برطانوی پارلیمنٹ کی ایک جماعت نے فٹ بال ورلڈ کپ کو امریکی میدانوں پر کھیلنے سے پہلے اس بات پر جोर دبایا ہے کہ اگر امریکہ گرین لینڈ کے خلاف اپنی نتیجہداری میں بڑھ کرے تو، برطانوی فٹ بال ٹیموں کو ورلڈ کپ کے دورانے سے قبل امریکی میدانوں پر کھیلنے سے پہلے اس بات پر بھی جोर دبایا ہو گا کہ وہ ٹیموں کو یہ کہہ کر ترغیب نہیں دے گی کہ وہ کس حد تک اپنی نتیجہداری میں بڑھ سکتے ہیں اور اس پر اس کی انا کی وجہ سے ایسا کیا جائے گا؟
برطانوی پارلیمانی ارکٹن سائمن ہوئر نے برطانیہ کے صدرCharles کے دورہ امریکہ اور اس کی نتیجہداری میں بڑھ کرنے پر تنقید کی ہے، اور انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا کہیں کہ وہ اپنی انا کو دکھایا کرے، جبکہ برطانوی سکریٹری خارجہ نے کہا ہے کہ یہ بات یقینی بنائی گئی ہے کہ برطانیہ اپنی سفارت کاری جاری رکھے گی اور اس میں کوئی ایسا نتیجہ نہیں نکلا جو یہ دکھایے کہ وہ امریکہ کی توہین کرنے والوں کے مقابلے میں کوئی ایسا اقدام ہے جو انہیں شرمدہ کیا جائے گا۔
اس طرح کی مہمات نہیں چلنی چڑھتیں , اگر ٹیموں کو یہی بات دیکھنے پر مجبور کیا جائے تو وہ اپنی نتیجہداری میں بڑھ کرنا ضروری بن جائے گا، اس سے پہلے کہ وہ ایسے ڈھنگ سے کام کریں جو انھیں دکھایا کرے کہ وہ کیسے اپنی نتیجہداری میں بڑھ سکتے ہیں، اور ایسا کیا جائے گا؟ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسی بات کیے جو انھیں اس پر مجبور کر دے کہ وہ اپنی نتیجہداری میں بڑھنے کے لیے یہاں ہوں اور پھر ڈیڈلز یا ٹیلی ویژن پر اس کی جڑیں کرتے ہوئے انھیں دکھائیں کہ وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں
اس ٹرسٹ میں کچھ بات کی جا رہی ہے، برطانوی پارلیمنٹ نے امریکہ سے کیا ہے؟ وہ انہیں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر توہین کرنے والوں کو شرمدہ کیا جائے گا، تو وہ بھی شرمدہ ہو جائیں گے؟ اور کس حد تک انہیں شرمدہ کیا جا سکتا ہے؟
امریکہ اور برطانیہ دونوں کی یہ بات بہت ہلکی ہے، دونوں کو ایک دوسرے پر یہ الزाम لگاتے ہیں اور ابھی وہ کہتا ہے کہ برطانیہ توہین کر رہا ہے، اور ابھی انہوں نے یہ کہا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ نے امریکہ کو توہین کیا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ دونوں کی ہی یہ بات ہے، لیکن ابھی وہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ انہیں شرمدہ کیا جائے گا، اور نہیں کہ ان کو دیکھا جائے گا؟
اس بات پر مزید توجہ دی جانی چاہیے کہ برطانیہ کی جانب سے کھیلوں کے شعبے میں اس ماحول کو چھوڑنا ایک بڑا اہل قیادہ ہے
جب کھیلوں کے شعبے میں فٹ بال ورلڈ کپ کا معاملہ ہوتا ہے تو، انہیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کھیلوں کو سب سے پہلا priority بننا چاہیے اور کسی بھی مسابقت سے مزید توجہ نہ دی جانی چاہیے
