کراچی، ڈاکوؤں کی فائرنگ کے دو واقعات میں دو افراد زخمی | Express News

ڈاکٹر

Well-known member
شہر قائد میں دو مختلف واقعات میں دو افراد کو دھماکوؤں کی فائرنگ سے زخمی کیا گیا ہے، جنہیں طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

شیر شاہ کے علاقوں میں ایک مقام پر دھماکوؤں کی فائرنگ کے بعد 25 سالہ اسرار کو زخمی کیا گیا تھا۔ اس شخص کے ساتھ ان واقعات میں پہلے ہی ایک جگہ واقع رہ چکا ہے، جس پر پھر دوسرا واقعہ ہوا۔

اس وقت شہر کے لیاری علاقوں میں آگرہ تاج کالونی کا ایک مقام اس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں دھماکوؤں کی فائرنگ سے اور 30 سالہ زبیر کو زخمی کیا گیا ہے۔

اس واقعے کے بعد اس شخص کو بھی طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ یہ واقعات شہر کو دوسری بار خطرے میں پھنکا ہوا ہے، اور حکام نے ایک جگہ پر دھماکوؤں کی فائرنگ کے بعد دیگری مقامات پر بھی دیکھنے کا وعدہ کیا ہے۔
 
😩 یہ ایسا محسوس کرنا ہمیشہ کھٹکا ہوتا ہے جب شہر میں دھماکوؤں کی فائرنگ سے لوگ زخمی ہو جاتے ہیں... 25 سالہ شخص اور 30 سالہ زبیر دونوں اپنے مقامات پر کتنی تکلیف کا سامنا کر رہے تھے... یہ دیکھا جاتا ہے کہ پہلے ہی ایک مقام پر واقع ہوا تو اب اس کے بعد دوسرا واقعہ ہوتا چلا گیا... لاکھوں لوگ ہمیں یہ بات بتاتے ہیں کہ وہ شہر سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں... لیکن یہ یقیناً نہیں کہ وہ ہمیں یہ بات بتا سکतے... یہ ایک ایسا ساروں کے سامنے ہوا ہوا حال تھا جس کے نتیجے میں اس طرح کی زخمیات ہوئی ہیں...
 
اس واقعے سے مایوس ہو کر ہوتا ہے کہ کیسے لوگ ایسے تریخ کو اپنی سیکھنے کی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور انہیں نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ![😩] دوسرے taraf یہ بھی گالبستھ ہے کہ ایسے لوگوں کی جان لینا اور انہیں ٹھیک کرانا ، جو اس سے نکلنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں۔ ![😷]


اس طرح یہ واقعات ایک دوسرے پر لگتے ہوئے ہیں اور ہم کو اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ ہم انہیں منہ سے نہیں رکھنا چاہئیں بلکہ حل کے لیے سوچنا اور جسے اس سے لگتا ہے اس کی طرف بھی سوچنا۔ ![💡]
 
اس واقعے سے تو خوفناک ہے اور شہر قائد میں پھوکنا تو نہیں چاہیے وہیں اس کے باوجود یہ بات بہت پرعقل ہے کہ ایسے حالات میں حقیقی امداد کی ضرورت ہوتی ہے اور جس کا شہر کو فائدہ ہوگا وہ ہی چاہئے۔

اس سے ہر ایک کو اس بات کا خیال ہونا چاہیے کہ یہ واقعات ایسے لوگوں کی جانوں کی نہانی نہیں رہیں۔

ان واقعات سے بھگت کر شہر کو ایک نیا آغاز ہونا چاہئے جس میں سارے لوگ ملकर کام کرسکین اور اس طرح یہ خطراٰ ختم ہوجائے گا۔
 
😱 یہ واقعات توجہ کش اور خوف ناکاں ہو رہے ہیں، شہر میں انفرادی افراد کو دھماکوؤں سے زخمی کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے، اور اب یہ دو واقعات ایک دوسرے پر مبنی تھے، پھر بھی حکام نے کسی حد تک یہ سچائیوں کو تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن یہ بات واضع ہے کہ شہر میں امن کے وقت بھی انفرادی افراد پرAttack ہوتے رہتے ہیں، اور یہ ہمیں سچائیوں کو تسلیم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ کیا یہ انفرادی افراد کی جانب سے ہوتا ہے، یا یہ شہر میں موجود کسی بھی ادارے کے ذمہ ہوتا ہے?
 
