راجستھان میں اب تک پانچ وائس چانسلر وں کی - Latest News | Breaking Ne

لومڑی

Well-known member
اراجستھان میں اب تک پانچ وائس چانسلرز کو برطرف کر دیا گیا، جس سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سیاسی مداخلت اور طلبہ تنظیموں کی طاقت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

راجستھان میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو برطرف کرنے سے پہلے، راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کی تقرری ان کی قابلیت کے بجائے آر ایس ایس سے وابستگی کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔

اراجستھان میں ایک کے بعد ایک وائس چانسلر کو ہٹایا جا رہا ہے، جس سے یہ سوچنے لگتا ہے کہ آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے ارکان شکایتیں درج کرتے ہیں اور پھر وائس چانسلر کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

گورنر ہری بھاؤ باگڈے نے اے بی وی پی کی شکایات اور احتجاج کو کلیدی عوامل بتاتے ہوئے ان وائس چانسلروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

جوبنر میں شری کرن نریندر زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر بلراج سنگھ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ 1990 سے اے بی وی پی سے وابستہ ہیں اور ایک اصول پسند شخص ہیں۔

مہاراجہ سورجمل برج یونیورسٹی کے وائس چانسلر رمیش چندر کو یونیورسٹی ایکٹ اور ضابطوں کی عدم تعمیل کے الزام میں ہٹا دیا گیا تھا۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ انہوں نے یونیورسٹی کے وسائل اور فنڈز کا غلط استعمال کیا، بے قاعدہ ادائیگیاں کیں، ضابطوں کے خلاف من مانی کارروائی کی، محکمہ خزانہ کے قوانین کی خلاف ورزی کی، اور یونیورسٹی کو مالی نقصان پہنچایا۔

ادے پور کی موہن لال سکھاڈیہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر سنیتا مشرا نے پہلے چھٹی لی اور بعد میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کی وجہ 12 ستمبر کو ایک کانفرنس میں اورنگزیب کو "ایک قابل حکمران” قرار دینے کے بعد کیمپس میں احتجاجی مظاہرے تھے۔

یہ واقعات اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سیاسی اثر و رسوخ، طلبہ تنظیموں کے کردار اور تقرریوں کے استحکام کے بارے میں بحث کو جنم دے رہے ہیں۔
 
اس بات سے بات کرنا کہ ہمارے ملک کا یہ اعلیٰ تعلیم کا نظام کتنا اچھا ہے یا نہیں، تو کچھ بھی کام نہیں پاتا ہے. راجستھان میں وائس چانسلروں کو برطرف کرنے سے پہلے ان کی قابلیت کتنی اچھی تھی، اس بات کے بارے میں کام نہیں کیا گیا ہے. اب بھی یہ سوچتا ہے کہ وائس چانسلر تو اس وقت کیں ہے، اور استعفیٰ دیتا ہے جیسے جیسے محنت نہیں کر رہی.
 
یہ تو بہت واضح ہے کہ وائس چانسلر کی حیثیت سے انہیں کسی سیاسی حلقے کا پریشانہ نہیں سمجھنا چاہئے، ایسے میں وہ اپنے کام کو بھلے سے لے لوں گے لیکن یہ بات ضروری ہے کہ اے بی وی پی کی شکایات کو لینا اور اس کی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔

ابھی تک یہ بات بھی نہیں پکی ہے کہ ان وائس چانسلروں کو ان کے کام کی بدولت برطرف کردیا گیا ہے یا ان کے لیے کسی اور وجہ کے ساتھ یہ کار्रवائی کی گئی ہے۔

لگتا ہے کہ ایسے مظاہروں کو جب تک نہیں پھیلایا گیا تھا، ان وائس چانسلروں کو بھی اپنے کام سے برطرف کر دیا جاتا۔
 
یہ بات تو چاہے سائنسدانوں کے وائراستھیٹ نہ ہونے کے بawajah وائس چانسلرز کو برطرف کرنا کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ ایسی کارروائیوں سے یونیورسٹی کے شعبے میں سیاسی اثر و رسوخ اور طلبہ تنظیموں کی طاقت پر سوالات تھوڑے زیادہ بھرپور ہوئے ہیں

جوبنر میں دیکھا گیا تو کیسے ایک وائس چانسلر کو برطرف کر دیا جاسکتا ہے اور اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ پہلی سے، وائس چانسلر کو برطرف کرنے سے یونیورسٹی کے شعبے میں ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جس سے طلبا اور اس کی تنظیموں پر سوالات تھوڑا زیادہ بھرپور ہوتے ہیں۔

ان کیریئروں کو چھوڑنا ایک انتہائی قیمتی بات ہے، لیکن اس سے یہ بات بھی صاف چلتی ہے کہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر کو چھوڑنا ایک سیاسی کارروائی ہوسکتا ہے، نہ یونیورسٹی کی جانب سے کسی اور شخص کو برطرف کرنا ہوتا ہے۔
 
اے بی وی پی کی کارروائیوں سے شہرت پانے والے لوگ اب اہل تعلیم کے خلاف بھی گٹھ لگائے ہوئے ہیں, نہ تو وہ اپنے منصوبوں سے مل جائیں گے بلکہ وہ کیسے اس پر اثر انداز ہو گئے، یہ بات بھی تھی، لیکن اب وہ ایسا کرنے والے محض نہیں ہیں.
 
