اگر اس وقت یورپ بھر میں ایک ایسی صورت حال پڑ جائے جس سے اپنے تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے تو اس سے دوسروں کی پناہ لینے والوں کے لیے بھی ایک خطرناک موڈ میں ہر جگہ مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ اس پر یورپ نے پہلی بار کہا ہے کہ اگر اسے دباؤ دبایا جائے تو اس کی رد عمل متحد، مضبوط اور متناسب ہوگا۔
امریکہ میں اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد یورپی یونین نے اپنی پالیسی کو خطرناک قرار دیا ہے اور انھوں نے یورپی ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔
ایسے حالات میں یورپ بھر سے شدید تشویش کا اظہار ہو رہا ہے اور اس نے یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت سے پوچھا ہے کہ اگر دباؤ بڑھایا جائے تو یہ ردِعمل کیسے ہوگا۔
اگر دباؤ بڑھایا جائے تو اس کا ردِعمل متحد، مضبوط اور متناسب ہوگا اور یورپ اپنی سچائی کو ظاہر کرے گا۔
یہ دیکھتے ہوئے ہر جگہ یورپی قیادت کی پالیسی کے خلاف مظاہرے اور تحریکیں ہو رہی ہیں۔ اس تنازع میں یورپ کو ایک واضح عین دھندلا لگ رہا ہے جو اپنے مفاد کے لیے دوسروں پر دباؤ دے گا اور اس سے نکلنا پڑے گا۔
یورپ کی یہ پالیسی تو آج بھی مظاہرے اور تحریکیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس نے دباؤ تھوڑا سا بڑھایا تو وہ ان لوگوں پر پھنس جائے جو اسے پسند کرنے کی آزادیت کے حقدار ہیں. یہ دیکھتے ہوئے یورپی قیادت کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ اپنے لوگوں کا کس طرح سے خیال رکھیں اور ان کی پناہ لینے والوں پر کیسے اثر انداز ہوں گے.
یورپ کی یہ پالیسی دیکھتے ہوئے انھیں سمجھنا چاہئے کہ انھوں نے دوسروں پر دباؤ دیا تو وہ بھی متحد، مضبوط اور متناسق ردِ عمل کرنے کی کوشش کریں گے، لہذا یورپی قیادت کو انھیں سمجھنا چاہئے کہ اپنی پالیسیوں سے کسی بھی ایسے شخص یا جماعت پر دباؤ ڈالنے سے انھیں نقصان ہوا جا سکتی ہے۔
یہ ایک خطرناک موڈ ہے جب کسی ملک اپنی پالیسیوں کو بھرپور طور پر ظاہر کرتا ہے اور دوسروں سے نکلنا چاہتا ہے۔ ایسے میں یورپی قیادت کو اس کی پالیسیوں کو اپنے مفاد کے لیے تبدیل کرنا نہیں چاہئے بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو سمجھنا اور ان کی problems سے نمٹنا چاہئے۔
جب کسی شخص نے اپنے مفاد کے لیے دوسرے پر پانی ڈالا تو وہ اچھا رہتا ہے یا بدلے میں اور بدلے سے پانی پینے لگتا ہے؟ یہی صورتحال ہے جس پر یورپ نے پہلی بار دباؤ دبایا ہے، اب انھوں نے اپنے مفاد کے لیے دوسروں کو دباؤ میں رکھنا شروع کر دیا ہے۔
ایسے لگتا ہے کہ یورپ کو اپنے تعلقات کو دوسروں کے ساتھ بہتر بنانے کی بجائے ان کا دباؤ زیادہ کرنا شروع کر دیا جا رہا ہے۔ مظاہرے اور تحریکیں ہو رہی ہیں تو پھر یورپ نے کیا ہے؟ یہ لوگوں کی سچائی کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے یا صرف اپنے مفاد کے لیے دوسروں پر دباؤ دے رہا ہے؟
یورپ میں یہ صورتحال کچھ ہی دنوں میں شروع ہوگی، اور پہلے ہی دباؤ بڑھنے کا خوف عام ہے ۔ اور یہ بات بھی کہی جا چکی ہے کہ یہ مظاہرے تیزی سے بدلتے رہتے ہیں، پہلے وہ اچھے لئے تھے ، اب ان میں غضبہ اور خوف کی بیداری ہوگئی ہے ۔ اس صورتحال سے یورپ کا تعلقات دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ برقرار رہنے کا سوال پیدا کرے گا اور دوسروں کی پناہ لینے والوں کو بھی یہ سمجھنی پیگئی ہوگی کہ وہ یورپ میں آکر سچائی سے نہیں کلام کرتے ۔
یہ تو یورپ کی نالیوں میں پانی ڈالتا ہے کہ یہ اپنی پالیسی کو خطرناک قرار دیتا ہے اور اس سے بعد میں مظاہرے اور تحریکیں ہو جاتی ہیں۔ یہ نہیں کہیں اور نہیں کہیں دباؤ ڈالتا ہے تو لگتا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کا ردِ عمل کیسے ہو گا۔ یورپ کی قیادت نے اپنے تحفظ کے لیے ایسے منظر کو بڑھایا ہے جو ابھی اچھی طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔
یہ کیسے ممکن ہوگا؟ یورپ کی پالیسی ایسے ہی جھلکیں لے رہی ہے جو اس کے پیروکاروں میں بھی مظاہرے اور تحریکیں جنم دے رہی ہیں! یہ دیکھتے ہوئے اچھا لگتا ہے کہ یورپی قیادت اس پر غور کرے کیوں نہ کرے? پھر بھی یہ کہنا کہ اگر دباؤ بڑھایا جائے تو ردِ عمل متحد، مضبوط اور متناسب ہوگا... یہ تو لاجے کیسے بھول دیجئے!