اس لئے کہ، فٹ بال ٹیموں کی ترغیب دینے سے پہلے انہیں اپنی ٹیموں کو ایسے بنانے میں مدد ملنی چاہیے کہ وہ اپنے ہر گھریلو ماحول میں سب سے بہتر رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور انہیں یہ کہہ کر ترغیب نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ اپنی نتیجہداری میں بڑھ سکتے ہیں یا نہیں
اس طرح، برطانیہ کی جانب سے کھیلوں کو ایک اہم Priority بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی ٹیموں کو ایسے بنا سکے جہاں وہ ہر گھریلو ماحول میں سب سے بہتر رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
یہ تو بہت عجیب بات ہے کہ پارلیمانی ارکٹن سائمن ہوئر نے امریکی صدر کو دھمپ دے رہے ہیں، یہ ان پر ہمیں بھی بھوک لگاتی ہے کہ وہ کیا کروں گے؟ اس نے ایسا مشورہ دیا کہ Donald Trump اپنی انا کو دکھای کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہو کہ وہ کیسے بڑھ سکتے ہیں؟ لیکن اچھا ہے کہ برطانوی سفارت کاری نے ایسا کہیا ہے کہ وہ اپنی سفارتی جاری رکھنگی اور اس میں کوئی معاملہ نہیں ہو گا جو انہیں یقینی بنائے گا کہ وہ ایسے ہی کھیلتے رہیں گے جنہیں وہ چاہتے ہیں (انہیں ایسی فٹ بال کی ضرورت نہیں ہے)
اس میں یہ بات ہی سے چھپ جاتی ہے کہ برطانیہ کی سفارت کاری نے اچھی نہیں کی ہے، اس لیے انہوں نے اس کو ایسا ٹرائیڈل میں ڈال دیا ہے جہاں اس پر معائنہ کرنا بھی مشکل ہے اور اس کے نتیجے سے کچھ نتیجہ نہیں نکلا ہو گا!
اس بارے میں بات کی جائے تو، اگر امریکہ گرین لینڈ کے خلاف بڑھتا ہے تو یہ توہین کر رہا ہے، اور اب انہوں نے برطانیہ کو ایسا پیغام دیا ہے کہ اگر وہ اپنی نتیجہداری میں بڑھ سکتے ہیں تو یہ کیسے کر رہے ہیں؟
چلا کے، اگر برطانیہ ڈونلڈ ٹرمپ کو دکھایا کرے تو یہ کہنا بھی ہو گا کہ وہ ایسے ہیں جو اپنی سفارت کاری کرتے ہیں!
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر معاملے میں فٹ بال کی بات تو چاہے وہ نتیجہ داری یا اس میں ترغیب، اس بات پر زور دبایا جائے کہ امریکہ کو اپنے میدانوں پر ورلڈ کپ کھیلنے سے پہلے اسی فٹ بال ٹیموں کی ترغیب نہ دی جائے جو اس میں بڑھ کرنے کی توفیق رکھتی ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف امریکی میدانوں پر ورلڈ کپ کھیلنے سے ہی نہیں ہوگا اس بات کو بھی دھیما کرنا چاہیے کہ اگر وہ ٹیمز آپنی نتیجہداری میں بڑھ کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو اور نہیں!
ایسا سے یہ فیصلہ لینا مشکل ہوگا کہ وہ ٹیمز کتنی حد تک اپنی نتیجہداری میں بڑھ سکتی ہے اور اس پر ان کی انا کیا اثر پڑے گا!
ایس لئے یہ بات دہلے کی جائے کہ اس فیصلے کو ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انا کے ساتھ لیکھ کر پیش کریں اور برطانیہ کے سے پوچھیں کہ وہ امریکہ کی نتیجہداری میں بڑھنے کی کوئی وجہ نہیں!
اس طرح یہ فیصلہ لینا مشکل ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ نے اس بات پر جोर دبایا ہے کہ یہ فیصلہ کتنی حد تک ٹیمز کو انہیں شرمدہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے!
