شہر قائد کی شہر میں ایک ایسا حادثہ ہوا جسے اس وقت کو نہیں دیکھا گیا تھا۔ شاہراہ فیصل ائیرپورٹ سگنل کے قریب چلتی ہوئی خاتون جاں بحق ہوگئی جس کے بعد اس کی لاش جناح اسپتال منتقل کر دی گئی۔
خاتون نے اپنے بچوں اور زوجے کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار تھیں اور وہ شاہراہ فیصل ائیرپورٹ سگنل کو پکرانے والی گاڑیوں کی چوڑی لینی کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس وقت، وہ خاتون چلتی ہوئی موٹر سائیکل سے نیچے گرگئی جس کا مطلب یہ تھا کہ اب وہ موٹر سائیکل پر رہنے میں نہیں ability ہو پائیں گی۔
اس ہی حادثے کے بعد، عقب سے آنے والی گاڑی خاتون کی موٹر سائیکل پر ٹکرائی جس کے باعث خاتون جاں بحق ہوگئی۔ اس واقعے نے شہر کو دہلیڈھی میں رہا کر دیا تھا اور لوگوں کی دل پر جھیلنے کی وجہ بھی بن گیا ہے۔
خاتون کی لاش جناح اسپتال منتقل کر دی گئی جہاں انکی شناخت 50 سالہ رخسانہ زوجہ طارق کے نام سے کرلی گئی تھی۔
بھیڑ میں آنے پر سب کو پھانسنے کی ضرورت نہیں تھی اور موٹر سائیکل کا استعمال کیا جانا بھی نہیں تھا یقینی بات۔ شہر میں ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں جس سے لوگ سوچتے ہیں کہ اسے منظم طریقے سے روکا جا سکta ہے۔ سگنل کو نہیں پکرانے والی گاڑیاں تھیں جو بے سائنس تھیں اور موٹر سائیکل کی دوسری جانب بھی اسی طرح کے ذہن وہم رہتے ہیں۔
شہر میں ایسا حادثہ ہوا جس نے شہر کو دہلیڈھی کر دیا ہے۔ کتنے لوگ موٹر سائیکل پر چلائیں اور کتنے تو ان کی زندگی ایک گیند میں ختم ہو گئی ہیں ۔ سڑکوں پر یہ حادثے جاری ہیں تو سڑک کی جانب بھی توجہ نہیں دی گئی ۔
ہمارے دoston! یہ واقعہ ہمیں بہت دुख دیتا ہے اور ہمیشہ سے مایوس کر رہا ہے۔ کیسے ایک ماں اپنے بچوں اور زوجے کے ساتھ موٹر سائیکل پر چلتی ہوئی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ پہلے سے ہی ایک بہت عجیب واقعہ میں پڑ گئی ہوگی۔ اور اب ان کی لاش جناح اسپتال منتقل کر دی گئی ہے جس نے انکی شناخت 50 سالہ رخسانہ زوجہ طارق کے نام سے کرلی تھی۔
اس واقعے سے ہمیں بتایا گیا کہ وہ خاتون شاہراہ فیصل ائیرپورٹ سگنل کو پکرانے والی گاڑیوں کی چوڑی لینے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کے بعد وہ خاتون موٹر سائیکل سے نیچے گرگئی جس کا مطلب یہ تھا کہ اب وہ موٹر سائیکل پر رہنے میں نہیں ability ہو پائیں گی۔ اور اب اس واقعے کے بعد وہ موٹر سائیکل پر ٹکرائی جس کے باعث خاتون جاں بحق ہوگئی ہے۔
اس واقعے نے شہر کو دہلیڈھی میں رہا کر دیا تھا اور لوگوں کی دل پر جھیلنے کی وجہ بھی بن گیا ہے۔ ہمیں یہ بات کافی دुख دیتی ہے اور ہمیشہ سے مایوس کر رہا ہے۔
یہ ایک بہت دیرپا حادثہ تھا اور یہ پوری شہر کو پھنسایا ہوا تھا، موٹر سائیکل راننے والی خاتون نے اپنے لئے ایک مثال پیش کی تھی کہ لوگ موٹر سائیکلوں پر کچھ اور سावधانی ہو، یہ حادثہ 50 سالہ رخسانہ زوجہ طارق کی زندگی کو ختم کر دیا ہوا تھا، اس کے بعد لوگ موٹر سائیکل پر سوار ہونے والی خواتین کے لئے ایک لانچ پینڈنگ بن گئے ہوں گے، یہ حادثہ ہمیں یاد دिलایا کہ موٹر سائیکل رانی بھی ایک خطرناک کام ہے جس پر سावधانी اور پچھلے کے مطابق مشورہ لینا ضروری ہے।
اس حادثے کا اس وقت کیا استحالہ ہے؟ ایسا کیسے ہوا جسے دیکھ کر ہر شخص پتھر بھی نہیں رہ سکتا! اس خاتون کی زندگی تاکہ ایک چلتی ہوئی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر 50 سالہ بچوں اور زوجے کے ساتھ سفر کر سکے؟ کیا پہلے سے کبھی اس طرح کی صورت حال نہیں دیکھی گئی تھی?
