قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن اپوزیشن لیڈر مقرر

کنسول پرو

Well-known member
پاکستان کی سینیٹ میں بھی پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن اپوزیشن لیڈر مقرر ہوئے، اس صورت حال کو دور کرنے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اعلان کیا ہے کہ قائم مقام سیکرٹری سینیٹ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کی گئی ہے جو اعظم نذیرتارڑ اور رانا ثنا کے نام پر پڑھی گئی تھی، جو سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر بننے پر مبارکباد پیش کرچکی ہیں۔

سینیٹ میں اب اس وقت شانِ معظم رہے گئے علامہ راجہ ناصر عباس کی نشست خالی تھی، اس لیے سینیٹ کے رولز اور قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جو اب آج کے وقت سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر مقرر کی گئی ہے۔

شبیہ فراز کی نشست خالی ہونے کے بعد اس عہدہ کو خالی رکھا گیا تھا، اس لیے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا ہے جو اب سینیٹ سیکرٹریٹ نے جاری کردیہ وہ نوٹیفکشن قائم مقام سیکرٹری سینیٹ کی جانب سے جاری کی گئی تھی، جس کے مطابق اعظم نذیرتارڑ اور رانا ثنا کی نشست خالی ہوچکی تھی۔
 
بھلا آپ کو پتا چلا آگے وہ سینیٹ میں ایک بار پھر اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا ہے اور حال ہی میں اس عہدہ کو خالی رکھ دیا گیا تھا تو ایسا کرنے کی کیا وجہ؟ وہ لوگ جو اپوزیشن لیڈر بنتے ہیں انہیں ایسا کرنا چاہیے کہ سینیٹ میں یہ عہدہ قائم رکھ دیا جائے جو بعد میں کچھ لوگ اس پر بحث کرتے ہو اور اس طرح سینیٹ کی جانب سے ایسے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں۔
 
😊 یہ بات واضح ہے کہ پی ٹی آئی کی حمایت سے اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے پر پوری قوم میں غور و فکر اور تناؤ پیدا ہوگیا ہے، سینیٹ میں شانِ معظم رہنے کی بات کرتے ہوئے بھی ایسی صورت حال نہیں دیکھی گئی جس سے یہ حال پیدا ہو، اور اب اس صورتحال کو دور کرنے کے لیے چیئرمین سینیٹ نے اعلان کر دیا ہے کہ قائم مقام سیکرٹری سینیٹ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کی گئی ہے جو ایسے حالات کو دور کرنے میں مدد دے گی اور صحت مند عمل کی طرف متوجہ کرتے گی، ابھی تک شانِ معظم رہنے پر مبنی توجہ قائم ہے لیکن اب اس سے نکل کر پوری وضاحت اور انصاف ملنے کا وقت آگیا ہے، یہ بات تو واضح ہے کہ یہ حال صحت مند عمل کی طرف لے جانے سے باہمی مدد حاصل کرنا ہوگا اور اس میں سینیٹ کی بھرپور شرکت ہونی چاہئیے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ سینیٹ میں حال ہی میں ہونے والے بدلتے حالات کو دیکھتے ہوئے، ان تمام باتوں پر فخر کرنا بہت چاہیے، جس کے بعد سینیٹ کی ایک نئی کوشش شروع کی گئی ہے، جو کوئی اور ہارنے کی کھیل نہیں کرتا، لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ اس وقت کی سینیٹ میں کس طرح ایسی نئی آگ فٹہ رہی ہے جو کوئی رکھنا چاہتا ہو، یہ بھی واضح ہے کہ ان تمام باتوں پر پورے ملک کا دیکھ بھال اٹھایا ہے، نوجوانوں کو بھی اس بات کو محسوس ہوا ہے، جو کہ مستقبل کی ایسی صلاحیت سے ساتھ ملا رہا ہے جو ان کی نئی ترقی میں مدد دے گی۔
 
اس صورتحال کو دور کرنے کا دوسرا Means چیئرمین سینیٹ کو بھی کچھ چیلنجز دی جائیں گے، یہ پوری اور بھرپور ہو گیا کہ اب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے کی صورت حال پر ایسے لوگ اچھے طور پر نظر آنے لگ رہے ہیں جو پہلے بھی اس طرح کے عہدوں پر بیٹھ کر اپنی مخالفین کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اب یہ رول ایک بار پھر اسی طرح سے جاری ہوگا؟
 
عصری سیاست میں تو دیکھا ہوا ہے، پتا چلتا ہے کہ اب سینیٹ میں بھی ایسا کیا جا رہا ہے جو قبل از زمانہ بھی کیا جاتا تھا اور یہ سب سے زیادہ گم دھلا پہنچنا ہے... اس وقت سینیٹ میں تو اعظم نذیرتارڑ رانا ثنا ایسے ہی بہت حلقہ کیوالیں کر رہا ہے جیسا کہ شبیہ فراز کی وہ عہدہ تھا جو اب خالی ہوچکا ہے... یہ سب ایک اسی گٹھے میں پڑتا ہے...
 
اس حد تک میں یہ بات تو باضابطہ لگتی ہے کہ سینیٹ میں نئا اپوزیشن لیڈر کیسے مقرر ہوا، یا اس کے پیچھے کوئی حقیقت ہے یا نه؟

میں تو اس بات سے متاثر ہوں گا کہ آج کے ایجنڈے میں پی ٹی آئی کے اس رول کو کیسے شامل کیا گیا، یہ نویں دہائی کی جدیدیت کی پھر سے بات ہے?

ماڈرنی پارلیمنٹری سسٹم میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت کیسے ایک پرانے معاملے کو نئی اور جدید مقام میں منتقل کیا گیا؟
 
تمام لوگ بھول جاتے ہیں کہ سینیٹ میں ایسا کسی رکن کو منتخب کرنے کا منصوبہ نہیں تھا کہ وہ اپوزیشن کی قیادت کر دیتا، اب یہ رولز آپوزیشن سے لاکھ لاکھ رپئے میں فروخت کیے جا رہے ہیں
 
وہی بات ہے جو ہم سب جانتے ہیں کہ سینیٹ میں بھی دائرہ اختیار کی پہچان ساتھ ساتھ پارلیمانی روایات کو لاحق بنانے کی ضرورت ہے اور ایسا کرنے سے سینیٹ کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے
 
واپس
Top