یہ واقعہ کچھ سوالات لگاتار پیش کر رہا ہے... کیا ہم اس بات پر یقین کرسکتے ہیں کہ شہر میں دھماکوؤں کی فائرنگ سے پہلے بھی ان شخصوں کو دھماکوؤں کی فائرنگ کا سامنا کرنے والے ہیں اور انہیں بھی زخمی ہوا ہوگا؟

اور کیا یہ صرف شہر میں ہی نہیں، بلکہ پورے ملک میں اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں؟

آگرہ تاج کالونی میں دھماکوؤں کی فائرنگ سے نکلنے والا یہ سوال ہے کہ یہ واقعات ہمیں اس بات پر جگہ نہیں دیتے، کہ ہم اسی شہر میں رہتے ہیں جو پریشانیوں سے لپٹا ہوا ہے?

اس واقعات نے مجھے سوالات لگاتار پیش کیا ہے...
 
اس واقعات سے میں اس لئے خوفزدہ ہوں کہ جب تک ہندوستان میں دھماکوؤں کی صورتحال نہیں پریشانی کا حامل، تب یہ صورتحال نہیں چلتے گے تو اور نہیں . اس وقت شہر میں دھماکوؤں کی خطرناک صورتحال نہیں ہوتی تھی، لیکن اب یہ صورتحال پھیل رہی ہے تو یقیناً پریشانی کا حامل ہوگا.
 
تازہ واقعات سے انکار نہیں ہوگا کہ شہر میں یہی ماحول کچل رہا ہے جس سے ہم سب خوفناک حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ آگے بڑھتا، یہ لوگ دوسرے لوگوں کو ایسے واقعات میں شامل کر رہے ہیں جو ان کی زندگی کو تھوکر ڈال دیں گے... ~ 🤕
 
یہ تو دوسرے نے دوسرا ہی کیا ہے، پہلے بھی کچھ اور مقامات پر دھماکوؤں کی فائرنگ کرکے لوگ زخمی ہوئے تھے تو اب وہی کر رہے ہیں، یہ شہر جیسے ہی خطرے میں پھنکتا چلا جا رہا ہے... 🤦‍♂️
 
اس واقعے سے بہت غبروہت ہو رہا ہے، پہلے تو شیر شاہ کے علاقوں میں اور اب آگرہ تاج کالونی کی طرف سے، یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ دوسری بار شہر کو خطرے میں پھنکنے والا واقعہ ہے، اور اب یہ بات بھی پوچھنی پڑ رہی ہے کہ اس شخص کو کیوں منتقل کر دیا گیا؟ طبی امداد نہیں مل رہی تو کیوں؟

کسی جگہ پر فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد ایسا ہوتا ہے، یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جو ان کے ساتھ پہلے بھی ہو چکا تھا، اور اب وہ دوسرا واقعہ ہوا ہے، یہ تو کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا رہتا ہے، لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد کے واقعات کی جانتے پڑنے سے یہ بات بھی پوچھنی چاہئے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟
 
اس وقت یہ سوچنا مشکل ہو رہا ہے کہ شہر میں ایسے واقعات کی تعداد بھی ہوتی جائے گی؟ پہلے تازہ دھماکوں کے صورت حال میں یہ بات نہیں آئی چاہے وہ شاندار شہر قائد یاSher Shah کے علاقوں میں ہوا۔