ابھی تو ہر گاڑی میں ایسے ہی سگنل تھے، ابھی یہ سگنل چلتی ہوئی موٹر سائیکل پر ٹکر کا باعث بن گیا تھا؟ اس وقت تک ہمیں وہ سگنل نہیں دیکھنا پڑا تھا اور ابھی یہ ایک حادثے کی وجہ بن گیا ہے?
جب بھی ایسے حادثات ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ دنیا بہل رہی ہے، اس حادثے میں کیوں ایسا نہیں ہوا کہ وہ خاتون کو ٹکرائی جائے؟ لشکای کرنے والا شخص اور اس گاڑی چالاک تھا، اب وہ کیا کر رہا ہوگا? یہ سارے لوگوں کو دھیمی دلیت کرنا پڈا جب کہ وہ خاتون ان کی موٹر سائیکل پر ٹکرائی جائے تو.
اس حادثے کی ایسے لئے حالات ہوئے جو انسان کو منہ تھام دیں گے! شاہراہ فیصل ائیرپورٹ سگنل پر چلی رہی خاتون نے اپنی زندگی کو ایک راز بنا دیا ۔ اس کی موٹر سائیکل پر چلتی ہوئی لڑکی کیسے جانی بحق ہوگئی؟
اس حادثے کی واضح وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ اس وقت اپنے سفر میں توجہ نہیں دیا کرتے جب بھی ہوتا ہے۔ اور اب ایسا ہی حادثہ ہوا ہے جس سے ہم سب کو یاد آتا ہے!
اس حادثے نے اس خاتون کے پرانے بیٹے کو ڈرامہ میں رہا کر دیا ۔ اور اس حادثے نے شہر کو بھی دھلہ لگایا ہے!
اس حادثے نے میں سوچا کہ وہ ایک موٹر سائیکل پر ٹکرائی جاتے ہیں جنسپے میرے لیے یہی تھا کہ میں اپنی زندگی کو بھی اس طرح ہی لینے کی کوشش نہیں کرूंगا ۔ لیکن وہ خاتون جو جاہ بحق ہوئی، اس حادثے سے پہلے اپنی جان لیٹ کر رہی تھیں۔ ابھی میں ان کی بات نہیں کرسکتا، وہ خاتون بے شکر تھی اور 50 سالہ رخسانہ کو اپنے بیٹے طارق کے نام سے جاننے میں اس وقت تک نہیں پہنچا تھا۔
اس حادثے نے شہر کو ایک بے خوفی بنایا ہے اور دوسروں کی جان کے بارے میں اس وقت تک بھی فیکٹریوں کا ماحول محسوس کیا جاتا تھا۔ لیکن سادہ سچائی کے ساتھ کہتے ہیں، اس حادثے نے شہر کو ایک ایسی جگہ بنایا ہے جہاں لوگ اپنے ذاتی جीवन میں بھی آہستہ آہستہ سیر کرتے ہیں۔
اس حادثے نے ایسا محسوس کیا جیسے یہ شہر قائد کی شہر میں ایک ہی نہیں، اور یہ موٹر سائیکل کی چوڑی لینی نہیں تھی، بلکہ ماحولیاتی حادثے کا ایک نئا کھیل بن گئی ہے۔ اور شہر کے لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں اس حادثے سے قبل یہ جاننے میں مشکل تھا کہ کیا موٹر سائیکل چلانے کی سہولت نہیں ہے?
بڑی بدnews سنی ہوئی! ان نوجوانوں کو موٹر سائیکل چالنے کی کوشش کرنے والے ہوتے ہی تو ایسا حادثہ آتا ہے کہ آپ کو پتہ چلتا ہے کہ شاہراہیں بھی گریمیں دیتی ہیں!
لیکن، یہ ساتھ میں نہیں اترتا کہ اس خاتون کو تو موٹر سائیکل چالنے کی Ability نہیں ہو پائی تھی! اب تو وہ اچانک ٹکرا کر گئی تو!
اور، اگر یہ دیکھنا مشکل ہوتا تو یہ کہتے ہیں کہ ایسی گاڑی ان کے پاس نہیں تھی، لیکن، پچھلے سے آئی ہوئی گاڑی بھی ٹکرائی تو!
یہ حادثہ نہ صرف شہر کو دہلیڈھی کر دیا، بلکہ آپ کے ذہن میں بھی ایسا ہوا جیسے شاہراہیں اچانک ٹکرا رہی ہیں!
