قِیامَت قریب تر ہے، جوہری ماہرین نے خبردار کیا ہے
یہ بات غلبہ میں آ چکی ہے کہ انسانیت کو قِیامَت کی طرف بڑھنے پر روکنے والا وقت اب کافی کم ہو گیا ہے۔ Bulletin of the Atomic Scientists جیسے غیر منافع بخش ادارے نے اس بات پر غور کیا ہے کہ سال 2026 کے لیے ڈومز ڈے کلاک کو ایسا تھوا کر دیا گیا ہے جس سے انسانیت کو قِیامَت کی طرف بڑھنے میں دو سو سیکنڈ کی فاصلہ باقی رہی ہو۔
انسانیت کے لیے یہ تعداد بہت کم ہے، پھر بھی جوہری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اب روس اور امریکا دونوں ملکوں نے اپنے ساتھ جوہری ہتھیار تیار کر لیے تو انسانیت کو قِیامَت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ ایک خطرناک موڈ میں ہیں، جس سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ خلا میں بھی جوہری جنگ کی منظر بنتی ہے، اس کے نتیجے میں روس اور چین کے درمیان ٹकरاوتوں سے عالمی سلامتی پر بھی نقصان پہنچے گا۔
اس بات کو بھی یقین رکھنا ہोगا کہ اگر نوجوانوں کی پیدائش پر پابندی لگائی جائے تو نوجوانوں میں منفی خیالات پیدا ہونے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے، انھیں ڈیجیٹل دھندلوں کا بھی قریب سے مطالعہ کرنا چاہئے جس سے منفی اثرات کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس سالوں سے سنی ہے کہ انسانیت ایک خطرناک دور پر چل رہی ہے، اب یہ بات صاف آ گئی ہے کہ نوبت بدلی ہوئی ہے۔ نوبت کا یہ دور ایسا لگتا ہے جیسے ہم کو اس کھیل میں بھی کوٹوں کی چابی مل گئی ہو، جوہری جنگ کا ذریعہ پہلے نہیں سوچتا تھا لیکن اب اسے کہتے ہوئے بھی نہیں ہو سکتا کہ انسانیت کو یہ دو۔
سچ چاہے کہ یہ خبر ایک خطرناک موڈ میں ہے لیکن یہی بات غالب ہے کہ ہمیں اس سے باہر نکلنا ہو گا۔
یہ بات ایک جانب تو یقین رکھنی چاہئیے کہ 2026 تک انسانیت کو قِیامَت کا سامنا کرنے سے بچایا جا سکta hai, لیکن دوسری جانب یہ بات یقین رکھنی چاہئیے کہ انسانیت اس کی तاریکیوں کو آسانی سے پورا کر سکتی ہے!
اس لائن کی توجہ دے کر کہ اب انسانیت کو قِیامَت کی طرف بڑھنے پر انفرادی طور پر یہ سیکھنا ضروری ہوگا کہ ایسے مسائل کی حل کو کیسے تلاش کریں اور کس طرح ان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر سے پہلے ہی جوہری جنگ کے خلاف ایک نئی تحریک شروع کی گئی تھی، اس سے پہلے بھی انٹرنیٹ نے لوگوں کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہوتا ہے اور لوگوں کی طرف سے اس بات کی لچकپن بھی کی ہوتی ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں ان کیسے اس مسئلے سے نمٹ سکتے ہیں؟
ابھی تو اس وقت ہو رہا ہے کہ ہم اپنی صحت کو بھی اچھی سے نہیں دیکھ رہے، پھر ابھی یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ humanity کو survival ki taraf bharne se rokne wala samay ab kam ho gaya hai? Toh kya yeh toh sirf ek alag problem nahi hai? Yeh sab kuch mera khayal hai.
