ہمارے ملک میں قومی پرائز بانڈز اور پریمیم پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کا ایک اہم اعلان ہوا ہے، جس سے ملک بھر میں پرائز بانڈز رکھنے والوں کو اپنی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں سہولت ملی ہے۔
2026 کے لیے قومی انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی مختلف شہروں میں مرحلہ وار کی جائے گی تاکہ شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایک ہزار پانچ سو روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی 16 فروری کو لاہور، 15 مئی کو سیالکوٹ، 17 اگست کو فیصل آباد اور 16 نومبر کو حیدرآباد میں منعقد ہوگی۔
ابتدائی طور پر اس کا خیال تھا کہ سات سو پچاس روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی صرف نومبر کو ہوگی، لیکن بعد میں اس کا علاج کیا گیا اور اب وہ مختلف شہروں میں منعقد ہوگی۔
دس سو روپے مالیت کے پرائز بانڈز کے لیے قرعہ اندازی 16 مارچ کو فیصل آباد، 15 جون کو کراچی، 15 ستمبر کو مظفرآباد اور 15 دسمبر کو پشاور میں ہوگی۔ جبکہ سو روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی 16 فروری کو کراچی، 15 مئی کو حیدرآباد، 17 اگست کو ملتان، 16 نومبر کو فیصل آباد اور 15 دسمبر کو پشاور میں کی جائے گی۔
پریمیم پرائز بانڈز کے شیڈول کے مطابق چالیس ہزار روپے مالیت کے بانڈز کی قرعہ اندازی 10 مارچ کو راولپنڈی، 10 جون کو مظفرآباد، 10 ستمبر کو سیالکوٹ اور 10 دسمبر کو لاہور میں ہوگی، جبکہ پچیس ہزار روپے کے پریمیم بانڈز کی قرعہ اندازی 10 مارچ کو ملتان، 10 جون کو پشاور، 10 ستمبر کو کوئٹہ اور 10 دسمبر کو کراچی میں منعقد کی جائے گی۔
یہ کام بھی اچھا ہوگا؟ اب لوگ اپنے پروفلیکس میں ہجرت کر رہے ہیں تو اب یہ قرعہ اندازی بھی ایسے ہی ہوگی۔ اور اس طرح کی قیمتی جائیدادوں کا کچلنا اور فشرنا بھی ہوگا۔ یہ سہولت ان لوگوں کو دیتی ہے جو اپنی سرمایہ کاری میں تنگ آ کر ہیں۔
یہ بھی ہوا نہیں تھا اس لئے کہ سات سو پچاس روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی صرف نومبر میں ہوتی، اور اب یہ مختلف شہروں میں منعقد ہونے کا مطلب ہے کہ پوری ملک کو اس فرصت کی سہولت ملا دی گئی ہے۔ ایسا نہیں تھا جس لیے لوگ اپنی سرمایہ کاری کرنا چاہتے اور اب وہ اپنے منصوبوں کو بھی بہتر بنانے کا mauka دوسرے شہروں میں سے ملا رہے ہیں۔
میں ابھی اگلے ہفتے تک بلاک پر رہنے والا تھا، لیکن اچھی طرح سے پڑھ کر میں پتہ چلا کہ قومی انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی مختلف شہروں میں منعقد ہوگی۔ یہ کہتا ہے کہ وہ ساتھ ہی دوسرے پرائز بانڈز کی بھی قرعہ اندازی کی گئی ہیں، اور اب میں توقع کر رہا ہوں کہ وہ سندوں مل کر مجھے ہونگی
آج کی یہ خبر اچھی ہے، پربنڈوں کے لیے یہ سہولت دیتا ہے۔ اب 2026 میں قومی انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی مختلف شہروں میں کی جائے گی، جس سے ملک بھر میں شفافیت اور سہولت پیدا ہوگی۔ 10000 روپے کی مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی 16 فروری کو لاہور، 15 مئی کو سیالکوٹ اور 17 اگست کو فیصل آباد میں منعقد ہوگی۔ یہ ایک اچھا سٹیپ میڈیم ہے جو پربنڈوں کے لیے فائدہ دیتا ہے۔
ابھی ہم نے 16 فروری کو لاہور میں ایک اہم اعلان سمجھا، وہ اس کہ قومی انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی مختلف شہروں میں مرحلہ وار کی جائے گی۔ یہ بہت اچھی نئی بات ہے، لکین ابھی تک یہ سوال تھا کہ کب سے ان شہروں میں قرعہ اندازی کی جائے گی۔ اب پھر یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس سال 2026 کے لیے مختلف شہروں میں مرحلہ وار قرعہ اندازی کی جائے گی۔ مزید اچھا بات یہ ہے کہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اس عمل کو منظم کیا جا رہا ہے۔
اس نئی قرعہ اندازی پالیسی کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ لگتا ہے کہ وہ سات سو روپے کی اہمیت سے کم ترازوں پر بھی لگائی گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایسے میں زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی، جیسے کہ وہ ان کی قرعہ اندازی دو سالوں قبل سے شروع کر دیتا تھا، اور اب وہ 16 فروری کو لاہور سے شروع کر رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس میں بہت سہولت سے لینے کا موڑ لگا دیا ہے۔
