انٹرنیشنل کی سلامتی کونسل نے 5 جنوری 1949 کو ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میں کشمیر کے مستقبل پر فیصلہ لگانے کے لیے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ قرارداد ایک دیرینہ معاملہ ہے جس کے بارے میں بھارت نے لگاتار کہا ہے کہ وہ اسے تسلیم کرے گی، لیکن یہ عہد پورا نہیں ہو سکا کیونکہ بھارت نے ایسا نہیں کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں یہ بات پھیلانے کی کوشش کی کہ اس عہد کو تسلیم کرنے کے لیے بھارت کو اچھی طرح سے تیار ہونا چاہیے، اس لیے کہ بھارت نے پانچ دہائیوں میں مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے اور یہاں کے عوام کو غیرقانونی طور پر جبزاتیں کیے گئی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئے جس سے بھارت کی جبروتیں ختم ہون۔
دنیا بھر میں کشمیری یوم حق خود ارادیت منای رہے ہیں، اس موقع پر پاکستان اور مقبوضہ کشمیر سمیت لوگ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔
یہ تو ایک بڑا معاملہ ہے، انٹرنیشنل سیفٹی کونسل نے اسی سال ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کشمیر کے مستقبل پر فیصلہ لگانے کے لیے آزادانہ اور غیرجانبدaranہ رائے شماری کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب تک وہ عہد نہیں ہو سکا ہے کہ بھارت اسے تسلیم کرے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی بات سے یہی بات چلتी ہے کہ بھارت کو اچھی طرح سے تیار ہونا ہوگا، لہٰذا ان کے قبضے پر مقبوضہ کشمیر کی عوام کو واپس کرایا جائے گا۔
دنیا بھر میں کشمیری یوم حق خود ارادیت منای رہے ہیں، اور ایسے ہی مقبوضہ کشمیر سمیت لوگ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں، یہ تو ان کی بات سے صاف بات چلتी ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں جو بھارت کی جبروتیں ختم کر دèn۔
یہ معاملہ بالکل ایک بڑا معاملہ ہے، لیکن دنیا بھر میں لوگ ان کے حقوق کی طرف ہی بھاگ رہے ہیں، اور Hopefully ان کی بات سے صاف بات چلتے رہیں گی۔
اس قرارداد کی بات کر رہا ہو تو یہ بھی بات چیت ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے لوگ ایسے معاملات میں دوسرے ممالک سے مدد لینے پر انحصار نہیں کرنا چاہئے، ان्हیں اپنی جدوجہد کی کوئی کمی نہ ہو کیونکہ وہ خود ہی اس معاملے کا سول اور بے جانبدار حل کر سکتی ہیں…
اس عہد کی بھرپور مندرجہ قرار دیکھتے ہیں اور پھر بھی یہ نتیجہ ہٹنے کا بھی نتیجہ ان کا ہے کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ کشمیر کے مستقبل پر فیصلہ لگانے سے پہلے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کی ضرورت ہے لیکن انہوں نے یہ سمجھنا ایک مشکل بات ہے کہ اگر وہ یہ رائے شماری سے پچتے ہیں تو یہ اسے اپنی جبروتیں تسلیم کرنے پر مجبور کریں گے ۔
اس دیرینہ معاملے میں توجہ دینا بھی اچھا نہیں ہو سکا کہ اس پر یقینی طور پر بات چیت کرنا بھیPossible نہیں ہو سکا، پھر بھی شہباز شریف کی بیان میں ایک اچھا مشاور تھا کہ پاکستان کو دوسری طرف جانے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
ایسے میڈیٹشن کے ذریعے یہ معاملہ حل ہو سکتا ہے، لیکن اس پر بھی پوری دہائی بھر تک توجہ دینا کی ضرورت ہے۔
اس وقت کے لیے شہباز شریف کی بات منزل پر ہے اور اگر ہم اس معاملے میں ایک نئی توجہ دینے کا بھی ایڈرینال کورس چुनتے ہیں تو اس کی بھی اپنی فائدہ پہنچانے کی سंभावनات ہو سکتی ہیں
ایسا تو کیا ہوا ہو گا کہ بھارت ایک روز یہ عہد تسلیم کرے گی؟ یہ بات سچم نہیں ہے کہ ان پر یہ عہد پورا ہونے کی کوشش کرنا آسان نہیں ہو گا، انہوں نے دھمکیوں اور جبر دے کر 50 سال تک مقبوضہ کشمیر پر قبضہ رکھا ہوا ہے اور اب بھی اس کا ایسا نتیجہ نہیں ہو سکا ہے۔ میں یہاں تک سے ہمیشہ کہتا آیا تھا کہ کشمیر کا مستقبل اس وقت ہی عکاس رہے گا جب بھارت ایک مستحکم اور جمہوری حکومت قائم کرے گا، لیکن یہاں تک کہ اب بھی بھارت کی حکومت غیر معقول اور جہیل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
اس تاریخی قرارداد کو پورا کرنا ایک مشکل کام ہو گا، بھارت کی جانب سے اسے تسلیم کرنے میں ان کی موہت ہے اور وہ اسے توازن دیکھ سکتے ہیں... مگر یہاں یہ بات ضروری ہے کہ پاکستان کے پاس اپنی تیز رفتار اور صریح رائے بھی ہونی چاہیے، اگر پاکستان سلیقے تو اس عہد کو تسلیم کرنے میں ناکام رہنا پڑے گا...
اس قرارداد کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی لازمی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی جھریں اور دھرتیں بھی سکڑنے پڑیں، کیونکہ یہاں پر بھارتی فوج کا قبضہ ایک دیرینہ حادث ہے... یہے رائے شماری کا معاملہ ایسے ہی ہونا چاہیے جیسا کہ بین الاقوامی برادری نے منع کر دیا تھا...
اس عہد کو تسلیم کرنا ہی نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا چاہئے۔ بھارت کے ساتھ ایسا ہونا نہیں کہ ہم لوگ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہوں، بلکہ وہ ہی اس پر عمل کریں جو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔
اس کے بعد بھی یہ بات یقینی نہیں کہ پانچ دہائیوں میں مقبوضہ کشمیر پر قبضہ ہوا یا نہ ہوا۔ لیکن اس بات پر ایک بات پوری ہوئی ہے کہ یہ لوگ اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں اور اچھا وہی ہو گا جو ایسا نہیں کرتا۔
یہ بھی ایک دیرینہ معاملہ ہے۔ بھارت نے پانچ دہائیوں سے کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے اور عوام کو جبزاتیں کیے گئی ہیں، تو اب ان لوگوں کے حقوق کے حوالے دینا ایک مشکل کام ہوگیا ہے। शہباز شریف نے بات کی ہے کہ بھارت کو تیار ہونا چاہیے، لیکن یہ سچ ہے یا نہیں؟ پانچ دہائیوں سے قبضہ کرنا اور عوام پر جبر کیے جانے کے بعد بھارت کو اسے چھوڑنا اور_rights دیانا ایک آسان کام نہیں ہوگا। دنیا کی بین الاقوامی برادری کو یہی بات سوجھنی چاہئی کہ بھارت کو اپنے عملوں کی جبروتیں ختم کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے
وہ عہد جسے شہbaz شریف نے ذکر کیا ہے وہ ایک پرانا معاملہ ہے، لیکن بھارت کے اس رویے سے متعین ہی نہیں ہوگا کہ وہ اسے تو تسلیم کرنے کی کوشش کریں گے یا نہیں? شہباز شریف کی بات ایک دوسری طرف بھی ہار میند ہوگی، کیونکہ پانچ دہائیوں میں مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنے کے بعد بھارت نے اس معاملے کو توازن دینے سے ہی دور رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عہد پورا نہیں ہوسکتا، اس لیے پاکستان کو ابھی بھی اپنے حقوق کی لڑائی جاری رکھنی چاہئیے۔
بھارت نے پانچ دہائیوں میں مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے اور یہاں کے عوام کو غیرقانونی طور پر جبزاتیں کی گئی ہیں? اس سے پہلے تو بھارت نے ایسا کیا تاکہ وہ 5 جنوری 1949 کو ایک تاریخی قرارداد منظور کرنے پر معاف رہے؟
پاکستان اور مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں کشمیری یوم حق خود ارادیت منای رہے ہیں، لیکن کیا بھارت کو اس وقت تک جگہ نہیں دئیے گا? یہ ساتھ ساتھ ایک معاملہ ہے اور اس پر فیصلہ لگانے کے لیے آزادانہ اور غیرجانبدaranہ رائے شماری کی ضرورت ہوگی؟