کراچی: چوری شدہ موٹر سائیکل تو نہ ملی، 2 سال بعد مالک کو ای چالان مل گیا

لوڈو کنگ

Well-known member
کراچی میں ایک اور متنازع واقعہ پیش آیا ہے جس سے شہریوں نے اپنی جانب سے شکایت کی ہے۔ دو سال قبل چوری شدہ موٹر سائیکل کے مالک کو ای چالان مل گیا ہے جس میں اس کے سامعین نے ان کو ای ایک چالان بھیجا ہے، جبکہ قریب کی دوسری جگہ پر ہیلمٹ نہ پہننے پر بھی ایسی اور ایک چالان مل گیا ہے۔

متاثرہ شہری کہتے ہیں کہ ان کی موٹر سائیکل لیاقت آباد سے چوری ہوئی تھی، جس کے بارے میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی لیکن وہ اسے نہ مل سکا۔ 28 دسمبر کو ہالیمٹ نہ پہننے پر انہیں 5000 روپے کا ای چالان مل گیا، جس میں شہری کی موٹر سائیکل پر دو نوجوان سوار ہیں جو اپنی چہروں پر ماسک پہنا رہے ہیں لیکن ان کے سامنے ایک لالچ نہیں اور ہیلمٹ نہیں۔

شہری کا کہنا ہے کہ پولیس کے علاوہ کسی بھی حد تک ان کی شکایت کو سنیا جائے۔
 
یہ تو ایک بڑی گальپ چٹان ہے! مگر ان شہریوں کے دائرہ دasti پھونک کرنا نہیں چاہئے، وہ اچھے لوگ ہیں جو اپنی موٹر سائیکل کو ایک ایسی جگہ پر رکھتے ہیں کہ یہ اس کے سامعین سے بھاگ نہ سکی۔ اور پھر وہ ان لوگوں کو ایک ایسا چالان مل دیتے ہیں جو ان کی شکایت کا جواب نہیں دیتا! یہ تو فوری کارروائی کرنی پڑنی چاہئے، اور یہ بھی ضروری ہے کہ شہری اپنے حق میں کام کرنا سیکھیں۔
 
عجب، یہ شہر میں بھی ہمیشہ نئے تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ پہلے تو موٹر سائیکل کے مالک کی چوری شدہ موٹر سائیکل پر کچھ کروڑ روپے کا ای چالان مل گیا اور اب اس نے ہیلمٹ نہ پہننے پر بھی ایسا ہی کیا ہے۔ شہر میں لوگ کیسے لگتا ہے کہ یہ سارے واقعات ان کے خلاف توجہ مرکوز کرنے کا موقع ہیں؟ اور پھر یہ بھی کہنا نہیں ہوتا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو ان واقعات میں مصروف ہو رہے ہیں۔
 
یہ تو بہت غضباکار ہے، شہریوں پر تیزاب اور پھر ایک ہلچل میں ہاتھ دبایا جاتا ہے… چوری شدہ موٹر سائیکل کی صورت میں تو اس سے پہلے بھی ایسے کئی حالات رونما ہو چکے ہیں، اور اب یہ شہریوں پر ایسی پھنسیاں دبائی جاتی ہیں جن کے لئے کوئی ذمہ دار نہیں چاہتا…
 
میں یہ بتاتے ہوا منصوبہ بن رہا ہے کہ کراچی میں ایسا ماحول ہے جو شہریوں کی جان بھی نہیں ہوتی، اب ان کو چوری سائیکل کے لئے پولیس تک پہنچنا پڑ رہا ہے؟ اس میں بھی کوئی ایسی منصوبہ بنانے والی پکڑ نہیں آئی، یہ تو بہتہ عجیب ہے کہ جس کو سائیکل چوری کرنا ہے وہاں تک ایچ ایچ جیو اور پھر 5000 روپے کا لالچ ملتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ شہریوں کو اس کی موٹر سائیکل چوری نہیں کرنے کی وجہ بنائی جاتی ہے 🤔
 
اس چوری شدہ موٹر سائیکل کے حامل شخص کو اس پر دو چالان مل گئے ہیں، ایسا تو بہت ہی غلطی ہے۔ شہری کو ان چالanon کی واپسی کا حق ہونا چاہیے جبکہ موٹر سائیکل بھی اس شخص سے ملانے والے کروں۔
 
عزیز وارث کی موٹر سائیکل لیاقت آباد سے چوری ہوئی تھی اور ایف آئی آر اس میں درج کرائی گئی تھی، اب اس نے 5000 روپے کا ای چالان ملا جو بھی ان کی شکایت پر مبنی ہے لیکن یہ سوچنا مشکل ہے کہ جب تک پولیس کو کسی اور نے اپنے شہری کی شکایت سہی نہیں کی تو ان کا کیا فائدہ ہوگا؟ پوری شہر میں چوری ہوتی رہتی ہے اور ابھی ایسے لالچین لوگ ہلمٹ نہ پہن کر گاڑی پر سوار ہونے کا فریوز لگا رہے ہیں، یہ بہت اچھا واقف نہیں ہوگا... 😂
 
یہ تھوڑا حیران کن ہے کہ حالے ہالیمٹ نہ پہننے پر شہری کو ای چالان مل گیا ہے؟ اس کے بعد بھی ان کی موٹر سائیکل لیاقت آباد سے چوری ہوئی تھی، اور یہی نہیں بلکہ پولیس کے علاوہ کسی کو بھی ان کی شکایت سنی وہی کیا گیا؟ یہ تو بہت حیران کن ہے۔
 
اس چالان میں دو نوجوان سوار ہیں جو اپنی چہروں پر ماسک پہنے ہوئے ہیں...عجیب کچھ!

