کراچی کے شہریوں کے لیے بُری خبر، کےفور منصوبے پر کام روک دیا گیا

مچھر

Well-known member
کراچی میں ایک بڑا منصوبہ جسے کے فور کے طور پر جانا جاتا ہے، اس سے لے کر یونیورسٹی روڈ تک پہنچانے کے لیے آگمینٹیشن کا کام روک دیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک کے اعتراضات اور منصوبے کے روٹ میں مجوزہ تبدیلی کے باعث یہ فیصلہ لگایا گیا ہے۔

یونیورسٹی روڈ پر آگمینٹیشن کا کام جاری تھا، تاہم ورلڈ بینک کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی اور ناکافی حفاظتی اقدامات پر اعتراضات کے بعد اسے روک دیا گیا ہے۔ منصوبے میں ڈیزائن اور روٹ سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس نے یہ فیصلہ لگایا کہ کام روکنا ضروری ہے۔

آگمینٹیشن کا کام 10 نومبر کو شروع کیا گیا تھا، لیکن اب تک صرف 10 فیصد حصے پر ہی کام ہو سکا ہے۔ منصوبے کے تحت اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک 2.7 کلومیٹر طویل پائپ لائنیں بچھائی جانی تھیں، لیکن اب صرف ایک ٹریک پر پائپ لائن بچھائی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے اعتراضات دور کرنے کے بعد منصوبے پر کام دوبارہ شروع کیا جائے گا، تاہم کام کی بحالی کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
 
ایسا تو ہوا، اب یہ منصوبہ روکنا اور دوبارہ شروع کرنا جاری رہتا ہے. منصوبے کی پوری چیت کھو گئی ہے, اور اب نکلنے والا کام صرف ایک ٹریک پر ہی ہے. یوں یہ رہتا ہے کہ منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے اس کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے, لہٰذا ابھی تک کیا ناکام ہو چکا ہے.
 
یہ بھی ہوا تھا، یہ منصوبہ جس سے سب پکڑتے تھے اب تو روکنا ہی ہے اور چلنا نہیں دے رہا۔ ورلڈ بینک کے اعتراضات پر یوں پورا منصوبہ روکا گیا ہے، اب تو یہ یونیورسٹی روڈ پر آگمینٹیشن بھی روکنا ہے اور دوسرے حصوں میں کام کرنا نہیں دے رہا۔

منصوبے کا یہ ساتھ ہی چارے پر بھی کام روکنا ہے، 10 فیصد حصے پر ہی اب تک کام کرنا نہیں سچا ہوا تھا۔ یونیورسٹی روڈ جیسے منصوبے میں پائپ لائنیں بچھائیں گے تو پوری تاریخ بھر میں اسی طرح کے منصوبوں پر کام نہ ہونے دکھایا جاتا رہے گا۔
 
اس منصوبے کا یہ فیصلہ تو میرے لئے متعجب ہے، یہاں تک کہ ورلڈ بینک کی جانب سے اعتراضات بھی آ رہے تھے تو یہ کام جاری رہا تھا۔ اب جب وہ اعتراضات ہوئے، تو کارروائی روک دی گئی اور صرف 10 فیصد حصے پر ہی کام ہوا تو ایسا کیسے موازنہ؟ میرا خیال ہے کہ اس منصوبے کو دوبارہ شروع کرنا چاہئے، لیکن اس لئے کہ یہ کام دھمکیوں سے بھی زیادہ نوجوانوں اور شہریوں کے لیے مفید ہوگا۔
 
مرکزی شہر میں ہو رہے منصوبے کی پھونٹی کا یہ کامیاب نتیجہ تو دیکھنا ہو گیا اور یہ سب کراکی لोगوں کے لیے ایک بڑا مزاق ہے کہ اب تک صرف پائپ لائن تک پہنچ سکا ہے۔ میرے خیال میں یہ منصوبہ تو بالکل ناکام ہو گا۔
 
یوں ہی یونیورسٹی روڈ پر آگمینٹیشن کا کام روک دیا گیا ہے؟ جس کی وجہ سے یہ کارروائی روک دی گئی? ماحولیاتی آلودگی اور حفاظتی اقدامات پر ورلڈ بینک کی جانب سے اعتراضات، ایسے میں اس نے اپنا کردار انجام دیا ہے؟

آج کے وقت 10 فیصد حصے پر صرف 10 فیصد کام ہی کرپایا گیا تھا، بقیہ 90 فیصد حصے پر کام کہاں چلا گيا? اس سے پوچھنا چاہئے کہ اچھی طرح سے منصوبہ تیار کرنے کے بعد آگمنٹیشن کا کام 10 نومبر سے شروع کیا گیا تھا، لیکن اب تک صرف ایک ٹریک پر پائپ لائنیں لائی گئیں؟
 
ایسا لگتا ہے کہ ورلڈ بینک کے اعتراضات کے بعد سے یہ منصوبہ ایک بڑا زحمت بن رہا ہے، آپ کو بتائیں تو 10 فیصد حصے پر کام ہونے کے لیے ہزاروں لاکھ روپئے لگائے جائیں گے اور اب پہلے سے زیادہ دیر بھی لگی رہی گی، یہ منصوبہ کب تک مکمل ہو سکتا ہے؟
 