یہ واضح تھا کہ ہم اس ماحول کا شکار ہوتے ہیں جس میں سب کو لاتے ہیں، اور اب یہ بات بھی صاف ہو گئی ہے کہ قومی پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کی ایک نئی چال اکثر سے زیادہ نازک رہی گی۔
مریں تھوڑا سا لالچ بھی ہے، لیکن واضح ہے کہ یہ قرعہ اندازی ان لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہے جو اپنی سرمایہ کاری کا منصوبہ بندی میں سہولت دیتے ہیں، اور یہ بات بھی صاف ہوگئی ہے کہ پریس انفرسٹرکچر کو اس چال کے بارے میں واضح اور جھلکی دھلکی نہیں سیکھنا چاہیے
یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ یہ قرعہ اندازی مختلف شہروں میں منعقد ہوگی، جس سے لوگوں کو اپنے گھر اور صوبے کے مطابق یہ فیصلہ لینے کا موقع ملے گا کہ انہیں کیسے سرمایہ کاری کرنا ہوگا، لیکن ابھی تھوڑا سا دھیان رکھیں تو یہ بات صاف ہوگی کہ اس چال میں کیے گئے فیصلے کا واضح اثر اور نتیجہ ملے گا
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ملک بھر میں سرمایہ کاری پر ایک ایسا ادراک پڑ رہا ہے جس سے لوگ اپنے کاروبار کو اگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس لئے نئے منصوبوں پر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 2026 کے لیے قومی انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی مختلف شہروں میں منعقد ہونے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ملک کو ایسی ترغیبات کی ضرورت ہو رہی ہے جو لوگوں کو اپنے منصوبوں میں سہلتی کا مौकہ دیتی ہیں۔
یہ بات اس وقت تک تواضع رہے گا کہ کس کا وہ پرائز بندز تھا اور کس نہیں، یہ وہ Question ہے جو لوگ پوچھتے ہیں اور جو بھی رپورٹ ہے وہ تو ایک دوسری پر مبنی ہے، کون سی کمپنی سے ملنے والی یہ رپورٹ نا سچائی کے بغیر بھی بنائی گئی ہے؟
اس سال پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کا ایک اہم اعلان آ رہا ہے اور میری رائے یہ ہے کہ ملک میں یہ سہولت دیکھنا میرا جذبہ ہے۔ جس میں لوگ اپنی سرمایہ کاری کی منصوبوں میں بھی نئی توجہ دی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ایسی اہمیت ہے جس کی وہ انفرادی طور پر ساتھ نہیں آ رہا تھا، اور اب یہ بڑی تعداد میں دیکھنے کے لئے ہو گیا ہے۔
میں 16 فروری کو لاہور میں منعقد ہونے والی قرعہ اندازی کی تصور کرتا ہوں تھا، لیکن اب یہ Different cities mein bhi Manzila jayegi jo mera ilaj tha.
یہ واضح طور پر ایک بھاری کاروبار ہو گا! 16 فروری سے 15 دسمبر تک کھل کر رکنے والوں کے لئے چار ہزار روپے کی قیمتی پرائز بندز کی قرعہ اندازی کے ہر ایک کا کوئی وقت نہیں آتا! اور وہ بھی مختلف شہروں میں، اس سے ملنے والے رکن اور ان کی سرمایہ کاری منصوبوں میں ایک اچھا فرائض بن جاتا ہے!
یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ اب میرے پاس ایک ہزار روپے کی مارکیٹ میں پکتیس لینے کی اجازت نہیں ہے جب تک یہ ششواہ نہیں کھر سکتا۔ ایک ہزار روپے کی قیمتی پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی 16 فروری کو لاہور میں، 15 مئی کو سیالکوٹ، 17 اگست کو فیصل آباد اور 16 نومبر کو حیدرآباد میں منعقد ہوگی کے بات کر رہے ہیں اور ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ اس میں سے کس شہر کی قرعہ اندازی पहलے ہوگئی ہے۔
ابھی کچھ دیر پہلے یہ بات نہیں تھی کہ سات سو روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی صرف نومبر کو ہوگی، اور اب اس شق میں بھی واضح نہیں ہوا تھا کہ ایسے سات سو روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کب منعقد ہوگی۔
میری رائے میں یہ بات بھی ہے کہ ابھی تک یہ بات نہیں تھی کہ دس سو روپے مالیت کے پرائز بانڈز کے لیے قرعہ اندازی کب منعقد ہوگی اور اس میں سے کس شہر کی قرعہ اندازی पहलے ہوگئی ہے۔
یہ تو بہت ہلچل ہو گئی، پرائز بانڈز کا شعبہ ابھی نہیں ختم ہوا تھا پھر بھی اس میں ایسا منور ہوا ہے کہ اب اچھی طرح سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا، ہم ستمند ہوتے ہیں کیوں کہ ابھی قومی انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی 16 فروری کو لاہور ہو گئی تھی تو کیوںDifferent شہروں میں مختلف دنوں میں کر دیا گیا؟