اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جو کل جمعرات کو خیبرپختونخوا ہاؤس میں شام 5 بجے ہو گا۔ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر تنظیمی عہدیداران کو بھی اسی اجلاس میں شامل کر لیا گیا ہے، جس میں مشاورت 8 فروری سے شروع کی جائے گی اور انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
اجلاس کے دوران بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی اور ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس اجلاس سے پتہ چلے گا کہ پی ٹی آئی نے ہوںگ کونگریس اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکنیت پر معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔
اس میں بھی تھوڑا حقیقت سے نمٹنہ ہوا ہے، اس میں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایسا ایک اور موقع اپنی منافرتوں کو دھلنے کے لئے فہم کھینچنے والی ہے، اس میں ان کی رہائی سے پتہ نکلے گا اور ان کے خلاف ساتھ مل کر آئے ہوئے لوگ بہت مایوس ہوں گے…
منہوں میں گھومنا شروع ہوا ہے انساف کے ایجنڈے کے بارے میں، اب تھیٹر سے ایک دوسرے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، ہنگامی اجلاس کے حوالے سے لوگ ایسی پریشان ہو کر گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں جیسے کوئی ماحولیاتی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں پچتاؤ اور تشویش سے خالی ہو کر ایک نئی جگہ پر قدم رہنے کی کوشش کر رہے ہیں
اجلاس کو دیکھتے ہوئے یہ بات نہیں چل سکتی کہ اس میں انٹرنیٹ سے ناخواست ہونے والا کوئی بھی اثر نہیں دیکھنا ہو گا، لوگ ایسے کھیل رہے ہیں جیسے انہیں ناکام سمجھا جائے تو ہی یہ کام کر پائیں گے، سب کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے میں ہی ان میں کوئی بھی واضح نہیں دکھائیں گا
اسے لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ اجلاس ان کی پارٹی میں تھوڑی سا بدلاؤ لای گا، ایسے میں ان کے سیاسی معاملات میں کمی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے بعد یہ چاہنے کی بات ہو گی کہ وہ ملک کیسی گئے رہیں، اس میں وہ اچھائی یا غلطی ہے۔ 8 فروری سے شروع ہونے والی مشاورت کو دیکھتے ہوئے بہت کچھ بات چیت ہوسکتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اچھے تौर پر انفرادی طور پر اس کے اراکین کے لیے ایک بڑا موقع ملا ہے! انہوں نے اپنے سیاسی معاشی منظر نامے میں کوئی تبدیلی کیا ہے؟ اور جب اس پر پرسکینے گے تو انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ یہ بتائیں گے کہ انہوں نے کیا فیصلہ لیا ہے؟ ہوگی اتنے میٹھے دilon کی بات کر رہی ہو!
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا اس اجلاس تو اچھا بات ہوگا، کیونکہ انہیں اپنی رہائی کے حوالے سے بھی بات کرنی چاہیں گی، لیکن یہ دیکھنا نہیں تھا کہ انہیں کتنی چوڑی چوڑی مہلت دی جائے گी। اور کیبھی بھی ایسا ہونا بھی پریشانی کی بات نہیں ہے، لیکن یہ سب کچھ 8 فروری سے شروع ہونے والی مشاورت کے تحت آگئا ہے، جس میں وہ سب جانتے ہوں گے کہ ان کی رہائی کب ہوگی اور کتنی دیر بھی اس کے لیے اٹھنی ہوگی।