یہ بات تو باطله ہو گئی ہے، انسانیت کے لیے قِیامَت کی طرف بڑھنا ایسا میٹھا نہیں ہوگا جیسا سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے۔ Joہری جنگ کا خطرا تو یقینا موجود ہے، لیکن اس کو روکنے کا کچھ طریقہ نہیں ہوگا؟
میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کی جانب سے یہ بات کاہل کو نہیں بنائی جا سکتی، جوہری ہتھیار تیار کرنے والے ملکوں کی جانب سے بھی یہ بات کچھ نہ کچھ ہوگی۔
اس لیے میری رائے میں یہ بات اچھی ہوگئی کہ نوجوانوں کو اس موضوع پر ایک ساتھ موافقت برقرار رکھنی چاہئے، انھیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ Joہری جنگ سے انسانیت کو واپس نہ لگنا چاہئے۔
نوجوانوں کو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اور ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے انھیں یہ سمجھنا چاہئے کہ Joہری جنگ کی آوازیں نہیں ہیں، بلکہ ہم آ Omہ مے کی بات ہے۔
"انسانیت کی جانب سے خطرناک قدم اٹھانا مشکل ہے"
یہ بات تو صاف ہے کہ دنیا میں جوہری Arms کی موجودگی بہت-dangerناک ہے، اس لیے اس پر بہت زیادہ غور کرنا چاہئے
اس وقت پہلے سے زیادہ خطرناک موڈ میں ہیں، جس کی نکلنا مشکل ہو گا اور دنیا کا ایک بڑا خطرہ ہی اس میں شامل ہے
روسي اور امریکی دونوں ملکوں کو اپنی سہولیات کو ایسے استعمال کرنا چاہئے جو انسانیت کو ختم نہ کریں، انھیں پابندی لگائی جائے کہ نوجوانوں میں منفی خیالات پیدا ہونے سے روکی جا سکے
اس لیے ہمیں ایسی دھندلیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے جو نوجوانوں کو منفی خیالات سے باہر لاتے ہیں اور انھیں ڈیجیٹل دھندلوں سے بھی قریب سے جانتا رہنا چاہئے
بلاشبہ یہ خطروں کا دور ہو رہا ہے، لیکن اس پر فوری عمل نہیں کرنا چاہئے۔ 2026 میں جوہری ڈومز ٹائم کے بارے میں بات کرتے وقت کوئی بھی جانب لگاینا تھوڑا نہیں۔ لیکن اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ یہ خطرہ حقیقی ہے یا ایسا سaza ہے؟
پاکستان کو بھی اپنے جہتیوں اور فوج کی ناواقفت تاکید سے روکنا پڑ سکتا ہے اور نہ تو یہ خطرہ ایسا سaza ہے اور نہ ہی یہ چیلنج اس لئے پہنچ رہا ہے کہ دنیا میں ایسی کوئی صورت حال موجود ہے، جو کوئی نہ کوئی ملک اور اس کی فوج کو خطرناک سمجھ رہی ہو۔
آج کے وقت کی یہ حالات ہر حد سے خوفناک ہیں، مگر مجھے اس بات پر یقین ہے کہ انسانیت ایک منظم اور آئندہ وighted لڑائیوں میں نکل کر بہتر پریشانیوں سے نمٹ سکتی ہے۔ ڈومز ڈے کلاک کو ایسا تھوا کرنا جس سے انسانیت کو قِیامَت کی طرف بڑھنے میں دو سو سیکنڈ کی فاصلہ باقی رہے ہو، یہ خطرنا ہے لیکن اس پر کچھ کھیڑا نہیں ہونا چاہئے
ایک دہائی کی بہت کم دیر باقی رہی ہوگی، اور پھر انسانیت کا ساتھ چھوڑ کر جوہری جنگ کا سامنا کرنا ہوگی؟ یہ ایک تھوڑی سی بات ہے، لیکن وہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو ٹکڑا کر دے گی۔ ڈومز ڈے کلاک کے باوجود، ابھی بھی نوجوانوں کو اس پر توجہ دینا چاہئے کہ وہ کیا کرو رہے ہیں؟ ان کی کارکردگی اورDecision Making پر یقین رکھنا چاہئے، نہ تو انھیں ایسے منفی خیالات سے روکنا پڑے گا اور نہ ہی وہ اپنے مستقبل کے لیے بھرپور کوششوں کر رہے ہوں۔
ابھی ٹیسٹ کر رہے تھے کہ انسان کو دنیا کی طرف بڑھنے پر کچھ پھنسانے کا موقع مل جائے تو اب وہاں پہلے سے زیادہ خطرے ہیں . Johter maahir ain kaha hai ki agar rus aur amerika dono mulkein ne apne saath jothari hathiyaron ko taiyar kar liya toh humanit ko qiamat ka samna karna padega . Yeh ek khatarnav mod meh ہai jis se nikalna mushkil hai .
