Putin on pak russia relation | Express News

مچھر

Well-known member
پاکستان روس تعلقات کو خوشی انداز قرار دیا ہے جس میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پہلی بار سفیر فیصل ترابی کی سند پیش کرنے کے موقع پر اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک دوسرے کے لیے حقیقی معنوں میں مفید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس پاکستان سے قریبی تعاون جاری رکھے گا، شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے اور یہ خطے کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ دنیا میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے، اس لیے مقیم پاکستانی برادری سے رابطوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پاکستان کے ساتھ روس کے تعلقات میں بھرپور ترقی آئی ہے جو اس وقت تیزی سے جاری ہے۔

روس نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، آج کی متنوع اور باہم مربوط دنیا میں عالمی استحکام اور سلامتی کا براہِ راست انحصار ریاستوں کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ کس حد تک تعمیری انداز میں باہمی تعامل کر سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شفاف اور دیانت پر مبنی شراکت دارانہ تعلقات مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے درکار سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، امن خود بخود قائم نہیں ہوتا بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر استوار کرنا پڑتا ہے اور یہ ایک نہایت محنت طلب عمل ہے، ہمیں امن کے حصول کے لیے مسلسل کوشش، ذمہ داری کا احساس اور شعوری فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
 
یے تو روس کو پاکستان سے بڑی محبت ہو گئی ہے، انھوں نے پہلی بار فائز ترابی کا سفیر بننے کا اعلان کیا جس کی واضح توجہ ہے۔ لیکن یہ بات بھی سوچنی چاہئیے کہ روس کا پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کتنے ہدف ہیں اور انھوں نے کیا وعدہ کیya ہے؟ کہتے ہیں کہ روس پاکستان سے قریبی تعاون جاری رکھے گا، لیکن میں سوچتا ہوں کہ یہ بھی تنگائی نہیں رہیگی اور انھوں نے اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہئیے یا یہ تو حقیقی محبت ہے؟
 
یہ ریکارڈ پلیز... روس نے پاکستان کو سفیر بھیج دیا تو یہ خुशی ہی ہوگی ؟ لیکن جبھی اس سے ملنے والی بات یہ آئی کہ دونوں ممالک کے تعلقات فائدہ داری کی بات ہے تو پھر میں سوچتا ہوں کہ کیے گئے تمام اقدامات کا مقصد کتنے فائدوں سے حاصل ہونگے ?
 
یہ بات بھی نازک لگتی ہے جب روس کی جانب سے پاکستان سے تعلقات میں اضافہ ہوا ہے، پچاس اور سولہ وین آف کونڈریشن کے بعد بھی! یہ بات ہی نہیں بلکہ اس وقت کا موقع بھی ہے جب دنیا میں تینوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے، پوری دنیا ایک ایک اور کھل کر باہم بات کرتے ہیں۔
 
بھی بھینٹ پکھوں والوں کو اس بات کی خوشی ہوجائے یہ نا ہی کہ روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات ایسی سے بڑھ رہے ہیں جیسے چلے گئے تھے! پہلی بار فاسیل ترابی کی سفارت کا موقع روس نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک میں تعلقات ایک دوسرے لیے حقیقی معنوں میں مفید ہیں... آج یہ بات واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے!
روسی صدر کی بات سچ ہے کہ دنیا میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے، لیکن یہ سچ نہیں کہ مقیم پاکستانی برادری کے رابطوں کو ترجیح دی جا رہی ہے! پتہ چلتا ہے کہ اس بات پر بھی زور دیا جارہا ہے کہ بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، لیکن یہ سچ نہیں کہ امن خود بخود قائم نہیں ہوتا بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر استوار کرنا پڑتا ہے!
بھرپور ترقی کی بات بھی سچ ہو رہی ہے اور یہ جاری ہو رہا ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات بڑھتے جا رہے ہیں...
 
پاکستان روس کی تعلقات میں انھوں نے ایک دلچس्प بیانیہ پیش کیا ہے! لگتا ہے انھوں نے دوسری جانب سے بھی کوئی بات کی ہے... شنگھائی تعاون تنظیم کی بھرپور اچھائی کو یقیناً بھی اپنی جانب سے رکھتے ہیں! روس نے کہا کہ دنیا میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے، یہ بات صاف ہے... اور پاکستان کی مقیم برادری سے رابطوں کو ترجیح دی جا رہی ہے!

