کراچی، عید گاہ پولیس کا پیٹرولنگ کے دوران ڈکیتوں سے مقابلہ، 2 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار | Express News

دانشمند

Well-known member
ایس ایس پی سٹی کے مطابق شہر قائد میں ضلع سٹی پولیس نے عید گاہ کی حدود اسٹیل مارکیٹ نشتر روڈ پر تھانہ پیٹرولنگ کے دوران دو دکیتوں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔

ایسے میں ڈسٹرکٹ سٹی پولیس نے ملزمان اسلحہ کے زور پر شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے، جب انہیں پہنچنے والی پولیس پارٹی میں دیکھا گیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ ہوئی، جس نے دو ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔

گिरफتार شدہ دو ملزمان کو پुलیس نے قبضے سے چھینے ہوئے بریسلیٹ، موبائل فون، ایک pistols بمعہ راؤنڈز اور ایک موٹر سائیکل پیش کر دیا ہے اور ان کے نام قربان اور عرفان ہیں۔ زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
 
اس پہلو کی طرف ملاحظہ کریں اور اس سے پوچھو کہ یہ حالات کس طرح واقع ہوئے؟ پولیس کا ایسا عمل تو چالاکانہ نہیں ہوتا، تھانہ پیٹرولنگ کی صورت میں بھی کوئی کارروائی کرنا چاہیے تو فوری کنٹرول سیشن میں بیٹھ کر بھی کیا جاتا؟ اور یہ دو دکیتوں نے خود پہلے فائرنگ شروع کی تو پہلے ہی مچال دی، یہ ایسا حال نہیں ہوتا!
 
ایسے کیوں ہوتا ہے یہ پھیلاؤ؟ پہلے ایک دکیتوں کو زخمی کروا کر، پھر واپس سے فائرنگ کر دیں اور اب ان کی جانب سے جوابی فائرنگ ہوئی? یہ کیسے چل سکتی ہے؟ پولیس نے اسے اتنی ہی جگہ پر دھماکہ دیا تو پھر یہ کوئی وجہ نہیں کہ ان لوگوں کو مار ڈالتے ہیں؟ میرے لئے یہ ایک بڑا معمہ ہے جس سے پھر کیوں نہ رکھیں؟

🚔
 
اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ پریشانیوں کا خاتمہ نہیں ہونے والا ہے تو اور جب تک انسان ایسے ذاتی معاملات میں بھرپور رشتہ داری رکھتا ہے، اس سے کچھ نتیجہ نکلے گا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب ملزمان اپنی زندگی کی پریشانیوں اور معاملات میں ذاتی رشتہ داری رکھتے ہیں تو وہ اس سے بھی آپنے خلاف کار کیا جاسکتا ہے، اور ان کے اپنی زندگی کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کر لی جاسکتا ہے، پریشانیوں کا حل نہیں ہونے والا ہے تو اور جب تک یہ رشتہ داری جاری ہوتا ہے
 
ایسا تو کچھ بھی نہیں، یہ بھی ہوتا رہتا ہے کہ لوٹ مار کرتے ہوئے پوری پریشانی ہو جاتی ہے اور شہر میں امن برقرار نہیں رہ سکتا 🤕

لوٹ مار کرنے والوں کو پھانسی دی گئی ہے، مگر یہ بھی اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ انہیں دباؤ میں لایا گیا تاکہ وہ لوٹ مار کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں پھونک دیں 🚨

زخمی ملزمان کی طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، مگر ان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہیں، یہ بھی ہے کہ جس کا پتہ چلتا ہے وہ نجات کی آگ میں لگتا ہے 💥
 
ابھی ہر شہر میں بھی اسی طرح کی دکitianہیں پھیل رہی ہیں، پولیس کا تعینہ ایسا ہی ہوا جیسا ہوتا ہے۔ لوٹ مار کرنے والوں کو چھتنا یقینی نہیں ہے اور وہ بھی فائرنگ کی صورتحال میں پھنس جاتے ہیں، کیا ان کے خلاف کسی کا کچھ ہو گا؟
 
