پاکستان کے تاریخی شالامار باغ میں منعقدہ قوالی نائٹ کے دوران، جس میں شہرت یافتہ قوال فراز امجد نے قیدی نمبر 804 گانے تھے، ان پر تنقید کی جانے والی غلطیوں کو چیلنج کرنے کے لیے انہوں نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔
فراز امجد کا کہنا ہے کہ وہ منظمین کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کے مطابق گانا پیش کر رہے تھے، لیکن شالامار باغ میں ایک نامعلوم شخص نے بدتمیزی کی اور ان پر دھمکیاں دیں۔
اس واقعے سے پہلے، فراز امجد نے کہا تھا کہ وہ محفل کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دیتے اور ان پر دباؤ کا نظرانداز کر رہے ہیں، تاہم وہ پوائٹس کی ویڈیو شواہد میں محفوظ ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان پر دباؤ کو نظر انداز کیا گیا تھا اور انہوں نے گانا پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر بعد میں ان پر الزامات لگائے گئے تھے۔
فراز امجد نے ملک مخالف بغاوت کے الزامات کو مسترد کر کے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی پدھری جتنی بھی سے اور اس کی آزادیت کے حامی ہیں۔
سٹیج پر ماحول کو خراب کرنے والے شخص کے نام کا بات چیت نہیں کرتے ہوئے، فراز امجد نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی اپیل کی ہے اور اس واقعے کیشفاف تحقیقات کی مانتھانے کی مطالبہ کی ہے۔
ہمیشہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ قوالی نائٹ ایک شاندار واقعہ ہوتا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ اس میں بھی غلطیوں کا ایک حصہ شامل ہے۔ فراز امجد کی جانب سے پیش کردہ گانا کو منظمین نے پہلے ہی مینو فون پر شائع کر دیا تھا اور اس کا بھی وہ فہرست جو انہوں نے پیش کی تھی، اس میں شامل ہونے کا ایک حقدار تھا۔ لیکن جب شالامار باغ میں بدتمیزی ہوئی تو کیا انہوں نے اس کو نظر انداز کیا یا اس پر دباؤ کرنا شروع کیا؟ یہ بات بھی حقیقی ہے کہ فراز امjad اپنے موقف سے نہیں چل رہے، وہ جو انساف کی کہتے ہیں وہ اس بات سے بھی صاف ہیں کہ ان پر دباؤ کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگا اور ان کی جان سے لاتکلا ہونا ضروری نہیں۔
یہ واضح طور پر ایک دباؤدار سائنوں میں گانا پینا ہے، جس کی نتیجے میں منظمین کے خلاف الزامات لگائے جا رہے ہیں اور وہ کسی نہ کسی صورت میں سزا بھی پا سکتی ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں کو توبہ کے لیے نہیں ممانعت کی جانی چاہئے بلکہ اس کا پہلو دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ منظمین نے کوئی خوفناک یا نافذ کرنے والی کارروائی کی تھی؟
اس گھنٹوں میں جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو وہ سب سچ نہیں کہتے اور لوگ اپنی نظر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن فراز امجد نے اس شالامار باغ میں تقریباً ہر گزرنے والے شخص کا موقف سمجھنا ہوگا اور وہ لوگ جو ان پر دباؤ کا نظرانداز کرتے تھے، اُنہیں بھی ساتھ دیکھنا ہوگا
یہی تو ہے، ناچنے والوں کو واضح کرنا چاہئے کہ جب بھی ان پر دھمکیاں دی جائیں یا بد تمیزی کی جائے تو پورے منظر کا لطف اٹھانے والوں کو جواب دینا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی منظمین کی جانب سے فراہم کردہ فہرست پر توجہ دینی چاہئے۔ اور جس شخص نے بد تمیزی کی تو اس کا نام واضح کرنا چاہئے۔
یہ تو ایک غلطی ہے کہ ان پر دھمکیاں دی گئیں اور پھر وہ محفوظ طور پر اپنا موقف بیان کرتے ہیں اور پوائٹس کی ویڈیو شواہد میں محفوظ ہیں؟ یہ واقعہ ہمیشہ سے ہوتا رہتا ہے، لیکن اب یہ ایک بڑا واقعہ ہو گیا ہے، اس کے بعد ہمارے ملک کے لوگ کمزور ہونے لگتے ہیں اور ان پر دھمکیاں دی جاتی ہیں؟ یہ تو بے معقول ہے، ہمیں اس واقعے کا شکار نہیں ہونا چاہئے، لیکن اب پھر یہ بات سچ ہے کہ ہم اپنے حقائق کو جانتے رہتے ہیں اور اپنی آزادیوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں
یہ بات پتہ چلتا ہے کہ وہ گانا ایسے پیش کر رہے تھے جس پر ان پر الزامات لگائے گئے تھے، لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ ان پر دباؤ کو نظر انداز کیا گیا تھا اور اسے ان پر الزامات لگانے سے پہلے وہ گانا پیش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ تو ایک بڑی غلطی ہے اور اگر اس گانے پر ان کی دھمکیں لگائی گئی ہیں تو وہ سچ میں غلط ہیں
عید گرمیوں میں شالامار باغ میں ہونے والی قوال نائٹ کا یہ واقعہ ایک گمھور بات ہے جس پر پوری دنیا کی انتباہ ہوئی ہے۔ لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ وہ سچ رہے تھے اور اب بھی ان پر دباؤ ہے، لیکن یہ بات پتہ چلتी ہے کہ ہرگز نہیں۔
جیسا کہ فراز امجد کہتے ہیں انھوں نے اپنے گانا پیش کرنے سے قبل ہی خود کو اس مقام پر تیار کیا تھا، لیکن اس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ایسی جگہوں پر پہنچتے ہوئے تھے جو انہیں اپنی اور نہیں سمیتی تھی۔
اب یہ سوال ہے کہ شالامار باغ میں ایسا واقعہ ہوا کیا اس پر انھوں نے پھیلایا جو کہ وہ سچ رہے تھے۔
اس شالامار باغ میں قوالی نائٹ پر ہونے والی غلطیوں پر بات کرنے کا یہ موقع فراز امجد کو ملا ہے۔ وہ بتاتے ہوئے کہ اس واقعے سے پہلے ان کی صحت اور mental state بھی اچھی تھی، تاہم یہ بات صاف کرنی ہوگی کہ وہ کسی خاص غلطی میں نہیں شamil تھے لیکن اس پر دباؤ کا شکار ہوئے اور ان پر دھمکیاں دی گئیں تو انہوں نے پوائٹس کی وہی ویڈیو جو اب ظاہر ہو رہی ہے، اپنی جانب سے بھی ایک مستنید نظر اٹھانے کا عزم کیا ہے
یہ سوال ہے کہ جب ہم آپ سے محفوظ رہتے ہیں تو اس وقت کیا ہوتا ہے؟ کہیں کہیں پوائٹس ہونے کے بعد بھی ہم دباؤ کا نظرانداز کر لیتے ہیں اور اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں؟ لیکن اس سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ کیا ہم ان حالات میں جب دباؤ کو نظر انداز کر رہے تھے اس وقت بھی اپنی جائیداد پر نظر انداز رہتے ہیں?
یہ بات یقینی طور پر واضح ہے کہ اس شالامار باغ میں قوالی نائٹ کا اہم مقام پورا نہیں ہوا، خاص طور پر جب کوئی شخص گانا پیش کر رہے تھے تو اس سے پہلے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ وہ کس طرح پیش کر رہے ہیں اور ان پر کسی قسم کی دباؤ کا شکار ہونے کا امکان ہے یا نہیڹ۔
اس واقعات سے پہلے فراز امجد نے کہا تھا کہ وہ محفل کو خراب نہیں کرسکتے اور ان پر دباؤ کو نظر انداز کر رہے ہیں، لیکن اس وقت کو پوائٹس کی ویڈیو شواہد میں محفوظ کرتے ہوئے، یہ واضح ہے کہ ان پر دباؤ کو نظر انداز کیا گیا تھا اور انہوں نے گانا پیش کرنے کی وہی پوزیشن اختیار کی جو بعد میں ان پر الزامات لگائے گئے تھے۔
عثمانیوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ شالامار باغ میں قوال نائٹ کو منظم کرنے والوں کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے اور یہ ایسا بھی ہونا چاہیے کہ وہ اپنی دیکھ بھال کریں تاکہ لوگ اپنے گانے سمجھ سکیں، لیکن یہ بھی بات ہے کہ ہر شہید کا نام جاری نہ رہنا اور جسمانی دباؤ کے باعث اس پر زور دیا جائے تو یہ ایسی صورتحال پیدا کرتی ہے جو لوگوں کو گھبراہٹ سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔
ہمیشہ پتا چلے گا کہ انسano ko naya raaz milta raha hai, lekin yeh sirf ek baar nahin hoga. ab yeh sawal hai ki kaise insaan apne dil ki baat keh sakta hai?
یہ بات کوڈ کر دیجے تو آسان ہوگی کہ وہ شخص جس نے فراز امجد پر بدتمیزی کی ہے، اس کی پہچان ملکی سرگرمیاں میں ہو گی، یہ سوشل میڈیا پر بھی چل رہی ہے کہ وہ شخص کون ہے اور اس نے ان پر کیا دھمکیاں دیاں تھیں، اب صرف یہ بات یقینی بن جائیگی کہ وہ شخص کی پہچان ملکی سرگرمیاں میں ہو گی اور ان پر اقدامات کئے جائیں گے۔