نظیر وہی، یہ منصوبہ جسے کے فور کے طور پر جانا جاتا ہے، ابھی تک ایک بڑی تھیٹر کی پیشگی ہے۔ آگمینٹیشن کا کام روکنے کا فیصلہ پورے شہر کو ٹھوس ہوا دیا۔ منصوبے میں ناکافی حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کا خوف ہے، اس لیے یہ فیصلہ لگایا گیا کہ یہ کام روک دیا جائے گا۔ نا ہی یہ واضح نہیں تھا کہ آگمینٹیشن کا کوئی حصہ پوری پائپ لائنیں بنانے میں شامل ہوگی۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ ورلڈ بینک کے اعتراضات کے بعد اس پر کام دوبارہ شروع کیا جائے گا، لیکن یہ سوچنا مشکل ہے کہ کام کی بحالی کے لیے حتمی تاریخ کیسے ٹھہرائی جا سکتی ہے
 
میں یہ سچ مچ انتہائی دکھ چاہا ہے۔ آگمنٹیشن کی وہ پوری اور ریکارڈ کیوں 10 فیصد تھی؟ کیا اس پر کام کرنے کے لیے ایسی جگہ کو منتخب کیا گیا؟ منصوبہ تھا یہ تو بہت چھوٹا اور نازک، لاکھوں روپے کی لاگت والا ۔ ڈیزائن سے متعلق تحفظات کااظہار کرنے کے بعد اس پر کام کروانا، یہ تو انتہائی غلط ہے۔
 
ہمیشہ سے کراچی میں ہونا بہاروں کو خوشی دیتا ہے، ابھی یونیورسٹی روڈ پر آگمنشن کا کام روک دیا گیا ہے تو نہیں! یہ ایک اچھا بات ہے کہ منصوبے میں ماحولیاتی مسائل کو نظر انداز کرنے کے خلاف تحفظات کی جگہ لگیں۔ 10 فیصد ہی کام کرنا بہت چھوٹا ہے، ہمیشہ سے یہ بات یقینی بنائی جاتی ہے کہ کسی نئے منصوبے کی پوری جگہ پر کام کیا جائے گا اور اس میں سارے لوگ شامل ہوں۔
 
میں یہ سوچتا ہوں کہ یونیورسٹی روڈ پر آگمنٹیشن کا کام جاری رکھنا بہت اہم ہوگیا ہے۔ 10 فیصد حصے پر ہی کام ہونا تو تھوڑا سا ناکام ہوا ہے لیکن یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ پائپ لائنیں ہر جگہ اچھی طرح سے لگائی جائیں گی۔ ورلڈ بینک کے اعتراضات ایسی بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں، لیکن یہ وہ ہیں جن کا احترام کرنا ضروری ہے۔
 
اس منصوبے سے پہلے میری سوچ تھی کہ یہ شہر ڈیزائن میں بہت ہی موثر ہوگا، لیکن اب جب یہ بات سامنے آئی کہ ورلڈ بینک نے اپنی جانب سے ماحولیاتی مسائل پر اعتراض کیے تو مجھے خوشی ہوئی 🤗 یہ بات بھی توہان ہوگی کہ ماحول کو نقصان پہنچا رہا ہو، جبکہ آگمنٹیشن کا کام روکنا ایسا ہی اچھا Decision ہوگا۔
 
بھائی، یہ منصوبہ جس پر کام روکنا پڑا، اس میں لاکھوں پیسے لگائے گئے ہوتے ہیں اور ابھی تو اس پر کچھ کام نہیں ہوا، اور اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کام دوبارہ شروع کر دیا جائے گا؟ لگتا ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ وقت بھی لگ جائے گا! 😊
 
منصوبہ جو یونیورسٹی روڈ تک پہنچانے کے لیے تھا ابھی بھی ایک ایسا ہے جس کی ناکام ہونے والی خواہشوں سے آگ منگی ہوئی ہے۔ ورلڈ بینک کے اعتراضات کے بعد اس پر کام روکنا ضروری تھا، لیکن اب یہ सवाल اسسٹیبلشمنٹ کو پوچھ رہا ہے کہ کیسے ایسا ناکام ہونے والا منصوبہ دوبارہ شروع کیا جائے گا?
 
اس میں کام روکنا تو ضروری ہے بلکہ پھر سے_start کرنے کا بھی وقت لگta hai, یوں چلے تو کوئی نہیں اٹھتا, ورلڈ بینک کی بات بھی سمجھ لی جائے, منصوبے میں ڈیزائن اور روٹ سے متعلق تحفظات کا اظہار ہونا چاہئے, پائپ لائنیں بچھانے پر ایک ٹریک کو چھوڑنا تو کمزور ہی ہو گا, یہ منصوبہ جس میں 10 نومبر سے کام کیا جانا تھا اسے دوبارہ شروع کرنے کے لیے وقت لگta hai.
 
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پائپ لائن بچھانے کا کام کم کر دیا جائے تو بھی آگمینٹیشن کو وہی اچھا کہلا دیتا ہے، یہ صرف ایک چھوٹا سا حصہ تھا جو کام کیا گیا تھا، لیکن ابھی بھی یہ بات نہیں پوری کی جاسکتी کہ یونیورسٹی روڈ پر آگمینٹیشن کام جاری ہو گا
 
اس سے پہلے کہ وہ ورلڈ بینک کی جانب سے لایے گئے اعتراضات کو دور کرنے کے بعد ہی کام دوبارہ شروع کریں، تو انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ کام روکنا ضروری ہے؟ اس سے پہلے بھی یونیورسٹی روڈ پر آگمینٹیشن کا کام تھا، اور اب صرف ایک ٹریک پر پائپ لائن رکھی جائے گی، یہ تو بہت ہی منفی ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ منصوبہ جس نے عالمی بینک سے اعتراضات حاصل کیے، اس میں اپنے آپ کو ایک بھرپور انوکھے طریقے سے پیش کرنا چاہیے
 
واپس
Top