انجینئرنگ میں ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب ایک چکر ہوگا، پہلے پی ٹی آئی نے ایسے فیصلے کیے جو اب تک نہیں سچے ہوئے اور اب وہ اسے چھوڑنا ہوگا، اور یہ سب ایک دھارہ میں آ رہا ہے جس میڹلے کچھ بات ہونے والی ہوگی لیکن اس کے بعد وہ فیصلے لگائیں گی جو اب تک نہیں سچے تھے اور اب وہ اسے چھوڑنا ہوگا، یہ سب ایک کھیل ہے جس میں سب کچھ ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے اور یہ صرف وہ سمجھیں گے جیسے اس میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، لیکن اب یہ سب ایک دھارہ میں آ رہا ہے اور یہ سب کچھ ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔
اس باری میں پی ٹی آئی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، اور ایسے میں تو نہیں کہ وہ لوگ اپنی موٹر سیڈر سے بھاگ جائیں! اب سے اچھا کوئی بات نہیں ہوگی، اس میں صرف پکڑوں اور چوریاں ہوں گی! کیونکہ ان کے اراکین نے ایسی باتیں لگائیں جو ابھی تو نہیں ہوئیں، اور اب وہ لوگ یہ بات کیسے بولیں گے کہ وہ ایسا انصاف کرتے ہیں جو وہ نہیں کر سکتے؟
بھائی، یہ اعلان پتہ چلتا ہے کہ جب تک پی ٹی آئی میں بانی کی رہائی کے بارے میں کوئی یقین نہیں تھا تو اب اسے سرانجام دیا گیا ہوگا۔ لاکھ لاکھ لوگوں کے لیے یہ ایک اہم بات ہے، لیکن میں سوچتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ یہ ہنگامی اجلاس کتنے مہینوں سے چھپ رہا تھا؟ اور اس کے بعد کیا پلان کیا گیا تھا؟ میں یقین نہیں کرتا کہ بانی کی رہائی کو ایسے ہنگامی اجلاس سے جوڑنا معقول ہے۔
اس اجلاس میں پی ٹی آئی نے اپنا منظر نامہ بدل لیا ہے، اب وہ ہوںگ کی پارٹی سے رکنیت پر معاف کرنے کے بارے میں بات کرنے والے ہیں؟ اب وہ ہوںگ کو چھڑک کر آ رہے ہیں، تو اس سے پتہ چلے گا کہ پی ٹی آئی کا باقی منظر نامہ kitna sahi hai?
آج سے 8 فروری سے مشاورت شروع کی جائیگی، تو اسے dekھنا ایک انتریسٹنگ بات ہوگا. اس اجلاس میں کیا پی ٹی آئی نے اپنی رائے بدل لی ہے؟ یا یہ سिरف ایک درمیانی مرحلے کی بات ہے?
اساجلاس پر جاری رہو گا تو کیا اس میں انٹرنیشنل بھی شامل ہوگا? ہاں تو وہ ایک اور انتریسٹنگ بات ہوگی!
اس ماحول میں پائے جانے والے اقدامات پر مجھے اپنی نظروں سے گھورنا چاہیے। پی ٹی آئی کے اہم اجلاس کے بعد یہ سوچنے لگا کہ نئی سیاسی صورتحال کیسے دیکھی جائے گی? میں اس بات کو بھی محفوظ طور پر تصور کر سکتا ہوں کہ اس اہم اجلاس کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے ایسے رشتے بھی ختم کر دیے ہوں گے جو اب تک پائے جانے والے اقدامات سے ظاہر ہوئے ہیں۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے ایک بڑا اجلاس منانے والا ہے اور اس پر ان کی رہائی کے بارے میں بات کرنے کی یہ مہم سب سے اچھی ہوگی
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کی بانی کو رہائی دی جائے گی اور اس کے بعد ملک کے سیاسی صورت حال پر بات چیت ہوگी। ان تمام باتوں پر ایک واضھا فیصلہ لگنا مشکل ہوگا اور اس سے قبل ان کے رشتے دوسرے پارٹیوں سے ٹھیک نہیں ہوگے۔
اللہ تعالیٰ، یہ ایک گھنڈا موڑ ہو گیا ہے! انصاف کی ناواقفیت کو دیکھتے ہوئے کیا کرتے ہیں؟ پھر اور 8 فروری سے مشاورت شروع کرنے کا یہ عجیب کامیاب طریقہ بھی کیا ہے!
اسلام آباد میں انصاف کی نوجوانوں کو جگا دی جا سکتی ہے، وہ اس اجلاس میں شامل ہونے کے بجائے سڑکوں پر نیچے دھانٹی رہنے کی اہل ہوں گے!
اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا ایسا منظر نہیں پیش ہونا چاہیے، اس پر بھرپور مشاورت کرنی چاہیے!
