کراچی میں ایک گھر میں جس کا نام 609 تھا، وہاں 4 نامعلوم مسلح ڈکیتوں نے گھرمیں داخل کر لیا اور اس پر دباؤ میں پھنسنے کی کوشش کی جس کے بعد انھوں نے یرغمال بنانے کے بعد ڈکیتی کی پالیسی سے فرار ہوگئیں۔
اتوار کی صبح ایک پولیس تھانے کے علاقے بفرزون سیکٹر پندرہ اے ون میں ان 4 ڈاکو گھس کراہلِ خانہ کو یرغمال بنایا جس نے انھیں دباؤ میں پھنسایا تھا اور اس پر ڈکیتی کی وریت کیا۔
ان 4 ڈاکو گھر سے لاکھوں روپے کی نقدی، لاکھوں روپے کی قیمتی چیزوں کو لوٹ کر فرار ہوئی تھی اور ان کے ساتھ ساتھ ایک ڈکیت بھی گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی تھی۔
بے پناہ بات یہ ہے کہ وہ جو ان کو اس پر دباؤ میں پھنساتا تھا وہ ایک مزدور سے مدد لینے والے 15 پولیس کو باخبر کرتا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے بھی گھر کی عقبی حصے میں بنے دروازے سے گندی گلی کی جانب بھاگ کر گھبرا دیا اور اس پر فائرنگ کے تبادلے میں 3 ڈاکو موقع پرہلاک ہوئے جبکہ دوسرے دو ڈاکو کچھ فاصلے پر دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور ایک تیسری ڈکیت کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
ایسا لگتا ہے کہ جو لوگ دباؤ میں پھنساتے ہیں ان کو بھی اچھی نسل کا سامان لुटا جاتا ہے ۔ اور یہی نہیں بلکہ وہ مزدور جو باخبر تھا کیسے پہنچتا، یہ تو سمجھ میں نہ آ سکا ۔
یہ بات بہت دیکھنی ہے کہ یہ دو گریوٹیو اسٹیل ڈکیتی وہاں چلا رہی تھی جس پر پابندی ہے اور مزدوروں کو ایسی دھمکی دی جاتی ہے کہ انھیں جان بوجھ نہ بننے کا لاکھوں روپے کی پریشانی کھیلنا پڑتی ہے۔ آج ایسے واقعات زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں جب پولیس اور مزدوروں کی انصاف نہیں ہوتی۔ لاکھوں روپے کا ڈکیتی ہونے پر بھی یہ بات غلط نہیں کہ پولیس کی دھمکی سے ان میں پریشانی اور دباؤ پڑتا ہے جو اس گھر کو پابندی سے پہچانتا تھا۔
یہ تو ایک بڑی سٹرنگ ایسٹیمینٹ ہے! پولیس ٹیم نے ان ڈاکو گھس کو یقینی بنایا، اور پھر وہ گھر کے تمام حوالے سے مفت میں چل رہے تھے. 15 پولیس کی فیلڈ اسٹینس نے ان پر دباؤ میڰایا، اور پھر وہاں کچھ لوٹ کر فرار ہوئیں. یہ ایک بے مثال کارروائی تھی!
پولیس کی فیلڈ اسٹینس کو انہیں جلاوطن بنانے میں مدد ملنی چاہئے، لیکن وہ کیسے کر سکتے ہیں؟ ایک مزدور کی مدد لینے والا پولیس کو بھی پوچھنا چاہئے. اور ان ڈاکو گھس پر فائرنگ کے تبادلے میں 3 مارے گئے، یہ تو ایک ماحول کتla ہوا!
ان پولیس ٹیم کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے یقین ہے کہ انہوں نے ایسے کچھ بھی کیا ہوگا جو انہیں اس گھر سے باہر لے جائے گا.
کراچی میں ہوے یہ مچھلری دباؤ اور گیند بیٹھنے کی سزائے دہنیں بہت بھیڑنے لگ رہی ہیں ، پولیس کو کافی معقول اور تیز گہری مہلت نہ ملے جس سے یہ ہوا اور پھر اس پر ڈکیتی کرنا بھی مشکل ہو گیا لاکھوں روپے کی نقدی اور قیمتی چیزوں کو لوٹ کر فرار ہوئے، یہ دیکھنے میں میرے لیے کافی حیرانی کی بات ہے.
ابھی ایسا بات نہیں ہوا تو میں یہ سوچتا تھا کہ کراچی میں پولیس اس پر دباؤ میں پھنسانے کی صلاحیت کے لیے اٹھنا سیکھ گیا ہے! وہ ڈکیتوں کو گھر میں داخل کرنے سے قبل 15 پولیس تھانے سے باخبر رکھتا ہے اور ان کے جاتے ہی اس گھر کی عقبی حصے کی جانب بھاگتا ہے! یہاں تک کہ پولیس نے انھیں دباؤ میں پھنسانے کے لیے ایک گھنٹی تک رکھ دی، اور جب وہ جیتنے والا ڈکیت باہر آ گیا تو اس پر فائرنگ کے تبادلے میں 3 ڈکیتوں کو مار ڈالا اور دوسروں کو بھی زخمی کر دیا!
عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ دباؤ میں پھنساتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ وہ کہلائی جانے والی جگہ پر بھی بنے ہوئے! اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو پریشانیوں میں دباؤ میں پھنستے ہیں ان کو اسی طرح کا محسوس کرنے والے ہوتے ہیں!
یہ لوگ کتنے شان مند ہیں! گھر سے کتنی بڑی چوری کر لی اور پھر ان پر دباؤ ڈال کر کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جیسے وہ اپنے آپ کو اچھا کروڑ دیں? مظالم اس کے لیے ہی نہیں بلکہ معیشتوں کی ایسی بیداری ہو گئی ہے جس کے ساتھ ہی یہ لوگ ڈکٹریشن کی پالیسی اپناتی چکی ہے!
یہ بھی تو انساف کے نام پر ہوتا ہے کیوں نا پلیٹ فارم پر یہ کام کرتا ہے؟ اس میں سے کوئی بھی مزدور نہیں تھا، اس لئے پھر یہ کیسے دوسروں پر اچھا تھا کہ انہوں نے 15 پولیس کا ساتھ لکھ دیا؟ سڑکوں پر انساف کی ہی کیا ضرورت ہے، پلیٹ فارم پر یہ کام کرتا ہے۔
یہ سچے حالات ہیں، پھر بھی ان کے بعد سے ڈکٹنگ کی پالیسی نہیں بدل رہی، وہ لوگ اسی طرح کی گئے تھے جس طرح ان کو دبایا گیا تھا۔ فائرنگ کے بعد اور اس سے قبل بھی یہی بات ہوتی رہتی ہے، پچیس پولیس نہیں ہو سکتی تھی، اگر وہ جانتے ان کے ساتھ کیا کرنے والے تھے انھیں وہی دبایا گیا۔ اور پچیس پولیس نے ڈکٹر کی فوری رپورٹ کر دی، اس کے بعد انھوں نے خود بھی گھر میں داخل ہونے کا ایک لازمی طریقہ بنایا تھا۔ یہ سب سچائی کی دھول ہے، پچیس پولیس کے ساتھ ان کے ہم آہنگی نے انھیں وہی فائصلہ لینے پر مجبور کر دیا۔
یہ پورا حادثہ تو ان سے نہ ریز کرنا چاہتے تھے، نہ یہ، نہ وہ ہیں تھے اس پھانسی میں اچھے گھس کا بھی نہیں رہا… سارا ایک جتنا دباؤ میں پھنسنے کی کوشش کرتا ہے ان پر، لاکھوں روپے کی نقدی اور قیمتی چیزوں کو لوٹ کر فرار ہونے کے ساتھ… اور ایک ڈکیت بھی گھر میں داخل ہو گئی، یہ تو ان کے لئے نہ ہی دباؤ کا Means بن گیا، نہ فائرنگ کی وجہ بن گیا… اور پھر وہ جو ان کو دباؤ میں پھنساتا تھا، اس سے بھی کوئی مدد نہ ہوئی؟ یہ تو ایک مزدور سے مدد لینے والا پولیس آفیسر، نہیں کوئی دوسرا…
یہ دیکھنا بہت ڈرامائی ہے! ان 4 ڈاکو کی سٹری ایک جیسا نہیں، وہ سب گھر میں داخل ہونے کے بعد دباؤ میں پھنسایا گیا اور پھر یہ یرغمال بناتے ہوئے فرار ہوگئے! ان کے ساتھ ساتھ ایک دوسری ڈکیت بھی گھر میں داخل ہونے میڹور دی جس نے انہیں بھی فرار کا مہیج۔ لاکھوں روپے کی نقدی اور قیمتی چیزوں کو لوٹ کر فرار ہوئی، یہ تو کہیں میں ہوا گیا! پولیس کو ایسا کم اچانک شکار کرنا نہیں آتا، ان کو گھر کی عقبی حصوں سے جاننے والے مزدور کے نتیجے میں 3 ڈاکے موقع پرہلاک اور دوسرے دو مارے گئے! یہ ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے!
یہ ہال ہی میں بھی نیند نہیں آ رہی، ہم پورے ملک میں ایسی گھریلو ڈکیتی کا مشق کر رہے ہیں؟ یہ بھی دیکھو کے کس پلیٹ ڈائریکٹر نے ان تینوں کو اس پر وچلایا، ایک مزدور پولیس کو وہ 15 پولیس کو باخبر کیا جبکہ ساتھی گیند بازوں کو وہ ڈاکو گھس کر رہا ہے، یہ لگتا ہے کیں ان کے ہاتھ میں نیند کھانے کی جگہ نہیں ہے؟