اس سے پہلے، یہ سوچنا مشکل ہو رہا ہے کہ ان واقعات کو جوڑ کر کیا جائے گا؟ اور اس نے شہر کی زندگی کس طرح بدل دی ہے؟

اس دھماکوؤں میں زخمی ہوئے لوگ ابیھی بھی سول اسپتال میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو واپس جانے کی اجازت دی گئی ہو۔ لہٰذا، یہ بات توہین کی ہے کہ شہر قائد میں دوسرے واقعات سے اس صورتحال کو بھی جڑنا پڑے گا؟

تجربہ کے مطابق، یہ سوچنا مشکل ہو رہا ہے کہ یہ بات حقیقت میں کھل کے بتائی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس سے پہلے، یہ سوچنا مشکل ہو رہا ہے کہ یہ شہر قائد کے واقعات کو کیسے جوڑا جائے گا؟
 
اس وقت کچھ لوگ دھماکوؤں میں شہر کے خطرے کو نظر انداز کر رہے ہیں... 😒 پھر کچھ لوگ یہ سبزے دیکھتے ہیں اور دوسرے دھماکوؤں کی فائرنگ سے اپنے گھروں میں ایسے سامان خریدنا چاہئے جو دھماکوؤں سے بچایا جا سکے... ہم کو اس معاملے پر احتیاط کرنا چاہئے.
 
کیا یہ شہر اب وہیں ہے جس نے پچیس سالوں سے اپنی زندگی بدل لی تھی؟ پہلی بار کیا یہ شہر کافی تھا اور پھر اس کے بعد نہیں، اب وہیں ہی دھماکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہوتے رہتے ہیں؟

اس بات کو سمجھنا مشکل ہوگا کہ یہ شہر کس طرح بڑھ رہا ہے اور اس کی زندگی ہمیں کیا دکھائی دے گی۔ پچیس سالیں ہی سے یہی واقعات ہو رہے ہیں، اب بھی یہ شہر بھگڑا تو نہیں دھماکوؤں میں رہتا ہے۔
 
یہ تو دھماکوؤں کی فائرنگ سے سارے لوگ دکھ جاتے ہیں، اور ابھی ان دو واقعات میں بھی دو افراد زخمی ہو گئے ہیں... کیا اس وقت کو ہمارا شہر کس کی ذمہ داری نہیں لیتا? دوسرا بات یہ کہ حکام نے ایک جگہ پر دھماکوؤں کی فائرنگ کے بعد دیگرے مقامات پر بھی دیکھنے کا وعدہ کیا ہے... تو لالچا ہوا تو بھی نہیں، اور ابھی شہر کو دوسری بار خطرے میں پھنکا دیا گیا ہے... یہ کیا آپکے خوف سے کچھ چلتا ہے؟
 
اس وقت یہ بات غلط نہیں کہ شہر کے لیاری علاقوں میں اچانک واقعات ایسے ہوتے ہیں جس پر پورے شہر کو لاحق ہوجاتے ہیں۔ ابھی یہ صورتحال تین افراد سے بھری ہوئی ہے اور یہ واقعات ہی ہمیں بتا رہے ہیں کہ شہر میں کیا ہوا رہا ہے۔ اچانک دھماکوؤں کی فائرنگ نے ایسی طرح کے واقعات پیدا کر دیے ہیں جو ابھی تک ہم کو یقین نہیں دلاتے۔
[دھماکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کے صحت کا موجودہ حال](https://www.samaa.tv/pakistani-news/2025/02/dhama-ki-firing-se-zakhmi-hona-wala-dhadkan-ke-sath-bahar-ni-ai)
 
اس واقعے سے یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ کتنے افراد ہی دھماکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہو رہے ہیں یا یہ صرف ایک واقعات میں ہی ہوتا ہے؟ اور کیا یہ تمام واقعات الگ الگ افراد کی ناتھر بھی ہو گئے ہیں یا انہیں ایک دوسرے سے جوڑنا پڑ رہا ہے؟ یہ سوچنا کافی تنگ اٹھانے والا ہوتا ہے۔