میں بہت دुखا ہوا نہیں جب میں پڑھا اور اس حادثے کو پڑھا تو اس کا خفیہ سایہ کچھ پچاس کی لڑکی تھی جو اپنے بچوں اور زوجے کے ساتھ موٹر سائیکل پر رائیٹ ہو کر گارڈس سگنل کو پکرانے والی گاڑیوں کی چوڑی لینی کی کوشش کر رہی تھی۔ میں اس حادثے سے متاثر ہوا اور نہیں سمجھ سکا کہ اس خاتون نے اپنے سسٹر اور بھائیوں کا بھی تصور کیا تھا۔
میں ابھی میں ایک خاندان کی نال ہی پہنی تھی، اس حادثے کے بعد میں سے لڑکی کا یہ تصور بہت مشکل ہو گیا ہے۔ میرے خیال میں اس لڑکی کی موٹر سائیکل پر ٹکرائی جانی چاہیے۔
یہ حادثہ نہیں دیکھنا تھا اس شہر کو! میں تو ان گاڑیوں پر چال و بچال کرنے والوں سے انتقاد کرتا ہوا نہیں رہتا، لیکن یہ حادثہ میرے لئے ایک یادگار تھا! مری دیکھیں گاڑیوں کو چال و بچال کرتے ہوئے کس خطرے سے کیسے ناکام رہتے ہیں! اس حادثے نے مجھے اس بات سے خوفزدہ کردیا ہے کہ لوگ ہر گھنٹے ان گاڑیوں پر چل کر کس خطرے میں پڑتے ہیں! اس کی وجہ سے ہی میرے پاس ایک مشورہ ہے: لوگوں کو آدھی دیکھ کر کچھ واضح کرنا چاہئے!
اس حادثے نے شہر کی جسمانیں چیلا دی ہیں، اور دھارمک پالٹاو کو بھی تھام دیا ہے . یہ موٹر سائیکل پر سوار ہونے کے حقدار کی جگہ پھنس گئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے، اس لیے اب تک کی محنتوں کو بھولنا نہیں چاہیے۔ . دہلیڈھی میں رہنے والوں کو اتنی ہی ڈر لگتا تھا کہ اس حادثے نے ان کی دل پر جھیلنا شروع کر دیا ہے، اور اب 50 سالہ رخسانہ کی موت ایک نئی جانچ پہچان بن گئی ہے #سوشلریلیف #موتوںکیواد #شہر_دل_پھیلا_رہا_ہے
یہ حادثہ بہت دیر تھا ہونا چاہیے نہیں ہوتا تاکہ اس کے بعد کوئی نا کوئی موٹر سائیکل پر ٹکرائی جات۔ اب یہ خاتمہ شہر میں ہونے والی بے حسیں کی وجہ سے ہو رہا ہے، کیا شہری توجہ دیجئے؟
یہ حادثہ بہت ہی غلطی سے شروع ہوا . اس وقت یہ بات پوری طرح سامنے آئی کہ موٹر سائیکل پر چلتی ہوئی خاتون نے شاہراہ کو سگنل لینے والی گاڑیوں کی چوڑی لینے کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں وہ خودکھونگی . تو اچھا ہے کہ اب وہ موٹر سائیکل پر نہ رہ سکے گی بلکہ اسی حادثے کے بعد وہ محض ٹکرائی جس کی وجہ سے ایڈس اور مریچم بھی ہو کر اپنی زندگی کو ختم کر دی گئی .
اس صورتحال میں اسکول آئنڈنگ کے لیے ایک نئی پالیسی ضروری ہے جس سے مچلی لینے والے چل رہنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس طرح لوگ کمزور اور بے خبر رہنے سے روکتے ہیں اور جھیل جاتے ہیں .
یہ حادثہ تو بھگنڈا ہوا ہے، مگر یہ سب اس واقعے پر جس دکھائی دیا گیا ہے وہ خاصے سوزش کے باعث ہے کہ اس خاتون نے اپنے بچوں اور زوجے کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہوئی تھی، وہ ایسی موٹر سائیکل چلانے والی خواتین جو سڑکوں پر سوار ہونے کی جگہ نہیں ہوتی، یہ تو بہت کچھ دکھائی دیا ہے لیکن یہ لوگ پہلے ہی وہی موٹر سائیکل چلانے والی خواتین کو ٹکرایا ہوگیا تھا تو کیا اب ان کی موت ایک حادثے کی وجہ نہیں ہوتی؟
اس حادثے نے مجھے تھوڑا سا خوفناک لگا ہوا ہے۔ اس وقت کے سگنلز اور پٹرول پاؤنڈرز کی کم پرفارمنس، یہ دیکھنا بھی نہیں تھا تھا۔ موٹر سائیکل چلانے کے معاملے میں، اس وقت کے معیشت کا ایسا پھیلاؤ ہے جو لوگوں کو ٹرانسپورٹ بناتا ہے۔ اور آپ جانتے ہوں گے کہ یہ سگنلز اور پٹرولز بھی تو اسی معیشت کی طرف مائل ہوتے ہیں نا؟