یہ یورپی یونین کی پالیسیوں پر ایک بھرپور تجاویز ہے...جب کہ یہ بات واضح ہے کہ اگر اس پر دباؤ دیا جائے تو میں نہیں پٹنگ، میرا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو حقیقی طور پر سمجھائی جا۔
اس وقت یورپی ممالک بہت متاثر ہو رہے ہیں...کیونکہ پہلے بھی انھوں نے ایسا دیکھا تھا کہ کیپ ٹاؤن جیسے حالات ہوتے تو اس پر نیند نہیں آتی۔ اور اب نئی صورتحال پڑنے لگی ہے تو یہاں تک کہ مظاہرے ہونے لگتے ہیں...کیوں؟
یورپ بھر کو ایسا سمجھنی چاہئے کہ وہ اپنے تعلقات کو نقصان پہنچانے سے پہلے اس کی پوری وجہ جانتا ہو। اگر انہیں یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ دوسروں کو نقصان پہنچایا جانا تاکہ وہ اپنی جگہ پر چل سکیں تو ان کی پریشانیوں کی سمجھ میں آنی چاہئے اور اس کے بعد ہی کسی بھی کو دباؤ کرنا چاہئے۔
ایسے صورتحال میں یورپ بھر کی ترقی کو ٹھیک نہیں ہوگا۔ اگر یورپی یونین اپنی اس پالیسی پر کہیں تو یہ نتیجہ ہوگا کہ یورپ کے دیگر ممالک اس سے باہر رہتے ہیں اور ایسے حالات میں بین الاقوامی تعلقات بھی کمزور ہوجاتے ہیں۔
یورپ کی یہ پالیسی بھلا وہ پہلے ہی ایسا ہی کیا کرتا تھا جب پیٹرول کے بارے میں بات کی جاتی تھی اور نہ پوچھتے ہی دوسروں پر فوجی کارروائی کیا کر لیتا تھا۔ اب یہ ایسا نہیں ہوتا، اس میں سے کوئی بھی جگہ بھلا ہمیشہ وطن کے لئے اور اپنے ملک کی تحریک کے لئے قدم رخاتا ہو۔
یہ طویل وقت ہو گیا ہے کہ یورپ بھر میں ایسے معاملات کی تلوار رہی ہے جو اسے دوسروں کی پناہ لینے والوں سے خوفزدہ کر رہی ہیں! نہ تو یورپی یونین کو ایسے معاملات میں مداخلت کا امکان ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے دوسروں پر دباؤ دینا چاہیے! یہ پورا موڈ ایک خطرناک لہر میں بھر گیا ہے جو نکلنا پڑے گا اور اس سے نکلنا مشکل ہو جائے گا!
یہ سب کو یقیناً ایک خطرناک صورتحال کے سامنے لے رہا ہے، یورپ کی بھرپور اور منظم مظاہروں سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ ایسے دباؤ میں ہی نہ رہ سکتے ہیں جس سے ان کے تعلقات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
لہذا، یہ ضروری ہے کہ یورپی قیادت کو اپنی پالیسیوں پر لگام لگانے کے لیے ایک متنازعہ اور غیر مسامحہ خیز موڑ میں چلنا پڑے گا، اس سے بھگتنا پڑے گا جس کی وجہ سے لوگ نا بھال کرتے ہیں اور یہ ایک خطرناک ماحول بن جاتا ہے۔
یہ بھی یورپ کی ایسی صورت حال ہو رہی ہے جیسا کہ لوگ ہمیشہ کہتے آئے کہ اس پر مظاہرے کرنا چاہیے اور دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ طاقت کا نشان ہو رہا ہے، ایک شخص کو دوسرے پر دباؤ دیکر پورا ملک متاثر کرنا۔ اس سے یورپ کی پالیسیوں پر غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اور لوگ سوچنے لگتے ہیں کہ وہ ملک بھر میں متحد نہیں ہیں، صرف ایک شخص کی غلطی پر بنتے ہیں۔
عجीबے، یہ واقعات ہر جگہ تشویش لائیں ہیں اور لوگوں کی جانب سے ایسے مواقع پر بھی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں کہ اس میں کسی کی جان لگتی ہے۔ یورپ نے اپنی پالیسی کو خطرناک قرار دیا ہے اور دوسروں پر بھی دباؤ دکھایا ہے تو اس سے کسی کے لیے بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ مگر یہ ایسا کیسے ہوگا؟
اس وقت یورپ میں ہونے والی صورتحال بہت کھاتوں کے لیے خطرناک لگ رہی ہے، ایسے حالات میں دوسروں سے پناہ لینے والوں کے لیے یہ بھی مظاہرے اور تحریکیں ہونے کو نہیں چاہئیں، اس سے یورپ کے تعلقات نقصان پہنچ جائیں گے۔