اس ویز لگنی بھی تو حقیقی میں ہوگی ایک ساتھ، پی ٹی آئی کو اچھا لگ رہا ہا، اور ان کے اراکین کو اچھا لگتا ہا کہ وہ ملک میں کام کر رہے ہن، اب وہ یہ ایک ساتھ ہونگی تو وہ کمزور نہیں ہو گئے اور ملک کو بہتر بنانے کا کام کر پائیں گی
اس ماحول میں انڈپینڈنس اور جماعتی دھلے کے درمیان واضح اختلافات کی صورت حال کا ایک لامبی جارحہ ہوا چکی ہے۔ پی ٹی آئی نے اس سلسلے میں کوئی جانب بھی نہیں دیکھی، اور اب ان کا ایک ممتاز اراکین کے لیے یہ اعلان ہو رہا ہے کہ ان کی جلاوطنی کے بارے میں بات چیت کا کامیاب منصوبہ بندی کیا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلے گا کہ پی ٹی آئی نے ہوںگ کونگریس اور پی ایس ال (ن) کی رکنیت پر معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیڹی؟
اس اجلاس میں جو ایسی بڑی تحریر کی جائے گی وہ پچھلے دنوں سے بتا دیا جا رہا ہے، لیکن اس میں کچھ ایسی باتوں پر تبادلہ خیال نہیں ہوا جو لوگ چاہتے تھے مثلا انصاف کی سیاسی پالیس کو بھی اس اجلاس میں شامل کرنا چاہیے۔
اس اجلاس سے بھی پتہ چلے گا کہ پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہوگا اور انہیں ملک میں سیاسی ماحول کی تبدیلی کو کیسے سامنے لائے گی؟ پی ٹی آئی نے ہوںگ کونگریس اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکنیت پر معاف کرنے سے ان کا پچھلا سیاسی راز کیا جائے گا یا نہیں؟
اجلاس میں شام 5 بجے کی بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے، لेकن اس کے باوجود پی ٹی آئی سے ملنے والی باتوں کو سمجھنے میں کام نہیں آئے گا۔
اجلاس کی وجہ سے ملک بھر میں Political tension badh jayega, to unka impact kya hoga?
بھائی تمہیں پتہ چل گا کہ ایسا کئی دنوں سے ہے، پی ٹی آئی نے ہونگ کو رکنیت کی منعقدگی پر معاف کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے… اور یہ کام بھی اچھا ہوگا…
میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی یہ رہائی ہونگی، لاکین ایسا نہیں محسوس کررہا… اور ملکی سیاسی صورتحال کو دور کرنے کے لیے اس اجلاس سے کیا کھڑھبوتایا جائے گا وہ دیکھنا چاہیں گے…
کیوں نہیں؟ پی ٹی آئی کی بانی رہائی سے کیا نتیجہ نکلا… اور اس اجلاس میں ہونگ کی رکنیت پر بات کرنے کی کوشش کروائی گئی تو اس کا کیا فائدہ…؟
اس نئے اجلاس سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی میں کون کو بھی ہوںگ کی رکنیت ملنے سے انکار کر دیا جائے گا، یہ تو بات اچھی ہے بلکہ اس کے بعد کیا نکلتا ہے؟ ہنگامی اجلاس میں اور بھی کام کیوں کرنے پڑتے ہیں؟ ہم نے دیکھا ہے کہ اسٹریٹجی نہیں بنائی، کچھ کام تو کرنا چاہئے…
وہاں بھی پریشانی ہے، اس اجلاس کو ہنگامی اور ضروری قرار دیا گیا ہے تاہم میرے لئے یہ سوال ہے کہ ان سارے اعلیٰ عہدین کی ایک ہی چھڑچھڑ میں بھرنا کیسے؟ اس میں واضح نہیں تھا کہ اس اجلاس کے لئے کتنے اراکین شامل کیا جائیں گے، اور ان سب کو کون نہیں بھیڑا دیا گیا ہے؟
اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس اجلاس میں پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی، لیکن یہ سوال ہے کہ ان ساروں افراد کو ذمہ داریاں کیسے سونپی جائیں گی؟ میرا خیال ہے کہ یہ اجلاس صرف ایک چھپے حلقے کی کارروائی ہو گی، اور اس پر بھی کچھ نئی معلومات نہیں ملے گی۔
اس اجلاس کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی رہائی پر یہاں زیادہ دباؤ تھا! اب پٹھار نے بھی اپنی جگہ پر بیٹھنا ہے اور اب تو دیکھنے کے لیے ہی تھا کہ ان پر یہ معاف کرنے کی دباؤ کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے؟ یہ رہائی کے بعد تو کسی نہ کسی صورت میں آئندہ انتخابات میں ابھرنا مشکل ہو گا، اس لیے ایسے حالات میں ایک اچھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے!