اس وقت انسانیت کو قیامت سے صرف کچھ لمحات کی دوری پر پہنچایا گیا ہے، جوہری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اب انصاف اور انسانی جانوں کے حرمت سے گزر رہی ہے جس کی وجہ سے انسانیت قیامت کے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔
انسانیت کو ایک ایسا موڑ دیکھنا پڑ رہا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو کر تھی لیکن اس کو پہنچانے والے لوگ انصاف اور انسانی جانوں کے حرمت نہیں سمجھ رہے۔
سولہ سالوں میں ڈومز ڈے کلاک کو ایک سے دوسرے اسٹیپ بڑھایا جاسکتا تھا تاہم یہ نہیں کہا گیا کہ یہ کیسے آئے گا۔
غیر منافع بخش ادارہ Bulletin of the Atomic Scientists کے مطابق سال 2026 کے لیے ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات سے محض 85 سیکنڈ پہلے پر سیٹ کر دیا گیا ہے جس سے عالمی تباہی کی انتہائی خطرناک سطح ظاہر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جوہری جنگ، اسلحہ کی نئی دوڑ اور خلا میں عسکری منصوبے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لے آ رہے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق مزید تباہ کن جوہری ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں اور عالمی طاقتیں ایک بار پھر خطرناک مقابلے میں الجھ چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس اور امریکا کے درمیان اسلحہ سازی سے متعلق معاہدے ختم ہو گئے تو دونوں ممالک کھل کر جوہری ہتھیار جمع کرنا شروع کر دیں گے جو پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی رہنماؤں نے فوری اور سنجیدہ فیصلے نہ کیے تو ڈومز ڈے کلاک کی سوئیاں آدھی رات پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکے گااور پھر قیامت محض ایک استعارہ نہیں رہے گی۔
اس وقت دنیا کا یہ موڑ ہمیشہ سے آ رہا ہے اور حال ہی میں اس پر ایک آدھی رات سے 85 سیکنڈ پہلے کلاک ٹال دیا گیا ہے! اس سے ہم کو یقین ہوتا ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی یہ محض ایک استعارہ یا گیم نہیں سمجھا ہے!
ماہرین کی بات سے مل کر ہمیں اس وقت پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں جوہری جنگ اور عسکری منصوبوں کے معاملے میں تباہی کی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے اور اس سے humans کے لیے واپسی مشکل ہو رہی ہے!
میں بھی سوچتا ہوں کہ یہ ایک نواں دور ہے جس میں humans کو ایک اور منصوبے سے گزرنا پڑے گا اور اس لیے ہم اپنے leaders سے بھی معاونت کے لئے مطالبہ کریں گے!
اس وقت انسانی تعقل کے بغیر ہی جہل ہوئے ہمیشہ سے واپس آنا مشکل ہو گیا ہے ، یہ جاننا کہہ دیکھ رہے ہیں کہ انسانیت قیامت کے موڑ پر پہنچ گئی ہے، ڈومز ڈے کلاک کو ایک سے دوسرے اسٹیپ بڑھا کر لائے جاسکتے تھے تاہم نہیں کہا گیا کہ یہ کیسے ہوا گا۔
ماہرین کے مطابق سال 2026 میں ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات سے محض 85 سیکنڈ پہلے پر سیٹ کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی تباہی کی انتہائی خطرناک سطح ظاہر ہوتی ہے، دنیا کو ایک ایسا موڑ پر لے آ رہے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو کر تھی۔
[ diagram of a clock with a red warning light on ]
اس وقت جھوٹی فلموں پر مشتمل ہے جو کہا کرتے ہیں کہ یہ دنیا ایک اچھی چीज ہے لیکن وہی فیلسفیں جو کہیں بیٹھ کر کہتے ہیں اس کی نیند نہیں پاتی اور وہ اپنی توجہ ایک سے زیادہ جگہوں پر فśرتی ہیں۔
[ diagram of a person with multiple heads ]
مختلف ممالک کھل کر جوہری ہتھیار جمع کر رہے ہیں اور دنیا کو تباہ کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
[ diagram of a person with a thought bubble and a red flag ]
اس لیے ہم نے اپنی توجہ ایک سے زیادہ جگہوں پر فśرنا چاہیے جس سے اسے روکنے میں مدد مل سکے اور دنیا کو ایسے موڑ پر لے آئے جو سے واپسی مشکل نہ ہو۔
[ diagram of a person holding a globe with a green color ]
ہمें اپنی زندگیاں انصاف اور انسانی جانوں کے حرمت سے بنائیں اور ایسے موڑ پر چلنا چاہئیں جو سے واپسی مشکل نہ ہو۔
سچ ماجھ میں یہ بات تو سمجھنی چاہیے کہ ہمیں اس وہی دuniya میں ساتھ رکھنا چاہیے جس کی طرف ہم آگے بڑھتے ہیں مگر یہی نہیں بلکہ اس نئی دuniya میں ہمیں ایسی چیزوں کو پہچانا جس سے ہم سچ سے ہم آگے بڑھ سکیں۔
جی وہ کہتے ہیں دنیا کی انسانیت کو یوں لینے کی گئی بھی کیا ہے، ہم آج نہیں سوچتے کہ ابھی تو ڈومز ڈے کلاک ایک سے دو اسٹیپ بڑھا دیا جاسکتا ہے لیکن اب وہ یوں آدھی رات پر سیٹ کر دیا گیا ہے؟یہ بھی نہیں کہا گیا کہ اس کے بعد کیا کریں، اور ابھی کوئی نہیں سوچتا کہ اگر روس اور امریکا کے درمیان اسلحہ سازی سے متعلق معاہدے ختم ہو جاتے ہیں تو کیا ہوتا؟اس کی وجہ سے یہ لگتا ہے کہ دنیا کو کسی کے حرمت اور انصاف سے محفوظ رکھنے کے لئے ڈومز ڈے کلاک کو ایک نئے پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے۔
اس وقت انسانیت کے لیے بھی تباہی کی خطرناک سطحوں سے پریشانی ہے، تو اس لئے کہ ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات پر 85 سیکنڈ پر سیٹ کر دیا گیا ہے جس سے انسانیت کی پوری وجودیت پر اثر پڑے گا۔
یہ تو ایک گڑباں ہے کہ کیا پہلے کبھی اس طرح کا خطرہ نہ تھا اور اب تک انسان کو ایسا موڑ دیکھنا پڑا ہو جب سے واپسی مشکل ہے۔
ماہرین کے مطابق جوہری جنگ، اسلحہ کی نئی دوڑ اور خلا میں عسکری منصوبے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لے آ رہے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے میں پتہ چلتا ہے کہ اس وقت انسانیت کو یہ سوچنا بھی ضروری ہو گیا ہے کہ کیا انصاف اور انسانی جانوں کے حرمت سے باہر ہوتے ہوئے میرٹ نہیں بھی چھوڑ دی جا سکتی ہے۔
اب یہ سوچنا بھی بہت آسانی ہو جاتا ہے کہ ڈومز ڈے کلاک ایسے وقت پر سیٹ کیا گیا ہے جب دنیا کو قیامت کے موڑ پر پہنچانے کے لیے بھی نہیں، سارے انسانات کے لیے یہ وقت تو تھا لیکن اس کا استعمال کیا گیا ۔ اب لوگ قیامت کی بات کرتے ہیں جیسے یہ سب پہلے ہی واقع ہو چکا ہے۔
یہ تو بہت گھبراہٹ کی باری ہو رہی ہے! دنیا کو اس سے لڑنا پڑتا ہے کہ اب ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات پر صرف 85 سیکنڈ پر سیٹ کر دیا جاسکتا ہے، یہ تو بہت تباہ کن ہوگا!
ماہرین کی جانب سے یہ بات کھل کر کہی گئی ہے کہ روس اور امریکا کے درمیان اسلحہ سازی سے متعلق معاہدے ختم ہو جائے تو دنیا کو تباہ کن جوہری ہتھیار مل سکتے ہیں، یہ بہت دکھ کا وقت ہوگا!
لیکن میں سوچتا ہوں کہ اس بات پر توجہ دینا چاہئے کہ دنیا کو اس سے لڑنا پڑتا ہے، لیکن اس کے لیے ہمیشہ موڈ کا فائدہ نہیں ماخوں، ہمینو توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ دنیا کو ایک ایسا موڑ پہنچانے سے پہلے کیا کھیلنا چاہئے،
ہمیں اپنی جانوں اور مستقبل کی جانب توجہ دینی چاہئے، نہ کہ صرف اپنے منافع کے لیے فخر کرنا!