[GIF: ایک طالب علم کا مظاہرہ]

ہنہ پھوننے سے بھی محفوظ رہو! اوراجستھان میں وائس چانسلرز کو برطرف کرنا ابھی بھی ایک طویل مظاہرہ ہے۔ [GIF: ایک طالب علم کی تفرقی]
 
اس کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب نہایت غیر قانونی اور غیرعadian ہے، اس وقت تک کسی بھی شخص کو وائس چانسلر بننے سے پہلے انkiability ki jaanch کرنی چاہیے، جب کہ اب وہ اسی کے استحکام کے لیے ایسے معاملات کو زور دے رہے ہیں جو اس کی قابلیت کے ساتھ نہیں چلتی، یہ تو بہت ہی جھگڑا بن گیا ہے
 
سچائی کی تلاش میں آج ایسے نتیجے اٹھائے گئے ہیں جس سے یوں اور بھی سوچنا ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو politics پر nahi, students organization par chadha de jaana chahiye. 🤔
 
ہمارے یونیورسٹی کے وائس چانسلروں کو ایسا تو برطرف کرنا ہی بھالپنہ اور بدلنہ ہو گا جیسا کہ ریلوے سیشن میں ٹرین کمزور ہوتی ہے... 🚂

ان تمام واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ طلبہ تنظیموں کی شکایات کو اہمیت دی جاتی ہے اور وائس چانسلر کی تقرری ان کیCapability کے بجائے آر ایس ایس سے وابستگی پر مبنی ہوتی ہے... 😕

جوبنر میں شری کرن نریندر زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر بلراج سنگھ کو معطل کر دیا گیا تو اس کی وجہ 1990 سے ای بی وی پی سے وابستہ ہونے اور ان کے من Mانی کارروائیوں کی وجہ ہی ہوتی ہے... 🤔

مہاراجہ سورجمل برج یونیورسٹی کے وائس چانسلر رمیش چندر کو یونیورسٹی ایکٹ اور ضابطوں کی عدم تعمیل کے الزام میں ہٹا دیا گیا تو اس کی وجہ یونیورسٹی کے وسائل اور فنڈز کا غلط استعمال، بے قاعدہ ادائیگیاں، ضابطوں کے خلاف من مانی کارروائی ہونے اور محکمہ خزانہ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ہی ہوتی ہے... 😡

اب یہ سوچنا مشکل نہیں کہ اگر وائس چانسلر ایسی شخص ہوتا ہو جس کی قابلیت نہیں تو ان کو معطل کر دیا جائے گا... 👀
 
علاوہ ازیں یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی معطلیت کا ایک اور مظاہرہ ہوا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ طلبہ تنظیموں اور یونیورسٹیوں کے درمیان گہری تعلقات ہیں جس سے ایک دوسرے پر اثر پڑتا ہے، یہ بات واضح ہے کہ یہ معطلیت اور احتجاج کی نتیجہ میں ہوئی ہے، لیکن اس سے یقینی بنانا مشکل ہے کہ یہ تعلقات کس طرح قائم ہوئے ہیں یا ان کی وجہ سے یہ معطلیت کی جاسکتی ہے؟
 
اس وفاق کی ضرورت تو ہوئی، لیکن برطرف کردے سے پہلے یونیورسٹیوں کے ڈائریکٹرز کو ان کریں؟ 🤔
 
اس واقعات سے ہمیں یہ بات پتہ چلی ہے کہ اے بی وی پی کی شکایات پر کارروائی کی جا رہی ہے اور اس سے Politics entry ka maza aaya hai university mein 🤔. وہ لوگ جو politics mein jaldi aate hain, unki kabiyaat bhi sahi nahi hoti. yeh zindagi mein ek bada sach hota hai ki jisse humein sochna padta hai.
 
یہ سب توسیع کی بات ہے یونیورسٹیوں پر ایک نئی حد ہے، جب کسی ایک وائس چانسلر کو برطرف کر دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ سارے ایڈمنسٹریشن کھینچ لیتے ہیں اور سیاسی اثر و رسوخ کو کم کر دیتی ہے، آج بھی یونیورسٹی میں طالب علم تنظیموں کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے، تو اس سے محکموں اور ان کے رکنوں کو ناکام کرنا پڑتا ہے، یہ سب اس بات کی واضح علامت ہے کہ ملک میں یونیورسٹیوں کا ایک بھرپور نظام ہے جس کو چلایا جا رہا ہے، اور سارے دوسرے وائس چانسلروں پر بھی محکوم کرنے کی بات ہوگئی ہے
 
واپس
Top