وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 5 جنوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا، اس صورتحال میں یوم حق خود ارادیت کے موقع پر انھوں نے ایک تاریخی بیان جاری کیا جو ان کو بھی اس معاملے کا حوالہ دے رہا ہے۔
شہباز شریف نے یہ بات بھی کہی کہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدار رائے شماری سے ہونے والا ہے، جس پر افسوس ہے کہ بھارت کی طرف سے جموں وکشمیر پر غیر قانونی قبضے کے باعث اس فیصلے کو پورا نہیں کرایا گیا۔
جموں وکشمیر کے عوام 8 دہائیوں سے بھارتی افواج کے مظالم کا سامنا رہے ہیں اور جبکہ بھارت کی طرف سے جبروتشدد کے ہتکنڈے کشمیری عوام نے اپنے عزم کو اس پر پوسٹ کرنے میں ناکامی رہی ہے۔
اب بین الاقوامی برادری کو بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کی ضرورت کے بارے میں بات کرنے کی پوزیشن دی گئی ہے۔ یوم حق خود ارادیت اس صورتحال کو بھی نہیں ٹھٹا رہا ہے جس کے لیے پاکستان اور پوری دنیا میں بسنے والے لوگ انھیں منا رہے ہیں۔
چارٹ جس میں کشمیر کے عوام کی زندگی کی صورتحال کی نمائش کی گئی ہے وہ بھی انتہائی حیرت انگیز ہے!
جموں وکشمیر میں آبادی کی تعداد 5.2 ملین ہے جو یہاں پر موجود فوج کی تعداد سے تقریباً دو گنا بھی ہے۔ وہیں 40 لاکھ سے زائد شہری اور قوموں میں 8.4 ملین کے پاس پکڑے جانے کی صورت میں بھی انہیں ایسا ملانا پڑتا ہے جس سے انسان اپنی صلاحیتوں پر لاحق بہبود کو پورا کرنے کا موقع نہیں دیکھتا!
انہوں نے 80 سال کی پالینہ میں بھارتی فوج کی موجودگی سے نمٹنے کا کوئی طریقہ نہیں کھولا، ان کا مقصد اور جہد جو ان نے اپنی آزادی کے لئے لائے وہ اب تک کسی کی تسکین نہیں دیکھی گیا ہے!
تمام یہ دیکھتے ہیں کہ کشمیری عوام کی صورتحال میں بہت اچھی تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے، اس لیے اب بین الاقوامی برادری کو ایک نیا راستہ بھی دکھانا پڑ گیا ہے، اس میں کچھ نہ کچھ ترجیح دیکھنے کی ضرورت ہوگی!
اس صورتحال سے باہر نکلنا مشکل ہوگا اس کے لیے دوسرے ملکوں پر بھیPressure کرنی پڑے گی۔
اس بات پر یہاں تک کہیں توجہ مبذول نہیں کی جا سکتی۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر کا مستقبل کسی بھی ملک میں اپنی اور اپنے عوام کے لئے سبسٹیٹیو نہیں ہوسکتا، پھر یہی وجہ ہے کہ جبکہ ان کی حکومت بھی دوسروں کے ساتھ اچھی رائے نہیں کر رہی ۔
اس صورتحال پر توجہ دینا ہی ضروری نہیں ہوتا، کہیں یہ بات بھی پھیل جائی چکی ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد وار اور کٹھرانت رہنماؤں نے ان کو دوسرے ملکوں میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا ہے، یہ بھی بات سچ ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے پاکستان آئے ان کو اور ان کی اولاد کو اپنی زندگی میں سہولت فراہم کرنا چاہیے۔
Wow یوم حق خود ارادیت کے موقع پر شہباز شریف نے ایک اچھا بیان جاری کیا ہے، لیکن وہ بات دیکھنی پڑ رہی ہے کہ اس معاملے کی حل کی ضرورت تازہ تر ہو رہی ہے، کیا انھوں نے یہ سोचا تھا کہ اچھا بیان الٹ کر کوئی واضح قدم بھی اتاega؟
انقلاب کا ایک واضح نتیجہ یہ ہے کہ بھارتی افواج کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے پر مجبور کی گئیں، لیکن اس صورتحال میں ایک بہت बड़ा فرق نہیں ہوا! یہ صرف ایک تاریخی بیان تھا جو شہباز شریف نے کیا، اور اس سے یوم حق خود ارادیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا? پہلی بار 1947 میں، آج بھی، کشمیری عوام نے اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہے...
بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ سلامتی کونسل کی بات ایک نئی سطح پر بات کر رہی ہے، اس صورتحال میں یوم حق خود ارادیت کا موقع اس وقت بھی کام آئے گا جب دنیا بھر سے لوگ آٹھاؤں دہائیوں سے کشمیری عوام کی بات کرنے کو تیار ہو گئے ہیں۔ اب کہہ رہا ہوں تو یہ بھی بات تھی کہ وہ فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدار رائے شماری سے ہوتا ہے، اس میں کوئی دھمکاوٹ نہیں ہونا چاہیے اور یہ بات بھی کہ دنیا کی سرزمین پر وہ لوگ ایک ایسا حق حق لاتے ہیں جو بھی کisi کو مل سکتا ہے۔ اب پاکستان میں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ تو پورا یقین رکھنا جارہا تھا کہ دنیا بھر سے لوگ کشمیری عوام کی بات کرنے لگے گئے ہیں اور اب وہی صورتحال پیش آ رہی ہے جس کے لیے یوم حق خود ارادیت اس وقت بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اس وقت یہ بات کہیں کہ یوم حق خود ارادیت کی اہمیت اور کشمیری عوام کے حق اپنی خود ارادیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت کیا ہے تو سچائی میں نہیں، اس صورتحال کے باوجود ان لوگوں نے ایک اور مواقع پر اس بات کو جھٹا دیا ہے جو انہیں بھارتی فوج کی رہنمائی میں اچھا لگ رہا ہے۔
بھارتی سرکار کو اس صورتحال میں ایک قدم آگے بڑھنا چاہئیے، وہ جبھر دے رہی ہے وہ لوگوں کی نوجوانی کو پورا کرنے سے ناکام ہو رہی ہے, یوم حق خود ارادیت کا ایسا موقع نہیں چلا گیا جب انہیں اس حق میں جان بوجھ کر جانے کی اجازت دی جائے.
کشمیر کی صورتحال اس طرح لاحق ہو گئی ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ یہ وہ وقت ہے جب دنیا بھر سے لوگ ایک ایسے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ابھی بھی دنیا کی دیکھ بھال کی ضرورت महسوس کر رہا ہے 5 جنوری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک تاریخی فیصلہ سونپ دیا ہے جس پر اب بھی دنیا میں بحث و مباحثہ جاری ہے
عوامی جماحیت کی دیر ہوئی بھی ہو گی اور آگے بڑھنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا چاہئے، ایسے معاملات میں دلچسپی رکھنے والوں کی ہی ایک نویں اور ترتیب کی سٹریٹجیز کا مطالعہ کرنا ضروری ہے، پہلے یہ بات سامنے آئے گی کہ اس معاملے میں بھارت کی جانب سے کیا ہوا
اس وقت دنیا بھر پر یہی بات رہتی ہے، پہلے لوگ دوسروں کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں اور بعد میں ان کا جائے تو کچھ بھی نہ رہتا ہے، پہلے یہ بات سامنے آئے گی ایک بین الاقوامی کونسل میں کس طرح اپنی وضاحت پیش کی جائے گی
اس وقت کیا کہا جائے وہی کہ کشمیری عوام کی جبروں پر بھارت کے یہاں نہیں ہوا، اب یہ ایک بین الاقوامی مباحثے کا وقت ہے کہ کس طرح ان لوگوں کو اپنا حق خود ارادیت مل سکتا ہے؟ پھر بھی وہاں رہی گئی حقیقت یہ ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل پر ایسا فیصلہ نہیں ہوسکتا جس پر لوگ اپنے رائے کو آسان طریقے سے ظاہر کر سکیں، یہ فیصلہ بھارت کی طرف سے وہیں دباو اور دباؤ کے تحت ہونے والا ہے جس سے لوگوں کو پھانسنے کے لیے مجبور کر دیا گیا ہے۔
اس صورتحال کی دیکھیں تو یہ کیسے تھا؟ کشمیری عوام کو ایسا کرنا پدا جیسا کہ وہ خود اُس پر فیصلہ لیتے۔ اب بھی ہر سال یوم حق خود ارادیت کی مناسل نہیں ٹھلتی، مگر دنیا کی رائے کی بات کرنے سے اس صورتحال کو کچھ اچھا لگتا ہو؟ یوم حق خود ارادیت میں بھی پاکستان پر بھارتی مظالم نہیں پڑیں گی تو یہ مناسل واضح ہوگی۔
اس وقت بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ یوم حق خود ارادیت صرف کشمیری عوام کا معاملہ ہی نہیں بلکہ وہ صورتحال جس میں کسی بھی جماعت کو اپنی آزادی کی راہ میں روکنے والے اہدافوں پر چلنا پڑتا ہے وہ بھی اس کا حصہ ہے۔
ماں باپ کے لئے سچائی دہم دھارنا ہوتا ہے اور اس لئے ہی ان لوگوں کو ایسا محسوس کرنا چاہیے جو اپنی آزادی کی راہ میں پہنچنے والے کو روکتے ہیں۔
جب کہ یوم حق خود ارادیت کشمیری عوام کی مزاحمت کا ایک اہم مقام رکھتا ہے، تو اس وقت بھی پوچھنا ضروری ہے کہ کیا ہمارا دباؤ بھارت پر لگایا جا سکتا ہے؟
شہباز شریف صاحب کی بات سمجھنے کے بعد میں توجہ دی جائے تو اس نے یوم حق خود ارادیت پر ایک تاریخی بیان جاری کیا ہے جو کشمیری عوام کا جذبہ بھی پورا کر رہا ہے۔ میرے خیال میں 8 دہائیوں سے کشمیری عوام کا یہ سفر ایک انتہائی مشکل اور حاسد کن سفر تھا، اس لیے یوم حق خود ارادیت پر ہونے والی رائے شماری پاکستان اور دنیا بھر میں کشمیری عوام کے لئے ایک اہم موقع ہے۔
اس صورتحال کو حل کرنے کی پوزیشن اس وقت پاکستان اور کیسے دنیا پر نازل ہوئی ہے جب یوم حق خود ارادیت کا اعلان ہوا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ رائے شماری اس صورتحال کو حل کرنے کی پوزیشن دیتی ہے، اس لیے اس وقت ہونے والی رائے شماری ایک اہم موقع ہوگا۔
تمام دنیا کشمیری عوام کے حق میں ہونا چاہتی ہے، اس لیے یوم حق خود ارادیت پر ہونے والی رائے شماری ایک اہم موقع ہوگا جو کشمیری عوام کو اس صورتحال سے آزاد کرسکتا ہے۔
یوم حق خود ارادیت پر بھارت کے جابرانہ اقدامات کی بات کرنے والے شہباز شریف کو انہوں نے پہلے ہی ایسا ہی بیان دیا ہوتا تو اس صورتحال میں بھی کیا کام آئتا ؟ 5 جنوری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کر لیا تو یہ بات بھی ٹھیک ہے، مگر اب یہ بات کہ شہباز شریف نے اس صورتحال میں ایک تاریخی بیان دیا ہے تو یہ کیا کام دلاتا ? اس کے بجائے وہ لوگ جنہوں نے کشمیری عوام کی بھارت سے آزادی کی رائے شماری پر پوسٹ کرنا تھی انہیں یہ اچھا کہتا ہوگا۔
اس صورتحال کو سمجھنا بھارتی حکومت کی طرف سے کیا جاسکتا ہے؟ یہ بات تو پورے دنیا میں مشہور ہو چکی ہے کہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے، لہذا یوم حق خود ارادیت کے موقع پر ایسا بیان جاری کرنا بھی معقول نہیں سمجھتا ۔
پاکستان کی طرف سے اس صورتحال میں جانب دہش کا رخ کرنا اور اس وقت ان لوگوں کو ذمہ دار شمار نہیں کیا جاسکتا جو بھارتی افواج کے سامنے کشمیری عوام کی ایسے ہی جدوجہد میں حصہ لے رہے ہیں، ان کے لیے یوم حق خود ارادیت بھی صرف ایک پچھلا نہیں بلکہ ایک آئندہ کو سمجھنا چاہئیے۔
اس وقت میں ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور پاکستان کی حکومت دوسرے رشتے دار ممالک سے مل کر ان جابرانہ اقدامات کو ختم کرنے کی قوت میں موجود ہیں، اور یہی چیز کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا نتیجہ ہوگی۔
یہ اس صورتحال کا ایک دہرا دیا ہوا ماجا ہے جس کے ساتھ کشمیری عوام کے ساتھ ناکامی رہی ہے یوم حق خود ارادیت کا موقع ہے اپنے حق میں آ کر ان کی आवاز سننا بھی اچھا ہوگا لیکن 8 دہائیوں سے یہ معاملہ حل نہیں ہوا تو اب کس فائدہ?
اس صورتحال کو سمجھنا مشکل ہے، مگر وہ کچھ بات یہ ہے کہ کشمیری عوام نے اپنے حق کی جدوجہد کیا ہے اور انھیں یوم حق خود ارادیت اس صورتحال کو نہیں ٹھٹا رہا ہے جس کے لیے پوری دنیا میں لوگ انھیں منانے جا رہے ہیں۔
مری ایسی نظر پرتی ہے کہ یہ حالات پاکستان اور کشمیر کے درمیان ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے۔ شہباز شریف کی باتوں سے واضع ہے کہ یہ حالات ایک تاریخ بنے گا، لہذا اچھے رائے شماری سے یہ ناکام نہیں ہونا چاہئے۔ اس صورتحال میں اب بین الاقوامی برادری کو بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
بھارتی افواج کشمیری عوام پر 8 دہائیوں سے جبروں کے قبضے میں ہیں اور اب یہ لوگ اپنے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں؟ اس صورتحال پر انہیں فوری حل کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے، لیکن ابھی بھی یہ سچ نہیں ہو سکا کہ ان لوگوں نے اپنے حق کو ہمیشہ خود جانتے ہوئے ہیں؟
ایسا تو دیکھیے، یہ دیکھنا ایک عظیم فائدہ ہے کہ دنیا بھر سے لوگ پاکستان کی جانب نکل کر ان لوگوں کی حمایت کی رہے ہیں جن پر بھارتی افواج کی ظلمیت کی گئی ہے۔ یہ ایک بات تو صاف ہو گی کہ ان لوگوں کو اپنا حق دیا جائے، لیکن اس میں اب بھی اچھا نتیجہ نہیں مل رہا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اس صورتحال سے تعلم حاصل ہو گیا ہے، وہاں تک کہ دنیا بھر کی ایسی جگہیں جہاں کوئی بھی حکومت اپنے شعبہ و غarb کے لیے اپنی طاقت اٹھانے کی کوشش کر رہی ہو، اس میں ایسے لوگ آئے جبhen انہوں نے اپنے شعبہ و غarb کے لیے اپنا آپ کو قربان کر دیا ہوتا۔