اس پر توجہ دیتے ہوئے یہ بات بھی توجہ دی جاتی ہے کہ فٹ بال ورلڈ کپ میں امریکہ کی جانب سے ہمیشہ زیادہ انا فرسٹ کلاز پر دکھایا گیا ہوتا ہے اور اب یہ بات یقینی بن چکی ہے کہ برطانوی ٹیموں کو بھی ایسی ہدایت کی جائے گئے، جو ان کے لیے پچیس ڈالر سے اٹھ کر سات ہزار ڈالر تک ہو جائیں گے۔ یہ بھی ایک بات ہے کہ اس پر کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو؟
بہت سی ٹیموں نے امریکہ میں فٹ بال ورلڈ کپ کھیلنے سے پہلے خود کو محفوظ کر لیا ہوگا، اور اب یہ بات تو ایک حقیقت ہوگی کہ بھی اس کس کی نتیجہداری میں بڑھ جائے وہ بھی فائدہ پزیر ہوگا
اس نئی پالیسی سے مراقب ہو رہا ہے کہ برطانوی فٹ بال ٹیم کو امریکی میدانوں پر کھیلنا پڑے گا ، ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی نتیجہداری میں بڑھ کرنے کی بجائے اپنی فٹ بال ٹیم کو یہ کہنا پڑے گا کہ وہ کیسے اپنی حد تک بڑھ سکتے ہیں
اس نئی پالیسی پر تنقید کرنے والوں کی بات سچ ہوسکتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ امریکی میدانوں پر کھیلنے سے پہلے ٹیم کو یہ کہنا نہیں دیتے کہ وہ کیسے اپنی حد تک بڑھ سکتے ہیں
برطانوی پارلیمانی ارکٹن سائمن ہوئر کی بات سچ ہوسکتی ہے، اس نے صدر Charles کے دورہ امریکہ پر تنقید کی ہے اور مشورہ دیا ہے کہ Donald Trump کو اپنی انا کو دکھانا پڑے گا
لیکن برطانوی سکریٹری خارجہ کی بات بھی سچ ہوسکتی ہے، یہ بات یقینی بنائی گئی ہے کہ برطانیہ اپنی سفارت کاری جاری رکھے گی اور اس میں کوئی ایسا نتیجہ نکلا جو اس کے لیے خطرناک ثابت ہو
یہ بات دیر سے ہو رہی ہے کہ میڈن نچنے کی کھیل میں کیسے نئی اٹھائی کھینچی جائے؟ امریکی میدانوں پر ورلڈ کپ، یہ ایک خوفناک بات ہے، بہت سارے لوگ اس پر نظر انداز ہی رہ گئے ہیں اور اب یہ بات ٹھیک ہو چکی ہے کہ یہ ایک خطرناک تصادم ہو گا، بھالے وہ آگے بڑھتے رہیں یا پھٹ جائیں، میڈن نچنا ہی ان کا لئے ساتھ ہوا ہو گی، اس بات پر کبھی ایسا فائدہ نہیں آتا کہ وہ اپنی نتیجہداری میں بڑھ کرکے پچتاو کی بات نہیں کرسکتے، اب تک ہو چکا ہے کہ جب ایسا کیا جائے گا، اس پر انہیں اپنی ذمہ داری کیسے سنبھالے؟
اس بات پر ہم لوگ کیا خیال کرتے ہیں؟ فٹ بال ورلڈ کپ میں امریکہ کی بھرپور شراکت، لیکن جب انہوں نے ایسا کہا تو یہ بات کچھ حیران کن ہے
اس نتیجہداری میں بڑھنا ٹیموں کی ترغیب دیتی ہے، لیکن اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ یہ کیسے کیا جائے گا؟ وہ کیسے بتائیں ٹیموں کو کس حد تک بڑھ سکتی ہے، اور اس پر انا کی وجہ سے؟ یہ تو ایک حقیقت ہے کہ ٹیموں کو کسی حد تک اپنی نتیجہداری میں بڑھنے کے لئے ترغیب دی جاتی ہے، لیکن اس پر یہ کیا علاج کی جا سکتی ہے؟
جب بھی وہ فٹ بال میچ ہوتے ہیں تو مینے سوچتا ہوں کہ کیا یہ بہت اچھا تصور ہے کہ ٹیم بہتر بننے پر کوئی دباؤ پڑے؟ اس میں کیا ہوتا ہے یہ کہ کھلاڈوں کی صحت اور فٹнес پہ سب سے زیادہ توجہ دی جائے، بلکہ ان کے دماغ کو بھی اس sport میں لگاؤ ہوتا ہوا بنایا جائے?
عجب، یہ راز تو حقیقی ہے کہ نہ کہیں امریکہ میں بھی لوگ تھکے بھی ہوتے ہیں اور نہ کہیں سے توہین دہلیڈی کے لئے کی جاتی ہے... یوں تو وہاں پر فٹ بال ورلڈ کپ کھیلنا ایک بڑا موقع ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لوگ کو کیا میرت و نتیجہداری میں بڑھنا پڑے گا... لگتا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ ان کی پوری پابندیوں اور نیتوں کے خلاف ہی تھا...