کراچی؛ 2026 میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل کا پہلا واقعہ، 18 سالہ نوجوان جاں بحق | Express News

عقلمند

Well-known member
کراچی میں فائرنگ کا واقعہ ڈکیتی مزاحمت کی جانب سے اٹھایا گیا 18 سالہ نوجوان جاں بحق ہوا
کراچی شہر میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس پر ایک نئے سال 2026 میں ڈکیتی مزاحمت کی جانب سے اٹھایا گیا 18 سالہ نوجوان جاں بحق ہوا۔

پولیس کے مطابق نیو کراچی سیکٹر 5 ایل رضوان مسجد کے قریب فائرنگ کا واقعہ ڈکیتی مزاحمت کا شاخسانہ نکلا جس میں 18 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگئے، اس میں پولیس نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے نوجوان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جنہیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مقتول کی شناخت سعد جاوید کے نام سے ہوئی، جنہیں ڈاکوؤں نے مزاحمت پر گولی مار کر قتل کیا۔

یہ واقعہ نیو کراچی میں سال 2026 میں ہونے والا دوسرا موت ہے جس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ شہر میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور دوسرے جیسا ایسا واقعہ آتا جاتا رہا۔

ایک ہی دن لانڈھی میں گیارھویں جماعت کی طالبہ کومل کو دو روز قبل ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس (2025) میں ڈکیتی مزاحمت پر 86 افراد قتل ہوئے تھے، اور اب ان واقعات کی ایک نئی لین-دہن ہو گئی جس سے کراچی شہر کو بھی دوسرے شہروں کے شعبے میں رکھا ہوا لگتا ہے۔
 
اس واقعہ پر منظر نامہ دینے کے بعد میرے لئے ایسا لگتا ہے کہ ڈکیتی مزاحمت کی جانب سے ہونے والی فائرنگوں نے شہر میں ایسی خوفناک نسل پھیل دی ہوئی ہے جس کا کوئی حل نظر آتا ہے۔

میری رائے میں یہ بات کافی غمزناک ہے کہ 18 سالہ نوجوان جاں بحق ہوئے، جو شہر کی یوونسٹی کا ایک اچھا رکن تھا۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکوؤں کے ہاتھ میں شہر کا کوئی دوسرا نہیں رہتا اور ان کے ہاتھ ہونے والے واقعات کی ایک نئی لین-دہن ہو گئی ہے۔

اس واقعہ سے کراچی شہر کے لوگوں کو بھی بھیڑ و خوف ہوا کرنا پڑی ہے، اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شہر میں ڈاکوؤں کی موجودگی سے شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور اس کا خلاف کیا جائے گا?
 
ایسا نہیں ہو سکتا کہ پولیٹیکل پارٹیوں نے یہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت کی جانب سے اٹھایا گیا 18 سالہ نوجوان جاں بحق ہونے پر لین-دہن بھاری کیا ہو گا، نا ہی اس سے یہ بات نہیں سامنے آئی کہ دوسرے شہروں میں کراچی کی طرح ڈکیتی مزاحمت کی جانب سے ہاتھ پھیلائے جا رہے ہیں؟
 
اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جو بھی ہوتا ہے وہ ڈرامہ بن رہا ہے اور سے بھی نئے واقعات آ رہے ہیں جو لگتے ہیں کہ شہر کے لوگوں کی جان و مال کی محفوظت کو کس پر بھی ٹھیک خیال نہیں کرنا پڑے گا۔
 
اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈکیتی مزاحمت کی نیند سنتی ہوئی ہے اور اب اس پر کسی بھی دھارے کی کہنیت سے نہ چلنا چاہئے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شہر میں رہنے والے لوگ اپنی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے ایسے اقدامات پر زور دینا چاہیے جس سے اس واقعے کا پھیلاؤ نہ ہو سکے۔
 
میری بات یہ ہے کہ اس نوجوان کی جان کو چھوڑنا بھی ایسا ہی ہی تھا جو دوسرے شہروں میں ہوتا رہتا ہے! یہی وجہ ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ ڈکیتی مزاحمت سے ناجائز غصہ ہو رہا ہے۔

لیکن اور، یہ نوجوان کی جان کو چھوڑنا بھی ایسا ہی کرونا ہی تھا جو ڈاکوؤں کو اچھا دیکھنے کی اجازت دیتا ہے! مجھے یقین نہیں ہوتا کہ شہر میں ڈکٹی مزاحمت سے شہریوں کو محفوظ رکھنا مشکل ہے۔

ایسے میں یہ بات یقینات ہے کہ ایک دوسرے سے سلوک کرنا چاہئے، نہ جہالت اور نہ اہل قاطع۔
 
یہ ڈاکویت کی جانب سے اٹھنے والے ایسے واقعات نہیں ہوتے جن میں ہلچل نہ ہوتی۔ یہ بہت سارے نوجوانوں کو جائیداد سے محروم کر رہا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ اپنی خاندانوں کو بھی گملا ہوا۔ اگر ہمیں پچاس سال قبل یہ situación نہ ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ہم دوسرے لوگ جیسا ہی ان کا تعاطف کرتے تھے۔ اب ہمیں پچاس سال قبل اسی سے بھی ہمت ہوتی کہ وہ ساتھ ہوں گے؟
 
ایسے واقعات کے سائے کراچی شہر کی زندگی بھی آگ لگ گئی 🚒💥 جبکہ ڈاکوؤں کا ایمٹا تو اچانک ہی بدل جاتا ہے 😱 ان نوجوانوں کو کیا میرتھا؟ ان کی جانوں کا ایسا بھی قیمتی تعین لگا جس کے بعد یہ کہتا ہے کہ شہر میں اس کے باوجود کچھ نہیں badalne wala 🤦‍♂️

جب تک یہ ساتھ دو سے لگتا رہا جس سے میری جان بھی خطرہ ہو جائے تو ان کا ایک شکار ہونا ضروری نہیں ہے 💔 اور ایسے ڈاکوؤں کو پکڑنا پوری ٹیم کی کوشش کر رہی ہے مگر ان کا آئین نہیں ہوتا 🙅‍♂️
 
یہ تو نوجوانوں کی جان اور زندگی کس قدر خطرناک ہوتی ہے! پھر بھی لوگ یہاں وہاں جاتے رہتے ہیں، دیکھتے ہیں اور نہیں کرتی ہیں کہ ان کو بچایا جائے! پلیٹ فارم پر لوگ اٹھتے ہیں اور اس سے پوری دنیا کو آہٹ کرتے ہیں!
 
ایسے تو اچھا نہیں، پھر ایک نئے سال میں اسی واقعات کی دوسری دھول آ جائی گی اور کراچی شہر سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا! وہ لوگوں کا جواب کیا، پھانسی میں جانے والے نوجوانوں کو سزا نہیں ملنے کی وجہ یہ ہے کہ شہر کی فوج میں سے کسی کو بھی دھمکے کا اہداف بنایا جاسکتا ہے!
 
واپس
Top