صدر آصف علی زرداری نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کو نشان پاکستان سے نوازاہے. اسلام آباد میں ایوان صدر میں صدر مملکت کے دورے پر موجود قازقستان کے صدر کا استقبال ہوا، جہاں ان کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی.
دوسرے سے قبل دو صدارتیوں نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورت حال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان قازقستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے جو پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کی طرف بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے.
سندھ بھر کے سماجی حلقوں کے ساتھ بھی انھوں نے تعاون کو وسعت دینے پر اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا.
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور علاقائی خوش حالی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں.
ہمارے ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دوسرے سے قبل دو صدارتیوں نے باہمی تعاون کے فروغ، علاقائی روابط کے استحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا.
قازقستان کے صدر کو نشان پاکستان سے نوازا جانا بہت دلچسپ ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک معیاری خطہ ہے جو پوری دنیا کو اپنی چالیسی سوٹ سے کبھراوٹ دیتا ہے ، لیکن اس میں بھی کچھ حقیقت ہے۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعلقات زیادہ سے زیادہ باہمی اعتماد پر مبنی ہونے چاہئے، ایسے معاملات میں مشترکہ اقدار کی ضرورت ہوتی ہے جو اس حقیقت کو سمجھتی ہوں کہ ایک ملک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں زیادہ تر فائدہ پہنچتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاڈ اضافہ ہوا ہے، جو اس حقیقت کو سمجھتا ہوں کہ تجارت کی فائدہ سے پوری دنیا کو متاثر کرنا چاہئیے۔
عجائب گھر میں فلموں کو لگتا ہے کہ ایسا وقت آئیج۔ اب تو صدر آصف علی زرداری نے قازقستان کے صدر کو نشان پاکستان سے نوازا ہے اور پھر دو صدارتیں ملاقات کر رہی ہیں... یہ تو ایک بڑا فائڈ کیا جاسکتا ہے، لہٰذا مجھے یہ بات کافی خوشی دیتی ہے کہ دو ممالک اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں...
یہ بات تو واضح ہے کہ میرا خواہشا، پہلے سے ہی یہ سوچ رہا تھا کہ یہ دوصدارتیوں کی مل کر کی بات بہت اچھی ہوسکے گی۔ اب جب وہ بات reality میں آئی تو میرے لئے بہت خوشی کا وقت ہوا۔
مگر اس کو دیکھ کر پھر یہ سوچنے والا ہويا کہ ہمارے ممالک کی اہلیتیات پر یہ بات کبھی نہیں آئی تھی کہ پاکستان کو وہ کسی بھی ملک سے نشان دیکھنا چاہیے جو اس کی معیاروں سے اچھا ہو۔
مگر اب یہ بات تو یقینات سے ثابت ہوئی ہے کہ پاکستان اور قازقستان کی دوطرفہ تعلقات کچھ اچھے دکھائی نہیں دے رہی تھیں، لہٰذا یہ بات تو واضح ہے کہ اب یہ دوصدارتیوں کی مل کر کی بات اچھا موقع تھا۔
اس وقت سے میرے خیال میں وہ بات صاف آئی ہے کہ پاكستان کو بہت کام کو سادہ طریقوں سے کرنا ہو گا۔
یہ بات یقینات سے ثابت ہوئی ہے کہ میرے خیال میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو بہت اچھا موقع ملا ہوا ہے جو اس وقت تک نہیں آئا تھا۔
یہ بات نہیں کہ آصف علی زرداری کو کچھ بھی کرنا ہو گیا ہے، وہ ایسا بھی کرتا رہے گا جو آپ کی ضرورت ہو ۔ انھوں نے قازقستان کے صدر سے نوازہے تو یہ بھی کچھ حقیقی بات ہے، دوسری طرف کچھ لوگ اس کی بات نہیں کرنا چاہتے گے۔
لگتا ہے انھوں نے اسی لیے ملاقات کی تھی کہ وہ قازقستان کو دیکھ کر کچھ حقیقی باتوں سے آشنا ہو سکے گا، ایک نئی تعلیم کی صrf میں وہ اپنے ملازمین کو بھی لائے گا، جو آپ کی ضرورت ہو تو اس کے لیے بھی وہ کچھ کررہے ہیں۔
یہ بات تو یقیناً بھی رہی ہوگی کہ قازقستان میں ایسے معاملات سے نا آنکھیں رہتی ہیں جو ہمارے دور کو تو گھلنا چاہیں گی... اور اب وہ پاکستان کے صدر کے پاس یہ اعزاز دی گئی ہوگی جو اس بات کو نہیں سکوت کر سکتی ہوگی کہ یہ معاملات کی جہت سے انھیں بہت زیادہ لाभ ہوسکتا ہے... اور اب قازقستان میں لوگ اس اعزاز پر خوش ہو رہے ہیں جو اچھا سے سوچ کر نہیں لیے...
اسلام آباد میں ایوان صدر کی تقریب میں قازقستان کے صدر کو نشان پاکستان سے نوازا گئا، اور یہ بات بھی بتائی گئی کہ ان्हوں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورت حال اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے... لکھدے ہوئے بھی یہی بات ہوتی ہے...
ابھی ہی پچاس میں قازقستان کے صدر کو نوازا گیا تھا اور ابھی واپس آئے تو اسی طرح کی تقریب ہوئی... یہ ایک ایسا سڑک کی پلیٹ ہے جس پر نہ صرف قازقستان کے صدر کو نوازا گیا ہے بلکہ انھوں نے بھی ایک اور توازن کو مینو کیا ہے...
میں سوچتا ہoon کہ یہ ایک ایسا مشن ہے جو انھوں نے بنایا ہے جس کی کامیابی کے لیے انھیں 1000 توازن کرنا پڑیں گے...