Nouban ko bhi yakeen rakhna hoga ki agar noubano ki peedaish par pabandi lagai jaaye toh nouban men manfeel badhkon se rokne mein madad mil sakti hai. Noubanon ko 3G aur digital dhondlon ka bhi nazariye karna chahiye jis se manfeel kharabhon ko rokne mein madad milegi
بہت سچ، انسانیت کے لیے قِیامَت کی طرف بڑھنے سے پہلے ایک لین دین نہیں رہا اور اب روس اور امریکا دونوں ملکوں نے اپنے جوہری ہتھیار تیار کر لیے تو اس کا مطلب انسانیت کے لیے دو سو سیکنڈ کی فاصلہ باقی رہ گیا ہے...
لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ جوہری ماہرین نے خبردار کیا ہے اور انسان کو اس خطرناک موڈ سے نکلنا چاہئے، لیکن یہ بات بھی ہے کہ نوجوانوں کی پیدائش پر پابندی لگائی جائے تو نوجوانوں میں منفی خیالات پیدا ہونے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے...
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ڈیجیٹل دھندلوں کو پورے طور پر روک دیا جائے، بلکہ انھیں ڈیجیٹل لائیف میں سے ایسے دھندلوں کا مطالعہ کرنا چاہئے جو انسانیت کو نقصان پہنچاتے ہیں...
2026 کو ڈومز ڈے کلاک نہیں رہا، ہمara samay nahi raha , humanitay ko qiyamata ki taraf badhne pr rokne wala samay ab kafi kam ho gaya hai. joohr maahron ne bharosa diya hai ki agar rus aur amerika dono milako se joohri hathiyaro takla rakhe to humanitay ko qiyamata ka samna karana padaiga.
yeh ek bahut hi khatarnaak mood hai, jis se nikalna mushkil hoga . khala mein bhi joohr jagah ki, yeh sab kuchh duniya ko phataas de dega. agar nujwanon ki peedaash par pabandi lagayi jaaye to nijwanon ko manasi atkaar se rokna me madad milegi. aur ڈیجیٹل dhundlon ka bhi tatkalik tatkal mein adhyayan karna chahiye jo kehnaa hai ki yeh kuchh na kuchh duniya ko bura bana sakta hai.
امرکہ اور روس کے درمیان جوہری جنگ کی یہ خوفناک situación، کچھ نہ کچھ لگای گئی ہو۔ لیکن دنیا کو ڈرائیٹ ان رکھ کر چلنا ہو گا۔ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے نئے لیکھن سے بھی پرہیز کریں اور انھیں ہمیشہ سچائی کی طرف ڈھیکھ رکھنا چاہئے۔
یہ بات واضح ہے کہ دنیا کو ابھی بھی خطرناک موڈ میں ہیں۔ انسانیت کے لیے یہ تعداد 100 سیکنڈ جاتے ہوئے کم ہو رہی ہے جس سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ ایک خطرناک موڈ ہے جو خلا میں بھی جوہری جنگ کی منظر بناتی ہے اور اس کے نتیجے میں روس اور چین کے درمیان ٹकरاوتوں سے عالمی سلامتی پر نقصان پہنچے گا۔
اسلامی ماحول میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب تک ہم دوسروں کی مدد کرتے رہتے ہیں اور اپنے براہ راست مواقع پر فFocus رکھتے رہتے ہیں، اس دنیا کو ایسا نہیں دیکھنا پڑے گا جس سے ہم ناکام محسوس کرسکیں۔