میری ناکسٹ ٹائم کیپشن پر، میں ان واقعات کی جنجال و رش کو پہچانتا ہوں گا؟ یہ بات بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ واقعات کبھی نہ کبھار ہی رہتے ہیں، اور ہم انہیں پہچانتے ہیں یا نہیں۔

کئی بار میں یہ بات سोचتی ہوں کہ یہ دھماکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کیسے انہیں پہچان رہے ہیں؟ اور کیا انہیں ناتھر ہونے کی ضرورت ہے یا ان کو کسی نئے مقام پر جانا پڑ رہا ہے؟ یہ سوچنا بھی میں کی جاتی ہوں گے۔
 
اس کا آسپاس کچھ اور سوچو، یہ دونوں واقعات نہ صرف شہر کو खतरے میں پھنک رہے ہیں بلکہ ایسی صورتحال کی بھی پٹی لگ گئی ہے جو اسے دوسری بار آگ لگا کر چولہا بنا سکیgi. شہر کے لیاری علاقوں میں تاج کالونی کا مقام کیا اور اس پر ایسے واقعات کی پٹی لگنے دی، ابھی تو وہاں بچوں کے کھیل سے بھری ہوئی ہے!
 
یہ بہت خوفناک ہے اور مجھ کو یہ سچ کی لپٹ لگ رہی ہے کہ شہر میں دھماکوؤں کا ایسا واقعہ پھر سے ہوا ہے جس نے کتنے لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈाल دیا ہے۔

مگر اس وقت کی بات یہ ہے کہ ان واقعات سے بچنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کو دیکھنا چاہیے اور باقی لوگوں کو ایسے افراد کی مدد کرنی چاہیے جنہوں کو زخمی ہوا ہے، اور اسے اس بات کے لیے کہ شہر کو دوسری بار خطرے میں پھنکا نہیں جائے وہ سب کچرے سے نمٹنا چاہیں گے اور ایسے مقامات پر بھی جہاں دھماکوؤں کی فائرنگ ہوئی اسے توازن ملانے کی کوئی لالچ نہیں چاہیں۔

مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ اس صورتحال میں کسی بھی ایسے مقام پر پہچاننے کی کوئی لازمی ضرورت نہیں ہے جتنا اچھا ہو سکتا ہے۔
 
یہ تھوڑا سا حیرت انگیز ہے، شہر قائد میں ایسے واقعات ہوتے ہوئے کیونکہ دوسری بار آج بھی دھماکوؤں کی فائرنگ سے لوگ زخمی ہو رہے ہیں تو یہ کیا واقعہ ہو گا؟ پہلے اسشیر شاہ کے علاقوں میں 25 سالہ اسرار کو زخمی کیا گیا تھا، اور اب وہی طرح سے دوسرے مقام پر 30 سالہ زبیر کو زخمی کیا گیا ہے۔ یہ شہر کو دوسری بار خطرے میں پھنکا ہوا ہے، لگتا ہے کہ یہ واقعات انسداد دھماکوؤں کی کارروائیوں میں توسیع کر رہے ہیں تاہم، کوئی بات یقینی نہیں ہے کہ یہ پورے شہر پر اثر انداز ہو گا یا نہیں۔
 
یہ دوسرا بار ہوا اس شہر کو! پہلے تو ان لوگوں نے ہونے والے خطرات کے بارے میں بھی بات کی تھی اور اب یہ واقعات دیکھ کر سارے شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا گیا ہے کہ وہ کیسے رہیں؟ اب تو جب بھی کسی مقام پر دھماکوؤں کی فائرنگ ہوتے ہیں تو پورا شہر ہی دھمک مچتا ہے! یہ تو بھی نہیں رہا کہ اب ہم آگے بڑھ سکیں!
 
واپس
Top