات بھی دیکھنی چاہئے کہ یہ دورہ ایک ایسے نتیجے سے موافقت کرتا ہے جس کو ہم اپنے لوگوں میں اور خود کی حکومت میں بھی دیکھتے ہیں۔

اس دورے کی بڑی خبر یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی، ایسا کرکے عوام کی روایتی مصروفیت کو اور بھی پورا کر دیا گیا ہے، مگر اس کے بعد کیا ہوا؟
 
سڑک وے بھی اسی طرح بنائی جائیگی جیسے ایئر پورٹ پر؟ اس دورے سے متعلق یہ بات کیا کیوں نہیں بتائی گئی کہ ابوعہبی میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان انہوں نے کیا معاہدہ کیا ہے؟ اس دورے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ دو ملکوں کے درمیان تجارت و دفاع میں اضافہ ہو گا، لیکن اب پھر پاکستان کی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
 
یہ سب ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے؟ دو چار روزہ دورہ پر انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کی گئی ہے؟ لیکن اس پر یقین کیئے بھی؟ کیا انہوں نے یہ بات واضح کی ہے کہ ان اہم ملاقاتوں سے متعلق کتنے تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوئے؟ یا کیا یہ صرف خبر تھی?
 
اس دورے سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سبق سیکھنا اور ایک دوسرے کی ضروریات کو سمجھنا بہت اہم ہوتا ہے... 👥💡

جب کسی ملک یا معاشرے میں برادری کے احساس کو فروغ دیا جائے تو اس سے تعلقات مضبوط ہونے لگتے ہیں اور سبق سیکھنے کی یہ پھر ایک اچھا موقع ہے... 🤝
 
یہ دورہ بہت اچھا کامیاب رہا، اور اس سے دوسری جانب بھی ان کے استقبال میں بھی جوش شوق محسوس ہوا تھا۔ اب یہ بات تو یقینی ہے کہ دوسرے ملک کے ساتھ مل کر ہمیں کچھ اور بھی حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔
 
یہ دورہ بھی پہلے وہی۔ میرے لئے اس سے قبل وہ دورہ لاہور کا ناکام رہا، اور ابھی تو ہارون چلا کر گئے تھے، یہ بھی ایک بدولت دورہ ہوگا…
 
آج کل صدر کی یہ دورہ پاکستان میں بھی ایک اچھا سائنس ہوگا، ابھی تو وہ دوپہر ہی کئی تاکید دھارے سے اسٹیشن پر بیٹھے پھر ان کی آئندہ بڑی خبر سامنے اٹھی تھی، ایک چار روزہ دورہ جو اچھا ہوتا، دوسری جانب یو اے ای کے ساتھ دوسرے دوپہر کی ملاقات میں بھی اسٹیشن پر بیٹھنے والے ماہرین سے متاثر ہوئے، ابھی تو انہوں نے اپنی پہلی تاکید دی جس کا بھی فائدہ اٹھایا گیا، اس لیے یہ دورہ بھی اچھا ہوتا ہے
 
اب اس دورے کی پہلی طرف سے جاننے والی چوٹھی سے پچاس رونق میں کوئی نئی چیز نہیں آتی، یہ صرف دو ٹریکے کا ایک اور ایسا جو چلتا جارہا ہے، اس میں بھی کوئی نئی تحریر نہیں ہوتی جو لوگوں کے دل کو متاثر کرے؟ یہ صرف دو ملکوں کے درمیان کوئی نئی بات کیوں نہیں کھیلتی جس سے عوام کو متاثر کرے، اور اس پر اس وقت تک کوئی نئی بات کھیلنا بھی نہیں دیکھا جائے گا जबتاکہ وہ دو ملک اپنے معاملات میں یقین بھی لگائیں، 😐
 
یہ دورہ ہر حد تک متفق تھا تو ایسے سے نہیں، اس میں وہ معاملات شامل ہیں جو وہ چاہتے تھے اور انہوں نے بھی تو یہ کیا ہے۔ وہاں تک کہ ایسے معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں جو ان کو تو چاہتے تھے اور وہ بھی نہیں چاہتے تھے۔ یو ایم ایس کے ساتھ پاکستان کی تجارت پر بات چیت کر رہے ہیں تو انہوں نے وہ معاملات بھی شامل کیے جو ان کو آسان دکھائی دینا چاہتے تھے۔ اور یو ایم ایس کے ساتھ دفاعی تعاون پر بات چیت کر رہے ہیں تو وہ معاملات بھی شامل کیے جس سے انہیں فائدہ ہوسکے گا۔
 
بہت سے لوگ ایسے معاملات پر توجہ دیتے ہیں جو اس دورے کے بعد ہو گئے، لیکن میں سوچتا ہوں کہ ان تمام مناظر کو دیکھتے ہوئے بھارتی فلم industry ایسے سیریل بناتا ہے جیسے پاکستان میں، یہ واضح طور پر بتایا گیا کہ ان شادیوں میں نہیں پانی بھر رہا۔
 
ابوظہبی دورے سے متعلق بات چیت ہونے والی اہم موضوعات پر بھی توجہ دے کر نہیں ٹھہر سکتا کہ اس دورے کا مقصد پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے، لیکن ابھی تک کیا سراغ نکل پائے گا کہ دونوں ملکوں نے کیسے کام کرنے کی یہ تجارتی تعلقات پر بات چیت کی اور کیا فائدہ ہوا گئا؟
 
واپس
Top