یے تو بھی شہر میں کچھ ناانداز ہوا ہوئی ہے۔ ضلع سٹی پولیس کی ایس لونگور کیوں رہی ہے، یہ بات تو چیلنجنگ ہے کہ انہوں نے دیکھتے ہوئے لوٹ مار کرنا شروع کر دیا اور فائرنگ شروع کی تو جان لیڈی ہوئی۔ ایس لیکن یہ بھی بات جھک کر چلی گئی کہ ملزمان سے کیا لینے کے لئے تھانہ پیٹرولنگ کی پوسٹ پر بھی جاکر ان کو دیکھ لیا گیا تھا؟ یہ تو ایک ناانداز حادثہ ہے، لیکن میں صرف اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ملزمان کی جان بچائی جائے اور ان کو سہی رہنما تھانہ سے موکافات دیں جو ان کے ساتھ ملازمت پر لگے ہوئے اسلحے کی واپسی کرائیں
 
تھانہ پیٹرولنگ کا یہ واقعہ نہ صرف توجہ çekتا ہے بلکہ یہ پوری شہر کو متاثر کر رہا ہے!

اس طرح کے لوٹ مار اور فائرنگ میں سے دو ملزمان کو زخمی کی تلافی کے لیے بھیجا گیا۔ یہ سب سے بدترین بات یہ ہے کہ انہیں شہریوں سے لوٹ مار کر رہے تھے۔

اس طرح کی کارروائیوں پر پابندی لگا دی جانی چاہئے اور اسے یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ شہر میں امن و امان رہے۔

اسکچو [Picture of a petrol pump with a red "X" through it]

[Icon: 🚫]
 
ایسے ہی حالات کا شکار ہے جتنا ہمیں کوئی بھی نہیں سونے دیتا، ہر روز ایک نئا واقعہ سامنے آتا ہے جو ہماری دماغی صحت کو ٹھیک نہ کرتی ہے۔ اس ڈسٹرکٹ پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کرنے کا فیصلہ، بے چینچل کے ہی رہا۔ پھر یہی نہیں ہوگا کہ ملزمان کو اتنے زخمی کی حالت میں گرفتار کر لیا جائے، اب وہ دو لاکھ سے زیادہ دیر تک بھی اس کھاتے کی حالت میں رہتے ہیں۔ یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔
 
جب تک یہ ملزمان وغیرہ خود کو ایسے situations میں پھنساتے رہتے ہیں تو یہی کہتا رہو گا۔ یہ دکیتوں کے زور پر شہریوں سے لوٹ مار کر رہے ہیں اور پھر واپس تو اس طرح کی situation میں پھنستے رہتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ پھر سے لوٹ مار کرتے رہتے ہیں اور پھر واپس گرفتار ہو جاتے ہیں... 🙄
 
یہ وہ قسم کی سرگرمیاں ہیں جس پر کوئی اچھا نہیں کرتا … آج بھی پولیس سٹیشن کے سامنے دو دکیتوں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، یہ تو اپنی فیکری کا مقابلہ کرو رہے ہیں … کیونکہ انہیں لاتھی پالٹی سے اسٹیل مارکیٹ میں لوٹ مار کرنا تھا۔

یہ بھی نہیں تو یہ وہ شہری ہو رہے ہیں جو کچھ دکیتی پالٹی کی واقفیت کا مقاصد سے نہیں کرتے … اور پولیس نے انہیں فائرنگ کر کے گرفتار کر لیا ہے؟ یہ نہیں کچھ واضح تو نہیں ہے …
 
اس دuniya میں بھی ایسا ہی رہتا ہے، پولیس نے دو دکیتوں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے اور ان کے ساتھ سے لاکھوں روپے کا ایسے لوٹ مار کیا ہوگا جیسے اس کی پھول نہیں ہوتی، شہر کے لوگوں پر یہ چدکتی ہے کہ وہ ان سے منفی تجربات سے گزرنے والوں کو بھی گرفتار کرتے ہیں اور ان کی زندگی کو ایسا ہی بدل دیتے ہیں، یہ تو ان سے لاکھوں روپے کھانے والے پولیس کا کھیل ہے، اور اب یہ لوٹ مار کرنے والی دکیتوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے؟
 