جیتے ہوئے بھرپور تعاون کا یہ بھی ایک قابل ذکر پہلو ہے... پاکستان روس کی تعلقات میں تیزی سے ترقی آئی ہے! اس وقت کو یقیناً انھوں نے دوسری جانب کے مواقع کا بھی فائدہ اٹھایا ہوگا...
 
روسی صدر کے بیان سے تھوڑی زردوبشتی آ رہی ہے جیسا وہ پچھلی دہائی میں بھی کیا کرتا تھا۔ اب روس نے Pakistan سے اپنا تعلقات بڑھانے کی ایک نئی کوشش شروع کی ہے، اور یہ ایک نئے دور میں پہلا قدم ہے۔

کیا آپ نے Pakistan کی دوسری سے پہلی فوجی حکومت پر بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی نے کیا تباہی کشمीर میں تھی? 1990ء کے بعد اسے تھوڑا زور دیا گیا اور اس طرح سے کہا گیا تھا کہ روس پاکستان کی مدد کرتا ہے، لیکن یہ واقعتا کیا ہوا؟
 
روس پرتی ترابی کی سند دینے کا یہ واقعہ تو بھی میرے لئے ایک اہم قدم ہے، وہ سب سے زیادہ محبوب صدر ہیں جو کسی بھی صورت میں ان کی طرف ہمیشہ مائل رہوں گے! یہ تعلقات پختے خیال کا تعلق ہوگا، روس اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کے لیے بہت حقیقی معاشرتی تعلقات بنائें گے! 🙌Russia and Pakistan relations are a great thing, I'm so happy to see Russian President Vladimir Putin presenting Pakistani diplomat Pyotr Trubkin with the diplomatic credential for the first time. He said that the relations between Russia and Pakistan are a true partnership in every sense of the word.
 
منفی فیکٹس کیو؟ روس پکستان سے تو اچھی طرح مل رہا ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ یہ شگفتگی بھی چلتی جائے گی؟ اس نے 90 کی دہائی سے پکستان کے ساتھ تو تعلقات تھے لیکن ابھی تک وہاں نا ہونے والی سرگرمیوں پر اچھی طرح لگت ہی پڑتی ہے۔
 
روسی صدر نے پہلی بار سفیر فریسٹی کو بڑھے ہوئے ہاتھ سے منہمایا تو اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک دوسرے لیے حقیقی معنوں میں مفید ہیں… لگتا ہے انہوں نے یہ بات صرف ایک چٹان پر رکھی ہے کہ دوسرے ممالک سے بھی اسی طرح تعلقات بنائے جا سکتے ہیں۔
 
روس کو پاکستان کی طرف سے بھی ایسی ہی خوشگوار لہر میں لاپتہ ہونا تو قابل نیند نہیں ہے، وہ اس بات پر توجہ دی جائے کہ پچاس سالوں سے پاکستان روس کی طرف سے بھی ایسی اچھی پہچان دی جاتی رہی ہے، لیکن اب تک اس پر کوئی عملی کارروائی نہیں ہوئی ، پہلی بار اس سند کی پیش کش بھی تو کیا لازمی نہیں تھی؟
 
بہت سی نئی تحریکوں کو آگے بڑھانے کے لیے روس سے تعلقات میں تیزی سے ترقی آ رہی ہے، لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور روس کی یہ تعلقات اب تک کچھ نئی ترقیوں کے بعد بھی اس معاملے میں قیمتی ہیں جب کہ مختلف شعبوں میں روس سے تعاون بڑھ رہا ہے تو اس کے برعکس نئی ترقیوں کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر آگے بڑھنے کی تیز دریافت اور زیادہ ترقیات کے لیے فائدہ مند ثابت ہونا چاہیے۔
 
ایسے تو روس کی ایک نئی سفیر پہلے سے ہو، لیکن فائسال ترابی کا یہ موقع تو بہت اچھا ہے کہ انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک دوسرے کے لیے حقیقی معنوں میں مفید ہیں... یہ بھی اچھا ہے کہ روس نے کہا ہے کہ دنیا میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے، لیکن یہ بات بھی بتائی جا سکتی ہے کہ روس کی پہلی سفیر کو سند دکھانے سے پہلے انھوں نے کتنی بھرپور صلاحیتوں کا Showcase دیا تھا...
 
