punjab 4 days weekend notification | Express News

کہکشاں

Well-known member
وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور اور پنجاب کے عوام کو 7 فروری کو لبرٹی چوک میں بسنت کا تقریب منانے کی دعوت دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہتے ہوئے تھے کہ شہریوں کو پنجاب میں طویل ہفتہ وار چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا، جس میں 5 فروری کو یوم کشمیر، 6 فروری کو صوبائی سطح پر بسنت کی چھٹی، اس کے بعد اتوار کی چھٹی اور ہفتہ کے بچے شامل ہیں۔

حکومت پنجاب نے 4 روزوں چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے مطابق 5 فروری سے 8 فروری تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

یوم کشمیر کی مناائی کو لاکھوں کھینچنے والی یہ چھٹی صوبے بھر میں عام تعطیل ہوگی۔ ان میں لکھوں سے لیکھوں تھلگ اور لاکھوں نے تقریبات کی پیش کش کی۔

صوبائی سطح پر بسنت کا چھٹی دن 6 فروری کو منایا جائے گا اور ان میں تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور اتوار چھٹی بھی ہوگی۔

حکومت پنجاب نے اس عرصے میں سب سے طویل چھٹیوں کا اعلان کیا ہے، جس میں پنجاب کے تعلیمی ادارے 5 فروری سے 8 فروری تک بند رہیں گے۔

جس طرح 5 فروری کو یوم کشمیر منایا گیا، 6 فروری کو صوبائی سطح پر بسنت کی چھٹی اور اتوار چھٹی ہوگی، اس طرح 9 فروری سے تعلیمی ادارے کھل جائے گئے۔
 
سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ کی ایک بار پھر نئی چھٹی کا اعلان تو لگتا ہے کہ وہ لوگوں کو خوش کرنا چاہتی ہیں... لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس چھٹی کی کافی پوری توقع کی گئی ہے، جس سے تعلیمی ادارے بھر میں اچھا مظاہرہ کر رہے ہیں.

کئی سالوں کے بعد پنجاب میں ایسے طویل چھٹیوں کی گئی ہیں، جس سے لوگوں کو خوشی ہوگی... لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس دوران زیادہ تر ادارے بند رہنے چاہیے، نا کہ ان میں لوگ کام کر رہوں.

یہ چھٹی کو منانے کے لیے لوگوں کے لئے ایک ایسا موقع ملے گا جس پر وہ اپنے اچھے ساتھ ایک باورتی بات کرتے ہیں.
 
🤔 یہ بات کتنی عجیب نہیں کہ پھر ایک دفعہ بھی 7 فروری کو لبرٹی چوک پر بسنت کی تقریب منائی جائے گی اور پنجاب کے عوام کو یہ چھٹی دی جائے گی؟ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شہریوں کو اس میں لطف اندوز ہونے کا موقع مل رہا ہے، بلکہ یہ ایسا لگتا ہے جیسے انہیں یہ چھٹی دی جانے سے پہلے ہی اس کی خوشی کا انتظار کیا جا رہا ہے…!
 
یہ چھٹیاں واضح طور پر ایک میڈیا فیکس تھی، پنجاب کی صوبائی سطح پر طویل چھٹیوں کی پیش کش تو ہوئی لیکن کچھ سے قبل یہی تھی۔ ابھی لاکھوں نے تقریبات میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے اور اب یہ بات واضح ہے کہ یہ ایک فیکس تھا، سب کو طویل چھٹیوں کی پیش کش پر بے پرواہ رہنا پڑا ہے۔

لاکھوں نے لکھوں سے لیکھوں تھلگ اور تیزابہ تیزابہ تقریبات کی پیش کشی کیا ہے، ابھی یہ بات کبھی نہیں سننے دوگے کہ کس قسم کی چھٹیوں کو منانے جا رہے ہیں اور اس میں کتنے دن ہیں۔

ایک میڈیا فیکس نے صوبہ پنجاب کو طویل چھٹیوں کی پیش کش دی اور ابھی لاکھوں نے یہی پر رک گئے ہیں۔
 
ایک ایسا موقع ملا تھا جب وزیراعلیٰ نے لبرٹی چوک میں ایک تقریب منانے کی دعوت دی، لیکن ہمیں یہ دیکھنا پڑا کہ انہوں نے تقریبات کی پیش کش بھی کر دی تھیں جو صحت مند نہیں تھیں۔

چلو فون ایپس پر یہ بات دیکھو، کوئی ہمیشہ انہی تقریبات میں شرکت کرنے کی پیشکش سے بچتا رہتا ہے یا پھر وہ اپنی فون کپٹر کے ذریعے ایک نئا فون دیکھتا ہو، جس میں انہی تقریبات کی پیشکش نہیں ہوتی۔

اس لائن سے بڑی بات یہ ہے کہ 7 فروری کو لاہور اور پنجاب کے عوام کو 4 روزوں چھٹیوں کی دعوت دی گئی ہے، لیکن کیا ان میں صحت مند تفریح شامل ہوگا؟
 
ਮੈں سوچتا ہوں کہ یہ چھٹی واضع طریقے سے منائی گئی، ایک ساتھ لاکھوں لوگ ان میں حصہ لیں گے، ابھی تاھان آفرنے والا ایسے ہے جو کسی بھی فلم کے اور نہیں ہوتا۔
 
بلاشے … ان چھٹیوں میں بھی کوئی ناچنہ بات نہیں ہونی چاہیے… ان میں بھی عوام کی رہنمائی کی جائے چاہیے …
 
اس عرصے میں پنجاب کو سب سے طویل چھٹی ملانی بہت بڑا مزاحمت ہے، اس پر ایک دوسرے نے توجہ دی اور اب یہ چھٹی لاکھوں لوگوں کو مل گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یوم کشمیر کا ماحول بھی اچھا ہوا ہے، اب تلاصلی چھٹیوں کا موقع نہیں آئے گا۔
 
واپس
Top