اس معاملے سے ایسے نتیجے نکالنے کی ضرورت نہیں کہ پولیس کو اتنی بھی حد تک بات چیت کرنی چاہیے، یہ کہیا جا سکتا ہے کہ اس شہر کے نئے ریکارڈز کس طرح بنتے ہیں، حالانکہ پہلے ایسی جگہ پر کوئی بھی کچھ کرنا بھی ناہیں، لیکن اب اس وقت تک یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ شہر اسکول کی اور پھیلائی جانے والی دیکھ بھال کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔
 
اس ماحول کی بات نہیں کی جا سکتی جب لوٹ مار اور زبردستی ناجائز حالات میں شہریوں کا دھکہا دھकلا ہوتا رہے تو کبھی بھی اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا. پہلے یہ گریฟٹار کیوں ہوتی ہے، پھر یہ لوٹ مار کیسے چلا جاتا ہے، اور آخر میں جو قید کا فائدہ ہوتا ہے وہ بھی نہیں بلکہ پھر سے ایسا ہی دھونہ دھونہ کر دیا جاتا رہتا ہے. ہمیں اس ماحول میں بھی کمی کی ضرورت ہے، ہمیں ایسا بھی محسوس کرتا ہو جس سے ہم اپنے آپ کو ایک نئے راستے پر لے آئے.
 
🤣 pic: ایس پی سٹی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو دکیتوں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے... لیکن پلیسر کو معلوم نہیں کہ انہوں نے کیے گئے خسارت کی مقدار کتنی ہوتی ہے! 😂
 
یہ بہت خوفناک خبروں کی صورت حال ہے، پولیس نے دیکھا کہ لوٹ مار کر رہے تھے اور فائرنگ شروع کی، یہ کیا بنایا جا رہا ہے؟ پہلے سے ہی شہر میں ایسے واقعات بھی ہوتے چلے آتے ہیں جو لوگوں کو تنگ کر دیتے ہیں، یہ بھی کچھ نا کچھ میں بدلتا رہتا ہے لیکن اس کی اور بھی گہری جگہ ہو سکتی ہے... 😕
 
عید گاہ کی فریبی کے حوالے سے زخمی دو دکیتوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ وہ لوٹ مار کیا کرم اور فائرنگ شروع کر دیا تو جوابی فائرنگ ہوئی... یہ بھی رہا یہ پورے شہر میں دیکھنا ہی نہیں تھا... سٹی پولیس نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ وہ لوٹ مار کر رہے تھے اور انہیں پہنچنے والی پولیس پارٹی میں دیکھا گیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی... یہ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ ہمیشہ لوٹ مار کرتے ہیں اور پھر پولیس کو فائرنگ کرکے ان پر قبضہ کیا جاتا ہے...
 
عید کے دنوں میں یہ چیلنج کیسے تھا؟ میرے خیال میں دیکتاؤں کی دو sidedی نہیں، دونوں طرف سے لوگ ایسا ہی رہتے ہیں جیسے بڑی کھیل اور اس نے انہیں ایک دوسرے پر مشتمل کر دیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ پھر ایسے سے لگتا ہے جیسے یہ سب کسی بھی معاملے کی واضح بات نہیں کر رہا، جو لوٹ مار اور فائرنگ کا ماحول بناؤ رہا ہے۔
 
ایسا تو یہ دیکھنا بھی ناپلیدا تھا، پولیس اس شہر کی حدود پر ایسے لوٹ مار کر رہی تھیں جس سے کوئی بھی اچھا نہیں سمجھتے کے دکیتوں کو بھی اس طرح زخمی حالت میں فٹ کر دیا گیا ہے، یہ تو ایک بد پلیڈ سسٹم ہے جنہوں نے اپنی جان کی واپسی کے لیے بھی ہنسی مدھم کیا تھا۔
 
اسے تو بھی نہیں سمجھا جاسکتا کے ضلع سٹی پولیس کو اپنی دیکھ بھال کے نہیں کرنے کی زبانیں سننے دی گئی ہیں! اب یہ تو دو دکیتوں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، اور پھر بھی وہ لوٹ مار رہے تھے؟ یہ سچ بھی کہ ان کے سامنے پولیس پارٹی میں دکھا جاتا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی، اور پھر جوابی فائرنگ ہوئی؟ یہ کس کیFault نہیں بلکے اس کا ایک اندازہ لگایا جا سکتا کے یہ دیکھ بھال کے نہیں کرنے والے ضلعی انصاف کے تانے بانے ہیں!
 
واپس
Top