عمر، یہ بہت اچھی بات ہے روس اور پاکستان کے تعلقات میں تازگی آ رہی ہے... Russia کے صدر نےPakistan سے تعاون کو تیز کرنے کی یہ وعدہ دیا ہے... لیکن یہ بات کبھی نہیں سنی ہوگئی کہ اس تعاون میں پاکستانیوں کے حقوق اور احتجاج کو کس طرح شامل کیا جائے گا...
 
اس وقت روس سے پاکستان کے تعلقات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کچھ نئے معاملات پیدا ہونے کا امکان بڑھتا جارہا ہے 🤔

لیکن یہ بات بھی یقین بنانے کی تاخیر نہیں ہے کہ روس اور پاکستان کے تعلقات کچھ وقت پہلے بھی شروع ہوئے تھے، ایک دوسرے کے لیے حقیقی معنوں میں مفید ہونے لگے تھے اور اب یہی حال ہے 🙏

اس سے پہلے بھی روس نے پاکستان سے قریبی تعاون جاری رکھا تھا، وہ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن تھا اور اب یہ خطے کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے 🌎

لیکن یہ بات یقین بنانے کی تاخیر نہیں ہے کہ روس اور پاکستان کے تعلقات میں اب بھرپور ترقی آئی ہے جو اس وقت تیزی سے جاری ہے، اور یہ تو یقین بنانے کی ضرورت نہیں کہ بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے 🌟
 
پاکستان روس تعلقات میں بھی بڑی ترقی دیکھی جاسکتی ہے، یہ نئے دور کا دور ہو رہا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خوشگوار اور سہیرو سہارو ہوجانے کی طرف تھام رہے ہیں 🤝

لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ کس حد تک ان تعلقات کی ترجیح دی جا سکتی ہے، اس پر پوری دنیا میں مشاورت کی ضرورت ہو گی۔

روسی صدر نے اپنےWords سونے چکے ہیں کہ امن خود بخود قائم نہیں ہوتا، اسے روزانہ کی بنیاد پر استوار کرنا پڑتا ہے... یہ بات پوری دنیا کو محسوس کرائی دے گی 🌎
 
یہ بات چیت کا جوڑا پاکستان روس سے تو تھوڑی اچھی ہے، لیکن میری نظر میں یہ بھی ایک پہلا قدم ہوگا جس کے بعد چلنے والے پالیسی اسٹریٹجیز کو دیکھنا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے قریبی تعاون جاری رکھے گا، لیکن یہ کہنے میں بھی اچھا ہے کہ وہ اپنی فوج کے نئےKommandos کو شنگائی تعاون تنظیم کے ممبران کے ساتھ تربیت دی رہے ہیں، یہ تو ایک جھگڑا ہوگا اور دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ روس کی پالیسیس کیا چلنے گئیں۔
 
روس کی یہ وکالت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ایسی خوشی انداز ہے جیسا نہیں ہو رہا تھا۔ صدر پیٹن نے کہا ہے کہ یہ تعلقات حقیقی معنوں میں مفید ہیں اور روس پاکستان سے قریبی تعاون جاری رکھے گا، اس کی ٹیم نے بھی بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکن ہیں اور یہ خطے کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے!

انہوں نے عالمی استحکام اور سلامتی کے بارے میں بات کی، انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، مگر یہ بھی بات ہے کہ امن خود بخود قائم نہیں ہوتا بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر استوار کرنا پڑتا ہے!
 
اس روس و پاکستان کے تعلقات کو دیکھتے تو میں خوش ہوں، یہ سب سے بہتر بات ہے … چاہے وہ اچھی یا بری ہو، پھر بھی اس کو جاننا کافی مفید ہوتا ہے۔ اب یہ بتاتے ہیں کہ وہ کیسے کام کر رہے ہیں، یہ بھی ایکGood sign ہے … اس سے دو طرفہ تعلقات میں ترقی ہو رہی ہے۔ لیکن پچیس برس تک نا کامیابیوں کے بعد اس میں بھی کمی کیا جا سکتی ہے؟ اور اب جب وہ یہ بات کرتے ہیں کہ امن خود بخود قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کی کوئی بنیاد رکھنی پڑتی ہے تو یہ تو serious topic ہے …
 
واپس
Top