پاکستان کی پوری پھرنسی کو پولیو سے ملزوم بنانے والی نئی مہم، انسدادِ پولیو کا منظر
وزیراعظم کی فیصلہ کن شخصت عائشہ رضا نے کہا ہے کہ بلوچستان اور لاہور میں پولیو کے کیسز کے نمٹنے میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن کراچی اور سائوتھ میں بھی یہ عادتی نہیں ہوئی ہے۔
اس وقت پوری ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کی مہم کو بھرپور ساتھ دینا ضروری ہے، اس لیے انسدادِ پولیو مہم کی بریفنگ میں عائشہ رضا نے کہا تھا کہ نئے سال 2 تا 8 فروری کو دوسری قومی انسدادِ پولیو مہم منعقد ہوگی اور اس کی تقریب میں تمام بچے، والدین اور کمیونٹی کو ایک ساتھ لایا جائے گا۔
اس مہم کا مقصد 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کا ہے اور اس لیے پوری ملک میں پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں اس جنگ میں نمایاڈ پیشرفت کی ہے لیکن پولیو کا خطرہ بدستور موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ کراچی میں ایسے مقامات پر رفیوزل کاسامنا کرنا پڑتا ہے جہاں اس Disease کی مہمت سے پولیو کا خطرہ نہیں ہوتا۔
سورے بھی چکا ہے کہ پاکستان میں پولیو کا خاتمہ ہونا ہی اچھا نہیں؟ یہ 4 کروڑ لاکھ سے زائد بچوں کو ایک ساتھ لینے کی بات کی جائے تو پوری دیکھ بھال کی بات آتی ہے، بلوچستان اور لاہور میں ہی نہ ہو سکتا ہے کہ اس کو ملک بھر میں لایا جائے۔
لہٰذا، یہ سانس کی ایک بات ہے یا ہمارے سربراہین نے اسے سمجھی ہے یا ہم کو کچھ نئی چیز کی پیٹ لگنے دی ہو؟ پوری ملک میں پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پلائیں تو اس سے صرف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑی دیکھ بھال کی گئی ہو، اور اگر یہ حقیقی لکیر ہے تو ہمیں پوری دیکھ بھال کرنا پڑے گی۔
سورے بھی تھے جب ہم نے کہا تھا کہ یہ مہم صرف ایک چھوٹی بات ہے، لیکن اب اسے منعقد کرنا پڑ رہا ہے، تو اب یہ سچ میں نہیں رہی گی۔
پھرنس کو پولیو سے ملزوم بنانے والی نئی مہم، انسدادِ پولیو کا منظر اچھا ہے۔ وہ لوگ جو پوری ملک میں پولیو کی جانب سے لڑ رہے ہیں، انہیں تھمب پر گیند کرنا چاہئیے۔ پلیٹورز کیسز کی نمٹنے میں کمی دیکھنے پر انہیں اچھی طرح سے نظر آنا چاہئیے۔ کراچی میں نہیں بلوچستان یا لاہور میں، اسی وجہ سے یہ نہیں ہوا۔
پolio kahan jaata hai? thoda sa bhi nahi hai, bas ek cheez hai. woh bhi uske liye hamari pasand ki hai . ab kal kaal mehman bani hai aur humein pehle se aisa hi khelna padega. agar chalo kehna hota to lagbhag 4 crore 50 lakh bachon ko vaccine lagakar unki garmi utarni padegi. bas yeh sahi hai ya nahin?
agar paryavaran ki sahi se banayein to humein apne baccon ko polio se bachane ki koshish karne ka mauka milta hai, lekin agar bas bacchon ke ghar-bahar tak nikalna shuru kar denge toh yehi problem baki reh jayegi . har baccha apni jaan ki raksha karta hai par uske parents ko bhi apne baccon ke saath hona chahiye, agar woh bachchon ko polio se bachane ki koshish nahi kar rahe toh problem aage badh jayegi.
بچوں کو پھرنسی سے بچانے کی مہم کے بارے میں بات کرنا ہمیں خوش لگتی ہے جو اب تک بھی ناکام رہی ہے۔ پوری ملک میں پولیو ورکرز کی تعداد بڑھنی چاہیے تو بھی یہ بات سچ ہے کہ مہم کا مقصد صرف ان لوگوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے جس کی پھرنسی تھی، اور ابھی کراچی میں بھی اس Disease کا خطرہ موجود ہے۔ مہم کو بھرپور ساتھ دینا ضروری ہے لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس میں شامل ہونے والے لوگ جس کی پھرنسی نہیں تھی وہ بھی اس مہم کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں۔
mere dil ki dhadkan sun rahi hai jab maine padha hai ki paki stan me polio ko kam karne ke liye naya scheme chalana hai . yeh bahut achhai cheez hai. agar hum sab mil kar is campaign mein madad karen to sab se accha result milega.
meri khidmat main tumhari zaroorat hai, tumhare dil ki dhadkan sunna aur tujhe aazadi dilana . bas ek baar batao ke tum kya mahsoos kar rahe ho, tumhe kitna aasaan lag raha hai. mere saath baitho aur meri zaroorat ko poora karo.