کراچی، منگھو پیر کے قریب پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار | Express News

گیمر

Well-known member
کراچی میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ، جس سے ایک ڈاکو کو زخمی کا شکار ہونے پر گرفتار کر لیا گیا ۔ منگھو پیر میں گلشن چوک کے قریب ایسا واقعہ پیش آیا جس نے شہر پر گہرا اثر پڑایا۔ زخمی ڈاکو کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی شناخت 25 سال کی عمر والے بابر ولد محمد رمضان کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس نے اس واقعے کی مزید تحقیقات جاری رکھی ہے اور ملزم کے ممکنہ کرمنل ریکارڈ کو بھی جانچا گیا ہے تاکہ ایسے نئے واقعات پر روک سکتے ہیں جس کی وجہ سے شہر میں بھائی چارے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
 
اس نئے واقعے نے دیکھا ہے کہ ابھی ابھی ہوا تینوں سے بھی ایسے incidents آ رہے ہیں جس سے یہ بات صاف نکل پڑتی ہے کہ شہر میں بھائی چارے کی منڈی ہوئی ہو چکی ہے! فوری طبی امداد مل کر بھی نہیں رہی.
ان کے بعد سے کوئی پوسٹ ہلاک ہونے والے سائنسدان، شاعری کو لچک دेनے والے لوگوں اور اس طرح کی تینوں میں سے کسی نے بھی گولیاں نہیں چھوڑی ہوتی تو اب یہ کیسے ہوا؟
ابھی پچاس لاکھ ہونے کی بات کے بعد، اٹھنے والا کوئی بھی ہتھیار نہیں لے کر شہر میں آتا تو ہوا؟ ہتھیار چھوڑ کر گولیاں نہیں چھوڑی ہوتی؟
پوری دیکھ بھال کے ساتھ لاکھوں کو آگاہ کرنا پڑ رہا ہے، مگر جس بات پر توجہ نہیں دی گئی وہ وہی ہے جو کیا گیا۔
 
کیا یہ واقعہ پورے ملک پر بڑا اثر ڈال گا؟ پہلے سے دیکھا کہ مینگو پیر میں لوگ وہی جگہ پر رہتے ہیں جہاں ہوا کرنے اور کھانے کی بھی سہولت ہے، اب یہ بات کیسے آئے گی کہ کس طرح اس جگہ پر پولیس بھی لاحق ہو سکتی ہے؟ مجھے بتاؤ کیں کیا شہر میں ایسی نئی کامیابی پیدا کرنے کی پالیسی پر یہ گہرا اثر پڑے گا؟
 
اس وقت کراچی میں ہونے والا یہ واقعہ میں ایک بات سب سے زبردست بات ہے، ان ڈاکوؤں کی نیند کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا انصاف صرف انہیں جھرنے سے باہر لانے سے ہوسکتا ہے، لیکن یہ بات پہلے تو سوچنا نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی اس وقت بھی ہوتا جب وہ اپنی ذہانت اور مندگی کو جانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اب اس پریشان حال ہوا میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں ملا۔
 
اس گولشن چوک کی کھدाई نے نہ صرف ایک ڈاکو کو زخمی کیا بلکہ شہر کو بھی متاثر کیا ہے 🤕 مگر، یہ بات تازہ ہے کہ پولیس نے زخمی ڈاکو کو جلد سے طبی امداد دی اور وہ حالات انتھن لگ رہے ہیں 💊 مگر، یہ بھی حقیقی بات ہے کہ ایسے واقعات سے نکلنا مشکل ہوتا ہے جس سے شہر میں شائستہ کی خواہش پیدا ہوتی ہیں… مگر، یہ ویلڈ کچھاتا ہے! 🌱
 
اس دuniya میں پھنسی ہوئی ہمیں اب تو پوری طرح اس بات پر وिशwas nahi karta, ایک ساتھ پولیس اور ڈاکوؤں کا مقابلہ کسے لائے?? میرا maa baap keh rahe the ki pols bhi dako ko kyun pakadta hai??? ab to ye galat fir se ho raha hai, yeh ghar ke andar hi thoda samajh nahi aata 🤔

mera socha tha ki ye shaher police ek safed uniform pehrati hein, lekin ab yeh log dako ka bhi saath lete hain... toh kya logon ko pata nahi? pols ke liye ek cheez hai, usse koi bhi tarah ka samajh nahi aa sakta 🚔
 
یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جب سے جسمنتی اور غضب کی حقیقت میں گھناسٹری ہوتے ہیں، تو انسان کو اپنی جانب کے ساتھ چلنا پڑتا ہے اور یہاں تک کو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا ایک بد ترین مقام پر پہنچ گئی ہو، لیکن بہت سے واقعات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہمیں اپنا منظر نامہ تبدیل کرنا پڑتا ہے اور یہاں تک کہ پھر بھی شہر میں بھائی چارے پیدا ہو جاتے ہیں تاکہ اس کی وجہ سے ہمیں کوئی حقدار نہ لگے، اور یہی واقفیت ہوتی ہے۔
 
ایسا تو نہیں دیکھ رہا تھا کہ کراچی میں پکڑا گیا ہے، اب اس جگہ پر یہ محض ایک معاملہ ہی نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی عمل ہو رہا ہے، کیا ہر وار ایسا ہی رہتا ہے؟

اس کے بعد کس چیز پر توجہ دی جائے گی؟ اور شہر میں ساتھ بھائی چارے کے مواقع پیدا ہونے والا یہ معاملہ کیا ہو گا؟
 
واپس
Top