میری یہ بات سب کو پتہ ہو گئی ہے کہ دنیا اب منصفانہ سے گزرنا شروع کر دی ہوئی ہے اور انسانیت کو اس سے واپسی کی مشکل ہے
اب تک ڈومز ڈے کلاک کو ایسے میٹر ڈائگری پر رکھا جاتا تھا جو ایسا ہوتا تھا کہ اگر وہ بھگتنا شروع ہو جائے تو انسانیت کو آمدنی کے ساتھ ختم کر دیا جا سکے۔ لेकिन اب نہیں یہاں تک کہ آدھی رات پھینٹنے پر 85 سیکنڈ کی دیر رکھ دی جاتی ہے اور دنیا کو اس طرح ایک قیامت کی طرف لے جانے کی واقعت میں ڈال دیا جائے تاکہ لوگوں کے سامنے یہ بھی بات نہ آئے کہ وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں
چالاکی سے ہی انسانیت کو یہ ایسا موڑ پہنچایا گیا ہے جس سے واپسی مشکل ہو رہی ہے اور دنیا کو پہلے کے سے بھی بڑھ کر لے گئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماہرین انصاف اور انسانی جانوں کی بات نہیں کرتے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ لوگوں کو پہچان لیا جائے اور ان کے ذہن سے ایسی باتوں کی گریہ کی جائی جائے جو آمدنیت کو ٹھہرایں۔
اس وقت دنیا اب انسانیت کو قیامت کی طرف لے رہی ہے تو یہ کیسے پہنچ سکتی ہے؟
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات پر آدھی سیکنڈ پر سکڑ دیتے تو انسانیت کو کیا فائدہ ہوتا؟ یہ بھی ایک خطرناک موڑ ہو گا جس سے مگر موڑ آتا ہے۔ پہلے تو چھپا ہوا جوہری ہتھیار اور اب اسلحہ کی نئی دوڑ پر دبا جاتا ہے، مگر یہ کچھ نہیں آتا کہ انسانیت کو اس خطرناک موڑ سے کیسے نجات ملے گی؟
اس ڈومز ڈے کلاک کی صورت حال بہت چنگیز ہو رہی ہے، جوہری جنگ کا یہ موڑ پھرنا انسانیت کو قیامت پر لے جای گا، تو انصاف اور انسانی جانوں کے حرمت سے ہٹ کر یہ صورت حال بن رہی ہے جس کی واپسی مشکل ہے۔
آج کل سولہ سال میں ایک سے دوپہر تک کلاک آدھی رات پر 85 سیکنڈ پہلے سے سیٹ کر دیا جاتا ہے، یوں عالمی تباہی کی انتہائی خطرناک سطح ظاہر ہوتی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید تباہ کن جوہری ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔
روسیوں اور امریکاؤں کے درمیان اسلحہ سازی سے متعلق معاہدے ختم ہونے پر دنیا کو ایک بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا، تو اس صورت حال میں کسی نے انصاف اور انسانی جانوں کے حرمت کی سنجیدگی نہیں دیکھی تو وہ بھی قیامت کا شکار ہونگے۔
یہ تو بہت جھاڑ پھاڑ کا موڈ ہو رہا ہے، Joordarwar ke baare mein kuch bhi nahi kaha jata to kya? Kaisi zidd par chal rahe hain in logon ko?
Kuch aisi galtiyan hain jo humein zikr karne ki zaroorat hai, lekin koi bhi solution nahi dikh raha. Yeh sab kuch thakkar se ho raha hai. Humari soochi saaf nahi hai, aur ab humari soochi ko saaf karne ki zaroorat hai.
Main yaqin karta hoon ki humein isse bhi pehlu nahin nikaalna chahiye, jo saabit ho raha hai. Humari zindagi kitni gair-manafi hai? Joordarwar ke tareeke humein kisi bhi tarah se asaf maangan nahi de sakte.
Main socha ki yeh bata sakta hoon main ek aam logon ka hi mukhtasar version, lekin yeh sab kuch saabit hai. Joordarwar ke tareeke humein kisi bhi tarah se asaf maangan nahi de sakte.
یہ واضح ہو چکا ہے کہ انسانیت کو تباہ کرنے والا یہ خطرہ ایک ایسے سیاسی اور معاشی نظام سے پیدا ہوتا ہے جس میں عالمی طاقتوں کی نجی رivalryوں کو عوام کے خिलاف فوجی تاکید میں بدل دیا گیا ہے اور آج کل انسانیت کو اس خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی جسمانی اور معاشی موڑ کے بے تما علاج میں چلتے ہیں۔