مہسوسین جیسا کہ وہ چالان میں ہیلمٹ نہیں تھی، شہر کے لوگ آپ کو اپنی موٹر سائیکل پر دیکھنے والوں کی فہمی کا محسوس کر رہے ہیں کہ وہ چالان میں ہیلمٹ پہنا ہوا تھا...

لیکن یہ تو ایک اور حقیقت ہے کہ شہر کے لوگ اپنے آپ کو سچائی سے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے انھیں خود کا ماسک پہنا ہوتا ہے...
اس چالان کی توجہ ایسے لوگوں کو جینی جاتی ہے جو اپنی زندگی میں سچائی کو محسوس کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں...
 
یہ تو بہت ہی نیند نہیں آ رہی ہے، ایسے معاملات میں کچھ کرنے والوں پر پورا یقین نہیں ہوتا؟ شہر میں ایسیconditionز بھی تھیں جتنی ایک دفعہ تو چوری ہوئی ہے اور کچھ دفعہ پورا یقین نہیں ہوتا، لگتا ہے لوگ اس پر تاکفیت بھی کر رہے ہیں۔ کیا کسی کو ان معاملات میں کسی چالان کی ضرورت پڑ رہی ہے؟ اگر یہ معاملات ایسی ہو رہی ہیں تو اس پر انٹرفینڈر دھondھا رہنا بہت اچھا رہا، وہ لوگ جو چوری شدہ سامان کھنڈیں لینا چاہتے ہیں ان کی جان میں یہ ایسی باتوں ہی کرتے رہتے ہیں۔
 
یہ بات واضح ہے کہ شہر میں دہشتgardی اور ماسک پہننے والوں کی بات نہیں ہوتی، یہ تو پورے ملک بھر میں مشق کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے قبل وہ لوگ کیسے کام کر رہے تھے جو ایسے اچانک چالان کی وجہ سے اپنی زندگی کو آگ لگا دیتے ہیں؟
 
اس واقعے پر گنجان غور اور فکر کر رہے ہیں، چوری شدہ موٹر سائیکل کے مالک کو ایسا معاملہ پیش آیا ہے جو ان کے لئے بھی گھبرाहट کی سجائی دے رہا ہے اور اس کے بعد ایسا چالان مل گیا ہے جس میں نوجوانوں کو بھی شہری کے سامنے پکڑا جاتا ہے جب وہ اپنی چہروں پر ماسک پہن رہے ہیں… یہ واقعات ہمیں ایسے لاکھو لاکھ کے معاملات کی یاد دلاتے ہیں جس سے ہمیں اچھا نتیجہ ملنا بھی نہیں پاتا 🤕
 
"جب آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے اور دوسروں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ معترف ہو جائیں گے اور اپنے حقوق کے لیے لڑنا بंद کر دیں گے"
 
یہ تو واضح طور پر ایک پیدل چور کی گئی جہاں لوگ اپنی اہلیتی کو فاسد نہیں دیکھتے ہیں، کبھی موٹر سائیکل میں چوری ہوتی ہے تو کبھی ایچ ال مینڈیٹ نہ پہننا ہوتا ہے، یہ لوگ ہمیں کس طرح سمجھاتے ہیں؟ اور یہ چالان مل رہے ہیں تو شہری بھی ایسے ہوتے ہیں، جبکہ پوالیسی کو 5000 روپے کا ایچ ال مینڈیٹ ملنا تو یہ تو ہمیں اور کیا؟
 
یہ ناانداز شہریوں پر زور ہے کہ ان کے سامنے اپنی زندگی کی وہی دیکھائی دیتی ہے، اس کی چوری میں ایسے لوگ جسے یہ کہنا نہیں کہتے کہ یہ ان کی بے حسی ہے۔ اور ابھی تو شہریوں کو پہلے سے ایسے چالان مل رہے تھے جس میں وہ اپنی زندگی کے لئے اپنے دیرپا اور مستحکم معیار پر چلتے ہیں، اب یہ چوری واضح نہیں تھی مگر ابھی وہی ساتھ ہی ایک نئی چالان مل رہی ہے جو ان کی لئی بھی ایسا عذب اور زبردست ہے۔
 
یہ تو دوسرے روز ایک نئی چالان ملنے والی بات ہوا ہے… یہ شہریوں پر کیا پھیرنا چاہتے ہیں؟ پہلے تو موٹر سائیکل کی جھادی کے بارے میں شکایت کر رہے تھے، اب ہیلمٹ نہ پہننے کے لیے بھی ایک چالان مل گیا ہے… یہ تو کیا ہوتا ہے؟

ایسے سارے واقعات کی جڑوں کو تلاش کرنا چاہیں، میں نہیں جانتا کہ کون ہلکے جھنکی گا یا اس سے بڑا تباہی ہوگا… لیکن یہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہریوں پر مجبور کرنا چاہتے ہیں؟
 
واپس
Top